30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نماز کے احکام
2:00 تا2:45(45منٹ)
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 72پر عمل کرتے ہوئے نماز کے احکام سے وُضُو ، غُسْل اور نماز دُرُست کرنے کی سعادت حاصل کریں گے ۔ ( اِنْ شَآءَ اللّٰہ )
نماز کے فرائض
دُرُود شریف کی فضیلت
مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشاد ِ نور بار ہے:تم اپنی مجلسو ں کو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑ ھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا مجھ پردُرُود پڑھنا بروزِقیامت تمہارے لئے نور ہو گا۔( جامع صغیر ، حرف الزاء ، ص ۲۸۰، حدیث :۴۵۸۰)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ علٰی مُحَمَّد
’’بسم اللّٰہ‘‘ کے سات حُروف کی نسبت سے نَماز کے 7فرا ئض
(1) تکبیرِتَحریمہ (2)قِیام (3) قراءَت (4) رُکُوع (5) سُجُود (6) قَعدۂ اَخِیرَہ (7)خُرُوْج بِصُنْعِہٖ۔( غنیة المتملی ، فرائض الصلاة ، ص ۲۵۳۔۲۸۶)
(1) تکبیرِ تحریمہ : در حقیقت تکبیرِ تحریمہ (یعنی تکبیرِ اُولیٰ) شرائطِ نَماز میں سے ہے مگرنَماز کے اَفعال سے بالکل ملی ہوئی ہے اِس لئے ا سے نَماز کے فرائض میں بھی شُمار کیا گیا ہے۔( غنية المتملی ، فرائض الصلاة ، الاول تكبيرة الافتتاح ، ص 253)
مقتدی نے تکبیرِ تحریمہ کالَفْظ ’’ اللہ ‘‘ امام کے ساتھ کہا مگر ’’ اکبر ‘‘ امام سے پہلے ختم کر لیا تو نماز نہ ہو گی۔( فتاوی هندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الرابع فی صفة الصلاة ،۱/۶۸)
امام کو رُکوع میں پایا اور تکبیرِتحریمہ کہتا ہوا رُکوع میں گیا یعنی تکبیر اُس وَقْت خَتْم ہوئی کہ ہاتھ بڑھائے تو گُھٹنے تک پہنچ جائیں نَماز نہ ہو گی۔( خلاصة الفتاوی ، کتاب الصلاة ، الفصل التاسع فی التکبیر ، ص ۸۳، جز 1)
(ایسے موقع پر قاعدے کے مطابِق پہلے کھڑے کھڑے تکبیرِ تحریمہ کہہ لیجئے اِس کے بعد اللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے رُکوع کیجئے ،امام کے ساتھ اگر رُکوع میں معمولی سی بھی شرکت ہوگئی تورَکعت مل گئی اگر آپ کے رُکوع میں داخِل ہونے سے قبل اما م کھڑا ہوگیا تورَکعت نہ ملی)
لفظِ اللّٰہ کو ” اٰللہ “ یا اَکْبَر کو ” اٰ کْبَر “ یا ” اَ کبَار “ کہا نَماز نہ ہو گی بلکہ اگر ان کے معنی فاسِدہ سمجھ کر جان بوجھ کر کہے تو کافِر ہے۔( در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ،۲/۱۷۷)
پہلی رَکعَت کا رُکوع مل گیا تو تکبیرِ اُوْلیٰ کی فضیلت پا گیا ۔( فتاوی هندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الرابع فی صفة الصلاة ،۱/۶۹)
(2) قِیام : کمی کی جانب قیام کی حدیہ ہے کہ ہاتھ بڑھائے تو گُھٹنوں تک نہ پہنچیں اورپوراقِیام یہ ہے کہ سیدھا کھڑا ہو۔ ( در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ،۲/۱۶۳)
قِیام اتنی دیر تک ہے جتنی دیر تک قراءَت ہے۔یعنی بقدرِ قِراء ت فرض قِیام بھی فرض، بَقَدَرِ واجِب واجِب، اور بَقَدَرِ سنَّت سنَّت۔( در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ،۲/۱۶۳)
فرض، وِتر، عِیدَیْن اور سنّتِ فجر میں قِیام فرض ہے۔ اگربِلاعُذرِصَحِیح کوئی یہ نَمازیں بیٹھ کر ادا کرے گا تو نہ ہوں گی۔( در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ،۲/۱۶۳)
اگر عَصا ( یا بیساکھی) خادِم یا دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑا ہونا ممکِن ہے تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر پڑھے۔( غنیة المتملی ، فرائض الصلاة ، الثانی القیام ، ص ۲۵۸)
اگر صِرف اِتنا کھڑا ہو نا ممکِن ہے کہ کھڑے کھڑے تکبیرِ تحریمہ کہہ لے گا تو فرض ہے کہ کھڑاہو کر اللّٰہُ اَکْبَر کہہ لے اور اب کھڑا رَہنا ممکن نہیں تو بیٹھ جائے۔( غنیة المتملی ، فرائض الصلاة ، الثانی القیام ، ص ۲۵۹)
خبردار! بعض لوگ معمولی سی تکلیف (یا زخم) کی وجہ سے فرض نَماز یں بیٹھ کر پڑ ھتے ہیں وہ اس حکمِ شَرعی پر غور فرمائیں،جتنی نَمازیں قدرت ِ قِیام کے باوُجُوْد بیٹھ کر ادا کی ہوں ان کو لوٹانا فرض ہے۔ اسی طرح ویسے ہی کھڑے نہ رَہ سکتے تھے مگر عصا یا دیوار یا آدَمی کے سہارے کھڑے ہونا ممکن تھا مگر بیٹھ کرپڑھتے رہے تو ان کی بھی نَمازیں نہ ہوئیں ان کا لَوٹانا فرض ہے۔(بہارِ شریعت،۱/۵۱۱)
کھڑے ہوکر پڑھنے کی قدرت ہوجب بھی بیٹھ کر نفل پڑھ سکتے ہیں مگر کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے۔
(3) قِر اءَ ت : قراءَت اِس کانام ہے کہ تمام حُروف مَخارِج سے ادا کئے جائیں کہ ہر حَرف غیر سے صحیح طور پرمُمتاز (نُمایاں ) ہو جائے۔( فتاوی هندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الرابع فی صفة الصلاة ،۱/۶۹)
آہستہ پڑھنے میں بھی یہ ضَروری ہے کہ خود سن لے۔( غنیة المتملی ، فرائض الصلاة ، الثالث القراءة ، ص ۲۷۱)
اگر حُرُوف تو صحیح ادا کئے مگر اتنے آہِستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی رُکاوٹ مَثَلاً شورو غل یا ثِقْلِ سَماعت (یعنی اُونچا سننے کا مرض) بھی نہیں تو نَماز نہ ہوئی۔( فتاوی هندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الرابع فی صفة الصلاة ،۱/۶۹)
اگرچِہ خود سننا ضَروری ہے مگر یہ بھی اِحتِیاط رہے کہ سِرّی (یعنی آہِستہ قراء ت والی)نمازوں میں قراءَت کی آواز دوسروں تک نہ پہنچے ،اِسی طرح تسبیحات وغیرہ میں بھی خیال رکھئے۔
نَماز کے علاوہ بھی جہاں کچھ کہنا یاپڑھنا مقرَّر کیا ہے اِس سے بھی یِہی مراد ہے کہ کم از کم اِتنی آواز ہو کہ خود سن سکے مَثَلاً طَلَاق دینے ، آزاد کرنے یا جانور ذَبح کرنے کے لئے اللہ کا نام لینے میں اِتنی آوازضَروری ہے کہ خود سن سکے۔( فتاوی هندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الرابع فی صفة الصلاة ،۱/۶۹)
درود شریف وغیرہ اَوراد پڑھتے ہوئے بھی کم ازکم اتنی آواز ہونی چاہئے کہ خود سُن سکے جبھی پڑھنا کہلائے گا۔
مُطلَقاً ایک آیت پڑھنا فرض کی دو رَکعَتوں میں اور وِتْر، سُنَنْ اور نوافِل کی ہر رَکعت میں امام و مُنْفَرِد (یعنی تنہانَماز پڑھنے والے) پر فرض ہے۔( حاشیة الطحطاوی ، کتاب الصلاة ، باب شروط الصلاة و ارکانها ، ص ۲۲۶)
مقتدی کو نَماز میں قراءت جائز نہیں نہ سورۃالفاتِحہ نہ آیت ۔ نہ سِرّی (یعنی آہستہ قراءت والی) نَماز میں نہ جَہری (یعنی بُلند آواز سے قراءت والی) نَماز میں۔ امام کی قراءت مقتدی کے لئے بھی کافی ہے۔( حاشیة الطحطاوی ، کتاب الصلاة ، باب شروط الصلاة و ارکانها ، ص ۲۲۷)
فرض کی کسی رَکعت میں قراءت نہ کی یافقط ایک میں کی نَماز فاسد ہو گئی۔( فتاوی هندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الرابع فی صفة الصلاة ،۱/۶۹)
فرضوں میں ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرے اور تراویح میں مُتَوسِّط انداز پر اور رات کے نوافل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم سے کم مَد کا جو دَرَجہ قارِیوں نے رکھاہے اُس کو ادا کرے ورنہ حرام ہے، اس لئے کہ تَرتِیل سے (یعنی ٹھہر ٹھہرکر) قرآن پڑھنے کا حکم ہے۔( در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، مطلب : السنة تکون سنة عین و سنةکفایة ،۲/۳۲۰)
آج کل کے اکثر حُفّاظ اِس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے۔ یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سِوا کسی لفظ کا پتا نہیں چلتا، نہ تَصحِیحِ حُرُوف ہوتی بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھاجا تے ہیں اور اس پرتَفاخر ہوتا ہے کہ فُلاں اِس قَدَر جلد پڑھتا ہے! حالانکہ اس طرح قرآ نِ مجید پڑھنا حرام اور سخت حرام ہے۔ (بہارِ شریعت،۱/۵۴۷)
حروف کی صحیح ادائیگی ضَروری ہے
اکثر لوگ ”ط ت، س ص ث، ا ء ع، ہ ح اورض ذ ظ“ میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ یاد رکھئے ! حُرُوف بدل جانے سے اگر معنی فاسِد ہو گئے تونَماز نہ ہو گی۔(بہارِ شریعت،۱/۵۵۷ملخصاً)
مَثَلاً جس نے ” سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیم “ میں ” عظیم “ کو ” عزیم “ (ظ کے بجائے ز) پڑھ دیا نَماز جاتی رہی لہٰذا جس سے ” عظیم “صحیح ادا نہ ہووہ ” سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْکَرِیم “ پڑھے۔( قانون شریعت،ص۱۱۹)
خبردار ! خبردار! خبردار! جس سے حُروف صحیح اد ا نہیں ہوتے اُس کے لئے تھوڑی دیر مَشْق کر لینا کافی نہیں بلکہ لازِم ہے کہ انہیں سیکھنے کے لئے رات دن پوری کوشش کرے اور اگر صحیح پڑھنے والے کے پیچھے نَماز پڑھ سکتا ہے تو فرض ہے کہ اس کے پیچھے پڑھے یا وہ آیتیں پڑھے جس کے حُرُوف صحیح ادا کر سکتا ہو۔ اور یہ دونوں صورَتیں نا ممکن ہوں تو زَمانۂ کوشِش میں اس کی اپنی نَماز ہو جائے گی۔ آج کل کافی لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں کہ نہ انہیں قرآن صحیح پڑھنا آتا ہے نہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رکھئے! اس طرح نمازیں برباد ہوتی ہیں۔(بہارِ شریعت،۱/۵۷۰۔ ۵۷۱ ملخصاً)
جس نے رات دن کوشِش کی مگر سیکھنے میں نا کام رہا جیسے بعض لوگوں سے صحیح حُروف ادا ہوتے ہی نہیں اس کے لئے لازِمی ہے کہ رات دن سیکھنے کی کوشِش کرے اور زمانۂ کوشِش میں وہ معذور ہے اِس کی اپنی نَماز ہو جائے گی مگر صحیح پڑھنے والوں کی امامت ہر گز نہیں کر سکتا ۔ ہاں جو حُرُوف اس کے اپنے غَلَط ہیں وُہی دوسروں کے بھی غَلَط ہوں تو زما نۂ کوشِش میں اَیسوں کی امامت کر سکتا ہے ۔ اور اگر کوشش بھی نہیں کرتا تو خود اِس کی نَماز ہی نہیں ہوتی تو دوسرے کی اِس کے پیچھے کیا ہو گی ! (فتاویٰ رضویہ،۶/۲۵۴ماخوذا)
(4) رُکوع: اِتنا جُھکنا کہ ہاتھ بڑھائے تو گُھٹنے کو پہنچ جائے یہ رُکوع کا اَدنیٰ دَرَجہ ہے۔ ( در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ،۲/۱۶۶)اور پورا یہ کہ پیٹھ سیدھی بچھادے۔( حاشیة الطحطاوی ، کتاب الصلاة ، باب شروط الصلاة و ارکانها ، ص ۲۲۹)
تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے، اللہ پاک بندہ کی اُس نَماز کی طرف نظرنہیں فرماتا جس میں رُکوع وسُجُود کے درمیان پیٹھ سیدھی نہ کرے۔( مسند امام احمد ، مسند ابی هریرة ،۳/۲۱۷، حدیث :۱۰۸۰۳)
(5) سُجُود: نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے، مجھے حکم ہوا کہ سات ہڈِّیوں پر سجدہ کروں ، منہ اور دونوں ہاتھ اور دونوں گُھٹنے اور دونوں پنجے اور یہ حکم ہوا کہ کپڑے اور بال نہ سمیٹوں۔( مسلم ، کتاب الصلاة ، باب اعضاء السجود ... الخ ،۱/۱۹۳)
ہررَکعت میں دوبارسجدہ فَرض ہے۔( در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ،۲/۱۶۷)
سَجدے میں پَیشانی جَمنا ضَروری ہے۔ جمنے کے معنیٰ یہ ہیں کہ زمین کی سختی محسوس ہو، اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ پیشانی نہ جمی تو سجدہ نہ ہو گا۔( فتاوی هندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الرابع فی صفة الصلاة ،۱/۷۰)
کسی نَرم چیزمَثَلاً گھاس (جیسا کہ باغ کی ہریالی) رُوئی یا قالین (CARPET)وغیرہ پرسَجدہ کیا تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے تو سجدہ ہو جائے گا ورنہ نہیں۔ ( فتاوی هندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الرابع فی صفة الصلاة ،۱/۷۰)
آج کل مساجد میں کارپیٹ(CARPET) بچھانے کا رَواج پڑ گیا ہے ( بلکہ بعض جگہ تو کارپیٹ کے نیچے مزید فوم بھی بچھا دیتے ہیں ) کار پیٹ پر سَجدہ کرتے وقت اِس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ پیشانی اچھّی طرح جم جائے ورنہ نَماز نہ ہو گی۔ اور ناک کی ہڈّی نہ دبی تونَماز مکروہِ تحریمی واجِبُ الاِعادہ ہو گی۔(بہارِ شریعت،۱/۵۱۴ملخصاً)
(6) قعدۂ اَخیرہ: یعنی نَماز کی رَکعتیں پوری کرنے کے بعد اتنی دیر تک بیٹھنا کہ پوری تَشَھُّد (یعنی پوری اَلتَّحِیات ) رَسُوْلُہ تک پڑھ لی جائے فرض ہے۔( فتاوی هندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الرابع فی صفة الصلاة ،۱/۷۰)
چاررَکعَت والے فرض میں چوتھی رَکعَت کے بعد قعدہ نہ کیا تو جب تک پانچویں کا سَجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے اور اگر پانچویں کاسَجدہ کر لیا یا فجر میں دوسری پر نہیں بیٹھا تیسری کاسَجدہ کر لیا یا مغرِب میں تیسری پر نہ بیٹھا اور چوتھی کا سَجدہ کر لیا ان سب صورَتوں میں فرض باطِل ہو گئے۔ مغرب کے علاوہ اورنَمازوں میں ایک رَکعَت مزید ملا لے۔( غنیة المتملی ، فرائض الصلاة ، الخامس السجدة ، ص ۲۸۴)
(7) خُروج بِصُنْعِہٖ: یعنی قعدۂ اخیرہ کے بعد سلام یا بات چیت وغیرہ کوئی ایسا فِعل قَصداً (یعنی ارادتاً ) کرنا جونَماز سے باہَر کردے۔ مگر سلام کے علاوہ کوئی فِعل قصداً پایا گیا تو نَماز واجبُ الاِعادہ ہو گی۔ اور اگر بِلا قصد کوئی اِس طرح کافِعل پا یا گیا تونَماز باطِل۔( غنیة المتملی ، فرائض الصلاة ، الخامس السجدة ، ص ۲۸۴)
عملی طریقہ
2:45 تا 3:00 (15 منٹ)
مبلغ اسلامی بھائی رُکوع کی عملی مشق کروائیں
رُکوع کے مدنی پھو ل
اَللہُ اَکْبَر کہتے ہو ئے ر کو ع میں جا نا ۔
اختتامِ تکبیر ر کو ع میں ہو نا۔
لفظ ” اللہ “کی الف سے انتقال شر و ع اور ” اَکْبَر “ کی را ء پر ختم ہو یہ سنت ہے جیساکہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہر تکبیرِ انتقال میں حکم ہے کہ ایک فعل (یعنی رُکن) سے دوسرے فعل کو جانے کی ابتداء کے ساتھ اللہُ اَکْبَر کا الف شروع ہو اور ختم کے ساتھ ختم ہو۔)فتاو ی رضویہ ،6/۱۸۸ (
یہ را ستہ پورا کر نے کو ” اَکْبَر “ کا الف ) اٰکْبَر ( یا ....با ) اَکْبَا ر ( بڑ ھا ئیں گے تو اس سے نماز فاسد ہوتی ہے یا )راء( بڑ ھا ئیں گے تو یہ غلَط و خلا ف ِسنت ہے.... را ستہ پورا کر نے کیلئے لفظ ” اللہ “ کے لام کو بڑھائیں اور ”راء کو جزم (یعنی ساکن) پڑ ھے۔“(بہارِ شریعت،۱/۵۲۵)
پیٹھ ا چھی طر ح بچھی ہونا کہ پا نی کا پیا لہ ٹھہر جا ئے (اس کے لیے کہنیاں سیدھی رکھنا) رکوع کا ادنیٰ د ر جہ یہ ہے کہ اتنا جھکنا کہ ہا تھ بڑ ھا ئے تو گھٹنے کو پہنچ جا ئے اور پورا یہ کہ پیٹھ سیدھی بچھ جا ئے۔)نماز کے احکام ،ص ۲۱۲)
سنت یہ ہے کہ ر کو ع میں پیٹھ ا چھی طر ح بچھی ہو حتیٰ کہ اگر پا نی کا پیا لہ پیٹھ پر ر کھ دیا جا ئے تو ٹھہر جائے۔ )نماز کے احکام ،ص ۲۲۴(اس کے لیے کہنیاں سیدھی ر کھیں۔
گھٹنوں کو ہا تھ سے پکڑ نا اور انگلیا ں پھیلی ہو ئی ر کھنا۔ مر د کا گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑنا سنت، (نماز کے احکام ،ص ۲۲۴( نہ پکڑ نا مکر وہِ تنزیہی ہے۔(نماز کے احکام، ص۲۶۱)
انگلیاں خو ب کھلی رکھنا سنت ہے۔(نماز کے احکام، ص۲۲۴)
سر اونچا نیچا نہ ہونا۔رکوع میں سر اونچا نیچا نہ ہو ،پیٹھ کی سیدھ میں ہو، یہ سنت ہے۔(نماز کے احکام، ص۲۲۴)
قدموں پر نظر ہونا۔رکوع میں دونوں قدموں کی پشت پر نظر رکھنا مستحب ہے۔(نماز کے احکام، ص۲۳۶)
ٹا نگیں سید ھی ہونا۔ٹا نگیں سیدھی ہونا سنت ہے،اکثر لوگ کمان کی طرح ٹیڑھی کر لیتے ہیں یہ مکروہ ہے۔(بہارِ شریعت،۱/۵۲۵)پیروں کی انگلیاں مت ہلائیں۔
تین بار ” سُبْحٰنَ رَ بِّیَ الْعَظِیْم “ کہنا۔
تعدیلِ ارکان یعنی رکوع، سجود، قو مہ اور جلسہ میں کم از کم ایک بار ” سُبْحٰن اللہ “ کہنے کی مقدار ٹھہرنا واجب ہے۔(نماز کے احکام، ص۲۱۸) بھول گیا تو سجدۂ سہو وا جب ہوگا۔(نماز کے احکام، ص۲۷۶ ماخوذا)تین بار ” سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم “ کہنا سنت ہے۔(نماز کے احکام، ص۲۲۴) بلا ضرو رت تین سے کم تسبیح پڑھنا مکر وہِ تنزیہی ہے۔ (نماز کے احکام، ص۲۶۰) منفرد کو تین سے زیادہ مگر طا ق پڑ ھنا مستحب ہے۔(نماز کے احکام، ص۲۳۶)
ر کوع ہر ر کعت میں ایک ہی بار کرنا وا جب ہے۔(نماز کے احکام، ص۲۲۰)
سنتیں اور آداب کا حلقہ
(3:00 تا 03:10) (وقت 10 منٹ)
’’صفائی نصف ایمان ہے کے پندرہ حروف کی نسبت سے حجامت ،موئے بغل وغیرہ کے 15 مدنی پھول‘‘
(1)حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں: مونچھیں اور ناخن تر شوانے او ربغل کے بال اکھاڑنے او ر موئے زیرِ ناف مُونڈنے میں ہمارے لئے یہ وقت مقرر کیا گیاہے کہ چا لیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ ( مسلم ، کتاب الطهارة ، باب خصال الفطرة ، ص ۱۵۳، حدیث :۲۵۸)
(2)ہفتہ میں ایک بار نہانا او ربد ن کو صاف ستھرا رکھنا اورموئے زیرِ ناف دور کرنا مستحب ہے۔
(3)پندرہویں روز کرنا بھی جائز ہے اور چالیس رو ز سے زیادہ گزار دینا مکرو ہ و ممنوع ہے۔
(4) حدیثِ پاک میں ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جمعہ کے دن نماز کے لئے جانے سے پہلے مونچھیں کترواتے اور ناخن ترشواتے۔ ( شعب الایمان ، باب العشرون من شعب الايمان و هو باب فی الطهارات ،۳/۲۴، حدیث :۲۷۶۳)
(5) بغل کے بالوں کو اُکھاڑ نا سنت ہے اور مونڈنا گناہ بھی نہیں۔
(6) ناک کے بال نہ اُکھاڑیں کہ اس سے مرض آکلہ پیدا ہوجانے کا خوف ہے۔
(7) گردن کے بال مونڈنامکروہ ہےیعنی جب کہ سر کے بال نہ مونڈائیں صرف گردن ہی کے مونڈائیں، ہاں اگر پورے سر کے بال مونڈائیں تو اس کے ساتھ گردن کے بھی مونڈادیں، نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجامت کے سوا گردن کے بال مونڈانے سے منع فرمایا۔ ( معجم اوسط ، باب الالف ، من اسمه اسماعیل ،2 / 187، حدیث : 2969)
(8) اَبرو کے بال اگر بڑے ہوجائیں تو ان کو تر شواسکتے ہیں۔
(9) ہاتھ، پاؤں او رپیٹ کے بال دور کرناچاہیں تو منع نہیں۔
(10) سینہ او رپیٹھ کے بال کاٹنا یامونڈنا اچھا نہیں۔
(11) داڑھی بڑھانا سنن انبیاء ومرسلین عَلَیْہِمُ السَّلَام سے ہے۔(بہارِ شریعت،۳/۵۸۵)
(12)داڑھی مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے، ہاں ایک مشت سے زائد ہوجائے تو جتنی زیادہ ہے اس کو کٹواسکتے ہیں۔( در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی البیع ،۹/۶۷۱)
(13)داڑھی کا خط بنوانا جائز ہے۔( در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی البیع ،۹/۶۷۱)
(14) مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال بڑے ہوں تو حرج نہیں۔ ( فتاوی هندیة ، کتاب الدعوی ، الباب التاسع عشر فی الختان ... الخ ،۵/۳۵۸)
(15) جنابت کی حالت میں (یعنی غسل فر ض ہونے کی صورت میں) نہ کہیں کے بال مونڈیں نہ ہی ناخن تراشیں کہ ایسا کرنامکروہ ہے ۔ (بہارِ شریعت،۳/۵۸۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
12 مدنی کام
(3:11 تا 03:30) (وقت 20 منٹ)
Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان
(ذیلی حلقے کے12مدنی کاموں میں سے ایک مدنی کام)
ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
دُرود شریف کی فضیلت
سرکار ِمدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ بخشش نِشان ہے:جس نے کِتاب میں مجھ پر دُرُودِ پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں رہے گا فِرشتے اُس کے لئے اِسْتِغْفار(یعنی بخشش کی دُعا) کرتے رہیں گے۔(Β معجم اوسط ،Β باب الالف ،Β من اسمه احمد ،۱/۴۹۷،Β حدیث :۱۸۳۵)
عبث گناہوں کی شامت میں مارے پھرتے ہو
خُدا کی تم پہ ہو رَحْمَت اگر دُرُود پڑھو
(نور ایمان،ص۵۷)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد
تِلاوَتِ قرآنِ پاک کی اہمیت و ضرورت
پیارے پیارے اِسْلَامی بھائیو!Β اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ! ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کے اِیمان کا بُنْیَادِی تقاضا اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحبَّت ہے، جبکہ اللہ پاک سے مَحبَّت کی ایک عَلامَت قرآنِ کریم سے مَحبَّت ہے اور قرآنِ پاک وہ مُقَدَّس کِتاب ہے، جس کو اللہ پاک نے جس زبان میں نازِل فرمایا، وہ زبان تمام زبانوں سے اَفْضَل، جس مہینے میں نازِل فرمایا،وہ مہینہ سب مہینوں میں اَفْضَل،جس رات میں نازِل فرمایا، وہ رات ہزار مہینوں سے اَفْضَل، جس نبی پر نازِل فرمایا ،وہ نبی تمام نبیوں سے اَفْضَل اور جو اس کو سیکھے سِکھائے وہ انسانوں میں بہترین انسان بن جائے۔ جیسا کہ مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:Β خَیْرُکُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْـقُرْاٰنَ وَعَلَّمَهٗ ۔ یعنی تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔(Β بخاری ،Β کتاب فضائل القرآن ،Β باب خیرکم من تعلم القرآن و علمه ،Β 3Β / 410،Β حدیث :۵۰۲۷)
چُنَانْچِہ، اے عاشقان رسول! ہِمَّت کیجئے! قرآنِ پاک خود بھی پڑھنا سیکھئے اور دوسروں کو بھی سکھائیے کہ فرمانِ مُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: قرآنِ پاک سیکھواور اس کی تِلاوَت کرو،کیونکہ قرآنِ پاک کی مِثال ایسے شخص کے لئے جو اسے سیکھتا ہے، پھر اس کی تِلاوَت کرتا ہے اور اسے نَماز میں پڑھتا ہے، کستوری سے بھرے ہوئے اس تھیلے کی طرح ہے جس کی خوشبو ہر طرف مہکتی ہے اور جو شخص قرآنِ کریم سیکھے مگر تِلاوَت نہ کرے تو اس کی مِثال کستوری کے اس تھیلے کی طرح ہے جس کا منہ باندھ دیا گیا ہو۔(Β ترمذی ،Β کتاب فضائل القرآن ،Β باب ما جاء فی فضل سورة البقرۃ ...Β الخ ،Β 4Β / 401،Β حدیث :۲۸۸۵)
مجھ کو اللہ سے محبَّت ہے
یہ اُسی کی عَطا و رَحْمَت ہے
جس کو سرکار سے محبَّت ہے
اُس کی بخشش کی یہ ضَمانت ہے
دِل میں قرآں کی میرے عَظَمَت ہے
اور پیاری ہر ایک سنّت ہے
(وسائل بخشش(مُرمَّم)،ص ۶۸۴)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد
دُرست قرآنِ پاک پڑھنے کا شرعی حکم
پیارے پیارے اِسْلَامی بھائیو!قرآنِ کریم عربی زبان(ARABIC LANGUAGE)میں عربی آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازِل ہوا۔ رَسولِ عربی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے عربی لب و لہجے میں پڑھنے کا حکم کچھ یوں اِرشاد فرمایا:Β اِقْرَؤُوا الْقُرْاٰنَ بِلُحُوْنِ الْعَرَب ۔ یعنی قرآن کو عربی لب ولہجے میں پڑھو۔(Β نوادر الاصول ،Β الاصل الثالث والخمسون والمائتان فی ان القرآن مثله ...Β الخ ،۲/۲۴۲)
مگر بدقسمتی!مَخَارِج کی دُرُسْتی کے ساتھ عَرَبی لب و لہجے میں اب قرآنِ کریم پڑھنے والے بَہُت ہی کم ہیں۔(ح اور ہ)،(ذ، ز،ظ اور ض)،(ث،س اور ص)اور(ع اور ء) میں فَرْق کر کے پڑھنے والے بَہُت ہی کم ہیں۔ یاد رکھئے! دُرُسْت مَخَارِج کے ساتھ قرآن پڑھنا فَرْض ہے، لَحْنِ جَلِی (یعنی حَرْف کو حَرْف سے بدلنے کی وجہ) سے اگر معنیٰ فاسِد ہو جائیں تو نَماز بھی فاسِد ہو جاتی ہے۔ چُنَانْچِہ یہی وجہ ہے کہ وہ اِسْلَامی بھائی جو دُرُسْت مَخَارِج کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھنا نہیں جانتے،انہیں Β مَدْرَسَۃُ الْمَدِیْنَہ بَالِغَان کے تَحْت دُرُسْت مَخَارِج کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھانے کا اِہتِمام کیا جاتا ہے۔
کس قَدر قرآنِ پاک سیکھنا ضروری ہے؟
ہم سب پر دِن بھر میں 5 نَمازیں فَرْض ہیں اور ہر نَماز میں چونکہ قراءتِ قرآن بھی فَرْض ہے۔ لِہٰذا اس قَدْر قرآنِ پاک یاد کرنا لازِم و ضَروری ہے جس سے نَماز میں فریضۂ قراءت کو اَحْسَن انداز سے ادا کیا جا سکے، چُنَانْچِہ اس کیلئے کتنا قرآن یاد ہونا ضَروری ہے ، اس کے مُتَعَلِّق فِقْہِ حنفی کی مُسْتَند کتاب بہارِ شریعت میں ہے:ایک آیت کا حِفْظ(زبانی یاد) کرنا ہر مسلمانΒ مُکَلَّف پر فَرْضِ عین ہے اور پورے قرآنِ کریم کا حِفْظ کرنا فَرْضِ کفايہ اور سورۂ فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سُورت یا اس کے مِثْل، مَثَلًا تین(3) چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیَت کا حِفْظ،واجِبِ عَین ہے۔ (بہارِ شریعت،۱/۵۴۵)
مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کے 15 مَدَنی پھول
(1)…مجلس Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کا مَدَنی کام ہر ذیلی حلقے یا مَساجِدِ اَہْلِسُنّت، گھر (جہاں مَسْجِد میں ترکیب نہ ہو وہاں کسی اِسْلَامی بھائی کی بیٹھک (ڈرائنگ روم)) دُکان یا دفتر یا فیکٹری وغیرہ میں بالغان کے لئے روزانہ کسی بھی نماز کے بعدیاکسی بھی وَقْتِ مُناسِب پر (جس میں پڑھنے والوں کو آسانی ہو) تقریباً63 منٹ (بیرونِ ملک مدرسۃالمدینہ بالغان کا دورانیہ41منٹ ہے۔) Β مَدْرَسَةُ الْمَدِیْنَه بالِغان قائم کر کے تَبْلِیغِ قرآن و سنت کی عالمگیرغیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی پیغام کو عام کرنا اور انہیں دَعْوَتِ اِسْلَامی سے وَابَسْتہ کرتے ہوئے اِس مَدَنی مَقْصَد ”مجھے اپنی او ر ساری دنیا کے لوگوں کی اِصْلَاح کی کوشش کرنی ہے“ کے مُطابِق زِنْدَگی گزارنے کا مَدَنی ذِہْن دینا ہے۔
(2)…مَجْلِس Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالغان مَسْجِد کے حُجرے، مکتب وغیرہ میں نہیں بلکہ مَسْجِد کے ہال یا صدر دروازے کے قریب لگائیں تا کہ دیکھنے والوں کو اس میں پڑھنے کی ایک خاموش ترغیب ہوتی رہے، اگر مَسْجِد میں Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کی اِجازَت نہ مل رہی ہو یا شفٹ (SHIFT) کرنے کا کہا جا رہا ہو تو ہر گز مَسْجِد اِنتظامیہ کی غیبت و مُخالَفَت نہ کریں بلکہ سب اِسْلَامی بھائی مل کر دو(2) رکعت Β صَلٰوةُالْحَـاجات ادا کریں اور Β اللہ پاک کی بارگاہ میں گِڑ گِڑا کر دُعا کریں۔
(3)…مُدَرِّس روزانہ اِسْلَامی بھائیوں کی حاضِری لیں اور ان کا نام، مُکَمَّل پتا، رَابِطَہ نمبر بھی رجسٹر یا ڈائری میں دَرْج کریں۔
(4)…Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کے مُدَرِّس اور شرکا روزانہ وَقْت پر حاضِر ہوں، جو اسلامی بھائی وَقْت پر نہ آئے، مُدَرِّس اُن کو نَرْمی و شَفْقَت سے وَقْت پر آنے کی ترغیب دِلائیں۔ (مُدَرِّس کے لئے وَقْت کی پابندی بے حَد ضَروری ہے، یاد رہے! ترغیب دِلانے کے لئے سراپائے ترغیب بننا پڑتا ہے۔)
(5)…جس مَسْجِد میں Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان قائم ہے، مُدَرِّسِین اُس مَسْجِد کی صَفِ اَوّل میں تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ نَمازِ باجَمَاعَت ادا کر کے مَدَنی درس (درسِ فیضانِ سنّت) کے فوراً بعد Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالغان کا آغاز کریں۔ مَدَنی قاعدہ یا قرآنِ پاک پڑھانے کے ساتھ ساتھ بقیہ معاملات کی طے شدہ جَدْوَل کے مُطابِق ہی ترکیب کی جائے۔
(6)…Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان میں جن اِسْلَامی بھائیوں کا ہفتہ وار اجتماع و مَدَنی قافلے میں شرکت کا ذِہْن بن جائے، اُن اسلامی بھائیوں کو بھی اپنے ساتھ ہفتہ وار اجتماع میں شرکت اور مَدَنی قافلے میں سفر کرائیں۔
(7)…اُسْتَاذ اور میرا شاگِرد کہنےیا کہلوانے والا مَاحَول نہ بنائیں بلکہ سب کے سب اِسْلَامی بھائی بن کر رہیں اور تَعلیمِ قرآن کے سلسلے کو عام کریں۔ پڑھانے والا (مُدَرِّس) برتر بننے کے بجائے، نیک نیَّتی کے ساتھ عاجزی کا بازو بچھائے اور پڑھنے والو ں کے ساتھ نَرْمی و شَفْقَت کرے، اِنْ شَآءَ اﷲ جَلْد تر مَدَنی اِنْقِلاب برپا ہو جائے گا۔
(8)…Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کا ماحول اِنتہائی سنجیدہ رکھیں، مذاق مسخری اور غیر سنجیدگی بے حد نُقْصَان کا باعِث بن سکتی ہے۔
(9)…ٹیوب لائٹس، بلب، انرجی سیوریاپنکھے وغیرہ حسبِ ضَرورت ہی اِسْتِعمال کریں، مَثَلًا ایک پنکھے اور ایک بلب یا ٹیوب لائٹ یا انرجی سیور سے کام چل سکتا ہو تو دو(2) نہ چلائیں اور جاتے وَقْت لازمی بند کر دیں، جاتے وَقْت ڈیسک وغیرہ مَخْصُوص جگہ پر رکھ دیں اور دریاں یا چٹائیاں وغیرہ بھی ضَرور سمیٹ دیں۔
(10)…روزانہ پڑھنےیا پڑھانے کے بعد باہَر بارونق مَقام پر چوک دَرْس کی ترکیب بنائیں، نیز ہفتہ میں ایک دن مَدَنی دورے کی ترکیب کریں، بیان کے بعد اِنفرادی کوشش و مُلاقات میں 3 دن یا12دن اورایک ماہ کے مَدَنی قافلے میں سَفَر کرنے والے اِسْلَامی بھائیوں کے نام لکھیں اور Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان میں پڑھنے کیلئے ترغیب بھی دِلائیں۔
(11)…ہفتہ میں ایک دن (ہفتے کو مَدَنی مُذاکَرَہ ہوتاہی ہے،اس لئے یہ مخصوص نہ کیا جائے)سبق کے بعد ہفتہ وار مَدَنی حلقے (مَسْجِد اور فنائے مَسْجِد کے عِلاوہ) کی تر کیب بنائیں،جس میں شَیْخِ طَرِیْقَت،اَمِیْرِ اَہْلِسُنَّتΒ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان یا مَدَنی مُذاکَرَہ اور Β مَکْتَبَةُ الْـمَدِیْنَه سے جاری کردہ سُنّتوں بھرے بیانات کی VC’S کی ترکیب کریں۔ (یاد رہے! اس دن بھی سبق کی چھٹی نہیں ہونی چاہئے، اگر Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کے وَقْت میں ہفتہ وار براہِ راست (LIVE) مَدَنی مُذاکَرَہ ہو تو اس کی ترکیب کی جائے۔) (اگر مَسْجِد و فنائے مَسْجِد کے عِلاوہ ترکیب نہ بنے تو آڈیو کی ترکیب کی جائے۔)
(12)…جس مَسْجِد میں Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان ہواسکے انتظامات وغیرہ میں مَسْجِد اِنتظامیہ کا ہاتھ بٹائیں، عِنْدَ الضَّرُورَت شُرَکا میں سے جو اَہْل ہوں اُنہیں مَسْجِد انتظامیہ کی رُکنیت وغیرہ کیلئے پیش کریں اور مَسْجِد کی خِدْمَت کرکے دونوں ہاتھوں سے ثواب لُوٹیں۔
(13)…مَسْجِد انتظامیہ کی طرف سے ہو نے والی دُرُود خوانی،اِیصالِ ثواب کے اجتماعات اور بڑی رات کی مَحَافِل وغیرہ میں شرکت کی سَعَادَت حاصِل کریں۔ خطیب و اِمام و مُؤَذِّن صاحِبان کی خِدْمَت کریں(مَدَنی انعام نمبر 62:کیا آپ نے اس ماہ کسی سُنّی عالِم(یا اِمام مَسْجِد، مُؤَذِّن، خادِم) کو 112 روپے یا کم از کم 12 روپے Β تُحْفَةً پیش کیے؟نابالِغ اپنی ذاتی رقم نہیں دے سکتا) ان کے حکم پر عِنْدَ الضَّرُورَت اَہْل اسلامی بھائی اذان و اِقَامَت کی سَعَادَت حاصِل کریں۔
(14)…پڑھنے والوں کو ہر ہفتے کم از کم ایک نئے اسلامی بھائی کو لانے کی تدبیر و حِکْمَت سے ترغیب دِلائی جائے نیز تما م اسلامی بھائیوں کو ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع و مَدَنی مُذاکرے میں شرکت کا ذِہْن بھی دیا جائے۔
(15)…پڑھنے اور پڑھانے والے روزانہ فکرِ مدینہ کرتے ہوئے ہر ماہ مَدَنی اِنْعَامَات کا رِسالہ اپنے ذِمّے دار کو جَمْع کروائیں اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصْلاح کی کوشش کیلئے عمر بھر میں یکمشْت 12ماہ، ہر 12ماہ میں ایک ماہ اور ہر ماہ کم از کم 3دن جَدْوَل کے مُطابِق مَدَنی قافلے میں سَفَر کی ترکیب بناتے رہیں۔ اِجتماعی فکرِ مدینہ مُدَرِّس خود کروائیں اور درجے میں مَدَنی اِنْعَامَات اور مَدَنی قَافِلہ ذِمّے دار کا تَقَرُّر بھی کریں تو مدینہ مدینہ۔( بارہویں شریف، گیارہویں شریف،شبِ مِعْرَاج،شبِ بَراءَت،شبِ قَدْر اوردعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے مرکزی اجتماعات میں بھی شرکت لازمی کریں اوردُوسروں کو بھی ساتھ لے کرجائیں۔)
جدول
#-------پیریڈ-------وقت-------تفصیلات
1-------سبق-------26 منٹ-------قرآنِ کریم یامَدَنی قاعدہ قواعد و مخارج کے مُطابِق سبق دینا، سننا مزید معلومات کیلئے رہنمائے مدرِّسین سے مدد لیں۔
2-------نماز کے احکام-------05 منٹ-------نماز،غسل،وضو،نماز ِجنازہ،سُنّتیں وغیرہ سکھانے کی ترکیب کی جائے۔
3-------مدنی درس
(درسِ فیضانِ سنّت)-------05 منٹ-------دَرْس کا طریقہ،دَرْس کے مَدَنی پھول،تَرْبِیَت کے بعد مدرسے میں نئے اسلامی بھائیوں سے دَرْس کی ترکیب بنائیں۔
4-------فرض علوم-------19منٹ-------’’فرض علوم‘‘،آڈیو(AUIO)یامیموری کارڈ (MEMORY CAR) کے ذریعے سیکھنے کی ترتیب کے ساتھ ترکیب کیجئے۔ (ایک بیان مُکَمَّل سن کر پھر دُوسرا سُنا جائے۔)
5-------دُعا-------03منٹ-------رو ز مرّہ کی دُعائیں( روزانہ ایک کی ترکیب بنائیں۔)
6-------فکرِ مدینہ-------05 منٹ-------روزانہ ایک مَدَنی انعام کی ترغیب و رِسالہ پُر کرنے کی ترکیب اور مَجْلِس کے اختتام کی دُعا۔
تکمیل مَدَنی قاعدہ: 92 دن تا 126 دن۔ تکمیل قرآنِ کریم(ناظرہ)12 ماہ تا 19 ماہ۔ شرکا کی تعداد: کم از کم 19اسلامی بھائی۔
Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کے مقام پرکسی نمایاں جگہ(مثلاً مرکزی داخلی دروازے) پر پینافلیکس بینر لگا دِیا جائے ، اس سے بھی Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالغان پڑھنے کی ترغیب ملے گی اور شرکا کی تعداد میں اِضافہ ہو گا۔
پینا فلیکس بینرکی تحریر کا نمونہ
ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
”Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالغان میں دُرُسْت مَخَارِج کے ساتھ قرآنِ کریم،نماز،غُسل، وضو اور سُنّتیں بھی Β فی سَبِیْلِ اللہ سکھائی جاتی ہیں۔“
مقام:---------وقت:-----تا-----
Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالغان سے مُتَعَلِّق احتیاطوں اور مفید معلومات پر مبنی سوال جواب
شرعی احتیاطیں
سوال1: Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان پڑھانے کے بعد اسلامی بھائی شَرْعِی مسائل پوچھیں تو کیا کیا جائے؟
جواب: 100%دُرست مَعْلُوم ہو تو مسئلہ بتانے میں حَرَج نہیں،بہتر یہ ہے کہ دَارُ الْاِفْتَا اَہْلِسُنّت کا نمبر دے دیا جائے اور اِفتا مکتب سے ہی شَرْعِی رَاہ نُمائی لینے کی ترغیب دی جائے۔
سوال2:دورانِ Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالغان کسی مُعَزز شَخْصِیَّت کی آمد پر بطور ِتعظیم کھڑے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: تِلاوَت کرنے میں کوئی دِیندار مُعَزَّز شَخْصِیَّت، بادشاہِ اسلام یا عالِمِ دین یا پیر یا اُستاذ یا باپ آجائے تو تِلاوَت کرنے والا اس کی تعظیم کو کھڑا ہو سکتا ہے۔(بہار شریعت، ۱/۵۵۲)
البتہ! مُدَرِّس جس کی تعظیم کے لئے کھڑاہو،طَلَبَہ بھی اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوسکتے ہیں اور اگر کوئی کھڑا نہ بھی ہو تو اسے پابند نہیں کیا جا سکتا۔
سوال3:بے وضو مدنی قاعدہ و نماز کے احکام پڑھنا اور انہیں چھُونا کیسا؟
جواب:بے وُضو کو قرآنِ کریم یا (کسی کتاب میں لکھی ہوئی)اس کی کسی آیَت کا چُھونا حَرام ہے۔(Β رد المحتار ،Β کتاب الطهارة ،Β مطلب :Β یطلق الدعاء علی ما یشمل الثناء ،۱/۳۴۷ تا ۳۴۸)
البتہ! زبانی قرآنِ عظیم پڑھنے،حدیث و عِلْمِ دِین پڑھنے پڑھانے اور دِینی کتابوں کو چھُونے کے لئے وضو کرنامُسْتَحَب ہے۔(بہار شریعت، ۱/۳۰۲ ملتقطاً) لِہٰذا اَدَب کا تقاضا یہی ہے کہ مَدَنی قاعدہ وغیرہ وضو کر کے ہی پڑھا جائے۔
سوال4:نمازی نَماز پڑھ رہے ہوں تو اونچی آواز سے مَدَنی قاعدہ و قرآنِ پاک پڑھنا کیسا؟
جواب:قرآنِ کریم بُلَندآواز سے پڑھنا اَفْضَل ہے مگر اس صُورَت میں کہ جب کسی نَمازی یا مریض یا سوتے کو اِیذا نہ پہنچے۔(بہار شریعت، ۱/۵۵۳ بتصرف) لِہٰذا مَسْجِد میں دوسرے لوگ ہوں، نَماز یا اپنے وِرْد و وظائف پڑھ رہے ہوں اُس وَقْت فَقَط اتنی آواز سے تِلاوَت کیجئے کہ صِرف آپ خود سن سکیں برابر والے کو آواز نہ پہنچے۔(تلاوت کی فضیلت، ص۱۳) بلکہ ایسی صُورَت میں مُدَرِّس کو چاہئے کہ طلبہ کو آہِسْتَہ آواز میں پڑھنے کا کہے اور اپنی آواز بھی دِھیمی کر لے۔
سوال5:Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کے اسلامی بھائیوں کا نَماز ی کی طرف منہ کر کے بیٹھنا کیسا؟
جواب:نَمازی کی طرف منہ کر کے بیٹھنا منع ہے،جیسا کہ کسی شخص کے منہ کے سامنے نَماز پڑھنا،مکروہ ِتحریمی ہے۔یوں ہی دوسرے شخص کو مُصَلِّی (نمازی)کی طرف منہ کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے، یعنی اگر مُصَلِّی(نمازی)کی جانِب سے ہو تو کراہت مُصَلِّی (نمازی) پر ہے، ورنہ اس (یعنی نَمازی کی طرف منہ کرنے والے)پر۔ (Β در مختار ،Β کتاب الصلاة ،Β باب ما یفسد الصلاة و ما یکرہ فیها ،۱/۴۹۶)
سوال6:مُدَرِّس کو ہی صحیح مَخَارِج کے ساتھ قرآن پڑھنا نہ آتا ہو تو اس کا پڑھانا کیسا؟
جواب:شرعی اور تنظیمی طور پر اسے پڑھانے کی اِجازَت نہیں۔(اسے مدنی قاعدہ کورس کرنے کا کہا جائے،جب پڑھ لے یاٹیسٹ میں کامیاب ہوکر اہلیت پیدا ہو جائے تو پھر اِجازَت دی جائے۔)
سوال7:Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کے لئے مَسْجِد کی بجلی اور مَسْجِد پر وَقْف دیگر اَشیاء یعنی ڈیسک اور قرآنِ کریم وغیرہ اِسْتِعمال کرنا کیسا؟
جواب:Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان میں چونکہ قرآنِ کریم سیکھا سکھایا جاتا ہے جو کہ عِبَادَت بھی ہے، لِہٰذا مَسْجِد کی بجلی اور دیگر اَشیاء بضرورت اِسْتِعمال کرنے میں کوئی حَرَج نہیں۔
سوال8:کیا بغیر وُضُو پلاسٹک والے دستانے پہن کر قرآنِ کریم چُھو سکتے ہیں؟
جواب:حَرام ہے کیونکہ پلاسٹک والے دستانے جِسْم کے تابِع ہوتے ہیں۔ بہارِ شریعت میں ہے: رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابِع ہو نہ قرآنِ مجید کا تو جائز ہے، کُرتے کی آستین،دُوپٹے کے آنچل سے یہاں تک کہ چادَر کا ایک کونا اس کے مونڈھے پر ہے دوسرے کونے سے چھُونا حَرام ہے کہ یہ سب اس کے تابِع ہیں۔(بہار شریعت،۱/۳۲۶)
سوال9:قرآن پاک پڑھنا پڑھانا کیسا نیز اسے غَلَط پڑھنے کا کیا حُکْم ہے؟
جواب:قرآنِ کریم اللہ پاک کا مبارَک کلام ہے، اِس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ البتہ اسے غَلَط پڑھنا بِالاجماع حَرام ہے۔لِہٰذا ائمہ دِین تصریح (یعنی وَضَاحَت) فرماتے ہیں کہ آدمی سے اگر کوئی حَرْف غَلَط ہوتا ہو تو اس کی تصحیح و تعلُّم میں (یعنی صحیح پڑھنے اور سیکھنے کے لئے)اس پر کوشش واجِب بلکہ بَہُت سے عُلَما نے اس سعی (کوشش) کی کوئی حد مُقَرَّر نہ کی اور حکم دیا کہ عمر بھر روز و شب ہمیشہ جِہْد (کوشش) کئے جائے کبھی اس کے تَرْک میں مَعْذُور نہ ہو گا۔ (فتاویٰ رضویہ، ۶/۲۶۲)
سوال10:کیا کھانے پینے کی اشیاءمثلاً گندم چاول کھجور وغیره کو بطور ِاجرت طے کر کے قرآنِ کریم سکھایا جا سکتا ہے؟
جواب:قرآنِ پاک کو اُجْرَت لےکر سکھانا جائز ہے اور وہ اُجْرَت کسی بھی حلال شے کی ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ شے مُعَیَّن و مَعْلُوم ہو،جیسا کہ بہارِ شریعت میں اِجارہ کی شرائط میں سے چوتھی شرط ہے کہ اُجْرَت مَعْلُوم ہو۔ (بہار شریعت،۳/۱۰۸)
اگر اُجْرَت معلوم نہ ہو گی تو فریقین میں جھگڑے کا اِحْتِمال رہے گا۔ (دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں بعض قاری صاحبان کا اِجارہ بھی کیا جاتا ہے،اس کی شرائط وغیرہ مَجْلِس Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان کے ذِمَّہ داران کو مَعْلُوم ہیں،مَجْلِس کے عِلاوہ کسی بھی اِسْلَامی بھائی کو اپنے طور پر اِجارہ کرنے کی اِجازَت نہیں۔)
سوال11:اگر کسی کو قرآنِ پاک غَلَط پڑھتے ہوئے سنیں تو اس وقت کیا کرنا چاہیے؟
جواب:اس کی اِصْلَاح کرنی چاہیے کیونکہ جو شخص غَلَط پڑھتا ہو تو سُننے والے پر واجِب ہے کہ بتا دے، بشرطیکہ بتانے کی وجہ سے کینہ و حَسَد پیدا نہ ہو۔ (بہار شریعت،۱/۵۵۳)
سوال12:لَحْنِ جَلِی اور لَحْنِ خَفی کسے کہتے ہیں؟نیز کیا ان کا عِلْم سیکھنا فَرْض ہے؟
جواب:بڑی اور ظاہر غلطی کو لَحْنِ جَلِی اور چھوٹی اور پوشیدہ غَلَطی کو لَحْنِ خَفی کہتے ہیں۔لَحْنِ جَلِی (بڑی اور ظاہِر غلطی)حَرام ہے،اِس میں کسی کو اِخْتِلاف نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، ۶/۲۶۲)
جبکہ لَحْنِ خَفی کا عِلْم سیکھنا فَرْض نہیں مُسْتَحَب ہے۔ لَحْنِ خَفی یعنی ان چیزوں کو ترک کردینا جو حُرُوف کی خوبصورتی اور تحسین میں اضافہ کرتی ہیں، اس سے معنیٰ فاسِد نہیں ہوتے مگر یہ مَکْرُوہ وناپسند غَلَطی ہے شرعاً اس غَلَطی سے بچنا مُسْتَحَب ہے۔(فیضانِ تجوید، ص۲۹-۳۰ ملتقطاً)
سوال13:لَحْنِ جَلِی کی کون کون سی صورتیں ہیں؟
جواب:(1)ایک حَرْف کو دوسرے حَرْف سے بدل دینا مثلاً Β اَلْحَمْدُ کو Β اَلْھَمْدُ پڑھنا۔ (2)ساکِن کو مُتَحَرِّک یا مُتَحَرِّک کو ساکِن پڑھنا Β خَلَقْنَا کو Β خَلَقَنَا پڑھنا(ساکن کو مُتَحَرِّک)Β خَتَمَ اللهُ کوΒ خَتْمَ اللهُ پڑھنا(مُتَحَرِّک کو ساکِن)۔ (3)حرکت کو حرکت سے بدل دینا Β اَنْعَمْتَ کو Β اَ نْعَمْتُ پڑھنا۔(4)کسی حَرْف کو بڑھا دینا یا گھٹا دینا Β فَعَلَ کو Β فَعَلَا پڑھنا (بڑھانا) Β لَمْ یُوْلَدْ کو Β لَمْ یُلَدْ پڑھنا (گھٹانا)۔ (5)مُخَفَّفْ کو مُشَدَّد اور مُشَدَّد کو مُخَفَّفْ پڑھنا جیسے Β کَذَبَ کو Β کَذَّبَ پڑھنا (مُخَفَّف کو مُشَدَّد)اور Β صَدَّقَ کو Β صَدَقَ پڑھنا (مُشَدَّد کو مُخَفَّف)،نیز جیسے Β وَتَبَّ کو وَقْف میں خَیال نہ کرنے سے Β وَتَبْ ہو جاتا ہے۔(6) مَدِّ لازِم اورمدِّ Β مُتَّصِل میں قصر کرنا جیسے Β ضَآ لًّا کو Β ضَالًّا (مَدِّ لازِم) Β وَالسَّمَآءِ کو Β وَالسَّمَاءِ (مَدِّ مُتَّصِل) پڑھنا۔(فیضانِ تجوید، ص۲۹۔۳۰ ملتقطاً)
سوال14:Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان میں بڑی عمر کے اِسْلَامی بھائیوں کو پڑھایا جاتا ہے،کیا یہ صحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم سے بھی ثابِت ہے؟
جواب:جی ہاں! بڑی عمر کے صحابۂ کِرام کا ایک دوسرے سے قرآنِ کریم پڑھنا پڑھانا ثابِت ہے، اصحابِ صُفّہ، حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشعری اور ابو دَرْدَا رَضِیَ اللہُ عَنْہُم کے عِلاوہ دیگر بَہُت سے صحابۂ کِرام بھی ایک دوسرے کو قرآنِ کریم پڑھایا کرتے تھے۔
سوال15:بعض اَوقات Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان میں پڑھانے والے اجیراسلامی بھائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے تاخیر ہو جاتی ہے تو تاخیر منٹ کی کٹوتی ہو گی یا بعد میں ٹائم دے سکتے ہیں؟
جواب:شعبے کے طے شُدہ مَدَنی کاموں کی وجہ سے تاخیر ہوئی تو کٹوتی نہ ہو گی ورنہ ہو گی۔ مَثَلًا مُدَرِّس ایک جگہ پڑھانے کے بعد روزانہ دوسری جگہ پڑھانے کے لئے عام طور پر موٹر سائیکل پر جاتا ہے مگر کسی دن رکشے وغیرہ پر جانے کی وجہ سے تاخیر ہو گئی تو کوئی حَرَج نہیں،لیکن اگر راستے میں اپنے کسی ذاتی کام کے لئے کہیں رک گیا یا مارکیٹ میں ذاتی ضَروریات کی اَشیاء خریدنے لگا تو جتنا وَقْت صَرف ہوا اس کی کٹوتی کروانا ہو گی۔
تنظیمی احتیاطیں:
سوال1:کوئی اسلامی بھائی کسی دن تاخیر سے آئے تو اس کے لئے مزید کچھ وَقْت بڑھایا جا سکتا ہے؟
جواب:جی نہیں! اگر ایک دن کسی ایک کی وجہ سے وَقْت بڑھائیں گے تو دوسرے دن کسی دوسرے کے لئے بھی بڑھانا پڑے گا اور یوں نِظَام میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے کوشش یہی ہونی چاہئے کہ تنظیمی طور پر دئیے گئے جَدْوَل کے مُطابِق Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان ہر صُورَت میں خَتْم ہو جائے،(بلکہ جو تاخیر سے آیا ہے اس کے سَبق کی الگ سے ترکیب بنائی جائے اور ایک اسلامی بھائی کی وجہ سے سب کو نہ بٹھایا جائے) البتہ! اس سے یہ بھی مُراد نہیں کہ نِگاہیں گھڑی کی سوئیوں پر ٹکی ہوں کہ کب 63 منٹ ہوں (وَقْت پوراہو)اور بھاگا جائے بلکہ اتنی مَعْمُولی تاخیر جو کسی کو گِراں مَحْسُوس نہ ہو اس میں کوئی حَرَج بھی نہیں۔ (2، 4 یا 5منٹ)
سوال2:مَدَنی قاعدے کے عِلاوہ کوئی اور قاعدہ بھی پڑھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان میں مَدَنی قاعدہ پڑھانے کی ہی تنظیمی طور پر اِجازَت ہے۔ لِہٰذاΒ مَکْتَبَةُ الْـمَدِیْنَه کے مَطْبُوعَہ مَدَنی قاعدے ہی سے سبق دیا اور سُنا جائے۔
سوال3:اگر کوئی 63 منٹ نہیں دے سکتاکم وَقْت دینا چاہتا ہے تو کیا اس کو داخِلہ مل سکتا ہے ؟
جواب:اگر کوئی شَخْصِیَّت الگ سے پڑھنا چاہے تو ایک کو بھی پڑھانے کی ترکیب ہے، اسکا دورانیہ کم وبیش 15 منٹ ہے۔
سوال4:کتنی عمر کے اسلامی بھائی کو Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان میں پڑھایا جائے گا؟
جواب:کم و بیش 15 سال والے کو پڑھایا جائے۔
سوال5:کیا Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان پڑھانے والا سبق پر تَوَجُّہ نہ دینے یا کبھی شرارتیں وغیرہ کرنے پر کسی کو مار یا ڈانٹ ڈپٹ کر سکتا ہے؟
جواب:جی نہیں!اس کی ہرگز اِجازَت نہیں،البتہ! نَرْمی اور مُناسِب حِکْمَتِ عملی سے مَدَنی تَربِیَت کی ترکیب بنائی جائے۔
سوال6:موبائل ایپلی کیشن (MOBILE APPLICATION)کی مَدَد سے مَدَنی قاعدہ پڑھنے والا Β مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالِغان پڑھنے والا کہلائے گا؟
جواب:ایسی جگہ جہاں مُدَرِّس نہ مل سکے وہاں صِرف مَدَنی انعام پر عَمَل مانا جائے گا۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد
مدنی درس سکھائیں اور دلوائیں
(3:31 تا 03:40) (وقت 10 منٹ)
(مدنی درس کا طریقہ صفحہ نمبر71سے دیکھ لیجئے)
فکرِ مدینہ مع لکھ کر گفتگو
(03:41 تا 03:45) (وقت 5منٹ)
اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 15پر عمل کرتے ہوئے فِکرِ مَدینہ کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔( اِنْ شَاءَ اللّٰہ )
دعائے عطار
یا اللہ ! جو کوئی ، سچے دل سے مدنی انعامات پر عمل کرے، روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے رسالہ پُر کرے اور ہر مدنی ماہ کی پہلی تاریخ کو اپنے ذمہ دار کو جمع کروادیا کرے، اُس کو اِ س سے پہلے موت نہ دینا جب تک یہ کلمہ نہ پڑھ لے۔ اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تو ولی اپنا بنالے اُس کو ربِ
لَمْ یَزَلْ مدنی انعامات پر کرتا ہے جو کوئی عمل
فکرِ مدینہ کا طریقہ
(فکر مدینہ کا طریقہ یکم رمضان کے جدول صفحہ 75سے دیکھ لیجئے)
وقفۂ آرام
تمام اسلامی بھائی مَدَنی انعام پر عمل کرتے ہوئے سنت کے مطابق پردے میں پردہ کئے آپس میں ایک ہاتھ کا فاصلہ رکھتے ہوئے ،بغیر ایک دوسرے سے باتیں کئے آرام فرمائیے۔
نماز عصرکی تیاری
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 4پر عمل کرتے ہوئے اَذان و اِقامت کا جواب دینےکی سعادت حاصل کریں ۔
بعد نماز عصر مَدَنی مذاکرہ
( مَدَنی مذاکرہ شروع ہوتے ہی تمام جدول موقوف فرما کر مَدنی مذاکرہ میں سب شریک ہو جائیں )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع