30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو بھی حوصلہ دیا کہ وہ دین کی راہ میں ثابت قدم رہیں۔ صبر، درحقیقت، دعوت کی روح ہے، اور استقامت اس کا دل۔ اگر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جلد بازی کرتے یا مکہ کے ظلم سے گھبرا کر دعوت کا مشن ترک کر دیتے تو دینِ اسلام کا نور عالمگیر نہ ہوتا۔
قراٰنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مواقع پر صبر کی تلقین کی اور اسے انبیا کی سنت قرار دیا:
فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ
ترجَمۂ کنز الایمان : تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا ۔(1)
یہ حکم رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اس وقت دیا گیا جب کفارِ مکہ کی طرف سے ظلم و ستم کی شدت بڑھ رہی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صبر نہ صرف اخلاقی صفت ہے، بلکہ نبوی دعوت کا ایک بنیادی جز بھی ہے۔
مکہ مکرمہ کے ابتدائی تیرہ سال کا دور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور صحابہ کے لیے سخت آزمائشوں کا تھا۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کو دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو گرم ریت پر گھسیٹا گیا، اور حضرت سمیہ و حضرت یاسر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا۔ لیکن رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان سب کو صبر کی تلقین کی۔ طائف کا واقعہ صبر کی ایک انتہائی بلندی کی مثال ہے، جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پتھر مار کر لہولہان کر دیا گیا، مگرآپ نے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا کی۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دعا کی: ” اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُون “ یعنی اے اللہ ! میری
[1] پ26،الاحقاف: 35
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع