30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تراویح
فتویٰ :31
جس کی ابھی داڑھی نہیں آئی ،ایسے بالغ لڑکے کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسا بالغ لڑکا ، جس کی ابھی داڑھی نہ آئی ہو،وہ فرض و تراویح وغیرہ نمازوں میں امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
ایسا بالغ لڑکا جس کی ابھی داڑھی نہ آئی ہو،وہ اگر امامت کا اہل ہو یعنی مسلمان ہو،عاقل ہو،بالغ ہو،شرعی معذور نہ ہو،صحیح القراءۃ،سنی صحیح العقیدہ ہو اورفاسقِ معلن نہ ہو ، تو فرض و تراویح وغیرہ نفل و واجب نمازوں میں بالغ مردوں کی امامت کراسکتا ہے،اس میں کوئی حرج نہیں ، کیونکہ امامت کی صحت کا مدار دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ بلوغت پر ہے،نہ کہ داڑھی کے موجود ہونے پر،ہاں جو داڑھی منڈاتا یا ایک مٹھی سے کم کراتا ہو ، تو وہ چونکہ فاسقِ معلن ہے اور امام کے لیے فاسقِ معلن نہ ہونا بھی ضروری ہے،لہٰذا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز اور جو پڑھی ، اس کا اعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ جس بالغ لڑکے کی ابھی داڑھی نہ آئی ہو،امامت کا اہل ہونے کی صورت میں اس کے پیچھے پڑھی جانے والی نماز اگرچہ درست ہے،لیکن اگر وہ امرد یعنی پر کشش و خوبصورت لڑکا اور فساق کے لیے محلِ شہوت ہو ، تو اس کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے۔
رد المحتار میں غیرِ معذور مردوں کے امام کی شرائط نور الایضاح سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” شروط الامامۃ للرجال الاصحاء ستۃ اشیاء:الاسلام والبلوغ والعقل والذکورۃ والقراءۃ والسلامۃ من الاعذار “صحیح مردوں کی امامت کے لئے چھ چیزیں شرط ہیں: اسلام، بلوغت، عقل، مرد ہونا،قراءت اور اعذار سے سلامت ہونا۔
( رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2 ، صفحہ 337 ، مطبوعہ کوئٹہ)
سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن امامت کی چند شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”امام میں چند شرطیں ہیں: اولاً قرآنِ عظیم ایسا غلط نہ پڑھتا ہو ، جس سے نماز فاسد ہو۔دوسرے وضو،غسل،طہارت صحیح رکھتا ہو۔سوم سنی صحیح العقیدہ ہو،بدمذہب نہ ہو۔ چہارم فاسقِ معلن نہ ہو،اسی طرح اور امور منافیِ امامت سے پاک ہو۔ملخصا۔“
( فتاویٰ رضویہ، جلد 6 ، صفحہ 543 ، مطبوعہ رضا فاونڈیشن، لاھور)
درِ مختار میں بالغ امرد لڑکے کی امامت کے متعلق ہے:” تکرہ خلف امرد “امرد یعنی خوبصورت لڑکے کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔
( الدر المختار مع رد المحتار، جلد 2 ، صفحہ 359 ، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے:” قولہ ( تکرہ خلف امرد ) الظاھر انھا تنزیھیۃ و الظاھر ایضا کما قال الرحمتی اِن المراد بہ الصبیح الوجہ لانہ محل الفتنۃ “شارح علیہ الرحمۃ کا قول( امرد کے پیچھے نماز مکروہ ہے)ظاہر یہ ہے کہ یہ تنزیہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے جیسا کہ علامہ رحمتی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ اس سے مراد خوبصورت چہرے والا لڑکا ہے ، کیونکہ وہ محلِ فتنہ ہے۔
( رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2 ، صفحہ 359 ، مطبوعہ کوئٹہ)
سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا:” ھل تجوز الصلاۃ خلف الامرد الذی ھو ابن ستۃ عشر سنۃ (کیا سولہ سالہ امرد کے پیچھے نماز جائز ہوتی ہے)؟“اس کے جواب میں ارشاد فرمایا:” نعم تجوز ان لم یکن مانع شرعی لانہ بالغ شرعا و ان لم تظھر الاثار،نعم تکرہ ان کان صبیحا محل الفتنۃ کما فی رد المحتار عن الرحمتی (ہاں جائز ہے اگر کوئی مانعِ شرعی نہ ہو کیونکہ شرعا وہ بالغ ہے اگرچہ بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں،ہاں اگر وہ خوبصورت محلِ فتنہ ہو تو مکروہ(تنزیہی)ہو گی جیسا کہ رد المحتار میں علامہ رحمتی کے حوالے سے ہے)۔“ ( فتاویٰ رضویہ، جلد 6 ، صفحہ 612 ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــہ
مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ :32
صرف تراویح کے لیے داڑھی رکھنے اور بعد میں کٹوا دینے والے حافظ کے پیچھے نماز
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض حافظ سار ا سال داڑھی منڈاتے یا کٹوا کر ایک مٹھی سے کم رکھتے ہیں اور رمضان المبارک سے ایک ،دو ماہ پہلے کٹوانا چھوڑ دیتے ہیں اور تراویح کے لیے امام بن جاتے ہیں اوررمضان گزرتے ہی معاذ اللہ ! دوبارہ کٹوا دیتے ہیں، ایسوں کے پیچھے تراویح پڑھنا یا ان کو تراویح کے لیے امام بنانا کیسا ہے ؟ اور ایسے حافظ عموماً یہی کہتے ہیں کہ ہم نے داڑھی کٹوانے سے توبہ کرلی ہے ، آئندہ ایسا نہیں کریں گے ، لیکن مشاہدہ یہی ہے کہ وہ رمضان کے بعد دوبارہ کٹوا لیتے ہیں ۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ ایسے حافظ کو امام بنایا جاسکتا ہے یا نہیں ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے اور ایک مٹھی سے کم کرنا حرام ہے، لہذا داڑھی منڈے یا خشخشی داڑھی رکھنے والے امام کے پیچھے کوئی بھی نماز ،چاہے فرض ہویا تراویح ، پڑھنا جائز نہیں اور اسے امام بنانا بھی ناجائز وگناہ ہے اور اس کے پیچھے اگر نماز پڑھ لی ، تو وہ مکروہ تحریمی ، واجب الاعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔
لہذا وہ حافظ جس کے بارے میں مشاہدہ یہی ہے کہ رمضان میں تروایح کے لیے کچھ ماہ تک داڑھی کٹوانا چھوڑدیتا ہے اور تراویح سنانے کے بعد دوبارہ اسی حالت پر پھر جاتا ہے، تواس کوہرگز امام نہ بنایا جائے ،جب تک رمضان کے بعد بھی ایک ،دو سال تک بہتری والی حالت واضح نہ ہوجائے ۔ حافظ کا یہ کہنا کہ میں نے توبہ کر لی ہے ۔ ٹھیک ہے اللہ تعالی ٰ توبہ قبول فرمانے والا ہے ، لیکن ہم اس کو اس وقت تک امام نہیں بنائیں گے ، جب تک اس کی ظاہری حالت قابلِ اطمینان نہ ہوجائے ۔
داڑھی سے متعلق بخاری شریف میں ہے: ” عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ “ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکین کی مخالفت کرو ، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی ، اسے کاٹ دیتے تھے۔
( صحیح البخاری، جلد 2 ، صفحہ 398 ، مطبوعہ لاهور )
امام کمال الدین ابن ہمام علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:” واما الاخذ منھا وھی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد “ترجمہ : داڑھی ایک مٹھی سے کم کروانا جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں ، اسے کسی نے بھی مباح نہیں قرار دیا۔
( فتح القدیر ، جلد2 ، صفحہ 352 ، مطبوعہ کوئٹہ )
سیدی اعلیٰ حضرت مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں : ”داڑھی کترواکر ایک مشت سے کم رکھنا حرام ہے۔“
( فتاوی رضویہ ، جلد23 ، صفحہ 98 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاهور )
ایک مٹھی سے کم داڑھی والے کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ، واجب الاعادہ ہے ۔چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں : ” داڑھی ترشوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔“
( فتاوی رضویہ ، جلد6 ، صفحہ 603 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاهور )
داڑھی ترشواکرایک مٹھی سے کم کرنے والے کو امام بنانابھی گناہ ہے ۔ جیساکہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :” وہ فاسق معلن ہے اور اسے امام کرنا گناہ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی۔ غنیہ میں ہے:’’ لوقدموا فاسقا یاثمون “اگر لوگوں نے فاسق کو مقدم کیا تو وہ لوگ گنہگار ہوں گے۔“ ( فتاوی رضویہ ، جلد 6 ، صفحہ544 ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور )
فاسق کی توبہ کے قبول کرنے اور اسے امام بنانے کے بارے میں سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:” اللہ عزوجل اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہ بخشتا ہے۔﴿ وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَ یَعْفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ ﴾ (یعنی : اور وہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ معاف کرتا ہے)جو لوگ توبہ نہیں مانتے ، گنہگار ہیں، ہاں اگر اس کی حالت تجربہ سے قابل اطمینان نہ ہو اور یہ کہیں کہ تونے توبہ کی اللہ توبہ قبول کرے۔ ہم تجھے امام اس وقت بنائیں گے ، جب تیری صلاح حال ظاہرہو ، تو یہ بجا ہے۔ “ ( فتاوی رضویہ ، جلد6 ، صفحہ605 ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور )
فسق اعلانیہ کا مرتکب شخص اگر اپنے گناہ سے توبہ کرلے اور توبہ کے بعد اس کی ظاہری حالت قابل اطمینان ہوجائے ، تواس کو امام بنانے میں حرج نہیں ۔ جیساکہ سیدی اعلیٰ حضرت سے فاسق معلن جس نے اپنے گناہوں سے توبہ کر لی تھی ، اس کی امامت کے بارے میں سوال ہوا ، توآپ نے جواب میں فرمایا: ” جب بعد توبہ صلاح حال ظاہر ہو ، اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں ، اگر کوئی مانع شرعی نہ ہو۔“ ( فتاوی رضویہ ، جلد6 ، صفحہ605 ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور )
مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین رحمہ اللہ سے جب پوچھا گیا کہ بعض حفاظ کرام رمضان المبارک میں تراویح پڑھانے کے لیے داڑھی منڈوانا چھوڑ دیتے ہیں تا کہ تراویح پڑھا سکیں ، کیا ان کا یہ عمل درست ہے؟
تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا : ’’مذہب صحیح پر ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ منڈوانے والا یا کاٹ کر حد شرعی سے کم کرنے والا فاسق ہے ۔ فاسق کی امامت مکروہ اور اس کو امام بنانا گناہ ہے ۔ اس کے پیچھے جو نمازیں پڑھی جائیں گی ، ان کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ فرض اور تراویح سب کا حکم ایک ہی ہے ۔ جو حفاظ ایسا کرتے ہیں کہ رمضان میں داڑھی رکھتے ہیں اور رمضان کے بعد کٹوا دیتے ہیں ، وہ عوام اور شریعت کو دھوکہ دیتے ہیں اور شریعت کو دنیا کمانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، ان لوگوں کے قول وفعل کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔‘‘
( وقارالفتاوی، جلد2 ، صفحہ 223 ، مطبوعہ بزم وقارالدین ، کراچی)
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
الجواب صحیح کتبــــــــــــــــــــــــــہ
مفتی محمد قاسم عطاری المتخصص فی الفقہ الاسلامی
ابو حذیفہ محمد شفیق عطاری
فتویٰ :33
مسجد میں عورتوں کا باجماعت نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عورتیں جمعہ و عیدین کی نمازیں اور پانچ وقت کی فرض نمازیں اور تراویح کی نماز مسجد میں مردوں کی جماعت کے ساتھ ادا کر سکتی ہیں ؟ نیز مردوں کی جماعت کے بعد مسجد میں اپنی الگ جماعت کروا سکتی ہیں یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
عورتوں کے لیے کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں ، مسجد میں ہو یا ہال میں،چاہے دن کی نماز ہو یا رات کی، جمعہ ہو یا عیدین یا صلاۃ التسبیح اور عام نوافل کی جماعت، خواہ وہ عورتیں جوان ہوں یا بوڑھیاں،نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور میں ان کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت تھی، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورتوں کی حالت کو دیکھا تو ان کو مسجد میں آنے سے منع فرما دیا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اس کے بارے میں عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا :اگر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دیکھ لیتے جو ان عورتوں میں ظاہر ہوا ہے تو آپ ضرور ان کو منع فرماتے۔
نیزعورتیں مردوں کی جماعت کے اوقات کے علاوہ بھی اپنی نماز کے لیے مسجد میں حاضر نہیں ہو سکتیں،چاہے وہ اکیلے نماز پڑھیں یا کوئی عورت ان کی امامت کرائے، کہ عورت کی امامت مطلقا مکروہ تحریمی ہے ، فرض کی جماعت ہو یا نفل کی،مسجد میں ہو یا گھر میں اور دوسری وجہ یہ کہ فرض کی جماعت مسنونہ واجبہ کی ادائیگی کے لئے جب مسجد میں جانا منع ہے ، تو اپنی جماعت کروانے کے لئے کہ جو مشروع و جائز ہی نہیں اس کی ادائیگی کے لئے جانا کیونکر جائز ہوگا؟ ضروراس صورت میں صرف ممانعت نہیں بلکہ ناجائز و گناہ کا حکم ہوگا ۔
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
الجواب صحیح کتبــــــــــــــــــــــــــہ
مفتی محمد قاسم عطاری المتخصص فی الفقہ الاسلامی
محمد نوید چشتی
فتویٰ :34
سجدہ تلاوت کے بعد قیام میں کچھ آیات پڑھنا ضروری ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ الحمد للہ میں حافظ قرآن ہوں ۔ہر سال تراویح میں قرآن پاک سناتا ہوں ۔تراویح میں آیت سجدہ کی تلاوت اور سجدہ تلاوت کرنے کے بعد جب ہم کھڑے ہوتے ہیں تو کچھ آیات مزید پڑھنے کے بعد پھر رکوع و سجدہ کرتے ہیں ۔پوچھنا یہ ہے کہ کیاکچھ آیات پڑھ کر پھر رکوع و سجدہ کرنا ضروری ہے ؟یا بغیر کچھ پڑھے فوراً بھی رکوع و سجدہ کر سکتے ہیں ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
نمازمیں آیت سجدہ کی تلاوت اور سجدہ تلاوت کرنے کےبعد جب کھڑے ہوں تومزید کچھ آیات پڑھ کر پھر رکوع و سجدہ کرنا ضروری نہیں ،بغیر کچھ پڑھے فوراً بھی رکوع و سجدہ کر سکتے ہیں ،اس میں حرج نہیں ۔البتہ بہتر یہ ہے کہ کھڑے ہونے کے بعداگر اسی سورت کی آیات باقی ہوں تو ان میں سے کچھ آیات کی تلاوت کے بعد اور اگر وہ سورت ختم ہو گئی ہو تو اگلی سورت کی کچھ آیات کی تلاوت کے بعد رکوع و سجدہ کریں ۔
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
الجواب صحیح کتبــــــــــــــــــــــــــہ
مفتی فضیل رضا عطاری المتخصص فی الفقہ الاسلامی
ابومحمد محمد سرفراز اخترعطاری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع