30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے دل پر اثر کرتا، کیونکہ اس کے پیچھے وہ کردار کھڑا ہوتا تھا جس پر نہ صرف مکہ کے سردار بلکہ آپ کے بدترین مخالفین بھی انگلی نہ اٹھا سکے۔
قرآنِ مجید نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کردار کی عظمت کو ان الفاظ میں سراہا:
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔(1)
یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بلند ترین اخلاق پر پیدا فرمایا تاکہ آپ کی سیرت اور کردار بذاتِ خود اسلام کی دعوت کا ذریعہ بنیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کی ترغیب دی:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
ترجمۂ کنزالایمان : بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے ۔(2)
سیرتِ طیبہ میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کردار کی پاکیزگی کے بے شمار واقعات موجود ہیں۔ نبوت سے پہلے قریش نے آپ کو ”الصادق“ (سچے) اور ”الامین“ (امانت دار) کا لقب دیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچائی اور دیانتداری زمانۂ جاہلیت میں بھی مسلم الثبوت تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نکاح کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ فطری نیکی، سچائی، دیانت اور حسنِ سلوک کے پیکر ہیں۔ پہلی وحی کے بعد جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم گھر
[1]پ29،القلم: 4
[2]پ 21،الاحزاب: 21
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع