30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وسلَّم نے اس حکمت عملی کے ذریعے ایک بگڑے ہوئے معاشرے کو اخلاقی انقلاب سے گزارا۔ یہی حکمت عملی آج کے داعیانِ اسلام کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ اگر ہم اپنی دعوت کو مؤثر بنانا چاہتے ہیں تو کردار کی پاکیزگی کو اپنی ترجیحِ اول بنانا ہو گا۔
ہمارے مبلغین کو چاہیے کہ وہ اخلاص، عدل، نرمی، برداشت، سچائی اور خدمت خلق جیسے اوصاف کو خود میں پیدا کریں تاکہ اُن کی بات دلوں پر اثر کرے۔
والدین، اساتذہ اور راہنما اگر بچوں اور نوجوانوں کو سیرت کے اسوہ کے ساتھ عملی زندگی میں بھی حسن اخلاق، نماز، صداقت، دیانت داری کا عملی نمونہ پیش کریں، تو ان کی دعوت زیادہ مؤثر ہوگی۔
قول و فعل کے تضاد سے دعوت بے اثر ہو جاتی ہے۔ طلبہ، بچے یا سامعین جب داعی کو خود دیانت، سچائی، صبر، عفو، انفاق اور خدمت خلق پر عمل کرتے دیکھتے ہیں، تو وہ متأثر ہوتے ہیں، اور لاشعوری طور پر اس عمل کو اپنانے لگتے ہیں۔
صبر و استقامت
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعوتی حکمت کا ستون
دعوتِ دین کی راہ میں مشکلات، انکار، استہزا، ظلم اور مزاحمت ایک عام سا معاملہ ہے، مگر جو داعی صبر و استقامت سے کام لیتا ہے، وہی اپنے مشن میں کامیاب ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ مبارکہ صبر و استقامت کی بےمثال داستان ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نہ صرف خود ظلم برداشت کیا، بلکہ اپنے متبعین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع