30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ طیبہ میں اس حکمتِ عملی کی بےشمار مثالیں ہیں۔ جیسا کہ ایک نوجوان نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس آ کر زنا کی اجازت طلب کرتا ہے۔ صحابۂ کرام اسے جھڑکنے لگے لیکن رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُسے قریب بلایا، نرمی سے سوالات کیے:کیا تو یہ اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کے لیے پسند کرے گا؟ نوجوان نے ہر بار نہیں کہا، تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:تو بھی دوسروں کے لیے وہی پسند کر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔(1)یہ اسلوب نفسیاتی اور ذہنی درجہ فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا۔
یہ حکمتِ عملی آج کے دور میں بھی نہایت مؤثر ہے۔ اگر مبلغ کسی نوجوان سے گفتگو کر رہا ہو تو اس کے رجحانات اور سوالات کو سمجھے بغیر کوئی بات دل میں نہیں اترے گی۔ اسی طرح کسی دانشور، سائنس دان یا عام مزدور سے یکساں انداز میں بات کرنا حکمت سے خالی ہے۔ ہر فرد سے اُس کی عقل، تربیت اور سماجی حیثیت کے مطابق بات کرنا ہی نبوی طرزِ دعوت ہے۔
انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے دعوت
تبلیغِ دین کا بنیادی مقصد صرف پیغام پہنچانا نہیں بلکہ دلوں کو قائل کرنا اور فکروں کو بدلنا ہے۔ اس کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی ”انفرادی دعوت“ ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ابتدا میں دینِ اسلام کی دعوت اپنے قریبی افراد کو دی۔ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ، حضرت علی رضی اللہ عنہا ، حضرت زید رضی اللہ عنہ اور
[1] مسند احمد،8/285، حدیث:22274
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع