30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیغام کو دلوں میں اتارا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعوتی زندگی میں نرمی، شگفتگی اور دلسوزی نمایاں اوصاف تھے، جنہوں نے سخت دل دشمنوں کو بھی متأثر کیا۔ زبان کی سختی اور لہجے کی تُندی دلوں کو دور کرتی ہے، جب کہ نرمی دلوں میں محبت پیدا کرتی اور قبولیت کا دَر کھولتی ہے۔
ایک دیہاتی مسجد نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں پیشاب کرنے لگا، صحابۂ کرام نے اسے روکنے کی کوشش کی، تو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:” لَا تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ “ یعنی اسے مت روکو، اسے چھوڑ دو۔ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پانی منگوایا اور صفائی کروائی، پھر نرمی سے اسے سمجھایا کہ یہ اللہ کا گھر ہے، یہاں ایسی چیز جائز نہیں۔(1)
نیکی کی دعوت میں عملی تطبیق یہ ہے کہ آج کا مبلغ اپنے الفاظ اور اندازِ گفتگو پر کڑی نظر رکھے۔ بہت دفعہ سخت لہجے میں کی گئی اہم بات بھی رد ہوجاتی ہے جبکہ نرمی سے کہی گئی معمولی بات بھی دل میں گھر کر جاتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے علم کے باوجود محض سختی اور تحقیر آمیز انداز کی وجہ سے لوگوں کے ہاں مقبولیت نہیں پاتے، جب کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کے برعکس حکمت، شفقت اور خوش اخلاقی کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اپنے پیغام کے لیے جگہ بنائی۔
نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:” اِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ اِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا شَانَهُ “ یعنی نرمی جس چیز میں ہوتی ہے، اسے زینت بخشتی ہے اور جس سے
[1]مسلم ،ص133،حدیث:661
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع