30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قوم کو معاف كر دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں۔ (1)
دین کی دعوت میں صبر کا مطلب یہ ہے کہ مبلغ فوری نتائج کی امید نہ رکھے، بلکہ وہ مسلسل، تدریجی اور پرامن جدوجہد کو اپنائے۔ سخت لہجے، طنز یا ردعمل کے بجائے دلائل، نرم گفتاری اور ثابت قدمی سے اپنا مشن جاری رکھے۔ موجودہ دور میں بھی جب اسلاموفوبیا، الحاد یا معاشرتی مزاحمت کا سامنا ہو تو داعی کو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت سے سیکھ کر صبر و استقامت کی روش اپنانی چاہیے، جیسا کہ سورۂ فُصِّلَت میں فرمایا گیا:
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ
ترجَمۂ کنز الایمان : اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سُننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال۔(2)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت یہ سکھاتی ہے کہ صبر صرف ظلم سہنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے موقف پر استقامت کے ساتھ قائم رہنا اور باطل کے سامنے ڈٹے رہنا بھی صبر ہے۔ چنانچہ تبلیغی مشن کی کامیابی کے لیے صبر و استقامت بنیادی روح ہیں۔
نرمیِ زبان اور لہجے میں اعتدال
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تبلیغی حکمتِ عملی
تبلیغِ دین کی راہ میں لازمی طور پر اختیار کی جانے والی حکمتِ عملیوں میں سے ایک زبان کی نرمی اور لہجے کا اعتدال بھی ہے۔ یہ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جس نے رسول
[1]بخاری،2/468،حدیث: 3477
[2]پ24،فصلت: 34
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع