30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکال دی جائے، اسے بدصورت بنا دیتی ہے۔(1)یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نرمی کوئی کمزوری نہیں بلکہ جمال ہے، دعوتِ دین کے حسن کا اہم ترین عنصر ہے۔
آج جب معاشرہ اختلافات، تعصب اور نفرت کا شکار ہے، تو ایک مبلغ کے لیے لازمی ہے کہ وہ زبان اور لہجے کی نرمی کو اپنائے۔ سیرتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کا عملی ماڈل ہے، جس میں نہ صرف بات کا اثر تھا بلکہ دلوں کو مسخر کر لینے والی مٹھاس بھی۔
مخاطب کی ذہنی سطح کا لحاظ
تبلیغِ دین کے مؤثر انداز میں سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ مبلغ، مخاطب کے فکری، علمی اور ذہنی پس منظر کو سمجھے۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت ہمیں اس اصول کی کامل مثال فراہم کرتی ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہر فرد، قوم یا قبیلے کو اس کے مزاج، علمی درجے اور ذہنی افق کے مطابق دعوت دی۔ اس حکمتِ عملی کی تبلیغی اہمیت اس میں ہے کہ بات مخاطب کی فہم کے دائرے میں آتی ہے تو قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وہ راز ہے جسے قراٰنِ کریم نے یوں بیان کیا:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ
ترجَمۂ کنز الایمان : اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر (سے) (2)
یہاں ”حکمت“ کا مفہوم ہی یہ ہے کہ ہر بات اس کی جگہ، وقت اور سمجھنے والے کی استعداد کے مطابق کہی جائے۔
[1] مسلم ،ص1073،حدیث : 6602
[2] پ14،النحل: 125
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع