30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو انفرادی طور پر ایمان کی دعوت دی، اور سب نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسلام قبول کیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خود بھی انفرادی دعوت کے ماہر بن گئے اور ان کی دعوت سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم جیسے بڑے صحابۂ کرام اسلام میں داخل ہوئے۔
موسمِ حج کے موقع پر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم منیٰ اور عرفات میں قبیلوں کے خیموں میں جاتے، ان کے سرداروں سے اکیلے ملتے اور دینِ اسلام کی دعوت پیش کرتے۔ حضرت ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا کہ وہ قبیلہ قریش کے سرداروں کے پاس جا کر کہتے: اے بنی فلاں! میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔(1)
جب طائف کے سرداروں نے اجتماعی طور پر رد کیا، تو نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے طائف کے تین بڑے اشراف سے فرداً فرداً بات کی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر اجتماعی دعوت کا ماحول سازگار نہ ہو تو انفرادی طور پر دلوں میں راہ تلاش کی جائے۔
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دارِ ارقم کو مرکز بنا کر وہاں ایک ایک فرد کو تربیت دی۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ، حضرت خباب رضی اللہ عنہ ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ جیسے افراد انفرادی دعوت کے نتیجے میں ایمان لائے۔
[1] دیکھیے:مسندامام احمد،5/424، حدیث:16025
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع