دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ramazan Kay Subh-o-Sham Guzarnay ka Tariqa | رمضان کے صبح وشام گزارنےکاطریقہ

Tayammum Ka Tarika aur is ki Sunnatain Aur Aadaab

book_icon
رمضان کے صبح وشام گزارنےکاطریقہ
            

نماز کے احکام

2:00 تا2:45(45منٹ) اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 72پر عمل کرتے ہوئے نماز کے احکام سے وُضُو ، غُسْل اور نماز دُرُست کرنے کی سعادت حاصل کریں گے ۔ ( اِنْ شَآءَ اللّٰہ )

تَیَمُّم کا بیان

ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

تیمم کے فرائض

تیمم میں تین فرض ہیں : (۱)نِیّت(۲)سارے منہ پرہاتھ پھیرنا (۳)کُہنیوں سَمیت دونوں ہاتھوں کامَسح کرنا۔ (بہارِ شریعت،۱/۳۵۳-۳۵۵)

’’تَیَمُّم سیکھ لو‘‘ کے دس حُروف کی نسبت سے تیمم کی 10سُنّتیں

(۱) بِسْمِ اللہ شریف کہنا۔(۲)ہاتھوں کوزمین پرمارنا۔(۳)زمین پرہاتھ مار کرلوٹ دینا (یعنی آگے بڑھانااورپیچھے لانا) (۴)اُنگلیاں کُھلی ہوئی رکھنا۔ (۵) ہاتھوں کوجھاڑ لینایعنی ایک ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ کودوسرے ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ پر مار نا مگریہ احتیاط رہے کہ تالی کی آوازپیدانہ ہو۔(۶)پہلے مُنہ پھرہاتھوں کامَسح کرنا۔(۷) دونوں کامسح پے درپے ہونا۔(۸)پہلے سیدھے پھراُلٹے ہاتھ کا مسح کرنا۔(۹)داڑھی کا خِلال کرنا۔(۱۰)اُنگلیوں کاخِلال کرناجبکہ غُبارپَہُنچ گیاہو۔ اگرغبارنہ پہنچا ہو مَثَلاًپتھر وغیرہ کسی ایسی چیزپرہاتھ مارا جس پر غبارنہ ہوتوخِلال فرض ہے خِلال کیلئے دوبارہ زمین پرہاتھ مارنا ضَروری نہیں۔(بہارِ شریعت، ۱/۳۵۶)

تَیَمُّم کاطریقہ( حنفی)

تیمم کی نِیّت کیجئے(نیّت دل کے ارادے کا نام ہے ،زَبان سے بھی کہہ لیں تو بہتر ہے ۔ مَثَلاً یوں کہئے : بے وُضوئی یا بے غسلی یا دونوں سے پاکی حاصل کرنے اور نماز جائز ہونے کے لیے تیمم کرتا ہوں ) بِسْمِ اللہِ پڑھ کردونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں کُشادہ کر کے کسی ایسی پاک چیزپر جوزمین کی قسم(مَثَلاًپَتّھر، چُونا، اینٹ، دیوار،مٹّی وغیرہ) سے ہومارکرلَوٹ لیجئے(یعنی آگے بڑھائیے اور پیچھے لائیے)۔اوراگرزِیادہ گَردلگ جائے توجھاڑلیجئے اور اُس سے سارے مُنہ کااِس طرح مَسح کیجئے کہ کوئی حِصّہ رہ نہ جائے اگربا ل برابربھی کوئی جگہ رَہ گئی تو تیمم نہ ہوگا۔ پھردوسری باراسی طرح ہاتھ زمین پرمارکردونوں ہاتھوں کاناخُنوں سے لیکر کُہنیوں سَمیت مَسح کیجئے،اس کا بِہتَرطریقہ یہ ہے کہ اُلٹے ہاتھ کے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کاپَیٹ سید ھے ہاتھ کی پُشت پررکھئے اور انگلیوں کے سِروں سے کُہنیوں تک لے جائیے اورپھر وہاں سے اُلٹے ہی ہاتھ کی ہتھیلی سے سیدھے ہاتھ کے پیٹ کومَس کرتے ہوئے گِٹّے تک لائیے اوراُلٹے انگوٹھے کے پَیٹ سے سیدھے انگوٹھے کی پشت کامَسح کیجئے۔اسی طرح سیدھے ہاتھ سے اُلٹے ہاتھ کامسح کیجئے۔اور اگرایک دم پوری ہتھیلی اور اُنگلیوں سے مسح کرلیا تب بھی تیمم ہوگیا، چاہے کہنی سے اُنگلیوں کی طرف لائے یا اُ نگلیو ں سے کہنی کی طرف لے گئے مگرسُنّت کے خِلاف ہوا ۔ تیمم میں سر اورپاؤں کامسح نہیں ہے۔ (بہارِ شریعت، ۱/۳۵۳،۳۵۶ ملَخَّصاً)

”میرے اعلیٰ حضرت کی پچیسویں شریف “کے پچیس حُروف کی نسبت سے تَیَمُّم کے 25 مَدَنی پھول

(۱)جوچیزآگ سے جل کر راکھ ہوتی ہے نہ پگھلتی ہے نہ نَرم ہوتی ہے وہ زمین کی جِنس(یعنی قِسم)سے ہے اُس سےتَیَمُّم جائز ہے۔رَیتا، چُونا، سُرمہ ، گندھک،پتھّر (ماربل)، زَبَرجد،فِیروزہ،عَقیق وغیرہ جَواہِر سے تَیَمُّم جائز ہے چاہے ان پر غُبارہویا نہ ہو۔ (بہارِ شریعت، ١/٣٥٧، حصہ۲۔ البحرُ الرَّائق ، 1 / 257) (۲)پکّی اینٹ،چینی یامِٹّی کے برتن سے تَیَمُّم جائزہے۔ ہاں اگران پرکسی ایسی چیز کا جِرم (یعنی جسم یا تِہ) ہو جو جِنسِ زمین سے نہیں مَثَلاًکانچ کاجِرم ہوتو تَیَمُّم جائز نہیں۔ (بہارِ شریعت، ١/٣٥٨، حصہ۲)عُموماً چینی کے برتن پر کانچ کی تہ چڑھی ہوتی ہے اِس سےتَیَمُّم نہیں ہو سکتا۔ (۳)جس مِٹّی، پتھّروغیرہ سے تَیَمُّم کیاجائے اُس کاپاک ہوناضَروری ہے یعنی نہ اس پرکسی نَجاست کا اثر ہونہ یہ ہوکہ صِرف خشک ہونے سے نَجا ست کااثرجاتا رہاہو۔ (اَیْضاً ، ص ٣٥٧) زمین، دیوار اور وہ گَرد جو زمین پر پڑی رہتی ہے اگر ناپاک ہوجائے پھر دھوپ یا ہوا سے سُوکھ جائے اور نَجاست کا اثر ختم ہوجائے تو پاک ہے اور اس پر نَماز جائز ہے مگر اس سے تَیَمُّم نہیں ہوسکتا۔ (۴)یہ وَہم کہ کبھی نَجِس ہوئی ہوگی فُضول ہے اس کا اِعتبار نہیں۔ (اَیْضاً ، ص٣٥٧) (۵)اگرکسی لکڑی،کپڑے،یادَری وغیرہ پراتنی گَردہے کہ ہاتھ مارنے سے انگلیوں کا نشان بن جائے تواس سےتَیَمُّم جائزہے۔(اَیْضاً ، ص٣٥٩) (۶)چُونا،مِٹّی یا اینٹوں کی دیوارخواہ گھر کی ہویامسجِدکی اس سےتَیَمُّم جائز ہے ۔ مگراس پرآئل پینٹ،پلاسٹک پینٹ اورمَیٹ فنش یاوال پیپروغیر ہ کوئی ایسی چیزنہیں ہونی چاہئے جوجنس زمین کے علاوہ ہو،دیوارپرماربل ہوتوکوئی حَرَج نہیں۔ (۷)جس کاوُضونہ ہویانہانے کی حاجت ہواورپانی پرقدرت نہ ہووہ وُضو اور غسل کی جگہ تَیَمُّم کرے۔ ( بہارِ شریعت، ١/٣٤٦) (۸)ایسی بیماری کہ وُضو یاغسل سے اس کے بڑھ جانے یادیر میں اچھّا ہو نے کا صحیح اندیشہ ہویاخوداپناتجرِبہ ہو کہ جب بھی وُضویاغُسل کیا بیماری بڑھ گئی یایوں کہ کوئی مسلمان اچھّاقابِل طبیب جو ظاہِری طورپرفاسِق نہ ہووہ کہہ دے کہ پانی نقصان کرے گا۔توان صورَتوں میں تَیَمُّم کرسکتے ہیں۔ ( اَیْضاً ، دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ، 1 / 441، 442) (۹)اگرسرسے نَہانے میں پانی نقصان کرتاہوتوگلے سے نہائیں اورپورے سر کامسح کریں۔(بہارِ شریعت، ١/٣٤٧) (۱۰)جہاں چاروں طرف ایک ایک میل تک پانی کاپتانہ ہووہاں بھی تَیَمُّم کرسکتے ہیں۔ (اَیْضاً) (۱۱)اگراتناآبِ زم زم شریف پاس ہے جو وُضُوکیلئے کافی ہے توتَیَمُّم جائزنہیں۔(اَیْضاً) (۱۲)اتنی سردی ہوکہ نہانے سے مرجانے یابیمارہوجانے کاقَوی اندیشہ ہے اورنہانے کے بعدسردی سے بچنے کاکوئی سامان بھی نہ ہوتو تَیَمُّم جائزہے ۔ (اَیضاً ، ص٣٤٨) (۱۳)قیدی کوقیدخانے والے وُضونہ کرنے دیں تو تَیَمُّم کرکے نَمازپڑھ لے بعد میں اعادہ کرے اوراگروہ دشمن یاقیدخانے والے نمازبھی نہ پڑھنے دیں تواشارے سے پڑھے اوربعد میں اعاد ہ کرے۔ (اَیضاً، ص٣٤٩) (۱۴)اگریہ گُمان ہےکہ پانی تلاش کرنےمیں قافِلہ نظروں سےغائب ہوجائےگاتوتَیَمُّم جائز ہے۔(اَیضاً،ص٣٥٠) (۱۵)مسجِدمیں سورہاتھاکہ غسل فرض ہوگیا توجہاں تھا وہیں فوراً تَیَمُّم کرلے یہی اَحوط (یعنی احتیاط کے زِیادہ قریب) ہے۔ (ماخوذ اَز فتاوٰی رضویہ، ٣/٤٧٩) پھرباہَرنکل آئے تاخیرکرناحرام ہے۔ (بہارِ شریعت، ١/٣٥٢) (۱۶)وقت اتناتنگ ہوگیاکہ وُضویاغسل کرے گاتونَمازقضاہوجائےگی تو تَیَمُّم کرکے نَماز پڑھ لے پھر وُضو یا غسل کرکے نمازکااِعادہ کرنالازِم ہے۔(ماخوذ اَز فتاوٰی رضویہ، ۳/٣٠٧) (۱۷)عورَت حیض ونِفاس سے پاک ہوگئی اورپانی پرقادِرنہیں توتَیَمُّم کرے۔ (بہارِ شریعت ١/٣٥٢) (۱۸)اگرکوئی ایسی جگہ ہے جہاں نہ پانی ملتاہے نہ ہی تَیَمُّم کیلئے پاک مِٹّی تو اسے چاہئے کہ وقتِ نَمازمیں نَمازکی سی صورت بنائے یعنی تمام حرکاتِ نَمازبِلانیّتِ نَمازبجالائے۔ (بہارِ شریعت، ١/٣٥٣)مگر پاک پانی یا مِٹّی پر قادر ہونے پر وُضو یا تیمم کرکے نماز پڑھنی ہوگی۔ (۱۹) وُضواورغسل دونوں کےتَیَمُّم کاایک ہی طریقہ ہے۔ ( جوہرہ ، ص 28) (۲۰)جس پر غُسل فرض ہے اس کیلئے یہ ضروری نہیں کہ وُضواورغُسل دونوں کیلئے دوتَیَمُّم کرے بلکہ ایک ہی میں دونوں کی نیَّت کرلے دونوں ہوجا ئیں گے اوراگرصرف غسل یا وُضوکی نیت کی جب بھی کافی ہے۔ (بہارِ شریعت، ١/٣٥٤) (۲۱)جن چیزوں سے وُضوٹوٹ جاتاہے یاغُسل فَرض ہوجاتاہے اُن سےتَیَمُّم بھی ٹوٹ جاتاہے اورپانی پر قادِرہونے سے بھی تَیَمُّم ٹو ٹ جاتا ہے۔ (اَیْضاً ، ص٣٦٠) (۲۲)عورت نے اگرناک میں پھو ل وغیرہ پہنے ہوں تونکال لے ورنہ پھول کی جگہ مسح نہیں ہوسکے گا۔ (اَیْضاً ، ص٣٥٥) (۲۳)ہونٹوں کاوہ حِصّہ جوعادَتاًمنہ بندہونے کی حالت میں دکھائی دیتاہے اِس پرمسح ہوناضَروری ہے اگرمنہ پرہاتھ پھیرتے وقت کسی نے ہونٹوں کو زورسے دبالیاکہ کچھ حِصّہ مَسح ہونے سے رَہ گیا توتَیَمُّم نہیں ہوگا۔اِسی طرح زورسے آنکھیں بندکرلِیں جب بھی نہ ہوگا۔(اَیْضاً) (۲۴) انگوٹھی، گھڑی وغیرہ پہنے ہوں تواُتارکران کے نیچے ہاتھ پھیرنافرض ہے۔ اسلامی بہنیں بھی چُوڑیاں وغیرہ ہٹاکراُن کے نیچے مسح کریں۔تَیَمُّم کی اِحتیاطیں وُضو سے بڑھ کر ہیں۔(اَیْضاً) (۲۵) بیمار یا بے دست و پا خود تَیَمُّم نہیں کرسکتا تو کوئی دوسرا کروادے اِس میں تَیَمُّم کروا نے والے کی نیّت کا اعتبار نہیں،جس کو تَیَمُّم کروایا جارہا ہے اُس کو نیّت کرنی ہو گی ۔ (اَیْضاً ، ص٣٥٤۔ عالمگیری ، 1 / 26)

عملی طریقہ

2:46 تا 3:00 (15 منٹ) مبلغ اسلامی بھائی نمازِ عید کی عملی مشق کروائیں

عید کی نمازکا طریقہ (حنفی)

پہلے اِس طرح نیت کیجئے :’’میں نیت کرتا ہوں دو رَکْعَت نَماز عیدُالْفِطرکی ،ساتھ چھ زائد تکبیروں کے، واسطے اللہ پاک کے، پیچھے اِس امام کے‘‘، پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھائیے اور اَللہ ُاَکْبَر کہہ کر حسبِ معمول ناف کے نیچے باندھ لیجئے اور ثَناء پڑھئے۔ پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھائیے اور اَللہ ُاَکْبَر کہتے ہوئے لٹکا دیجئے۔ پھر ہاتھ کانوں تک اٹھائیے اور اَللہ ُاَکْبَر کہہ کر لٹکا دیجئے۔ پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائیے اور اَللہ ُاَکْبَر کہہ کر باندھ لیجئے یعنی پہلی تکبیر کے بعد ہاتھ باندھئے اس کے بعد دوسری اور تیسری تکبیر میں لٹکائیے اور چوتھی میں ہاتھ باندھ لیجئے۔ اس کو یوں یادرکھئے کہ جہاں قِیام میں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھنے ہیں اور جہاں نہیں پڑھنا وہاں ہاتھ لٹکانے ہیں۔ پھر امام تَعَوُّذاور تَسْمِیہ آہِستہ پڑھ کر اَلْحَمْد شریف اور سورت جہر ( یعنی بُلند آواز ) کےساتھ پڑھے، پھر رُکوع کرے۔ دوسری رَکْعَت میں پہلے اَلحَمدُ شریف اور سُورت جہر کے ساتھ پڑھے، پھر تین بار کان تک ہاتھ اٹھا کر اَللہ ُاَکْبَر کہئے اور ہاتھ نہ باندھئے اور چوتھی باربِغیر ہاتھ اُٹھا ئے اَللہ ُاَکْبَر کہتے ہوئے رُکوع میں جائیے اور قاعِدے کے مطابِق نَماز مکمَّل کرلیجئے۔ ہر دو تکبیروں کے درمیان تین بار سُبْحٰنَ اللہ کہنے کی مِقدار چُپ کھڑا رَہنا ہے۔ (بہارِ شریعت، ۱/٧٨١۔ درمختار ، كتاب الصلاة ، باب العيدين ،3 / 61)

سنتیں اور آداب کا حلقہ

(3:00 تا 03:10) (وقت 10 منٹ)

”چل مدینہ“کے سات حُرُوف کی نسبت سے جوتے پہننے کے 7 مَدَنی پھول

فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : جوتے بکثرت استعمال کرو کہ آدمی جب تک جوتے پہنے ہوتا ہے گویا وہ سُوار ہوتا ہے( یعنی کم تھکتا ہے) ۔( مسلم ، كتاب اللباس والزينة ، باب ماجاء فی الانتعال ... الخ ، ص 894، حدیث :5494 ) جوتے پہننے سے پہلے جھاڑ لیجئے تاکہ کیڑا یا کنکر وغیرہ ہوتو نکل جائے۔ پہلے سیدھا جوتا پہنئے پھر ُالٹا اور اُتارتے وَقت پہلے اُلٹا جوتا اُتاریئے پھر سیدھا ۔فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : جب تم میں سے کوئی جوتے پہنے تو دائیں(یعنی سیدھی ) جانب سے اِبتدا کرنی چاہیے اور جب اُتارے تو بائیں(یعنی الٹی) جانب سے اِبتِدا کرنی چاہیے تاکہ دایاں (یعنی سیدھا)پاؤں پہننے میں اوّل اور اُتارنے میں آخِری رہے۔( بخاری ، کتاب اللباس ، باب ینزع نعل الیسری ، 4 / 65، حدیث :5855 ) نُزہۃُ القاری میں ہے :مسجد میں داخِل ہوتے وقت حکم یہ ہے پہلے سیدھا پاؤں مسجد میں رکھے اور جب مسجد سے نکلے تو پہلے اُلٹا پاؤں نکالے ۔ مسجد کے داخلے کے وقت اس حدیث پر عمل دُشوار ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اس کا حل یہ ارشاد فرمایا ہے : جب مسجد میں جاناہو تو پہلے اُلٹے پاؤں کو نکال کر جوتے پر رکھ لیجئے پھر سیدھے پاؤں سے جوتا نکال کر مسجد میں داخل ہو۔ اور جب مسجد سے باہر ہوتواُلٹا پاؤں نکال کر جوتے پر رکھ لیجئے پھر سیدھا پاؤں نکال کرسیدھا جوتا پہن لیجئے پھراُلٹا پہن لیجئے۔( نزہۃ القاری، ۵/٥٣٠، فرید بک اسٹال) مَرد مردانہ اور عورت زَنانہ جوتا استعمال کرے۔ کسی نے حضرتِ سیِّدتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے کہا کہ ایک عورت (مردوں کی طرح) جوتے پہنتی ہے۔ انہوں نے فرمایا: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مردانی عورَتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ( ا بو داود ، کتاب اللباس ، باب فی لباس النساء ،4 / 84، حدیث :4099) صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: یعنی عورَتوں کو مردانہ جوتا نہیں پہننا چاہیے بلکہ وہ تمام باتیں جن میں مردوں اور عورَتوں کا امتیاز ہوتا ہے ان میں ہر ایک کودوسرے کی وَضع اختیار کرنے(یعنی نقّالی کرنے) سے مُمانَعَت ہے، نہ مرد عورت کی وَضع(طرز) اختیار کرے، نہ عورت مرد کی۔ (بہارِشریعت، حصّہ١٦، ص ٦٥ مکتبۃ المدینہ ) جب بیٹھیں تو جوتے اتا ر لیجئے کہ اِس سے قدم آرام پاتے ہیں۔ (تنگدستی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ )اوندھے جوتے کو دیکھنا اور اس کو سیدھانہ کرنا۔’’ دولتِ بے زوال‘‘ میں لکھا ہے کہ اگر رات بھر جوتا اوندھا پڑا رہا تو شیطان اس پر آن کر بیٹھتا ہے وہ اس کا تخت ہے۔ (سنی بہشتی زیور، حصہ٥،ص٦٠١) استعمالی جُوتا اُلٹا پڑا ہوتو سیدھا کردیجئے۔ صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ علٰی محمَّد

12 مدنی کام

(3:11 تا 03:30) (وقت 20 منٹ) (ذیلی حلقے کے12مدنی کاموں میں سے دسواں مدنی کام)

مَدَنی دورہ

(دعوتِ اسلامی کے مَدَنی مَاحَول میں ہفتہ وار مَدَنی کام ’’علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت‘‘ کی اِصطلاح اب مَدَنی دورہ ہے۔) ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

دُرُود شریف کی فضیلت

حضرت سیِّدُنا عبدُ الرَّحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ رسولِ بے مِثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مرتبہ باہَر تشریف لائے تو میں بھی پیچھے ہولیا۔آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک باغ میں داخِل ہوئے اور سجدہ میں تشریف لے گئے۔سجدے کو اِتنا طویل کردیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہیں اللہ پاک نے رُوحِ مُبارَکہ قبض نہ فرما لی ہو۔ چُنَانْچِہ میں قریب ہو کر غور سے دیکھنے لگا۔جب سَراَقْدَس اُٹھایا تو فرمایا:اے عبدُالرَّحمٰن! کیاہوا؟ میں نے اپنا خَدْشَہ ظاہِر کیا تو اِرشَاد فرمایا: جِبْرِیلِ اَمیْن نے مجھ سے کہا: کیا آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ بات خوش نہیں کرتی کہ اللہ پاک فرماتاہے کہ جوتم پر دُرُود پاک پڑھے گا میں اس پر رَحْمَت نازِل فرماؤں گا اور جو تم پر سَلام بھیجے گا میں اُس پر سَلامَتی اُتاروں گا۔( مسند احمد ،Β مسند العشرة المبشرین
...Β الخ
،Β مسندعبدالرحمن بن عوف
،1Β /
522،Β حدیث
:1684) نبی کا نام ہے ہر جا خدا کے نام کے بعد کہیں دُرُود کے پہلے کہیں سلام کے بعد نبی ہیں سارے نبی پر شہِ اَنام کے بعد کہ دانہ دانہ ہے تسبیح کا اِمام کے بعد (فرش پر عرش از محدثِ اعظم ہند، ص۶۲) صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

بازار میں نیکی کی دعوت

ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ بازار میں تشریف لے گئے اور بازار کے لوگوں سے کہا کہ تم یہاں پر ہو اور مَسْجِد میں تاجدار ِمدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی میراث تقسیم ہو رہی ہے، یہ سُن کر لوگ بازار چھوڑ کر مَسْجِد کی طرف گئے اور واپَس آ کر حضرت سَیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے کہاکہ ہم نے تو میراث تقسیم ہوتے نہیں دیکھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے پوچھا: پھر تم لوگوں نے کیا دیکھا؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نے تو کچھ لوگوں کو دیکھا ہے جو نَماز، تِلاوَتِ کلام ِ پاک اور عِلْمِ دین کی تعلیم میں مَصْرُوف تھے۔ اِرشَاد فرمایا: حُضُور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی میراث یہی تو ہے۔ (Β معجم اوسط
،Β باب الالف من اسمه احمد
،1Β /
390،Β حديث
:1429Β مفھومًا و ملتقطًا
)

نیکی کی دعوت دینا صحابہ کا معمول تھا

پیارے اِسْلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! حضرت سَیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے بازار میں مَوجُود لوگوں کو نہ صِرف نیکی کی دَعْوَت پیش کی بلکہ انہیں مَسْجِد میں جاری دَرْس و بیان کی رَغْبَت دِلائی کہ وہ مَسْجِدوں کی طرف آئیں اور عِلْمِ دِین حاصِل کریں۔ چُنَانْچِہ وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جو بازاروں میں لوگوں کو نیکی کی دَعْوَت دے کر مَسَاجِد میں لاتے ہیں کہ وہ ایک صحابی کی ادا پر عَمَل کرتے ہیں،ہمیں بھی ایسے مُبَلِّغِیْن میں شامِل ہو جانا چاہئے۔ شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْرِاَہْلِسُنّتΒ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ
سُنّتوں کی مہکتی خوشبوؤں اور نیکی کی دَعْوَت کودُنیا بھرمیں عام کرنے کے مُقَدَّس جذبے کے تحت دربارِ اِلٰہی میں خاکِ مدینہ کا واسِطہ پیش کرتے ہوئے یوں دُعا کرتے ہیں: میں مُبَلِّغ بنوں سُنّتوں کا،خوب چرچا کروں سُنّتوں کا یا خُدا دَرْس دوں سُنّتوں کا،ہو کرم بہرِ خاکِ مدینہ (وسائِلِ بخشش(مُرمَّم)، ص۱۸۹) صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

مدنی دورے کا طریقہ

ذِمَّہ داریوں کی تقسیم اور کام

مدنی دورےمیں ایک اِسْلَامی بھائی نگران، ایک رَاہ نُما،ایک داعِی اور ایک یا دوخیرخواہ ہوں گے۔ نگران کا کام یہ ہے کہ مَدَنی دورے سے قَبْل مَسْجِد کے دروازے کے باہَر کھڑے ہو کر دُعا کروائے اور راہ نُما مَدَنی قافلے والوں کو مَسْجِد کے قریب قریب گھروں، دُکانوں وغیرہ پر علاقے کے مقامی بھائیوں کے پاس لے جائے اور سلام و مُصَافَحہ کے بعد نَرمی سے عَرْض کرے کہ ہم………مَسْجِد سے حاضِر ہوئے ہیں،ہم کچھ عَرْض کرنا چاہتے ہیں، آپ ثواب کی نِیَّت سے سُن لیجئے۔ اگر وہ بیٹھے ہوں یا کام میں مَصْرُوف ہوں تو کھڑے ہوکر سننے کی دَرْخواست کریں، اس طرح ان کی تَوَجُّہ رہے گی۔ راہ نُما کے لوگوں کو مُتَوجّہ کرنے کے فوراً بعد داعِی نَرمی کے ساتھ نیکی کی دَعْوَت پیش کرے، اس دوران داعِی اپنی بے بسی اور دِلوں کو پھیرنے والے پَروَرْدگار کی رَحْمَت کی طرف مُتَوجّہ رہے کہ یہ کامیابی کی کنجی ہے۔ خَیر خَواہ کا کام یہ ہے کہ جو اِسْلَامی بھائی کچھ فاصلے پر ہوں انہیں قریب قریب کرے اور داعِی کی دَعْوَت سُن کر ہاتھوں ہاتھ مَسْجِد میں چلنے کے لیے تیّار ہونے والوں کو اپنے ساتھ مَسْجِد میں پہنچا کر، بیان میں بٹھاکر واپَس مدنی دورےمیں شامِل ہوجائے۔ (نیک بننے اور بنانے کے طریقے،ص۳۲۲)

طریقہ کار

مدنی دورے کا ذِمّہ دار اَذانِ عَصْر سے 26منٹ قَبْل جَمْع ہونے والے اِسْلَامی بھائیوں میں ذِمّہ داریاں تقسیم کرے۔(مَدَنی قافلے میں یہ ذِمّہ داریاں صُبْح مَدَنی مشورے کے حلقے میں ہی تقسیم کرلی جائیں) اِن ذِمّہ داریوں میں : عَصْر کا اِعْلَان عَصْر کے بعد کا بیان (12 منٹ) خَیر خَواہ عَصْر تا مَغْرِب دَرْس عَصْر تا مَغْرِب مَسْجِد میں ہونے والے دَرْس میں شِرکَت کرنے والے اسلامی بھائی مَسْجِد کے باہَر جانے والے اِسْلَامی بھائی مَغْرِب کا اِعْلَان مَغْرِب کا بیان (25 منٹ،مَدَنی قافلے کے جَدْوَل میں پہلے اور دُوسرے دن تقریباً 12منٹ اورآخری دن26منٹ) شامِل ہیں۔ ذِمَّہ داریاں تقسیم ہوجانے کے بعد طَبْعی حاجات سے فارِغ ہوکر تمام اِسْلَامی بھائی پہلی صَفْ میں تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ باجَمَاعَت نَمازِ عَصْر ادا کریں۔ عَصْر کا اِعْلَان اور عَصْر کا بیان کرنے والے اِسْلَامی بھائی اِقَامَت کہنے والے کے برابر میں نَماز ادا کریں۔ جیسے ہی اِمام صاحِب سلام پھیریں مُقَرَّر کردہ اِسْلَامی بھائی فوراً اِمام صاحِب کے قریب کھڑے ہوکر اس طرح اِعْلَان کرے۔ نوٹ: (اِعْلَانِ عَصْر میں اپنی طرف سے کوئی کمی بیشی نہ کریں)

اعلانِ عصر

Β بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُوْلَ اللّٰه
آپ کے علاقے میں نیکی کی دَعْوَت عام کرنے کیلئے آپ کی مَدَد دَرْکار ہے، براہِ کَرَم! دُعا کے بعد تشریف رکھئے اور ڈھیرو ں ثواب کمائیے۔ دُعا کے بعد مُقَرَّر کردہ اسلامی بھائی 12منٹ کا بیان کرے۔جس میں نیکی کی دَعْوَت کے فضائل بیان کئے جائیں۔اس کے بعد (ذَیل میں دیئے گئے طریقہ کے مُطابِق)مدنی دورے میں شرکت کی تَرغیب دِلائیں۔ ( نیک بننے اور بنانے کے طریقے،ص۳۲۶تا۳۲۷)

مدنی دورہ کی ترغیب

پیارے اِسْلَامی بھائیو!ابھی دُعا کے بعد اِنْ شَآءَ اﷲ مَسْجِد سے باہَر جاکر دُکانوں، گھروں وغیرہ پر نیکی کی دَعْوَت پیش کی جائے گی اگر آپ بھی ہمارے ساتھ شِرکَت فرمائیں گے تو اِنْ شَآءَ اﷲ آپ کوبھی ڈھیروں نیکیاں ملیں گی۔ حدیثِ پاک کا مفہوم ہے: جو قَدَم راہِ خُدا میں خاک آلود ہوں گے ان کو جہنّم کی آگ نہیں چُھوئے گی۔( مسند احمد ،Β مسند المکیین
،227،Β حدیث ابی عبس
،6Β /
507،Β حدیث
:16356) چُونکہ نیکی کی دَعْوَت دینے والوں کاساتھ دینا بھی عظیم نیکی ہے۔لِہٰذا آپ بھی ہمارے ساتھ اس نیک کام میں تَعاوُن فرمائیں اور مَدَنی دورے میں شِرکَت فرمائیں۔ پھر اس طرح کہیں: مَدَنی دورے میں شرکت کی سَعَادَت پانے والے اِسْلَامی بھائی میری سیدھی جانِب تشریف لے آئیں۔ جب کچھ اِسْلَامی بھائی سیدھی جانِب آجائیں تو بیان کرنے والا اِسْلَامی بھائی بقیہ اِسْلَامی بھائیوں سے اس طرح کہے:پیارے اِسْلَامی بھائیو! قریب قریب تشریف لے آیئے۔ اِنْ شَآءَ اﷲ یہاں مَسْجِد میں بھی بیان جاری رہے گا۔مَسْجِد میں بیٹھنے سے ڈھیروں نیکیاں حاصِل ہوتی ہیں۔ چُنَانْچِہ اللہ کریم کے پیارے حَبیب، حَبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: جو قوم Β کِتابُ اللہ
کی تِلاوَت کے لیے اللہ پاک کے گھروں میں سے کسی گھر میں جَمْع ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ دَرْس کی تکرار کرے تو ان پر سکینہ(اطمینان و سکون) نازِل ہوتا ہے، رَحْمَتِ الٰہی انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتےہیں اور اللہ پاک ان کا ذِکْر فرشتوں کے سامنے فرماتا ہے۔ ( مسلم ،Β کتاب الذکروالدعا
...Β الخ ،Β باب فضل الاجتماع ...Β الخ ،Β ص 1039،Β حدیث :Β 2699) پھر دُعا کے فوراً بعد عَصْر تا مَغْرِب مَسْجِد میں بيان کرنے کیلئے مُقَرَّر کردہ اِسْلَامی بھائی بیٹھ کر اِسْلَامی بھائیوں کو مزید قریب کرکے بیان شروع کر دے۔ اگر پہلے سے ذِمَّہ داریاں تقسیم نہ ہوں تو جس اِسْلَامی بھائی کی مَدَنی دورہ کروانے کی ذِمَّہ داری ہے وہ سیدھی جانِب آنے والے اِسْلَامی بھائیوں میں ذِمّہ داریاں تقسیم کرے اور مَدَنی دورے کے فضائل و آداب بتائے۔ ( نیک بننے اور بنانے کے طریقے،ص۳۲۷) پھر مَدَنی دورہ میں شرکت کرنے والے اِسْلَامی بھائیوں کونگران، مَدَنی دورے کے آداب سمجھائے اور مَسْجِد کے دروازے پر دُعا مانگ کر نگاہیں نیچی کئے راستے کے کنارے دو، دو اِسْلَامی بھائی قطارمیں چلیں، راہ نُما آگے بڑھ کر سلام کرے اور یوں کہے: ہم مَسْجِد سے حاضِر ہوئے ہیں، کچھ عَرْض کریں گے، آپ سُن لیجیے۔ اب داعِی (ممکن ہو تو رو رو کر) نیکی کی دَعْوَت پیش کرے۔

مدنی دورے کے آداب

مَسْجِد سے باہَر دُعاکے بعد اِسْلَامی بھائی دو، دو کی قطار میں چلیں۔ داعِی اور راہ نُما آگے آگے رہیں۔ آپَس میں بات چیت نہ کریں۔ کوشِش کرکے راستے کے ایک طرف چلیں۔ حَتَّی الْاِمْکَان نگاہیں نیچی کرکے چلیں اور اِدھر اُدھر دیکھنے سے اِجْتِنَاب کریں۔ مُنْتَشِر ہونے کی بجائے سار ے اِسْلَامی بھائی اکٹھے ہی رہیں۔ ہاتھوں میں تسبیح اور لبوں پر دُرُودو سلام جاری رکھیں، دُرُودِ پاک کی برکت سے نیکی کی دَعْوَت میں تاثیر پیدا ہوجائے گی۔ اِنْ شَآءَ اﷲ اگر کسی کو اس کا شناسا (یعنی جاننے والا) مل جائے تو وہ اِسْلَامی بھائی اس سے سلام و مُصَافَحہ کرکے چل پڑے یا اسے بھی اپنے ساتھ لے لے۔ جب کسی کے مکان پر دَستک دیں تو گھر کے مَردوں کو بُلاکر ایک طرف کھڑے ہو کر نیکی کی دَعْوَت دیں۔ جب کسی کو نیکی کی دَعْوَت پیش کی جائے تو کوئی اِسْلَامی بھائی درمیا ن میں نہ بولے بلکہ تمام اِسْلَامی بھائی خاموشی کے ساتھ نگاہیں نیچی کئے سنیں۔ واپَسی پر اِسْتِغْفار پڑھتے ہوئے آئیں۔ مَغْرِب کی اَذَان سے 10منٹ قَبْل واپَس آکرمَسْجِد میں جاری درس میں شرکت کریں۔(نیک بننے اور بنانے کے طریقے،ص۳۲۳)

نیکی کی دعوت سے پہلے کی دعا

آداب بیان کرنے کے بعد تمام اِسْلَامی بھائی مَدَنی دورے کے لیے روانہ ہوجائیں۔ نیکی کی دَعْوَت کے لیے جاتے ہوئے نگران اِسْلَامی بھائی مَسْجِد سے باہَر دروازے کے پاس یہ دُعامانگے: Β اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ربِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن
یاربِّ مصطفیٰ!ہماری اور اُمَّتِ مَحْبُوب کی مَغْفِرَت فرما۔Β یااللہ
پاک! ہم نیکی کی دَعْوَت دینے کیلئےمَدَنی دورے پر رَوانہ ہورہے ہیں اِس دِین کے کام میں تُوہماری مَدَد فرما اور ہمارا دل لگادے۔Β یا اللہ پاک! ہمارے دل میں اِخلاص پیدا کر اور زبان میں اَثَر دے۔Β یا اللہ پاک!علاقے کے مسلمان بھائیوں کو بھی ہمارے ساتھ چل پڑنے کی سَعَادَت نصیب فرما۔Β یا اللہ پاک! ہمیں اور اس علاقے کے بچے بچے کو نَمازی اور مُخْلِص عاشِقِ رَسول بنا۔Β یااللہ پاک! ہرطرف سُنّتوں کی مَدَنی بہار آجائے۔Β یااللہ پاک!تجھے تیرے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا واسِطہ، ہماری یہ ٹُوٹی پُھوٹی دُعائیں قبول فرما۔ ( نیک بننے اور بنانے کے طریقے،ص۳۲۴) Β اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

نیکی کی دعوت(مختصر)

ہم Β اللہ
پاک کے گناہ گار بندے اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام ہیں، یقینًا زِنْدَگی بے حد مُخْتَصَر ہے، ہم ہر وَقْت موت کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ہمیں جَلْد ہی اندھیری قَبْر میں اُتار دیا جائے گا۔نَجات Β اللہ پاک کا حکم ماننے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سُنّتوں پر عَمَل کرنے میں ہے۔ عاشِقانِ رسول کی سنّتوں بھری مَدَنی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی کا ایک مَدَنی قَافِلہ ……… شہر سے آپ کے علاقے کی……مَسْجِد میں آیا ہوا ہے۔ہم نیکی کی دَعْوَت دینے کے لئے حاضِر ہوئے ہیں، مَسْجِد میں ابھی دَرْس جاری ہے، دَرْس میں شِرکَت کے لئے مہربانی فرما کر ابھی تشریف لے چلئے، ہم آپ کو لینے کے لئے آئے ہیں، آیئے! تشریف لے چلئے ………(اگر وہ تیّار نہ ہوں تو کہیں کہ)اگر ابھی نہیں آسکتے تو نَمازِ مَغْرب وَہیں اَدا فرما لیجئے۔ نَماز کے بعد اِنْ شَآءَ اﷲ سُنّتوں بھرا بیان ہو گا۔ آپ سے درخواست ہے کہ بیان ضَرور سنئے گا۔ اللہ پاک ہمیں اور آپ کو دونوں جہانوں کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔اٰمین۔ داعِی(یعنی نیکی کی دعوت دینے والا)اِس دوران اپنی بے بسی اور دِلوں کے پھیر نے والے پَروَردگار کی طرف تَوَجُّہ رکھے، تمام اِسْلَامی بھائی خاموشی سے سنیں۔ہاتھوں ہاتھ مَسْجِد میں آنے کے لیے تیّار ہونے والے اِسْلَامی بھائی کوخَیر خواہ(مَحبَّت بھرے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے)مَسْجِد تک چھوڑنے کے لیے آئیں۔ اگر کوئی بھی تیّار نہ ہو تو لوگوں پر بد گمانی کرنے کی بجائے اسے اپنے اِخلاص کی کمی تَصَوُّر کرتے ہوئے اِسْتِغْفار کریں اور اپنی کوشِش تیز کر دیں۔اگر کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آ گیا مَثَلًا کسی نے جھاڑ دیا وغیرہ تو صِرف صَبْر اور صَبْر کریں۔ دورانِ مَدَنی دورہ نہ کہیں بیٹھیں، نہ چائے وغیرہ کی دَعْوَت قبول کریں۔ اَذانِ مَغْرِب سے کچھ دیر قبل ہی مَسْجِد میں پہنچ جائیں اور عَصْر تا مَغْرِب ہونے والے درس میں شامِل ہوں، واپَسی پر مَسْجِد کے دروازے پر نگران پھر دُعا کروائے۔

نیکی کی دعوت سے وا پسی کے بعد کی دعا

نیکی کی دَعْوَت سے واپَسی پر نگران اِسْلَامی بھائی مَسْجِد سے باہَر دروازے کے قریب یہ دُعا مانگے: Β اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ربِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن
یاربِّ مصطفیٰ!ہماری اور اُمّتِ مَحْبوب کی مَغْفِرَت فرما۔ اے مولائے کریم، تیر ی عَطا کی ہوئی توفیق سے ہم نے مَدَنی دورہ کرکے یہاں کے مسلمان بھائیوں کو نیکی کی دَعْوَت پیش کی،اے اللہ ! ہماری یہ حقیر کوشش قبول فرما۔ اِس میں ہم سے جو کچھ کوتاہیاں ہوئیں، وہ مُعاف فرما۔ Β یااللہ پاک!ہم اِعْتِرَاف کرتے ہیں کہ ہم نیکی کی دَعْوَت دینے کا حق ادا نہ کرسکے۔ Β یااللہ پاک! ہمیں آئندہ دِل جَمْعی اور اِخْلَاص کے ساتھ نیکی کی دَعْوت دینے کی توفیق عَطا فرما۔Β یااللہ پاک! ہمیں با عَمَل بنا اور ہمارے جو مسلمان بھائی اَچھّے عَمَل سے دُور ہیں، ان کی اِصْلاح کے لیے ہمیں کُڑْھنا اور کوشش کرنا نصیب فرما۔ Β یااللہ پاک! ہمیں اور اس علاقے کے بچے بچے کو نَمازِی اور مُخْلِص عاشِقِ رَسول بنا۔Β یااللہ پاک! ہر طرف سُنّتوں کی مَدَنی بہار آجائے، Β یااللہ پاک! تجھے تیرے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا واسِطہ، ہماری یہ ٹُوٹی پُھوٹی دعائیں قبول فرما۔(نیک بننے اور بنانے کے طریقے،ص۳۲۵) Β اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبیِّ الاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اعلانِ مَغْرب

(نَمازِمَغْرِب کے)فرائض کے بعد ایک اِسْلَامی بھائی اس طرح اِعْلَان فرمائے: Β بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُوْلَ اللّٰه
پیارے اِسْلَامی بھائیو! بقیہ نَماز کے فوراً بعد اِنْ شَآءَ اﷲ سُنّتوں بھرا بیان ہو گا تشریف رکھیے اور ڈھیروں ثواب کمائیے۔ دُعائے ثانی کے بعد ایک اِسْلَامی بھائی بیان فرمائے(دورانیہ25منٹ)۔

مُبَلِّغ اِن چار اُصولوں کے مُطابِق ہی بیان فرمائے

(1)اَرْکانِ اسلام (2)اِتِّبَاعِ سُنّت(3)نیکی کی دَعْوَت(4)حُسْنِ اَخْلاق آخِر میں مَدَنی قافِلوں کی بَرَکَتیں بیان کرکے بھرپور ترغیب دلائیں،تیّار ہونے والوں کے نام بھی لکھیں،خَیر خواہ جانے والوں کو نَرمی سے بیان سننے کے لیے آمادہ کریں۔ بیان کے بعد اِنْفرادی کوشِش کریں(12 منٹ)۔

مدنی دورہ کے مدنی پھول

”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصْلاح کی کوشش کرنی ہے۔“ اس مَدَنی مَقْصَد کے تَحْت تمام نگران اپنے حلقوں میں اِسْلَامی بھائیوں کے ساتھ مل کر ہفتے میں کم از کم ایک دن اور امیرِ قَافِلہ مَدَنی قافِلوں میں روزانہ مَدَنی دورے کی ترکیب بنائیں۔ مَدَنی دورے کا بہترین وَقْت عَصْر تا مَغْرِب اور رمضانُ الْمُبارَک میں نَماز ِ ظُہْر سے قَبْل ہے، بہر حال وہ نَماز مُنْتَخَب کی جائے،جس میں لوگ اِطمینان سے بیان سُن سکیں۔ مَدَنی دورے میں تمام اِسْلَامی بھائی اوّل تا آخر شِرکَت فرمائیں۔(آغاز،جَمَاعَت عَصْر سے 26منٹ قَبْل اور اِخْتِتام،مَغْرِب کے بیان کے بعد اِنْفِرادی کوشش پر ہو) مَدَنی دورے کا ذِمَّہ دار اِسْلَامی بھائی اذانِ عَصْر سے قَبْل جَمْع ہونے والے اِسْلَامی بھائیوں میں ذِمّہ داریاں تقسیم کرے۔ذِمَّہ داریوں میں عَصْر کا اعلان،عَصْر کا بیان، عَصْر تا مَغْرِب مَسْجِد میں بیان،خَیْرخواہ،عَصْرتا مَغْرِب بیان میں شِرکَت کرنے والے، مَدَنی دورے میں مَسْجِد سے باہَر جانے والے،مَغْرِب کا اِعلان، مَغْرب کا بیان اور مَسْجِد سے باہَر جانے والوں کا نگران وغیرہ شامِل ہیں۔ مَدَنی دورے میں کم از کم 7 اور زِیادَہ سے زِیادَہ 12اِسْلَامی بھائی ہوں۔ مَسْجِد میں رہنے والوں کی تعداد کم از کم دو اور باہَر جانے والے اِسْلَامی بھائیوں کی تعداد کم از کم پانچ ہو۔ حلقوں میں مَدَنی دورے کے لیے بھی دن مُقَرَّر کریں،اس کا ہرگز ناغہ نہ کریں ورنہ دِین کے کام کا بَہُت نقصان ہوگا۔ مَدَنی قافلے”دعوتِ اِسْلَامی“کے لیے ریڑ ھ کی ہڈّی کی سی حَیْثِیَّت رکھتے ہیں اور مَدَنی دورہ مَدَنی قافِلوں کی مشین ہے۔ مَدَنی دورے کے ذریعے مَسْجِد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ مَدَنی قافِلوں کی دُھومیں مچانے میں مدد ملے گی۔( اِنْ شَآءَ اﷲ ) لوگوں کے پاس جاجا کر ان کو نیکی کی دَعْوَت پیش کرنا ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم سنّت ہے۔ اس عظیم مَدَنی کام کی عظیم ذِمَّہ داریاں اوراُن کے کام کی تفصیل درج ذیل ہے: نگران کا کام آداب بیان کرنا، دعا کرانا،(ضَرورت پیش آنے پر)آداب یاد دلانا۔ داعِی کا کام نیکی کی دَعْوت دینا۔ راہ نُما کا کام مقامی لوگوں کے پاس لیکر جانا، نیکی کی دَعْوت سے قبل تعارف پیش کرنا۔ خَیر خواہ کا کام لوگوں کو قریب کرنا، جو تیّار ہوجائے اسے مَسْجِد تک اپنے ساتھ لیکر آنا۔ ذِمَّہ دار اِسْلَامی بھائی مَدَنی دورے کو اس طرح کامیاب بنائیں کہ وہاں سے مَدَنی قافلے کے لیے اِسْلَامی بھائی تیّار ہوں۔ (رہنمائے جدول،ص۱۴۲تا١٤٤) شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْرِاَہْلِسُنّت Β دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ
فرماتے ہیں: جو نیکی کی دَعْوَت کی دُھومیں مچائے میں دیتا ہوں اُس کو دُعائے مدینہ (وسائِلِ بخشش(مُرمَّم)، ص۳۶۹) صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

مدنی درس سکھائیں اور دلوائیں

(3:31 تا 03:40) (وقت 10 منٹ) (مدنی درس کا طریقہ صفحہ نمبر71سے دیکھ لیجئے)

فکرِ مدینہ مع لکھ کر گفتگو

(03:41 تا 03:45 ) (وقت 5منٹ) اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 15پر عمل کرتے ہوئے فِکرِ مَدینہ کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔( اِنْ شَآءَ اللّٰہ )

دعائے عطار

یا اللہ پاک! جو کوئی ، صدقِ دل ، سچے دل سے مدنی انعامات پر عمل کرے، روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے رسالہ پُر کرے اور ہر مدنی ماہ کی پہلی تاریخ کو اپنے ذمہ دار کو جمع کروادیا کرے، اُس کو اِ س سے پہلے موت نہ دینا جب تک کلمہ نہ پڑھ لے۔ اٰمین بجاہِ النبی الامینصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو ولی اپنا بنالے اُس کو ربِّ لَمْ یَزَلْ مدنی انعامات پر کرتا ہے جو کوئی عمل (فکر مدینہ کا طریقہ صفحہ نمبر75 پر ہے)

وقفۂ آرام

تمام اسلامی بھائی مَدَنی انعام پر عمل کرتے ہوئے سنت کے مطابق آرام فرمائیں اور سونے میں یہ احتیاط فرمائیں کہ پردے میں پردہ کئے دو اسلامی بھائیوں میں ایک ہاتھ کا فاصلہ رکھتے ہوئے ،بغیر ایک دوسرے سے باتیں کئے آرام فرمائیے۔

نماز عصرکی تیاری

اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 4پر عمل کرتے ہوئے اَذان و اِقامت کا جواب دینےکی سعادت حاصل کریں ۔

بعد نماز عصر مَدَنی مذاکرہ

( مَدَنی مذاکرہ شروع ہوتے ہی تمام جدول موقوف فرما کر مَدنی مذاکرہ میں سب شریک ہو جائیں )

آخری عشرہ کے اعتکاف میں مدنی مذاکرہ سنانے کے مدنی پھول

اعتکاف کے آخری عشرہ میں مسجد میں آڈیو مدنی مذاکرہ چلاتے وقت چند باتوں کا خیال رکھا جائے۔ جو مجلس مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھے وہ مدنی مذاکرہ دکھا سکتی ہے۔ جس موبائل سے آڈیو مدنی مذاکرہ چلا رہے ہیں اس موبائل فون کی ٹیون نہ بجے۔ کسی قسم کا کوئی اشتہار نہ چلے۔ کسی قسم کا میوزک یا عورت کی آواز نہ آئے۔ ایسی جگہ مدنی مذاکرہ سنوایا جائے جہاں نمازیوں کو تشویش نہ ہو۔ مدنی مذاکرہ دیکھنے والے معتکفین کو روزانہ مدنی چینل پر مدنی مذاکرہ میں لائیو دکھانے کی ترکیب کی جائے۔

آخری عشرہ کے اعتکاف میں مدنی مذاکرہ سنانے کے مدنی پھول

مدنی چینل ریڈیو ایپ۔ ساؤنڈ۔ ساؤنڈ اور موبائل کے ساتھ اٹیچ ہونے والی تار۔ ساؤنڈ اگر نہ ہو تو چھوٹااسپیکر بھی چل سکتا ہے۔ پانی کا انتظام۔ مدنی عطیات بکس۔ ہفتہ وار رسائل کا بستہ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن