30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتیں ، پتا نہیں کون سی خطا ہو گئی ہے کہ ہمارے گھر سے بیماری نہیں جاتی،پتا نہیں کون سا گناہ ہو گیا ہے کہ تنگدستی دُور نہیں ہوتی، ہم نے بزرگوں سے دعائیں کروائیں ،بڑے بڑے مزارات پر حاضر ہوئے ، بڑے بڑے وظیفے کیے مگر ہمارے مسئلے حل نہیں ہوئے وغیرہ وغیرہ۔
دیکھیے! اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے: جس قوم میں رشتے داری کاٹنے والا موجود ہوتا ہے اس پر اللہ پاک کی رحمت نازل نہیں ہوتی۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، 2/153) جب ہم بِلااِجازتِ شرعی رشتے داریاں ختم کریں گے تو ہم پر رَحمت کیسے نازل ہوگی؟ ہماری دُعائیں کیسے قبول ہو پائیں گی؟ ہمارے مسائل کیسے حل ہوں گے؟ اللہ پاک کی رحمت پانے کے لئے ہمیں اپنے رشتے داروں سے جوڑ پیدا کرنا ہوگا اور خوب غور کرنا ہوگا کہ کس ، کس سے ہماری ناراضی چل رہی ہے؟ پھر جس سے ہماری ناراضی ہو اس سے صُلْح کر نی ہوگی، اگر ہم نے اپنی طرف سے صُلْح کی پوری کوشش کر لی لیکن سامنے والا نہیں مانتا تو یہ مجبوری کی صورت ہے۔
مُعافی تَلافی کرتے وقت اَڑی تَڑی اور دَھمکی والا اَنداز مت اِختیار کیجئے مثلاً یوں نہ کہیے کہ ”مُعاف کرتےہویا نہیں؟ معاف نہیں کرتے تو کوئی مسئلہ نہیں“ وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہاتھ جوڑ کر ،پیار سے، عاجزی کے ساتھ،بَحث ومُباحَثہ کیے بغیر، اپنی غلطی کو مانتے ہوئے معافی مانگی جائے تو امید ہے سامنے والا نرم پڑ جائے گا اور معاف کردے گا اور اگر مُعافی مانگتے وقت پُرانے مُردے اُکھیڑنا شروع کر دئیے جائیں یا بال کی کھال اُتارنا شروع کر دی جائے مثلاًسامنے والے سے اس طرح کی باتیں کی جائیں کہ ”اگر ہم نے فلاں بات کہی تھی تو آپ نے بھی تو فلاں بات کہی تھی“یا ”آپ نے ہمیں اپنے گھر کی تقریب میں بے دِلی سے دعوت دی تھی اور بلانے کے لئے کسی کو بھیجا بھی نہیں تھا اور نہ ہی ہمارا اِنتظار کیا تھا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع