30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے کردار ہی کو تسلی کی بنیاد بنایا، جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے:” فَوَا للهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، فَوَا للهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ( اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، آپ کمزور کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔(1)
مکی دور میں جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے توحید کا پیغام دیا تو کفارِ مکہ نے اس کی سخت مخالفت کی، مگر آپ کے کردار پر کبھی اعتراض نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جبل صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا:”اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر ہے، تو کیا تم میری بات مانو گے؟“ تو سب نے بیک زبان کہا: ”ہاں، ہم نے آپ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں پایا۔“ (2)یہ کردار ہی تھا جس نے انکار کرنے والے دلوں کو بھی سچائی کا قائل کیا، خواہ وہ مانیں یا نہ مانیں۔
عملی زندگی میں کردار کی پاکیزگی کی تطبیق اس وقت انتہائی ضروری ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت قول و فعل کے تضاد کا شکار ہے۔ دین کی دعوت دینے والے، اگر خود بددیانتی، بداخلاقی، یا دنیا پرستی میں مبتلا ہوں، تو ان کی دعوت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مگر جو داعی اپنے کردار سے سچائی، دیانت، عفو، انصاف، حلم اور صبر کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ بغیر بولے لوگوں کو متأثر کر دیتا ہے۔
کردار کی پاکیزگی صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
[1]بخاری،3/384،حدیث:4953
[2]بخاری،3 / 294،حدیث:4770
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع