30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نمازِ فجر
بعدنمازِ فجرسنتوں بھرا بیان (26 منٹ)
فیضانِ درود و سلام
ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ط وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
با کمال فرشتہ
سرورِعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ شفاعت نشان ہے:بے شک اللہ پاک نے ایک فِرِشتہ میری قَبْر پر مُقرَّرفرمایا ہے جسے تمام مخلوق کی آوازیں سُننے کی طاقت عطا فرمائی ہے،پس قِیامت تک جو کوئی مجھ پر دُرُودِپاک پڑھتا ہے تو وہ مجھے اُس کا اور اُس کے باپ کا نام پیش کرتا ہے۔کہتا ہے:فُلاں بن فُلاں نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِپاک پڑھا ہے۔ ( مجمع الزوائد ،10 / 251، حدیث :17291)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحمَّد
سُبْحٰنَ اللہ !دُرُود شریف پڑھنے والا کس قَدَر بَخْتوَر ہے کہ اُس کا نام بمع وَلَدِیت بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی اِنتہائی ایمان افروز ہے کہ قبرِمُنور پر حاضِر فِرِشتے کو اس قَدَر زِیادہ قوّتِ سَماعت دی گئی ہے کہ وہ دنیا کے کونے کونے میں ایک ہی وَقْت کے اندر دُرُودشریف پڑھنے والے لاکھوں مسلمانوں کی انتِہائی دھیمی آواز بھی سُن لیتا ہے اور اسے علمِ غیب بھی عطا کیا گیا ہے کہ وہ دُرُودِ پاک پڑھنے والوں کے نام بلکہ ان کے والِد صاحِبان تک کے نام جان لیا ہے۔جب خادِمِ دربارِ رسالت کی قوّتِ سَماعت اور علمِ غیب کا یہ حال ہے تو مکّے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اختیارات وعلمِ غیب کی کیا شان ہو گی! وہ کیوں نہ اپنے غلاموں کو پہچانیں گے اور کیوں نہ اُن کی فریاد سُن کر بِاِذنِ اللہِ تعالیٰ اِمدادفرمائیں گے۔
میں قُرباں اِس ادائے دَسْتْ گیری پر مِرے آقا
مدد کو آگئے جب بھی پُکارا یَا رَسُوْلَ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
دُرُود پڑھنا کب فرض ہے
عمرمیں ایک بار دُرودشریف پڑھنافرض ہے۔
دُرُود پڑھنا کب واجب ہے
ہر جَلسۂ ذکر میں دُرود شریف پڑھنا واجب،خواہ خود نامِ اقدس لے یا دوسرے سے سُنے اور اگر ايک مجلس میں سو بار ذکر آئے تو ہر بار دُرود شریف پڑھنا چاہیے،اگر نامِ اقدس ليا يا سُنا اور دُرود شریف اس وقت نہ پڑھا تو کسی دوسرے وقت میں اس کے بدلے کا پڑھ لے۔( الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ ، 2 / 276، 281)
نماز کے قعدے میں درود شریف امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ہاں فرض ہے،احناف اور دیگر آئمہ کے ہاں سنت مؤکدہ یا واجب ہے۔
دُرُود پڑھنا کب مُستحب ہے
جہاں تک ممکن ہو دُرود شریف پڑھنا مستحب ہے اور خصوصیت کے ساتھ ان جگہوں میں (1)روزِ جمعہ (2)شبِ جمعہ(3،4)صبح وشام(5)مسجد میں جاتے اور(6)مسجدسےنکلتےوقت(7)بوقتِ زیارتِ روضَۂ اطہر (8)صفا ومروہ پر(9)خطبہ میں(10)جوابِ اذان کےبعد(11)بوقتِ اقامت(12)دُعاکےاول وآخراوربیچ میں (13)دُعائے قنوت کے بعد(14)حج میں لبیک سے فارغ ہونے کے بعد(15)اجتماع وفراق کے وقت(16)وضو کرتے وقت (17)جب کوئی چیز بھول جائے اس وقت(18)وعظ کہنے اور(19)پڑھنےاور(20)پڑھانے کے وقت،خصوصاً حدیث شریف پڑھنے کے اول وآخر(21)سوال و(22)فتویٰ لکھتے وقت(23)تصنیف کے وقت(24)نکاح اور (25)منگنی اور (26)جب کوئی بڑا کام کرنا ہو۔( الدرالمختار وردالمحتار ، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ ، 2 / 281)
درود لکھنا کب واجب ہے
نامِ اقدس لکھے تو دُرود ضرور لکھے کہ بعض علما کے نزدیک اس وقت دُرود شریف لکھنا واجب ہے۔(ایضا)
غیر نبی پر درود پڑھنے کا حکم
دُرُود شریف صرف نبی یا فرشتوں پر ہو سکتا ہے غیر نبی پر نبی کے تابع ہو کر درود جائز،بالاستقلال مکروہ۔ اکثر لوگ آج کل دُرود شریف کے بدلے صلعم،عم،” ؑ “،لکھتے ہیں،یہ ناجائز وسخت حرام ہے۔یوہیں رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی جگہ” ؓ “، رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی جگہ” ؒ “ لکھتے ہیں یہ بھی نہ چاہیے،جن کے نام محمد،احمد،علی حسن،حسین وغیرہ ہوتے ہیں ان ناموں پر” ؑ “بناتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے کہ اس جگہ تو یہ شخص مراد ہے،اس پر دُرود کا اشارہ کیا معنی۔( حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار، خطبۃ الکتاب ، 1/6. و فتاوی رضویہ، ۲۳/۳۸۷)
کتاب پر دُرُود لکھنا
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے: جس نے کسی کتاب میں مجھ پر دُرودِپاک لکھا جب تک میرا نام اس کتاب میں رہے گا ملائکہ اس کے لئے استغفار کرتے رہیں گے۔ ( معجم اوسط ، 1 / 497، حدیث :1835)
عظیم فرشتہ
سرکارِدوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ برکت نشان ہے:جو میرے حق کی تعظیم کرتے ہوئے مجھ پر دُرودِ پاک بھیجتا ہے اللہ پاک اس سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جس کا ایک پَر مشرق میں،دوسرا مغرب میں،اس کی دونوں ٹانگیں ساتویں زمین میں اور گردن عرش کے نیچے ہوتی ہے۔ اللہ پاک اُسے فرماتا ہے:تم میرے بندے پر اسی طرح درودِپاک بھیجو جس طرح اس نے میرے نبی پر بھیجا۔پس وہ فرشتہ تا قیامت اس بندے پر دُرُود بھیجتا رہے گا۔( مسند الفردوس ، باب الالف ، 1 / 170، حدیث :1 3 11)
دُرودِ پاک پڑھنے والے پر انعامِ خُداوندی
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: میرا ایک گناہ گار پڑوسی تھا،نشہ کی وجہ سے اسے صبح وشام کا علم نہ ہوتا،میں اُسے وعظ ونصیحت کرتا لیکن وہ قبول نہ کرتا،توبہ کی ترغیب دیتا مگر وہ توبہ نہ کرتا،اس کے انتقال کے بعد میں نے اس کو خواب میں بلند مقام پر فائز دیکھا،اس پر جنت کے اِعزازواِکرام کا لباس تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا:کس کام کے سبب تو نے یہ مقام ومرتبہ پایا؟تو اس نے جواب دیا:میں ایک دن محفلِ ذکر میں حاضر ہوا تو میں نے ایک مُحَدِّثْ(یعنی حدیث بیان کرنے والے) کو کہتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بلند آواز سے درودِپاک پڑھا اس کے لئے جنت لازم ہوگئی پھر انہوں نے پیارے آقا،مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بآوازِبلند درودِپاک پڑھا،میں نے بھی ان کے ساتھ بلند آواز سے درودِ پاک پڑھا اور دیگر لوگوں نے بھی اپنی آوازوں کو بلند کیا تو اسی دن ہم سب کو بخش دیا گیا۔ مغفرت کا میرا یہ حصہ اللہ پاک نے مجھے اس نعمت (یعنی درودِ پاک کے پڑھنے)کی برکت سے عطا کیا ہے۔
اے امی جان ،یاد رکھئے!
سرکارِدوعالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درودِ پاک پڑھنے کے فضائل میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک عورت کا بیٹا تھا جو بہت گناہگار تھا۔وہ اس کو نیکی کا حکم دیتی،بےحیائی اوربرے کاموں سے منع کرتی (لیکن وہ باز نہ آتا) آخرکار وہ گناہوں کی حالت میں مرگیا۔اس کی ماں کو بہت صدمہ ہوا کہ اس کا بیٹا بغیرتوبہ کئے مر گیا۔اس نے تمنا کی کہ اسے خواب میں دیکھے۔ایک دفعہ اس نے خواب میں اپنے بیٹے کو عذاب میں مبتلا دیکھا تو وہ مزید غمگین ہو گئی۔جب کچھ مدت کے بعد اس نے دوبارہ اپنے بیٹے کو دیکھا تو اس کی حالت اچھی تھی اور وہ خوش وخرم تھا۔ اس نے اپنے بیٹے سے اس حالت کے متعلق پوچھا کہ اے میرے بیٹے!میں نے تجھے عذاب میں مبتلا دیکھا تھا،یہ مرتبہ ومقام کیسے ملا؟ تو اس نے جواب دیا: اے میری ماں!ایک گناہ گار شخص ہمارے قبرستان سے گزرا،اس نے قبروں کی طرف دیکھا اور دوبارہ زندہ اٹھائے جانے کے متعلق غوروفکر کیا۔ مُردوں سے نصیحت حاصل کی، اپنی لغزش پر رویا اور اپنی خطاؤں پر نادم ہو کر اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ کی کہ اب وہ کبھی گناہوں کی طرف نہ پلٹے گا۔تو اس کی توبہ سے آسمان کے فرشتے بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے: سُبحٰنَ اللہ ! اس شخص نے اپنے رب کے ساتھ کیا ہی خوب صلح کی ہے۔جب اس نے سچی توبہ کر لی تو اللہ کریم نے اس کی توبہ قبول فرما لی پھر اس نے کچھ قرآنِ حکیم پڑھا اور حضورنبئ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بیس مرتبہ دُرودِپاک پڑھا اور اس کا ثواب ہم سب قبرستان والوں کو پہنچایا۔اس کا ثواب ہم پر تقسیم کیا گیا تو مجھے بھی اس سے بھلائی ملی جس کے سبب اللہ پاک نے مجھے بخش دیا اور مجھے وہ مقام عطا کیا گیا جو آپ ملاحظہ فرما رہی ہیں۔اےامی جان!یاد رکھئے!حضورنبی اَکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرود پاک پڑھنا دلوں کا نور،گناہوں کا کفارہ اور زندوں اور مُردوں کے لئے رحمت ہے۔(حکایتیں اور نصیحتیں)
تین قسم کے لوگ
حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے:جس دن سایَۂ عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا اس دن تین قسم کے لوگ عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوں گے۔عرض کی گئی: یَارَسُوْل َ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ! وہ کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: (۱)جس نے میرے کسی امتی کی پریشانی دور کی(۲)جس نے میری سنت کو زندہ کیا اور (۳)جس نے مجھ پر کثرت سے درود پڑھا۔( شرح الزرقانی علی الموطا ، کتاب الشعر ، باب ماجاء فی المتحابین فی الله ، 4 / 469، تحت الحدیث :1841)
منفرد خوشخبری
دونوں جہانوں کے سرور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:ایک دن جبرئیل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے میرے پاس حاضرہو کر عرض کی: اے محمدمصطفے!میں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایسی خوشخبری لے کر حاضر ہوا ہوں جو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے کسی کے پاس لایا نہ بعد میں (لاؤں گا) اور وہ یہ کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: (اے محبوب!) تیرا جو امتی تجھ پر تین مرتبہ درود پاک پڑھے گا اگر کھڑا تھا تو بیٹھنے سے پہلے اور اگر بیٹھا تھا تو کھڑے ہونے سے پہلے اسے بخش دیا جائے گا۔یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ کریم کی بارگاہ میں سجدۂ شکر اداکیا۔( المستطرف ، باب 84 فیماجاء فی فضل الصلاۃ…الخ ، 2 / 505)
میں دُرود کیوں نہ پڑھوں
میں دُرود کیوں نہ پڑھوں جبکہ اللہ کریم نے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فضل وشرف کے لئے اپنی مقدّس کتاب قرآنِ کریم میں یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی:
لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ-وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا(۴۳)( پ 22، الاحزاب :43)
Β ترجَمۂ کنزالایمان :وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پروہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے۔
اللہ پاک نے اس نَبیٔ رحمت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذریعے آبِ زمزم اور حطیمِ کعبہ کو مشرف فرمایا۔ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مجتبےٰ اور مصطفےٰ کی شانوں سے خاص کیا۔ اس نے اپنے مبارک ناموں میں سے دو ناموں رءُوف ورحیم کے ساتھ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نام رکھا۔لہٰذا جس نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شریعت کی پیروی کی اس نے بہت بڑا فضل پا لیا اور جنت میں تازگی اور نعمتوں کو حاصل کر لیا۔آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کتنے قیدیوں کو آزاد کیا۔کتنے ہی بے یارومددگار مساکین کو پناہ دی۔کتنے ہی ٹوٹے دلوں کو جوڑ دیا، فقیروں کو غنی کر دیا اور یتیموں پر رحم فرمایا۔حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وسیلہ بنایا پس انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ گرامی پر درود شریف بھیجا تو عزت و کرامت کے ساتھ لوٹے۔ حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ السَّلَام نے ان کے طفیل دعا کی تو ڈوبنے سے محفوظ رہے۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے ان کے وسیلے سے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی تو آگ ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گئی۔جب حضرت سیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود وسلام کی کثرت کی اور ان کے صدقے مدد کے خواستگار ہوئے تو فدیہ کے ذریعے مدد فرمائی گئی اور یہ نعمتیں اضافے کے بعد برقرار رہیں۔حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درودِ پاک پڑھا تو انہیں اللہ کریم سے ہم کلامی کا شرف عطا ہوا اور حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے حضور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد کی بشارت وخوشخبری دی تو انہوں نے رفعت وسبقت کو پالیا۔اور رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات والا صفات ہی ہے جس پر درختوں اور پتھروں نے سلام پڑھا اورمقدس فرشتوں نے درودپاک بھیجا تو اب وہ ربِّ لَمْ یَزَل کی بارگاہ میں اس نعمت پر نازاں ہیں۔
اے عاشقانِ رسول!کس چیز نے آپ کو مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پاک پڑھنے سے غافل کر رکھا ہے۔ درودِ پاک تو وہ عظیم عبادت ہے جو بڑے بڑے گناہوں کو مٹا دیتی اور پڑھنے والے کو عزت وتکریم عطا کرتی ہے۔پس حضورنبئ رحمت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے درود شریف پڑھیے اور ان کی ایسی تعظیم اور ادب کیجئے جس کا ربِّ کریم نے حکم فرمایا ہے۔اس طرح جنت اور اس کی ابدی نعمتیں نصیب ہوں گی اور عذاب اورنارِدوزخ سے چھٹکارا حاصل ہو گا اِنْ شَآءَ اللہ ۔ اللہ پاک نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی اس شان کو بیان فرمایا جو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاقِ عالیہ اور مخلوق کے متعلق ہے۔چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا(۴۳) ( پ 22: الاحزاب :43)
Β ترجَمۂ کنزالایمان :اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے۔
اللہ پاک نے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اُس امتی کو جنت میں فضیلت ومرتبہ کی بشارت دی ہے جس نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درودِپاک پڑھا۔چنانچہ اللہ پاک ارشادفرماتاہے:
تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌۖۚ-وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا(۴۴) ( پ 22: الاحزاب :44)
Β ترجَمۂ کنزالایمان : ان کے لئے ملتے وقت کی دعا سلام ہے اور ان کے لئے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے۔
تو اے میرے پیارے اسلامی بھائیو!حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود شریف کی کثرت کیجئے کہ درودِپاک غموں اور مصیبتوں کو دور کرتا اور بیماریوں سے شفا دیتا ہے اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درودپاک پڑھنے کا حکم تو خود اللہ پاک نے دیا ہے۔وہ خبردار کرتے ہوئے، سمجھاتے ہوئے، یاد دلاتے ہوئے اور سکھاتے ہوئے ارشادفرمارہاہے:
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) ( پ 22، الاحزاب :56)
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی)پر۔اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
ایک کے عِوَض دس
حضرت سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا،آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے چہرے پر بشاشت (یعنی خوشی) کے آثار تھے، میں نے عرض کی: یَارَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ! میں نے کبھی آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آج کی طرح اتنا خوش وخرم اور ہشاش بشاش نہیں دیکھا تو ارشاد فرمایا:آج میں کیونکر خوش نہ ہوں گا کہ ابھی میرے پاس جبرئیل امین عَلَیْہِ السَّلَام آئے اور عرض کی: یَارَسُوْلَ اللہ !آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جو امتی آپ پر ایک بار درود بھیجے اس کے عوض اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں،دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس درجات بلند ہوتے ہیں اور مالکِ حقیقی بھی درود پاک بھیجنے والے کی مثل کہتا ہے۔ ( مسند امام احمدبن حنبل ، حدیث ابی طلحۃ ، 5 / 509، حدیث :16352)
حضرتِ سیِّدَتُنا حوّا رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا حق مہر
حضرت سیِّدُنا وہب بن منَبِّہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں: جب اللہ پاک نے حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو پیدا فرمایا اور ان میں روح پھونکی اور انہوں نے اپنی نگاہیں کھولیں تو جنت کے دروازے پر یہ لکھا ہوا دیکھا: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ تو عرض کی: یَااللہ ! کیا تو نے کسی ایسی ہستی کو بھی پیدا فرمایا ہے جو تیرے نزدیک مجھ سے بھی زیادہ معزز ہے؟ تو اللہ پاک کی جانب سے جواب ملا:ہاں!وہ تیری اولادمیں سے ایک نبی ہے۔پھر جب اللہ کریم نے حضرت سَیِّدَتُنا اماں حوا رَضِیَ اللہُ عَنۡہَا کو پیدا فرما کر حضرت سیِّدُنا عَلَیْہِ السَّلَام میں شہوت رکھی اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے نکاح کی خواہش کی تو اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:اس کا حق مہر ادا کرو۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: اس کا حق مہر کیا ہے؟ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:اس نام والے پر سو مرتبہ درودِپاک بھیجو۔ عرض کی: یااللہ ! اگر میں ایسا کروں تو کیا تو میرا نکاح اس سے کر دے گا؟ تو اللہ پاک نے فرمایا:ہاں۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سو مرتبہ درودِپاک پڑھا اور یہ حضرت سیِّدَتُنا حوا رَضِیَ اللہُ عَنۡہَا کا مہر تھا۔ پھر اللہ پاک نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا نکاح حضرت سیِّدَتُنا حوا رَضِیَ اللہُ عَنۡہَا سے کر دیا۔( نزهة المجالس ، باب مناقب فاطمۃ الزھراء رضی الله تعالی عنھا ، فصل فی تزویج حواء ... الخ ، 2 / 317، مفھومًا )
اے میرے پيارے اسلامی بھائیو! اللہ کے مَحبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے درود پاک پڑھو۔ بے شک آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود بھیجنا گناہوں کی بخشش اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کا باعث ہے، درودِ پاک بھیجنے والا جہنم کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور جنت میں ابدی نعمتوں کا مستحق ہوگا۔
دس عزتیں
ایک روایت میں ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود پڑھنے والوں کے لئے دس عزتیں ہیں:(۱) اللہ کریم کی رحمت (۲) نَبیِ مختار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت (۳)معزز ملائکہ کی موافقت (۴)منافقین وکفارکی مخالفت(۵)خطاؤں اور گناہوں کی معافی(۶)حاجات کی تکمیل(۷)ظاہر وباطن کی روشنی (۸)جہنم سے نجات (۹)جنت میں داخلہ اور (۱۰)رب کریم کے سلام کی بشارت ۔
فکرِ مدینہ پر استقامت کا آسان سا طریقہ
پیارے اسلامی بھائیو! اگر ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ استقامت کے ساتھ روزانہ فکرِ مدینہ کی سعادت حاصل ہو تو اس کے لئے آپ ایک وقت مقرر فرما لیجئے، مثلاً: آپ کی دکان ہے یا آپ آفس جاتے ہیں اور رزق میں برکت
کی نیّت سے وہاں قرآنِ پاک کی تلاوت کے ساتھ اَوراد ووظائف پڑھتے اور اگربتیاں وغیرہ جلاتے ہیں تو ان معمولات میں فکرِمدینہ جیسے بابرکت کام کو بھی شامل کر لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ رزق میں برکت کے ساتھ فکرِ مدینہ کرنے میں ایسی استقامت حاصل ہو گی کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔( کسی بھی نماز کے بعد یا سونے سے قبل کا وقت بھی مقرر کیا جا سکتا ہے) تمام اسلامی بھائی نیّت فرما لیجئے کہ اِنْ شَآءَ اللہ وقتِِمقرر پر پابندی کے ساتھ فکر ِ مدینہ ضرورکریں گے۔
پیارے اسلامی بھائیو! اگر آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ بلا ناغہ فکرِمدینہ کی سعادت بھی ملتی رہے اور عمل پر استقامت کے ساتھ گناہوں سے نجات بھی حاصل ہو جائے تو ایک بہت ہی پیارے مدنی انعام پر عمل کا معمول بنا لیجئے جسے ساری دنیا”مدنی قافلہ“ کے نام سے پکارتی ہے۔آپ ہر ماہ کم از کم 3 دن کے مدنی قافلے میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ سفر کی عادت بنا کر دیکھئے اِنْ شَآ ءَ اللہ آپ کی جھولی مدنی انعامات کے خوشبودار پھولوں سے مہکنے لگے گی اور دنیا وآخرت کی بے شمار بھلائیوں کے حصول کے ساتھ مصیبتوں اور بیماریوں سے نجات کی حیرت انگیز طور پر راہیں بھی کُھل جائیں گی۔ آئیے!لگے ہاتھوں دعوتِ اسلامی کی ایک مدنی بہار بھی سن لیجئے۔ چنانچہ
ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے: اَلْحَمْدُلِلّٰہ مجھے مَدَنی اِنعامات سے پیار ہے اور روزانہ فکرِمدینہ کرنے کا میرا معمول ہے۔ایک بار میں دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافلے میں عاشقانِ رسول کے ساتھ صوبہ بلوچستان (پاکستان) کے سفر پر تھا۔ اِسی دَوران مجھ گناہ گار پر بابِ کرم کُھل گیا۔ ہوا یوں کہ رات کو جب سویا تو قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی،جنابِ رسالت مَآب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خواب میں تشریف لے آئے،ابھی جلووں میں گم تھا کہ لب ہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور رَحمت کے پھول جھڑنے لگے،الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے:جو مَدَنی قافلے میں روزانہ فکرِمدینہ کرتے ہیں میں انہیں اپنے ساتھ جنّت میں لے جاؤں گا ۔
شکریہ کیوں کر ادا ہو آپ کا یا مصطفےٰ
کہ پڑوسی خُلد میں اپنا بنایا شکریہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
تسبیح فاطمہ
اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 3پر عمل کرتے ہوئے ایک ایک بار آیَۃُ الْکُرْسِی ، تسبیح فاطمہ اور سورۃُ الْاِخْلَاص پڑھ لیجئے۔ (وقت 3منٹ)
تلاوتِ قُرآن (12 منٹ)
(اب اس طرح اعلان کیجئے)
اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر70پر عمل کرتے ہوئے قرآنِ پاک کی تِلاوت کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ ( اِنْ شَاءَ اللّٰہ )
اب پہلی صف والے اسلامی بھائی دوسری صف والوں کی طرف اور تیسری صف والے چوتھی صف والوں کی طرف رُخ فرما لیں۔ اور اس بات کا خیال رکھیں کہ قرآن پڑھتے وقت آواز اِتنی ہو کہ اپنے کان سُن لیں اورجو اسلامی بھائی اِس دوران مَدنی قاعِدے کا سبق دوہرانا چاہیں وہ دوہرا لیں۔
شجرہ شریف کے اوراد (7 منٹ)
(اب اِس طرح اعلان کیجئے )
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر5کے جُز پر عمل کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ شَجَرَہْ شَرِیْف کے اَوْرَادْ پڑھنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ ( اِنْ شَآءَ اللہ )
(1)…جو کوئی اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْم تین بار پڑھ کر سُوْرَۃُ الْحَشْر کی آخری 3آیتیں صُبح پڑھے تو شام تک 70ہزار فرشتے اُس کے لیے اِسْتِغْفَارکریں اور اُس دِن مرے تو شہید ہو گا اور شام کو پڑھے تو صُبح تک 70ہزار فرشتے اُس کے لیے اِسْتِغْفَارکریں اور اُس رات میں مرے تو شہید ہو گا۔
پیارے اسلامی بھائیو ! میں پڑھتا ہوں آپ توجہ سے سُنئے:
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْم (3 بار)
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِۚ-هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ(۲۲) هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۲۳) هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىؕ-یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۲۴)
(2)…اب جو وِرد پڑھایا جائے گا اُس کی فضیلت میں آتا ہے۔ جو کوئی تین بار پڑھے اِنْ شَآءَ اللّٰہ اُس کا خاتِمہ اِیمان پر ہو۔ آپ بھی پڑھ لیجئے:
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَّعْلَمُہ ٗ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَالَانَعْلَمُہ ٗ
(3)…اب جو وِرد پڑھایا جائے گا اُس کی فضیلت میں آتا ہے جو کوئی تین بار پڑھےتو پڑھنے والے کے دِین ، اِیمان، جان، مال بچے سب محفوظ رہیں( اِنْ شَآءَ اللہ )آپ بھی پڑھ لیجئے:
بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَوُلْدِیْ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ
(4)…اب جو وِرد پڑھایا جائے گا اُس کی فضیلت میں آتا ہے جو کوئی تین بار پڑھے اُسے سانپ، بچھو وغیرہ موذیات سے پناہ حاصل ہو،آپ بھی پڑھ لیجئے:
اَعُوْذُبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّمَاخَلَقْ
(5)…اب جو وِرد پڑھایا جائے گا اُس کی فضیلت میں آتا ہے جو کوئی تین بار پڑھے وہ جُنونْ(پاگل پَنْ) ، جذام، بَرَصْ(کوڑھ)اور نابینا ہونے سے بچے ،آپ بھی پڑھ لیجئے:
سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ
(6)…جو کوئی صُبح گیارہ بار سُوْرَۂ اِخْلَاصْ پڑھے (اگر شیطان مع اپنے لشکر کوشِش کرے کہ اِس سے گناہ کرائے نہ کرا سکے جب تک یہ خود نہ کرے) تمام اِسلامی بھائی اپنے اپنے طور پر گیارہ بار سورۂ اِخلاص پڑھ لیجئے۔
مدنی حلقہ
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر21پر عمل کرتے ہوئے تین آیات مَع ترجمہ وتفسِیر سُننے کی سعادت حاصل کریں گے۔ ( اِنْ شَآءَ اللہ )
سورۃ البقرۃ ،پ1، آیت 63 تا 65
ہزاروں انسان بندر بن گئے
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَؕ-خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۶۳)
ترجمۂ کنز العرفان : اور یاد کروجب ہم نے تم سے عہد لیا اور تمہار ے سروں پر طورپہاڑ کو معلق کردیا (اور کہا کہ) مضبوطی سے تھامو اس (کتاب) کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے اسے یاد کرواس امید پر کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔
( وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ: اور یاد کروجب ہم نے تم سے عہد لیا۔) اس آیت میں یہودیوں سے فرمایا جارہا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب اللہ پاک نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ وہ توریت کومانیں گے اور اس پر عمل کریں گے لیکن پھر انہوں نے اس کے احکام کوبوجھ سمجھ کر قبول کرنے سے انکار کردیاحالانکہ انہوں نے خود بڑی التجاء کرکے حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے ایسی آسمانی کتاب کی درخواست کی تھی جس میں قوانینِ شریعت اور آئینِ عبادت مفصل مذکور ہوں اور موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے بار بار اس کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کا عہد لیا تھا اور جب وہ کتاب عطا ہوئی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور عہد پورا نہ کیا۔ جب بنی اسرائیل نے اللہ پاک سے کیا ہوا عہد توڑا تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ پاک کے حکم سے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں کے اوپر ہوا میں معلق کردیا اور موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے فرمایا : تم یاتو عہد قبول کرلو ورنہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا اور تم کچل ڈالے جاؤ گے۔ اس میں صورۃً عہد پورا کرنے پر مجبور کرنا پایا جارہا ہے لیکن درحقیقت پہاڑ کا سروں پر معلق کردینا اللہ پاک کی قدرت کی قوی دلیل ہے جس سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ بے شک حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام اللہ پاک کے رسول ہیں اور ان کی اطاعت اللہ پاک کو مطلوب ہے اور یہ اطمینان ان کو ماننے اور عہد پورا کرنے کا اصل سبب ہے۔ یاد رہے کہ دین قبول کرنے پر جبر نہیں کیا جا سکتاالبتہ دین قبول کرنے کے بعد اس کے احکام پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔اس کی مثال یوں سمجھیں کہ کسی کو اپنے ملک میں آنے پر حکومت مجبور نہیں کرتی لیکن جب کوئی ملک میں آ جائے تو حکومت اسے قانون پر عمل کرنے پر ضرور مجبور کرے گی۔
احکامِ قرآن پر عمل کی ترغیب
علامہ اسماعیل حَقی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کی کتابوں سے مقصود ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا ہے نہ فقط زبان سے بِالتَّرتیب ان کی تلاوت کرنا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی بادشاہ اپنی سلطنت کے کسی حکمران کی طرف کوئی خط بھیجے اور اس میں حکم دے کہ فلاں فلاں شہر میں اس کے لئے ایک محل تعمیر کر دیا جائے اور جب وہ خط اس حکمران تک پہنچے تو وہ اس میں دئیے گئے حکم کے مطابق محل تعمیر نہ کرے البتہ اس خط کو روزانہ پڑھتا رہے تو جب بادشاہ پہنچے گا اور محل نہ پائے گا تو ظاہر ہے کہ وہ حکمران عتاب بلکہ سزا کا مستحق ہو گا کیونکہ اس نے بادشاہ کا حکم پڑھنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا تو قرآن بھی اسی خط کی طرح ہے جس میں اللہ پاک نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ دین کے ارکان جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کی تعمیر کریں اور بندے فقط قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہیں اور اللہ پاک کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کا فقط قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہنا حقیقی طور پر فائدہ مند نہیں۔( روح البیان ، البقر ۃ، تحت الآیۃ :64، 1 / 155، ملخصاً )
ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَۚ-فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ(۶۴)
ترجمۂ کنز العرفان : اس کے بعد پھر تم نے روگردانی اختیار کی تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم
نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاتے۔
( فَضْلُ اللّٰهِ: اللہ کا فضل۔)یہاں فضل و رحمت سے یا تو توبہ کی توفیق مراد ہے کہ انہیں توبہ کی توفیق مل گئی یا عذاب کومؤخر کرنا مراد ہے یعنی بنی اسرائیل پر عذاب نازل نہ ہوا بلکہ انہیں مزید مہلت دی گئی۔( مدارک ، البقر ۃ، تحت الآیۃ : 64، ص 56)
ایک قول یہ ہے کہ فضل ِ الٰہی اور رحمت ِحق سے حضور سرور عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ پاک مراد ہے۔ معنیٰ یہ ہیں کہ اگر تمہیں خاتَم المرسلین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وجود کی دولت نہ ملتی اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہدایت نصیب نہ ہوتی تو تمہارا انجام ہلاک و خسران ہوتا۔( بیضاوی ، البقرة ، تحت الآیۃ : 64، 1 / 336، روح المعانی ، البقرة ، تحت الآیۃ : 64، 1 / 382، ملتقطاً )
اس سے معلوم ہوا کہ حضوراقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم مخلوق پر اللہ تعالیٰ کا فضل بھی ہیں اور رحمت بھی ہیں۔
وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـٕیْنَۚ(۶۵)
ترجمۂ کنز العرفان :اور یقیناً تمہیں معلوم ہیں وہ لوگ جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں سرکشی کی تو ہم نے
ان سے کہا کہ دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔
( الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا:جنہوں نے سرکشی کی۔) شہر اَیْلَہ میں بنی اسرائیل آباد تھے، بنی اسرائیل کو اللہ پاک نے ہفتے کا دن عبادت کے لیے خاص کرنے اور اس دن تمام دنیاوی مَشاغِل ترک کرنے کا حکم دیا نیز ان پر ہفتے کے دن شکار حرام فرما دیا۔ جب اللہ پاک نے ان کی آزمائش کا ارادہ فرمایا تو ہوا یوں کہ ہفتے کے دن دریا میں خوب مچھلیاں آتیں اوریہ لوگ پانی کی سطح پر انہیں دیکھتے تھے، جب اتوار کا دن آتا تو مچھلیاں نہ آتیں۔ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ تمہیں مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا گیا ہے لہٰذا تم ایسا کرو کہ دریا کے کنارے بڑے بڑے حوض بنالو اور ہفتے کے دن دریا سے ان حوضوں کی طرف نالیاں نکال لو، یوں ہفتے کو مچھلیاں حوض میں آجائیں گی اور تم اتوار کے دن انہیں پکڑ لینا،چنانچہ ان کے ایک گروہ نے یہ کیا کہ جمعہ کو دریا کے کنارے کنارے بہت سے گڑھے کھودے اور ہفتے کی صبح کو دریا سے ان گڑھوں تک نالیاں بنائیں جن کے ذریعے پانی کے ساتھ آکر مچھلیاں گڑھوں میں قید ہو گئیں اور اتوار کے دن انہیں نکال لیا اور یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے دی کہ ہم نے ہفتے کے دن تو مچھلی پانی سے نہیں نکالی۔ ایک عرصے تک یہ لوگ اس فعل میں مبتلا رہے۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے اس بستی میں بسنے والے افراد تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔
(1)…ان میں ایک تہائی ایسے لوگ تھے جوہفتے کے دن مچھلی کا شکار کرنے سے باز رہے اور شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے۔
(2)…ایک تہائی ایسے افراد تھے جو خودخاموش رہتے اوردوسروں کو منع نہ کرتے تھے جبکہ منع کرنے والوں سے کہتے تھے کہ ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ پاک ہلاک کرنے والا یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے۔
(3)…اورایک گروہ وہ خطاکار لوگ تھے جنہوں نے حکمِ الٰہی کی مخالفت کی اور ہفتے کے دن شکار کیا، اسے کھایا اور بیچا۔
جب مچھلی کا شکار کرنے والے لوگ اس مَعْصِیت سے باز نہ آئے تو منع کرنے والے گروہ نے ان سے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ میل برتاؤ نہ رکھیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے گاؤں کو تقسیم کرکے درمیان میں ایک دیوار کھینچ دی۔ منع کرنے والوں کا ایک دروازہ الگ تھا جس سے آتے جاتے تھے اور خطا کاروں کا دروازہ جدا تھا۔ حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام نے ان خطا کاروں پر لعنت کی تو ایک روز منع کرنے والوں نے دیکھا کہ خطاکاروں میں سے کوئی باہر نہیں نکلا تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید آج شراب کے نشہ میں مدہوش ہوگئے ہوں گے، چنانچہ اُنہیں دیکھنے کے لئے دیوار پر چڑھے تو دیکھا کہ وہ بندروں کی صورتوں میں مسخ ہوگئے تھے۔ اب یہ لوگ دروازہ کھول کراندر داخل ہوئے تو وہ بندر اپنے رشتہ داروں کو پہچانتے اور ان کے پاس آکر اُن کے کپڑے سونگھتے تھے اور یہ لوگ ان بندر ہوجانے والوں کو نہیں پہچانتے تھے۔ اِن لوگوں نے بندر ہوجانے والوں سے کہا: کیا ہم لوگوں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا؟ اُنہوں نے سرکے اشارے سے کہا: ہاں۔ اس کے تین دن بعد وہ سب ہلاک ہوگئے اور منع کرنے والے سلامت رہے۔
اس واقعے میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے کہ جو شرعی احکام کو باطل کرنے اورا نہیں اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے کیلئے طرح طرح کے غیر شرعی حیلوں کا سہارا لیتے ہیں ، انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ کہیں اس کی پاداش میں ان کی شکلیں نہ بگاڑ دی جائیں۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جیسا یہودیوں نے کیا تم ا س طرح نہ کرنا کہ تم اللہ پاک کی حرام کردہ چیزوں کو طرح طرح کے حیلے کر کے حلال سمجھنے لگو۔ ( درمنثور ، پ 9، الاعراف ، تحت الآیۃ :163، 3 / 592)
یاد رہے کہ حکمِ شرعی کو باطل کرنے کیلئے حیلہ کرنا حرام ہے جیسا کہ یہاں مذکور ہوا البتہ حکمِ شرعی کو کسی دوسرے شرعی طریقے سے حاصل کرنے کیلئے حیلہ کرنا جائز ہے جیسا کہ قرآنِ پاک میں حضرت ایوب عَلَیْہِ السَّلَام کا اس طرح کا عمل سورۂ ص آیت44میں مذکور ہے۔ عوامُ الناس کو چاہئے کہ پہلے حیلے سے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کریں اس کے بعد حیلہ کریں تاکہ معلومات میں کمی کی وجہ سے گناہ میں پڑنے کا اندیشہ باقی نہ رہے۔
4صفحات فیضانِ سُنَّت
(اِس کے بعدیُوں اعلان فرمائیے)
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 14کے ایک جُز فیضانِ سُنّت کے ترتیب وار کم از کم 4صفحات پڑھنے اور سُننے کی سعادت حاصل کریں گے۔ ( اِنْ شَآءَ اللہ )
فیضانِ بِسْمِ اللہ (ص17تا 21)
پانچ مَدَنی پھول
حضرت سیِّدُنا عَبْدُاللہ بن عَمْرو بن الْعاص رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا ارشادِ سعادت بُنیاد ہے، پانچ عادَتیں ایسی ہیں کہ کوئی انھیں اختیار کرلے تو دنیا و آخِرت میں سعادت مند ہو جائے ۔ (۱)وَقتاًفَوقتاً لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہتا رہے (۲)جب کسی مصیبت میں مبتلا ہو(مثلاً بیمار ہو یانقصان ہو جائے یا پریشانی کی خبر سنے) تو اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن اور لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم پڑھے (۳) جب بھی نعمت ملے تو شُکرانے میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہے (۴)جب کسی (جائز)کام کا آغاز کرے تو بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے اور (۵)جب گُناہ کر بیٹھے تو یوں کہے: اَسْتَغْفِرُ اللہَ الْعَظِیْمَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ (یعنی میں عظمت والے اللہ سے مغفِرت طلب کرتے ہوئے اُس کی طرف توبہ کرتا ہوں) ( المنبھات للعسقلانی ، ص 58)
غیبی امداد ہو گھر بھی آباد ہو
رِزْق کے دَر کھلیں بَرَکتیں بھی ملیں
چل کے خود دیکھ لیں قافلے میں چلو
لطفِ حق دیکھ لیں قافِلے میں چلو
جیسا دروازہ ویسی بھیک
مشہور مفسرِ قرآن حضرتِ مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اللہ پاک نے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں اپنے اسم ذات کے ساتھ رَحْمت کی دو صِفات کا بیان فرمایا ہے کیونکہ اللہ کریم کے نامِ مبارَک میں ہیبت تھی اور رَحْمٰن اور رَحِیم میں رَحمت۔ اللہ پاک کا نام سن کر نیک بندوں کو بھی کچھ عرض کرنے کی جُرْأَت (جُرْ۔ءَتْ ) نہ ہوتی تھی لیکن رَحْمٰن اور رَحِیم سن کر ہر مجرم اور خطاکار کو بھی عرض کرنے کی ہّمت پڑی اور حقیقت بھی یِہی ہے، اُس کے جلال کے سامنے کون دَم مار سکتا ہے اور ظُہُورِ جمال کے وَقْت ہر ایک ناز کر سکتا ہے۔ ”تفسیرِ کبیر“میں ہے کہ ایک سائل ایک بَہُت بڑے مال دار کے عظیمُ الشَّان دروازے پر آیا اور کچھ سُوال کیا ، مکان میں سے معمولی سی چیز آئی ۔ فقیرنے لے لی اور چلا گیا۔ دوسرے دن ایک بہت مضبوط پھاؤڑا لے کر آیا اوردروازہ کھودنے لگا، مالِک نے پوچھا ،یہ کیا کرتا ہے ؟ فقیر نے کہا :”یا تو عطا کو دروازے کے لائق کر!یا دروازہ عطا کے لائق کر“یعنی جب دروازہ اتنا بڑا بنایا ہے تو ضَروری ہے کہ بڑے دروازے سے بڑی ہی بھیک ملا کرے کیونکہ عطا دروازے اور نام کے لائق ہی ہونی چاہیے۔ہم فقیر گنہگار بندے بھی عرض کرتے ہیں،اے مولیٰ! ہم کو ہمارے لائِق نہ دے بلکہ اپنے جُودو سخا کے لائق دے۔ بیشک ہم گنہگار ہیں لیکن تیری غَفّاری ہماری گنہگاری سے وسیع ہے۔(تفسیرِ نعیمی، پ۱،ص ۴۰)
گُنَہِ گدا کا حساب کیا وہ اگرچِہ لاکھ سے ہیں سوا
مگر اے عَفوتِرے عَفْوکا نہ حساب ہے نہ شمار ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہُ علٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک یقیناً رحْمٰن اور رَحِیْم ہے ، جو اِس کی رَحْمت پر نظر رکھے اور اُس کے ساتھ اپنا حُسنِ ظَن قائم کرے اِنْ شَآءَ اللہ دونوں جہاں میں اُس کا بیڑا پار ہے ، اللہ کریم کی رَحْمت سے اُس کو کبھی بھی محرومی نہیں ہو سکتی ۔ چُنانچِہ تفسیرِ نَعِیمی پارہ اوّل صفحہ38پر ہے:
دو بھائی تھے ، ایک پرہیز گار دوسرا بد کار۔ جب بدکار مرنے لگا تو پرہیز گار بھائی نے کہا ، دیکھا تجھے میں نے بَہُت سمجھا یا مگرتُو اپنے گناہوں سے باز نہ آیا، اب بول تیرا کیا حال ہوگا؟ اُس نے جواب دیا کہ اگر قِیامت کے روز میرا ربّ میرا فیصلہ میری ماں کے سِپُرد کر دے تو بتاؤ کہ ماں مجھے کہاں بھیجے گی دوزخ میں یا جنّت میں؟پرہیز گار بھائی نے کہا کہ ماں تو واقعِی جنّت میں ہی بھیجے گی ۔ گناہ گار نے جواب دیا:”میرا ربّ میری ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔“یہ کہا اور اس کا انتِقال ہوگیا ۔ بڑے بھائی نے خواب میں اُسے نہایت خوش حال دیکھا، مغفِرت کی وجہ پوچھی ، کہا: مرتے وَقْت کی اُسی بات نے میرے تمام گناہ بخشوادیئے۔ اللہ کریم کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
ہم گنہگاروں پہ تیری مِہربانی چاہیے
سب گُنہ دُھل جائیں گے رَحمت کا پانی چاہیے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہُ علٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول! واقِعی اللہ کریم کی رَحْمت بَہُت بڑی ہے ، زَبان سے نکلا ہوا ”ایک لفْظ“ مغفِرت کا سبب بھی ہو سکتا ہے اور ہَلاکت کا بھی ۔ جیسا کہ ابھی حِکایت میں آپ نے سنا کہ ایک جُملے نے اُس گنہگار کا بیڑا پار کروادیا ۔ اِسی طرح ہلاکت کی مِثال یہ ہے کہ اگر کوئی زَبان سے صَریح کُفْر بَک دے اور توبہ کیے بِغیرمرجائے تو ہمیشہ کےلئے جہنَّم اُس کا مُقدَّر ہے۔ ہلاکت سے خود کو بچانے اور مغفِرت پانے کا ایک بہترین ذَرِیعہ عاشقانِ رسول کی مدنی تَحریک،دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔ اگر سفر کی سچّی نیّت کر لی جائے اور کسی وجہ سے سفر نصیب نہ ہو تَب بھی اِنْ شَآءَ اللہ بیڑا پار ہے۔ مَدَ نی قافلے میں سفر کی نیّت کرنے والے ایک خوش نصیب کی ایمان افروز حِکایت سنیے اور جھومیے۔ چُنانچِہ
باغ کا جُھولا
حَیْدَرآباد(با بُ الاسلام سندھ)کے ایک محلّہ میں عَلاقائی دَ ورہ برائے نیکی کی دعوت سے مُتاثرہو کر ایک ماڈَرْن نوجوان مسجِد میں آ گیا ۔ بیان میں مَدَنی قافِلوں میں سفر کی ترغیب دلائی گئی تواس نے مَدَنی قافِلے میں سفر کرنے کیلئے نام لکھوادیا۔ ابھی مَدَنی قافلے میں اُس کی روانگی میں کچھ دن باقی تھے کہ قَضائے الہٰی سے اُس کا انتِقال ہوگیا۔ کسی اَہلِ خانہ نے مرحوم کو خواب میں اِس حالت میں دیکھا کہ وہ ایک ہریالے باغ میں ہَشّاش بَشّاش جُھولا جھول رہا ہے۔ پوچھا ، یہاں کیسے آ گئے ؟ جواب دیا:”دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلے کے ساتھ آیا ہوں، اللہ کریم کا بڑا کرم ہوا ہے، میری ماں سے کہہ دینا کہ وہ میرا غم نہ کرے میں یہاں بَہُت چَین سے ہوں۔“
خُلْد میں ہو گا ہمارا داخِلہ اِس شان سے
یَارَسُوْلَ اللہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
شَجَرَہ شَریف
(شجرہ شریف پڑھنے سے پہلے اِشراق و چاشت کا وقت بھی معلوم کر لیجئے اور اسی حساب سے آگے جدول چلائیے )
(اِس کے بعدیُوں اعلان فرمائیے)
پیارے اسلامی بھائیو! ابھی اِنْ شَآءَ اللہ شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ پڑھا جائے گا، تمام اِسلامی بھائی شجرہ شریف کا صفحہ نمبر 68 کھول لیجئے۔
یاالہٰی رحم فرما مصطفٰے کے واسِطے
یَارَسُوْلَ اللہ کرم کیجے خدا کے واسِطے
مشکلیں حل کر شہِ مشکل کشا کے واسِطے
کر بلائیں رَد شہیدِ کربلا کے واسِطے
سیِّدِ سجاد کے صدقے میں ساجد رکھ
مجھے علم حق دے باقر علم ہُدٰی کے واسِطے
صدقِ صادِق کا تَصَدُّق صادِقُ الاسلام کر
بے غضب راضی ہو کاظم اور رضا کے واسِطے
بہر معروف و سری معروف دے بیخود
سری جُندِ حق میں گِن جنیدِ باصَفا کے واسِطے
بہر شبلی شیر حق دُنیا کے کتوں سے بچا
ایک کا رکھ عبد واحِد بے رِیا کے واسِطے
بُوالفَرَح کا صدقہ کر غم کو فَرَح دے حُسن و سعد
بُو الحسن اور بُو سعید سعد زا کے واسِطے
قادِری کر قادِری رکھ قادِریوں میں اُٹھا
قدرِ عبدالقادِرِ قدرت نُما کے واسِطے
اَحْسَنَ اللہُ لَہُمْ رِزْقًا سے دے رزقِ حَسن
بندۂ رزّاق تاجُ الاصفیا کے واسِطے
نَصْرْ اَبی صالح کا صدقہ صالح ومنصور رکھ
دے حیاتِ دیں مُحِّیِ جانفزا کے واسِطے
طُورِ عِرفان و عُلُوّ و حمد و حسنیٰ و بَہا
دے علی موسیٰ حسن احمد بہا کے واسِطے
بہرِ ابراہیم مجھ پر نارِ غم گلزار کر
بھیک دے داتا بھکاری بادشاہ کے واسِطے
خانَۂ دل کو ضیا دے رُوئے ایماں کو جمال
شہ ضیا مولیٰ جمالُ الاولیاء کے واسِطے
دے محمد کے لیے روزی کر احمد کے لیے
خوانِ فضلُ اللہ سے حصہ گدا کے واسِطے
دِین ودُنیاکے مجھے بَرکات دے بَرکات سے
عشق حق دے عشقی عشق اِنتِمَاکے واسِطے
حُبِِّ اہلِ بیت دے آلِ محمد کے لیے
کر شہیدِ عشق، حمزہ پیشوا کے واسِطے
دِل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پُر نُور کر
اچھے پیارے شمسِ دیں بدرُ العُلیٰ کے واسِطے
دو جہاں میں خادِمِ آلِ رسولُ اللہ کر
حضرتِ آلِ رسولِ مقتدا کے واسِطے
کر عطا احمد رضائے احمد مُرْسَل مجھے
میرے مولیٰ حضرتِ احمد رضا کے واسِطے
پُرضیا کر میرا چہرہ حشر میں اے کبریا
شہ ضیاءُ الدین پیرِ باصفا کے واسِطے
اَحْیِنَا فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا سَلَامٌ بِالسَّلَامِ قادِری عَبْدُالسَّلَام خوش ادا کے واسِطے
عشقِ احمد میں عطاکر چشمِ تر سوزِ جگر
یاخدا اِلیاس کو احمد رضا کے واسِطے
صدقہ اِن اَعیاں کا دے چھ عین عز، عِلم و عَمَل عَفْو و عرفاں عافیت اِس بے نَوا کے واسِطے
دعا ئیں سیکھنے سکھانے کا حلقہ(10منٹ)
کھانا کھانے سے پہلے کی دعا
کھانا شُروع کرنے سے پہلے یہ دُعاء پڑھ لیجئے، اگر کھانے پینے میں زَہربھی ہوگا تو اِنْ شَآ ءَ اللہ اَثَر نہیں کرے گا۔
بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْ ءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فیِ السَّمَآءِ یَاحَیُّ یَاقَیُّوْم ( مسند الفردوس ،1 / 282، حدیث :1106)
ترجمہ : اللہ پاک کے نام سے شُروع کرتا ہوں جس کے نام کی بَرَکت سے زَمین وآسمان کی کوئی چیز نُقصان نہیں پہنچا سکتی، اے ہمیشہ زندہ وقائم رہنے والے۔
اگر شُروع ميں بِسْمِ اللہ پڑھنا بھول گئے تو کھانے کے دوران یا دآنے پر اس طرح کہہ لیجئے!
بِسْمِ اللہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ ( مستدرک ، 5 / 147، حدیث 7169)
ترجمہ: اللہ کے نام سے کھانے کی ابتدا اور انتہا ۔
یَا وَاجِدُ
کھانا کھاتے وَقْت جو کوئی ہر نوالے پر یَا وَاجِدُ پڑھا کرے گا اِنْ شَآءَ اللہ وہ کھانا اُس کے پیٹ میں نُور ہوگا اور بیماری دور ہوگی ۔ (فیضانِ سنت، باب پیٹ کا قفل مدینہ، ۱/۳۰۸)
فاتحہ کا سلسلہ
( شجرہ شریف پڑھنے کے بعد فاتحہ کا سِلسلہ ہوگا )
پیارے اسلامی بھائیو! اب اِنْ شَآءَ اللہ فاتحہ کا سلسلہ ہوگا،تمام اِسلامی بھائی شجرہ شریف کا صفحہ نمبر 23 کھول لیجئے۔
7بار دُرُوْدِ غوثیہ پڑھیے:
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ مَّعْدِنِ الْجُوْدِ وَ الْکَرَمِ وَ اٰلِہٖ وَبَارِکَ وَسَلِّمْ
ایک بار سُوْرَۃُالْفَاتِحَہْ پڑھیے۔۔۔ ایک بار آ یَۃ ُالْکُرْسِی پڑھیے۔۔۔ 7 بار سُوْرَۃُالْاِخْلَاص پڑھیے۔۔۔
اب آخرمیں تین بار دُرُوْدِ غَوْثِیَہ پڑھیے۔۔۔۔
ایصالِ ثواب و دُعا
(اب ایصالِ ثواب و دعا کیجئے )
اََلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن
یَا اللہ ! جو کچھ پڑھا گیا اور اب تک کی میرے پاس موجود نیکیوں کا ثواب تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں قبول فرما، یا ربِّ کریم! یہ ثواب ہمارے پڑھنے کے مطابق نہیں بلکہ اپنی رحمت کے شایانِ شان عطا فرما کر ہماری طرف سے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عنایت فرما، بوسیلۂ رحمۃ للعالمین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مزید اِن اِن کو یہ ثواب پہنچا، جملہ انبیاء ومرسلین، خلفائے راشدین، اُمَّہاتُ الْمُؤْمنِین، تمام صحابہ و تابعین اور تبع تابعین، آئمہ مجتہدین، علمائے کاملین، مشائخِ عاملین، تمام بزرگانِ دین، کل مومنات ومومنین، کل مسلمات و مسلمین، مفسرین، محدثین ، تمام شہیدان واسیرانِ کربلا، جمیع اہل بیت اَطہار، امام اعظم، غوث اعظم،غریب نواز، شیخ شہاب الدین سہروردی، خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی، مجدد اَلف ثانی، اعلیٰ حضرت ،امام غزالی، صدر الشریعہ، صدر الافاضل، قطبِ مدینہ، مفتی دعوت اسلامی، حاجی مشتاق، حاجی زم زم رضا، تمام مبلغات ومبلغین مرحومین خصوصاً سَیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ اورجو ہاتھوں ہاتھ چاند رات سے مدنی تربیتی کورس،41روزہ مدنی انعا ما ت و مدنی قافلہ کورس،12روزہ مدنی کورس،فیضا نِ نماز کورس، بارہ ماہ اور ہر بارہ ماہ میں ایک ماہ اور ہر ما ہ میں 3دن مدنی قافلوں میں سفر کر نے کی نیت کر تے ہیں یا کر یں گے ، ان کی خدمت میں بھی یہ ثواب تحفتاً پیش کرتا ہوں۔اور مدنی انعامات پر عمل کرنے والوں اور والیوں کو بھی ایصالِ ثواب کرتا ہوں ۔
ہمارے تمام عزیز و اقارب جو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے سب کو اس کا ثواب پہنچا،اے اللہ ! ہم سب کے رزق میں،کاروبارمیں،اولاد میں، گھربار میں خیرو برکتیں نازل فرما۔ہر قسم کی بلاؤں،پریشانیوں، مصیبتوں،آزمائشوں ،جادو ٹونوں سے ہم سب کو ہمارے گھر بار کو محفوظ فرما ۔اپنا فضل و کر م ہم سب کے شاملِ حال فرما۔تمام عالمِ اسلام کی خیر فرما۔اسلام کا بول بالا کر اور دشمنانِ اسلام کا منہ کالا کر۔سیدی امیراہلسنت، مرکزی مجلسِ شوریٰ اور دعوتِ اسلامی کے تمام مبلغین و مبلغات کی حفاظت فرما۔ہماری تمام دعائیں خاکِ مدینہ کے صدقے قبول فرما۔
کہتے رہتے ہیں دعا کے واسطے بندے تیرے
کر دے پوری آرزو ہر بے کس و مجبور کی
جب دمِ واپسی ہو یا اللہ آنکھوں کے سامنے ہو جلوۂ مصطفےٰ اور لب پہ ہو لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
نمازِ اشراق و چاشت
(دُعا کے بعدیُوں اعلان کیجئے)
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 19کے دو جُز ، اشراق وچاشت کے نفل ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ ( اِنْ شَاءَ اللّٰہ )
(روزانہ اشراق و چاشت کی ایک ایک فضیلت بدل بدل کر بیان فرمائیے)
فیضانِ اِشراق و چاشت
اے عاشقانِ رسول!نفل اُس عبادت کوکہتے ہیں جس کا شریعت نےبندے کو مکلف نہ کیا ہو بندہ اپنی خوشی سے کرے۔نوافل کےبہت فضائل ہیں جیساکہ بخاری شریف کی حدیث ہےکہ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: میرا بندہ کسی شے سے میرا اِس قدر قُرب حاصل نہیں کرتا جتنا فرائض سے کرتا ہے اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے ہمیشہ قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اُسے محبوب بنا لیتا ہوں اور جب اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اُس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اُس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو اسے دوں گا اور پناہ مانگے تو پناہ دوں گا۔( بخاری ، کتاب الرقاق ، باب التواضع ،4 / 248، حدیث :6502)
اِس حدیثِ قدسی سے حاصل ہونے والے چندمدنی پھول سنئے!
(1)…حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:ولی اللہ وہ بندہ ہے جس کا اللہ پاک وا لی وارث ہوگیا کہ اُسے ایک لمحے کے لیے بھی اُس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اُس سے نیک کام لیتا ہے۔
(2)… اللہ تک پہنچنے کے بہت ذرائع ہیں مگر ان تمام ذرائع سے زیادہ محبوب ذریعہ ادائے فرائض ہے، جو مسلمان فرض عبادات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے وہ میرا پیارا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ فرائص و نوافل کا جامع ہوتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح،۳/۳۰۸، ملخصاً)
پیارے اسلامی بھائیو!ایک مرتبہ رات بھر مَدَنی مشورے کے باعث امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَا تُہُمُ الْعَا لِیَہ سو نہ سکے۔ بعد ِ فجر ایک اسلامی بھائی نے عرض کی:اَبھی آپ آرام فرمالیں، 10:00 بجے دوبارہ اٹھنا ہےلہٰذا اُٹھ کر اشراق و چاشت ادا فرمالیجئے گا۔آپ نے جواب دیا کہ”زندگی کا کیا بھروسا، سوکر اٹھنا نصیب ہویا نہیں.. یا.. کیا معلوم آج زندگی کے آخری نفل ادا ہورہے ہوں؟“یہ فرمانے کے بعد اِشراق و چا شت کے نفل ادا فرمائے پھر آرام فرمایا۔
اللہ پاک کی امیرِاہلسنت پر رحمت ہو اوراِن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
فجر کی نماز پڑھ کر سورج طلوع ہونے کے کم ازکم 20منٹ بعد دو رکعت نفل ادا کرنا اِن نوافل کو اِشراق کے نوافل کہتے ہیں اورآفتا ب بلند ہونے سے زوال یعنی نصف النھارشرعی تک دویاچاریابارہ رکعت نوافل پڑھنا اِن نوافل کو چاشت کے نوافل کہتے ہیں۔ (ماخوذاز بہار شریعت۱/۲۴-۲۵)
اِشراق ، چاشت کے 9 حُروف کی نسبت سےاشراق،چاشت کے فضائل پر9فرامین مصطفےٰ
جو چاشت کی نماز ادا کرنے کے لئے نکلا اُس کا ثواب عمرہ کرنے والے کی طرح ہے ۔( ابو داود ، کتاب التطوع ، باب صلوة الضحی ،۲/۴۱، حدیث : ۱۲۸۸)
جو چاشت کی دو رکعتیں پابندی سے اد ا کرتاہے اُس کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اگر چہ سمند رکی جھاگ کے برابر ہوں۔ ( ابن ماجہ ، کتاب امامة الصلوة والسنة فیھا ، باب ما جاء فی صلوة الضحی ، 2 / 153، حدیث : 1382)
جب سورج طلوع ہو کر ایسی حالت پر آجائے جیسے نمازِعصر کے وقت سے غروب تک ہوتاہے ۔پھر جو شخص دو یا چار رکعتیں ادا کرے تو اُس کے لئے اُس دن کا ثواب ہے اور اُس کے گناہ مٹادئیے جاتے ہیں، اگر اُس دن اُس کا انتقال ہوگیا تو جنت میں داخل ہوگا۔ ( معجم کبیر ، 8 / 192، حدیث :7790)
بیشک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ضُحیٰ کہا جاتا ہے جب قیامت کا دن آئے گا تو ایک آوازلگانے والا پکارے گا:نمازِچاشت کی پابندی کرنے والے کہاں ہیں ؟یہ تمہارا دروازہ ہے اس میں داخل ہوجاؤ۔ ( معجم اوسط ، ۳/۶۰، حدیث: ۳۸۶۵)
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ،لہٰذا!میں انہیں ہر گز نہیں چھوڑتا (۱)وِتر ادا کئے بغیر نہ سوؤں(۲)میں چاشت کی دو رکعتیں ترک نہ کروں کیونکہ یہ اوابین یعنی کثرت سے تو بہ کرنے والوں کی نمازہےاور(۳)ہر مہینے تین دن روزے رکھا کروں۔ ( بخاری ، کتاب التہجد ، باب صلوة الضحی فی الحضر ، ۱/۳۹۷، حدیث: ۱۱۷۸)
ہر جوڑپر صدقہ ہے اور ہر تسبیح یعنی سُبْحٰنَ اللہ کہناصدقہ ہے اور ہر تحمید یعنی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہناصدقہ ہے اور ہر تہلیل یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا صدقہ ہے اور ہر تکبیریعنی اَللہُ اَکْبَرُ کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات کا حکم دینا صدقہ ہے اور بری بات سے روکنا صدقہ ہے اور چاشت کی دو رکعتیں ان سب کو کفایت کرتی ہیں۔جسے انسان پڑھ لے۔( مسلم ، کتاب صلاة المسافرین وقصرہا ، باب استحباب صلوة الضحی…الخ ، ص۳۶۳، حدیث:۸۲۰۱)
مشہور مفسر قرآن مفتی احمدیار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی ان سب میں صدقۂ نفل کا ثواب ہے اور یہ بدن کے جوڑوں کی سلامتی کا شکریہ بھی ہے لہٰذا اگر کوئی انسان روزانہ تین سو ساٹھ نفلی نیکیاں کرے تو محض جوڑوں کا شکریہ ادا کرے گا باقی نعمتیں بہت دور ہیں۔
یہاں چاشت سے مراد اِشراق ہی ہے،اس نماز کے بڑے فضائل ہیں۔بہتر یہ ہے کہ نماز فجر پڑھ کر مصلےٰ پر ہی بیٹھا رہے،تلاوت یا ذکر خیر ہی کرتا رہے،یہ رکعتیں پڑھ کر مسجد سے نکلے اِنْ شَآءَاللہ عمرہ کا ثواب پائے گا۔(مراٰۃ المناجیح،۲/۲۹۶)
عبادت میں گزرے مری زندگانی
کرم ہو کرم یاخدا یاالٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اللہ پاک فرماتا ہے کہ اے انسان تو شروع دِن میں میرےلیے چار رکعتیں پڑھ لے میں آخر دن تک تیرےلیے کافی ہوں گا۔ ( مسند احمد ، مسند الانصار ، حدیث نعیم بن ھمار ، ۸/۳۴۳، حدیث: ۲۲۵۳۶)
مشہورمفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:( اللہ پاک فرماتا ہے) میری رضاکےلیے یہ نماز پڑھ لے۔ شام تک تیری حاجتیں پوری کروں گا،تیری مصیبتیں دفع کروں گا۔ خلاصہ یہ کہ تو اول دن میں اپنا دل میرےلیے فارغ کردے میں آخر دن تک تیرا دل غموں سے فارغ رکھوں گا۔ سُبْحٰنَ اللہ !دِل کی فراغت بڑی نعمت ہے۔دوسری روایت میں ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ اُس کا ہوجاتا ہے،یہ حدیث اس کی شرح ہے۔ (مرآۃ المناجیح، ۲/۲۹۷)
حُبِّ دُنیا سے تو بچا یا رب
عاشقِ مصطفٰے بنا یا رب
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
جو شخص نماز فجر سے فارغ ہو اور اپنے مصلےٰ پر بیٹھا رہے حتّٰی کہ اشراق کے نفل پڑھ لے، صرف خیر ہی بولے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں۔( ابو داود ، کتاب التطوع ، باب صلوة الضحی ، ۲/۴۱، حدیث: ۱۲۸۷)
مشہور مفسر قرآن مفتی احمدیار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:یعنی جہاں فجر کے فرض پڑھے مسجد میں یا گھر ، تو بعد فرض مصلےٰ پر ہی بیٹھا رہے خواہ خاموش بیٹھے یا تلاوت و ذکر کرے۔ یعنی اس کے گناہِ صغیرہ کتنے بھی ہوں اس نماز اشراق پڑھنے اور مصلےٰ پر رہنے کی برکت سے معاف ہوجائیں گے۔
شیخ شہاب الدین سہروردی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ اس نماز سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔جو دل کا نور چاہے وہ اشراق کی پابندی کرے۔ بعض روایات میں ہے کہ اسے حج کامل و مقبول کا ثواب ملتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/۲۹۹)
واسطہ مرے پیرو مرشد کا
مجھ کو متقی تو بنا یا رب
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا کہ جو اشراق کی دو رکعتوں پر پابندی کرے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔ ( ابن ماجہ ، کتاب الصلاة ، باب ما جاء فی صلوة الضحی ،۲/۱۵۴، حدیث: ۱۳۸۲)
یہاں بھی ضحٰی سے مراد اشراق کے نفل ہیں،حفاظت سے مراد انہیں ہمیشہ پڑھنا ہے۔بحالتِ سفر اگر اتنی دیر مصلےٰ پر نہ بیٹھ سکے تو سفر جاری کردے اور سورج چڑھ جانے پر یہ نفل پڑھ لے اللہ پاک اس پابندی کی برکت سے گناہ بخش دے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نفل پر ہمیشگی کرنا منع نہیں ہاں انہیں فرض و واجب سمجھ کر ہمیشگی کرنا ممنوع ہے،لہٰذا جو لوگ بارھویں تاریخ کو روزہ رکھتے ہیں یا ہمیشہ گیارھویں کو فاتحہ کرتے ہیں وہ اس ہمیشگی کی وجہ سے گنہگار نہیں۔ (مرآۃ المناجیح، ۲/۲۹۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
( تہجُّد سے اِشراق وچَاشت تک وقت کا خیال رکھیں ،وقت کے حِساب سے جدول آگے پیچھے کر لیں، مگر کوئی حلقہ رہنے نہ پائے، اور وقت پر ختم بھی ہوجائے )
(اب آخر میں صبح کی نیت بھی کرلیجئے)
ہرصبح یہ نیت فرمالیجئے: آج کا دن آنکھ، کان، زبان اور ہر عضو کو گناہوں اور فضولیات سے بچاتے ہوئے نیکیوں میں گزاروں گا۔ ( اِنْ شَآءَ اللہ )
میں سو جاؤں یا مصطفےٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ صَلِّ علیٰ کہتے کہتے
وقفۂ آرام
تمام اسلامی بھائی مَدَنی انعام پر عمل کرتے ہوئے سنت کے مطابق آرام فرمائیں اور سونے میں یہ احتیاط فرمائیں کہ پردے میں پردہ کئے ،دو اسلامی بھائیوں میں ایک ہاتھ کا فاصلہ رکھتے ہوئے ،بغیر ایک دوسرے سے باتیں کئے آرام فرمایئے،11:41پر آپ کو بیدار کیا جائے گا۔
بیدار کرنے کا اعلان
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 17کے جزو پر عمل کرتے ہوئے اٹھنے کے بعد اپنا بستر تہہ کرکے رکھیے اور مدنی انعام نمبر 39 کے مطابق دن کا اکثر حصہ باوضو رہنے کی نیت سے وضو فرما کرحلقوں میں تشریف لے آئیے ۔
آغاز دَرَجَہ
( 12:00 بجے تلاوتِ قرآن پاک سے جدول کا آغاز کیجئے )
تلاوت(5 منٹ)
کلامِ امیر اہلسنّت(7 منٹ)
یا مصطَفٰے عطا ہو اب اِذن حاضِری کا
کرلوں نظارہ آکر میں آپ کی گلی کا
اِک بار تو دِکھا دو رَمَضان میں مدینہ
بیشک بنالو آقا مِہمان دو گھڑی کا
روتا ہوا میں آؤں داغِ جگر دکھاؤں
افسانہ بھی سناؤں میں اپنی بیکسی کا
میں سبز سبز گنبد کی دیکھ لوں بَہاریں
اب اِذن دے دو آقا تم مجھ کو حاضِری کا
یامصطَفٰے! گُناہوں کی عادَتیں نکالو
جذبہ مجھے عطا ہو سنّت کی پَیروی کا
اللہ ! حُبِِّ دنیا سے تُو مجھے بچانا
سائل ہوں یاخدا میں عشقِ محمدی کا
فخرو غُرور سے تُو مولیٰ مجھے بچانا
یارب! مجھے بنا دے پیکر تُو عاجِزی کا
ایماں پہ ربِِّ رَحمت دے دے تُواستِقامت
دیتا ہوں واسِطہ میں تجھ کو ترے نبی کا
ہو ہر نَفَس مدینہ دھڑکن میں ہو مدینہ
جب تک نہ سانس ٹوٹے سرکار زندَگی کا
دنیا کے تاجدارو! تم سے مجھے غَرَض کیا!
منگتا ہوں میں تو منگتا سرکار کی گلی کا
اللہ ! اِس سے پہلے ایماں پہ موت دے دے
نقصاں مِرے سبب سے ہو سنّتِ نبی کا
الفت کی بھیک دے دو دیتا ہوں واسِطہ میں
صِدّیق کا عمر کا عثمان کا علی کا
کچھ نیکیاں کمالے جلد آخِرت بنالے
کوئی نہیں بھروسا اے بھائی! زندگی کا
مِیزان پہ سب کھڑے ہیں اعمال تُل رہے ہیں
رکھ لو بھرم خدارا! عطّارؔ قادِری کا
درجہ سے پہلے کی احتیاطیں
( درجہ شروع ہونے سے قبل تمام اسلامی بھائیوں کی قطار یں درست کروا دیجئے ،قطاروں میں یہ خیال رکھئے کہ حلقہ نگران سب سے پیچھے بیٹھیں تاکہ انہیں معلوم ہوتا رہے کہ اس وقت ان کے حلقے کے کتنے اسلامی بھائی موجود ہیں، لیٹ ہونے والوں سے حلقہ نگران محبت و شفقت سے عرض کریں گے، حتَّی الامکان دوزانوں بیٹھنے کی ترغیب دیجئے ،پردے میں پردہ کی ترکیب ہو، حاضری چیک کی جائے جو حلقہ پہلے آیا ہو حلقہ نگران کی دلجوئی فرمائیے،ممکن ہو تو تحفہ بھی دیجئے مگر لیٹ آنے والوں سے سب کے بیچ کلام نہ کیا جائے )
مدرسۃُ المدینہ بالغان
12:12 تا 12:50
(مدنی قاعدے بھی اسی انداز سے تقسیم کئے جائیں جیسے صبح قرآن پاک تقسیم کئے گئے)
اے عاشقانِ رسول! اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر13پر عمل کرتے ہوئے مدرستہ المدینہ بالغان پڑھنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ ( اِنْ شَآءَ اللہ )
مدنی قاعدہ
اذکار ِنماز
نماز ِظہرکی تیاری
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 4پر عمل کرتے ہوئے اَذان و اِقامت کا جواب دینےکی سعادت حاصل کریں گے۔ ( اِنْ شَآءَ اللہ )
بعد نمازِ ظہر
درسِ فیضان سنَّت(وقت 7منٹ)
تسبیحِ فاطمہ(وقت 3منٹ)
(اب یوں اعلان کیجئے )
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 3پر عمل کرتے ہوئے ایک ایک بار آیۃ الکرسی، تسبیح فاطمہ اور سورۃ الاخلاص پڑھ لیجئے۔(وقت 3منٹ)
کلام امیر اہلسنت (وقت4منٹ)
مجھے دَر پہ پھر بُلانا مَدنی مدینے والے
مَئے عِشق بھی پِلانا مَدنی مدینے والے
مِری آنکھ میں سمانا مَدنی مدینے والے
بنے دِل تِرا ٹھکانا مَدنی مدینے والے
تِری فَرش پر حُکومت تِری عَرش پر حُکومت
تو شَہَنشَہِ زمانہ مَدنی مدینے والے
تِراخُلق سب سے بالا تِرا حُسن سب سے اعلیٰ
فِدا تجھ پہ سب زمانہ مَدنی مدینے والے
نماز کے احکام
2:00 تا 2:45 (45منٹ)
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 72پر عمل کرتے ہوئے نماز کے اِحکام سے وُضُو ، غُسْل اور نماز دُرُست کرنے کی سعادت حاصل کریں گے ۔ ( اِنْ شَاءَ اللّٰہ )
وُضو کا بیان
دُرُود شریف کی فضیلت
رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے: ’’جس نے دن اور رات میں میری طرف شوق و محبت کی وجہ سے تین تین مرتبہ دُرُودِپاک پڑھا اللہ پاک پر حق ہے کہ وہ اُس کے اُس دن اور اُس رات کے گناہ بخش دے۔ ( معجم کبیر ، قیس بن عائذ ابو کاھل ،۱۸/۳۶۲، حدیث :۹۲۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
لفظ اللہ کے چار حروف کی نسبت سے وضو کے چار فرائض
(1)…چہرہ دھونا (2)…کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھونا
(3)…چوتھائی سر کا مسح کرنا (4)…ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھونا۔
( فتاوی هندیة ، کتاب الطهارة ، الباب الاول فی الوضو ،۱/۵۔بہارشریعت،۱/۲۸۸)
وُضو کا طریقہ(حنفی)
کعبۃُ اللہ شریف کی طرف منہ کر کے اُونچی جگہ بیٹھنا مستحَب ہے۔ وُضو کیلئے نیّت کرنا سنّت ہے، نیّت نہ ہو تب بھی وضو ہو جا ئے گامگر ثواب نہیں ملے گا۔ نیّت دل کے ارادے کو کہتے ہیں ،دل میں نیّت ہوتے ہوئے زَبان سے بھی کہہ لینا افضل ہے لہٰذا زبان سے اِس طرح نیّت کیجئے کہ میں حُکمِ الٰہی بجا لانے اور پاکی حاصل کرنے کیلئے وُضو کر رہا ہوں ۔ بسمِ اللہ کہہ لیجئے کہ یہ بھی سنّت ہے ۔بلکہ بِسْمِ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ لیجئے کہ جب تک باوُضو رہیں گے فِرشتے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔( معجم صغیر ، باب الالف من اسمه احمد ،۱/۷۳، حدیث :۱۹۴) اب دونوں ہاتھ تین تین بارپَہنچوں تک دھوئیے، (نل بند کرکے ) دونوں ہاتھوں کی اُ نگلیوں کا خِلال بھی کیجئے ۔ کم از کم تین تین بار دائیں بائیں اُوپر نیچے کے دانتوں میں مِسواک کیجئے اور ہر بارمِسواک کو دھولیجئے۔ حجۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’مسواک کرتے وقت نَماز میں قراٰنِ مجید کی قِراء َت اور ذِکرُ اللہ کے لئے مُنہ پاک کرنے کی نیّت کرنی چاہئے۔‘‘( احیاء العلوم ، کتاب اسرار الطھارة ، القسم الثانی فی طھارة الاحداث ، كيفية الوضوء ، ۱/۱۸۲) اب سیدھے ہاتھ کے تین چُلّو پانی سے( ہر بار نل بند کرکے) اس طرح تین کُلّیاں کیجئے کہ ہر بارمُنہ کے ہر پرزے پر (حلق کے کَنارے تک ) پانی بہ جائے ،اگر روزہ نہ ہو تو غَرغَرہ بھی کرلیجئے۔ پھر سیدھے ہی ہاتھ کے تین چُلّو (اب ہر بار آدھا چُلّو پانی کافی ہے ) سے ( ہر بار نل بند کرکے) تین بار ناک میں نرم گوشت تک پانی چڑھائیے اور اگر روزہ نہ ہو تو ناک کی جڑ تک پانی پہنچائیے، اب (نل بند کرکے) اُلٹے ہاتھ سے ناک صاف کرلیجئے اور چھوٹی اُنگلی ناک کے سُوراخوں میں ڈالئے ۔ تین بار سارا چہرہ اِس طرح دھوئیے کہ جہاں سے عادَتاًسر کے بال اُگنا شروع ہوتے ہیں وہاں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک ہر جگہ پانی بہ جائے ۔ اگر داڑھی ہے اور اِحرام باندھے ہوئے نہیں ہیں تو( نل بند کرنے کے بعد) اِسطرح خِلال کیجئے کہ اُنگلیوں کو گلے کی طرف سے داخِل کر کے سامنے کی طرف نکالئے۔ پھر پہلے سیدھا ہاتھ اُنگلیوں کے سرے سے دھونا شروع کر کے کہنیوں سمیت تین بار دھوئیے ۔اِسی طرح پھر اُلٹا ہاتھ دھولیجئے۔ دونوں ہاتھ آدھے بازو تک دھونا مستحب ہے ۔اکثر لوگ چُلّو میں پانی لیکر پہنچے سے تین بار چھوڑ دیتے ہیں کہ کہنی تک بہتا چلا جاتا ہے اس طرح کرنے سے کہنی اور کلائی کی کروٹوں پر پانی نہ پہنچنے کا اندیشہ ہے لہٰذا بیان کردہ طریقے پر ہاتھ دھوئیے۔ اب چُلّو بھر کر کہنی تک پانی بہانے کی حاجت نہیں بلکہ ( بِغیر اجازتِ صحیحہ ایسا کرنا) یہ پانی کا اِسرا ف ہے ۔اب(نل بند کرکے) سر کا مسح اِس طرح کیجئے کہ دونوں اَنگوٹھوں اور کلمے کی اُنگلیوں کو چھوڑ کر دونوں ہاتھ کی تین تین اُنگلیوں کے سِرے ایک دوسرے سے مِلا لیجئے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر کھینچتے ہوئے گُدّی تک اِس طرح لے جائیے کہ ہتھیلیاں سَر سے جُدا ر ہیں ، پھر گدّی سے ہتھیلیاں کھینچتے ہوئے پیشانی تک لے آئیے،کلمے کی اُنگلیاں اور اَنگوٹھے اِس دَوران سَر پر باِلکل مَس نہیں ہونے چاہئیں ، پھر کلمے کی اُنگلیوں سے کانوں کی اندرونی سَطح کا اور اَنگوٹھوں سے کانوں کی باہَری سَطح کا مَسح کیجئے اورچُھنگلیاں(یعنی چھوٹی انگلیاں ) کانوں کے سُوراخوں میں داخِل کیجئے اور اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کے پچھلے حصّے کامَسح کیجئے۔ بعض لوگ گلے کا اور دُھلے ہوئے ہاتھوں کی کہنیوں اور کلائیوں کا مَسْح کرتے ہیں یہ سنّت نہیں ہے۔سر کا مسح کرنے سے قبل ٹونٹی اچھی طرح بند کر نے کی عادت بنالیجئے بِلا وجہ نل کُھلا چھوڑ دینا یا اَدھورا بند کرنا کہ پانی ٹپک کر ضائع ہوتارہے اِسراف وگُنا ہ ہے ۔پہلے سیدھا پھر اُلٹا پاؤں ہر بار اُنگلیوں سے شُروع کرکے ٹخنوں کے او پر تک بلکہ مستحَب ہے کہ آدھی پِنڈلی تک تین تین باردھولیجئے۔ دونوں پاؤں کی اُنگلیوں کا خِلال کرنا سنّت ہے۔(خِلال کے دَوران نل بند رکھئے ) اس کا مُستحَب طریقہ یہ ہے کہ اُلٹے ہاتھ کی چھنگلیا سے سیدھے پاؤں کی چھنگلیا کا خِلا ل شروع کر کے اَنگوٹھے پر ختم کیجئے اور اُلٹے ہی ہاتھ کی چھنگلیا سے اُلٹے پاؤں کے انگوٹھے سے شروع کر کے چھنگلیاپر ختم کرلیجئے۔ ( عامۂ کُتُب )
حُجَّۃ الْاسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :ہر عُضْو دھوتے وقت یہ امّید کرتا رہے کہ میرے اِس عُضْو کے گناہ نکل رہے ہیں۔( احیاء العلوم ، کتاب اسرار الطھارة ، القسم الثانی فی طھارة الاحداث ، کیفية الوضوء ،۱/۱۸۳ ملخصا )
”کرم یاربَّ العٰلَمین“کے چودہ حروف کی نسبت سے وضو کی 14 سنتیں
’’وُضُو کا طریقہ ‘‘(حنفی )میں بعض سنّتوں اورمُستحبّات کا بیان ہوچُکا ہے اس کی مزید وَضاحت مُلاحظہ فرمائیے:نِیّت کرنا بِسْمِ اللہ پڑھنا۔ اگر وُضو سے قبل بِسْمِ اللہ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ لیں تو جب تک باوُ ضو رہیں گے فرِشتے نیکیاں لکھتے رہیں گے دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین تین بار دھوناتین بار مِسواک کرنا تین چُلّو سے تین بار کُلّی کرناروزہ نہ ہو تو غر غرہ کرنا تین چُلّو سے تین بار ناک میں پانی چڑھانا داڑھی ہو تو ( احرام میں نہ ہونے کی صورت میں ) اس کا خِلال کرنا ہاتھ اورپاؤں کی اُنگلیوں کاخِلال کرنا پورے سر کا ایک ہی بار مَسح کرنا کانوں کا مَسح کرنا فرائض میں ترتیب قائم رکھنا (یعنی فرض اَعضاء میں پہلے منہ پھر ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا پھر سرکا مسح کرنا اورپھر پاؤں دھونا )اور پے در پے وُضو کرنا یعنی ایک عُضوسوکھنے نہ پائے کہ دوسراعُضو دھو لینا۔(بہار شریعت،۱/۲۹۳-۲۹۴ملخصا)
دھونے کی تعریف
کسی عُضودھونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ اُس عُضْوْ کے ہر حصّے پر کم از کم دو قطرے پانی بہ جائے۔ صرف بھیگ جانے یا پانی کو تیل کی طرح چپڑ لینے یا ایک قَطرہ بہ جانے کو دھونا نہیں کہیں گے نہ اِس طرح وُضو یا غسل ادا ہو گا۔ (فتاوی رضویہ،۱/۲۱۸،بہار شریعت،۱/۲۸۸)
کن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
انجکشن لگانے سے وُضو ٹوٹے گا یا نہیں ؟
(1)گوشت میں اِنجکشن لگانے میں صِرف اِسی صورت میں وُضو ٹوٹے گا جب کہ بہنے کی مقدار میں خون نکلے۔(2) جب کہ نَس کا انجکشن لگاکر پہلے خون اُوپر کی طرف کھینچتے ہیں جو کہ بہنے کی مقدار میں ہوتا ہے لہٰذا وُضو ٹوٹ جاتا ہے۔(3) اِسی طرح گلوکوز وغیرہ کی ڈرِپ نَس میں لگوانے سے وُضو ٹوٹ جائیگا کیوں کہ بہنے کی مقدار میں خون نکل کر نلکی میں آجاتا ہے ۔ ہاں بہنے کی مقدار میں خون نلکی میں نہ آئے تو وُضو نہیں ٹوٹے گا۔ (4) سِرِنج کے ذَرِیعے ٹیسٹ کرنے کے لئے خون نکالنے سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ یہ بہنے کی مقدار میں ہوتا ہے اسی لئے یہ خون پیشاب کی طرح ناپاک بھی ہوتا ہے، خون سے بھری ہوئی شیشی جیب میں رکھ کر نماز پڑھی،نہ ہوئی نیز خون یا پیشاب کی شیشی اگر چِہ اچّھی طرح بند ہو مسجِد کے اندر بھی نہیں لا سکتے ،لائیں گے تو گنہگار ہوں گے۔
عملی طریقہ
2:45 تا 3:00 (15 منٹ)
مبلغ اسلامی بھائی وضو کا عملی طریقہ (پریکٹیکل ) کرکے دکھائیں۔
فیضانِ نماز کورس کر لیجئے
اے عاشقانِ رسول! اپنی نماز درست کرنے کے لیے فیضان نماز کورس کر لیجئے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ 7دن فیضان نماز کورس)رہا ئشی(میں طہارت،وضو،غسل،نماز کا عملی طر یقہ،نماز کے اذکار،نماز کی شرائط وفرائض، واجبات، مفسدات،مکرو ہات،مدنی قاعدہ کے ذریعے قواعد و مخارج کے ساتھ قرآن پاک سکھایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ روزمرہ کی دعائیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔جو اسلامی بھائی یہ کورس کرنا چاہتےہیں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔
سنتیں اور آداب کا حلقہ
3:00 تا 03:10 (وقت 10 منٹ)
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم کے گیارہ حُرُوف کی نسبت سے سلام کے 11 مَدَنی پھول
(1)مسلمان سے ملاقات کرتے وقت اُسے سلام کرنا سنّت ہے (2) مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصہ 16صَفْحَہ 102 پر لکھے ہوئے جُزئیے کا خلاصہ ہے:” سلام کرتے وَقت دل میں یہ نیّت ہو کہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اُس کا مال اور عزّت و آبرو سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور میں ان میں سے کسی چیز میں دَخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں “(3)دن میں کتنی ہی بار ملاقات ہو، ایک کمرہ سے دوسرے کمرے میں بار بار آنا جانا ہو وہاں موجود مسلمانوں کو سلام کرنا کارِ ثواب ہے (4)سلام میں پہل کرنا سنّت ہے(5) سلام میں پہل کرنے والا اللہ پاک کامُقرَّب ہے (6) سلام میں پہل کرنے والا تکبُّر سے بھی بری ہے ۔ جیسا کہ میرے مکّی مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باصفا ہے: پہلے سلام کہنے والا تکبُّر سے بَری ہے۔ ( شعب الایمان ، الحادی والستون من شعب الایمان وھو باب فی مقاربة اهل الدين ... الخ ،۶/۴۳۳ ، حدیث :۸۷۸۶)(7) سلام (میں پہل) کرنے والے پر 90 رَحمتیں اور جواب دینے والے پر 10رَحمتیں نازِل ہوتی ہیں( کیمیائے سعادت ، رکن دوم رکن معاملاتست ... الخ ، باب سیم در حقوق مسلما نا ن ... الخ ، ۱/۳۹۴) (8) السَّلامُ عَلَیْکُم کہنے سے 10نیکیاں ملتی ہیں ۔ ساتھ میں وَرَحمَۃُ اللّٰہ بھی کہیں گے تو 20نیکیاں ہو جائیں گی ۔ اور وَبَرَکاتُہ شامل کریں گے تو 30 نیکیاں ہو جائیں گی۔ بعض لوگ سلام کے ساتھ جنَّتُ المقام اور دوزخُ الحرام کے الفاظ بڑھا دیتے ہیں یہ غلط طریقہ ہے۔ بلکہ مَن چلے تو معاذ اللہ یہاں تک بک جاتے ہیں: آپ کے بچّے ہمارے غلام ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام اَحمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فتاوٰی رضویہ جلد 22 صَفْحَہ409 پر فرماتے ہیں : کم از کم السَّلامُ عَلَیْکُم اوراس سے بہتر وَرَحمَۃُ اللّٰہ ملانا اور سب سے بہتر وَبَرَکاتُہ شامل کرنا اور اس پر زِیادَت نہیں۔ پھرسلام کرنے والے نے جتنے الفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اعادہ تو ضَرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زیادہ کہے۔ اس نے السَّلامُ عَلَیْکُم کہا تو یہ وَعَلَیکُمُ السَّلام وَرَحمَۃُ اللّٰہ کہے۔ اور اگر اس نے السَّلامُ عَلَیْکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ کہا تو یہ وَعَلَیکُمُ السَّلام وَرَحمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکاتُہ کہے اوراگر اس نے وَبَرَکاتُہ تک کہا تویہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زِیادَت نہیں۔ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَم (9) اِسی طرح جواب میں وَعَلَیکُمُ السَّلام وَرَحمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکاتُہ کہہ کر 30 نیکیاں حاصِل کی جا سکتی ہیں (10) سلام کا جواب فوراً اور اتنی آواز سے دینا واجِب ہے کہ سلام کرنے والا سُن لے (11) سلام اور جوابِ سلام کا دُرُست تلفُّظ یاد فرما لیجئے۔ پہلے میں کہتا ہوں آپ سُن کر دوہرائیے: اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ ( اَسْ ۔ سَلا ۔ مُ ۔ عَلَیْ ۔ کُمْ ) اب پہلے میں جواب سناتا ہوں پھر آپ اس کو دوہرایئے: وَعَلَیْکُمُ السَّلام ( وَ ۔ عَ ۔ لَیْکُ ۔ مُسْ ۔ سَلام )۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
12 مدنی کام
3:11 تا 03:30 (وقت 20 منٹ)
مَسْجِد دَرْس
(ذیلی حلقے کے12مدنی کاموں میں سے ایک مدنی کام)
ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ط وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
دُرُود شریف کی فضیلت
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:بے شک اللہ پاک نے ایک فرشتہ میری قَبْر پر مُقَرَّر فرمایا ہے جسے تمام مَخْلُوق کی آوازیں سننے کی طَاقَت دی ہے، پس قِیامَت تک جوکوئی مجھ پر دُرود پاک پڑھتا ہے تو وہ مجھے اِس کا اور اس کے باپ کا نام پیش کرتا ہے، کہتا ہے : فُلاں بن فُلاں نے آپ پر دُرُودِ پاک پڑھا ہے۔( مسند بزار ،Β اول مسند عمار بن یاسر
،۴/۲۵۴،Β حدیث :۱۴۲۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
سرکار کی پسند
ایک مرتبہ Β رَسُوْلُ اللہ Β صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم اپنے حُجرہ مبارکہ سے مَسْجِد میں تشریف لائے تو صحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم کے دوحلقے دیکھے، ایک حلقہ والے قرآنِ کریم کی تِلاوَت کر رہے تھے اور اللہ پاک سے دُعا مانگ رہے تھے، جبکہ دوسرے حلقہ والے عِلْم سیکھنے(LEARNING)سکھانے(TEACHING)میں مَشْغُول تھے،آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:یہ دونوں حلقے اگرچہ بھلائی پر ہیں،مگر جو لوگ قرآنِ کریم کی تِلاوَت اور اللہ پاک سے دعا میں مَصْرُوف ہیں، اللہ پاک چاہے تو انہیں کچھ عَطا فرمائے اور چاہے تو کچھ بھی عَطا نہ فرمائے، البتہ!یہ لوگ عِلْم سیکھنے سکھانے میں مَشْغُول ہیں اور بیشک مجھے مُعَلِّم(یعنی سکھانے والا)بنا کر بھیجا گیا ہے (لِہٰذا میں انہی کے پاس بیٹھوں گا)۔پھرآپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہیں(عِلْم کے حلقے میں)تشریف فرماہوگئے۔
( ابن ماجه ،Β کتاب السنة ،Β باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم ،۱/۱۵۰،Β حديث :۲۲۹)Β
درس اور مسجد کا باہمی تعلق
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!مَسْجِد کی ابتدا ہی سے دَرْس کا تَعَلّق مَسْجِد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر تاریخ پر نَظَر دوڑائیں تو نَماز اور دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ مَسَاجِد میں درس ایک اہم ترین جزو کے طور پر وابستہ چلا آ رہا ہے۔ سیرتِ مصطفےٰ پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ بات اکثر و بیشتر ملے گی کہ جب بھی سرورِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم کو کچھ وَعْظ و نصیحت فرمانا مَقْصُود ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں مسجدِ نبوی شریف میں جمع فرما کر تَرْبِیَت فرمائی۔
دعوتِ اسلامی اور مسجد درس کا اہتمام
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!پندرہویں صَدی کی عظیم عِلْمی و رُوحانی شَخْصِیَّت،شَیخِ طَرِیْقَت، اَمِیرِ اَہلِسُنّت، بانیِ دَعْوَتِ اِسْلَامی حضرت علّامہ مولانا ابو بِلال محمد اِلْیَاس عطّار قادِری رَضَوِی ضِیائی Β دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جب موجودہ دور میں عالَمِ اِسْلَام میں سنّتوں کی بہار لانے والی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی کا آغاز فرمایا تو مَسَاجِد اَہلِسُنّت کی آبادکاری بھی آپ کے مَدَنی مَقْصَد میں شامِل تھی، چُنَانْچِہ مَسْجِد بھرو تحریک کے تحت مَسَاجِد اَہلِسُنّت میں دَرْس کا سلسلہ شروع ہوا تو اَوَّلاً Β حُجَّةُ الْاِسْلَام امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مَشْہُور تصنیف Β مُکَاشَفَةُ الْقُلُوب سے دَرْس دیا جاتا رہا۔پھر شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْرِ اَہلِسُنّتΒ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کثیر مصروفیات کے باوُجُود پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری اُمَّت کی خیر خواہی کے لئے بے شُمار سُنّتوں،آدابِ اسلام اور پیارے پیارے مدنی پھولوں سے مزیّن تصنیفِ لطیف فیضانِ سُنّت عَطا فرمائی۔
مسجد درس کیا ہے؟
Β اَلْحَمْدُلِلّٰہ !صحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم اور بُزُرْگانِ دِیْن رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِم کے فَروغِ عِلْمِ دِین کے طریقہ کار پر عَمَل کرتے ہوئے تَبْلِیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی مَرْکَز نے عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے اورسرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سُنّتو ں پر عمل پَیرا ہونے کیلئے جو 12 مَدَنی کام عَطا فرمائے، ان میں سے ایک مَدَنی کام مَسْجِد دَرْس بھی ہے اور اس سے مُراد یہ ہے کہ شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْرِ اَہلِسُنّتΒ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی چند کُتُب و رَسَائِل کے عِلاوہ آپ کی باقی تمام کُتُب و رَسَائِل بِالْخُصُوص فیضانِ سنّت سے مَسْجِد میں دَرْس دینا، اسے تنظیمی اِصْطِلَاح میں مَسْجِد دَرْس کہتے ہیں۔مَسْجِد دَرْس بھی حقیقت میں فروغِ عِلْمِ دِین کی ہی ایک کڑی ہے، جس کے لئے مَسَاجِد میں روزانہ کم از کم ایک مَدَنی دَرْس کی ترکیب بنانے کی کوشِش کی جاتی ہے۔(یاد رکھئے کہ شیخِ طریقت، امیر اہلسنت Β دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کُتُب و رَسَائِل کے عِلاوہ کسی اور کِتاب سے دَرْس دینے کی مرکزی مجلس شوریٰ کی طرف سے اِجازَت نہیں۔)مَسْجِد میں اِجازَت نہ ہونے کی صُورَت میں انتظامیہ،خطیب و امام و مُؤَذِّن وغیرہ کی مُخالَفَت کئے بغیر باہَر دَرْس دیا جاتا ہے۔
سَعَادَت ملے دَرْسِ ’’فیضانِ سُنّت‘‘ کی
روزانہ دو مرتبہ یا اِلٰہی
(وسائل بخشش(مُرَمّم)،ص۱۰۳)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ علٰی مُحمَّد
بِسْمِ اللہ شریف کے انیس حروف کی نسبت سے مسجد درس کے 19 مَدَنی پھول
(1)…فرمانِ مصطفٰے Β صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : جو شخص میری اُمّت تک کوئی اِسْلَامی بات پہنچائے تاکہ اُ س سے سُنَّت قائم کی جائے یا اُس سے بَد مذہبی دُور کی جائے تو وہ جنَّتی ہے۔( جامع صغیر ،Β حرف المیم ،Β ص ۵۱۰،Β حدیث :۸۳۶۳)
(2)…سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اللہ پاک اس کو تَرو تازہ رکھے جو میری حدیث سُنے، اسے یاد رکھے اور دُوسروں تک پہنچائے۔( ترمذی ،Β کتاب العلم ،Β باب ماجاء فی الحث علی تبلیغ السماع ،۴/۲۹۹،Β حدیث :۲۶۶۶)
(3)…حضرتِ سیِّدُ نا اِدریس عَلَیْہِ السَّلَام کے مُبارَک نام کی ایک حِکْمَت یہ بھی ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام اللہ پاک کے عطاکردہ صَحیفوں کی کَثْرَت سے دَرْس و تدریس فرمایا کرتے تھے۔لہٰذا آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا نام ہی اِدْریس (یعنی دَرْس دینے والا) ہو گیا۔( تفسیر کبیر ،Β پ ۱۶،Β مریم ،Β تحت الآیة :۵۶،۷/۵۵۰)
(4)…حُضورِ غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:Β دَرَسْتُ الْعِلْمَ حتّٰی صِرْتُ قُطْباً یعنی میں عِلْم سیکھتا رہا یہاں تک کہ مقامِ قُطْبِیَّت پرفائز ہو گیا۔Β (مدنی پنج سورہ،ص۲۶۴)
(5)…روزانہ کم ازکم دودَرْس دینے یا سننے کی سَعَادَت حاصِل کیجئے۔
(6)…پارہ 28Β سورۃ ُ التَّحْرِیم کی چھٹی آیَتْ میں اِرشَاد ہوتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا ( پ 28، التحریم :6)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والواپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ۔
اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا ایک ذَرِیعہ مَدَنی درْس بھی ہے۔
(7)…دَرْس کیلئے وہ نَماز مُنْتَخَب کیجئے جس میں زِیادہ سے زِیادہ اسلامی بھائی شریک ہو سکیں۔
(8)…جس نَماز کے بعد دَرْس دینا ہو،وہ نَماز اُسی مَسْجِدکی پہلی صَفْ میں تکبیرِاُولیٰ کے ساتھ باجَماعَت ادا فرمائیے۔
(9)…مِحْرَاب سے ہٹ کر (صَحْن وغیرہ میں) کوئی ایسی جگہ دَرْس کیلئے مَخْصُوص کر لیجئے جہاں دیگر نَما زیوں اور تِلاوَت کرنے والوں کو دُشواری نہ ہو۔
(10)…نگران ذیلی مُشاورَت کو چاہیے کہ اپنی مَسْجِد میں دوخیر خواہ مُقَرَّر کرے جو دَرْس(بیان) کے مَوْقَع پر جانے والوں کو نَرمی سے روکیں اور سب کو قریب قریب بٹھائیں۔
(11)…پردے میں پردہ کیے دوزانو بیٹھ کر درْس دیجئے۔اگر سننے والے زیادہ ہوں تو کھڑے ہو کر یا مائیک پر دینے میں بھی حَرَج نہیں جبکہ نَمازیوں وغیرہ کو تشویش نہ ہو۔
(12)…آواز زیادہ بُلند ہو نہ باِلکل آہِسْتَہ،حَتَّی الْاِمْکَان اتنی آواز سے درْس دیجئے کہ ِصرْف حاضِرین سُن سکیں۔بَہَرصُورت نَمازیوں کوتکلیف نہیں ہونی چاہئے۔
(13)…دَرْس ہمیشہ ٹھہر ٹھہر کر اور دِھیمے انداز میں دیجئے۔
(14)…جو کچھ دَرْس دینا ہے پہلےاُ س کا کم از کم ایک بارمُطالَعَہ کرلیجئے تاکہ غَلَطیاں نہ ہوں۔
(15)…مُعْرَب اَلفاظ (یعنی جن لفظوں پر زیر، زبر اور پیش وغیرہ لکھا ہوا ہے ان کو) اِعراب کے مُطابِق ہی اَدا کیجئے اس طرح اِنْ شَآءَ اﷲ تَلَفُّظ کی دُرُست اَدائیگی کی عادَت بنے گی۔
(16)…حَمْد وصلوٰۃ،دُرُود وسلام کے صیغے،آیتِ دُرُود اور اِختتامی آیات وغیرہ کسی سُنّی عالِم یا قاری کو ضَرور سنا دیجئے۔اِسی طرح عَرَبی دُعائیں وغیرہ جب تک عُلَمائے اہلسنّت کو نہ سُنالیں اکیلے میں اپنے طور پر بھی نہ پڑھا کریں۔
(17)…دَرْ س مَعْ اِختِتامی دُعا 7 مِنَٹ کے اندر اندر مکمَّل کرلیجئے۔
(18)…ہر مُبَلِّغ کو چاہیے کہ وہ درْس کا طریقہ،بعد کی ترغیب اور اِختِتامی دُعا زَبانی یاد کرلے۔
(19)…درْس کے طریقہ میں اسلامی بہنیں (گھر درس وغیرہ کیلئے)حَسْبِ ضَرورت ترمیم کر لیں۔
ہے تجھ سے دعا ربِّ اکبر! مقبول ہو ’’فیضانِ سنّت‘‘
مسجِد مسجِد گھر گھر پڑ ھ کر، اسلامی بھائی سناتا رہے
(وسائل بخشش(مُرَمّم)،ص475)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
درس دینے کا طریقہ
تین بار اس طرح اِعلان فرمائیے:’’قریب قریب تشریف لائیے۔‘‘پردے میں پردہ کئے دوزانو بیٹھ کر اس طرح اِبْتِدَا کیجئے:
(مائیک استعمال نہ کریں، بغیر مائیک کے بھی آواز دھیمی رکھیں، کسی نمازی وغیرہ کو تشویش نہ ہو)
ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ط وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ ط فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
اِس کے بعد اِس طرح دُرُودو سلام پڑھائیے:
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ
اَلصَّلٰوۃ ُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ
اگر مَسْجِد میں ہیں تو اس طرح اِعْتِکَاف کی نِیَّت کروائیے:
Β نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف (ترجمہ:میں نے سُنّتِ اِعْتِکَاف کی نِیَّت کی)۔
پھر اس طرح کہئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نگاہیں نیچی کئے تَوَجُّہ کے ساتھ رِضائے الٰہی کےلئے علمِ دِین حاصِل کرنے کی نِیَّت سے ”فیضانِ سنّت “ کا دَرْس سنئے ۔اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے، زمین پر اُنگلی سے کھیلتے ہوئے، لِباس بَدَن یا بالوں وغیرہ کو سَہْلاتے ہوئے سننے سے ہو سکتا ہے اس کی بَرَکتیں جاتی رہیں۔(بیان کے آغاز میں بھی قریب قریب آجائیے کہہ کر اِسی اندا ز میں رغبت دِلائیےاور اچھی اچھی نیتیں بھی کروائیے)یہ کہنے کے بعد ”فیضانِ سنت “ سے دیکھ کر دُرُود شریف کی ایک فضیلت بیان کیجئے۔پھر کہئے:
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
جو کچھ لکھا ہوا ہے وُہی پڑھ کر سنائیے،آیات و عَرَبی عِبارات کا صِرْف ترجمہ پڑھئے، لکھے ہوئےمضمون کا اپنی رائے سے ہرگز خُلاصہ مت کیجئے۔
دَرْس کے آخِر میں اِس طرح ترغیب دلائیے!
(ہر مُبلّغ کو چاہئے کہ زَبانی یاد کر لے اور دَرْس و بیان کے آخِر میں بِلا کمی بیشی اِسی طرح ترغیب دلایا کرے)
خوفِ خدا و عشق مصطفےٰ کے حصول کے لیے ہر ہفتے کو عشا کی نماز کے بعد امیر اہلسنت کا مدنی مذاکرہ دیکھنے سننے اور ہر جمعرات مغرب کی نماز کے بعد عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں بہ نیت ثواب ساری رات گزارنے کی مدنی التجا ہے ، عشا کے بعد بے شک وہیں آرام فرمالیجئے اور اللہ پاک توفیق دے تو تہجد بھی ادا کیجئے، ہر ماہ کم از کم تین دن کے مدنی قافلے میں سنتوں بھرا سفر اور روزانہ فکر مدینہ کے ذریعے ”نیک بننے کا نسخہ“بنام مدنی انعامات کا رسالہ پر کرکے ہر اسلامی ماہ کی پہلی تاریخ کو اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ اس کی برکت سے پابند سنت بننے، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا ذہن بنے گا۔
آخِر میں خُشُوع و خُضُوع (یعنی جسم و دل کی عاجزی) اورقبولیت کے یقین کے ساتھ دُعا میں ہاتھ اُٹھانے کے آداب بجا لاتے ہوئے بِلا کمی بیشی اس طرح دُعا مانگئے:
ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ط وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
یا رَبِّ مصطفٰے !بطفیلِ مُصطفٰے صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماری،ہمارے ماں باپ کی اور ساری اُمّت کی مغفرت فرما۔ یا اللہ پاک!دَرْس کی غَلَطیاں اور تمام گناہ مُعَاف فرما۔ہمیں عاشق رسول،پرہیزگار اور ماں باپ کا فرماں بردار بنا۔یا اللہ پاک! ہمیں مَدَنی اِنْعَامَات پر عَمَل کرنے،مَدَنی قافلوں میں سَفَر کرنے اور نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کی توفیق عَطا فرما۔یا اللہ پاک!مسلمانوں کو بیماریوں،قرضداریوں،بے روزگاریوں،بے اولادیوں، جھوٹے مقدموں اور طرح طرح کی پریشانیوں سے نَجات عَطا فرما۔یا اللہ پاک!اِسْلَام کا بول بالا کر۔ یا اللہ پاک! ہمیں دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی مَاحَول میں اِسْتِقَامَت عَطا فرما۔یا اللہ پاک! ہمیں زیرِ گنبدِ خَضْرا جَلْوَۂ مَحبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں شَہادَت، جنّتُ البقیع میں مَدْفَن اور جنتُ الفردوس میں اپنے مَدَنی حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس نصیب فرما۔یا اللہ پاک!مدینے کی خوشبو دار ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کا واسِطہ ہماری جائز مُرادوں پر رحمت کی نظرفرما۔
کہتے رہتے ہیں دعا کے واسطے بندے ترے
کردے پوری آرزو ہر بے کس ومجبور کی
(وسائلِ بخشش(مُرَمّم)،ص ۹۶)
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
شِعر کے بعد یہ آیتِ مُبارَک پڑھئے:
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)( پ 22، الاحزاب : 56)
سب دُرُود شریف پڑھ لیں تو پھر پڑھئے:
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰) وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱) وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲)( پ 23، اَلصّٰفّٰت :180 تا 182)
(آخر میں کلمہ پڑھ کر سنت پر عمل کی نیت سے منہ پر دونوں ہاتھ پھیر لیجئے)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
مرکزی مجلس شوریٰ کے مدنی مشوروں سے ماخوذ مدنی پھول
(1)…مسجددرس،دعوتِ اسلامی کا بنیادی اوراہم ترین مدنی کام ہے۔(مدنی مشورہ مرکزی مجلس شوری ،1تا5ذو القعدۃِ الحرام1436ھ بمطابق 17تا20اگست 2015ء)
(2)…کسی مسجد میں اگر درس کی اِجازَت نہیں ہے تو مسجد کے باہر درس بھی مسجددرس میں شُمار کیا جائے گا۔(مدنی مشورہ مرکزی مجلس شوری ، جمادی الاولیٰ1427ھ بمطابق 5تا 7 جون2006ء)
(3)…جو اُردو پڑھ سکتاہے وہ درْس دے سکتا ہے۔ (مدنی مشورہ مرکزی مجلس شوری،5 اور6شوال المکرم1429ھ بمطابق 5 اور6اکتوبر 2008ء)
مسجد درس سے متعلق احتیاطوں اور مفید معلومات پر مبنی سوال جواب شرعی احتیاطیں
سوال:کیا مائیک پر دَرْس دینے کی اِجازَت ہے؟
جواب:دَرْس کا اگرچہ طے شُدہ طریقہ تو یہی ہے کہ پردے میں پردہ کیے دوزانو بیٹھ کر درْس دیا جائے لیکن اگر سننے والے زیادہ ہوں تو کھڑے ہو کر یا مائیک پر دینے میں بھی حَرَج نہیں جبکہ نَمازیوں وغیرہ کو تشویش نہ ہو۔
سوال:ایسے وَقْت مَسْجِد میں آیا کہ جَمَاعَت ہو چکی ہو اور دَرْس جاری ہو تو کیا پہلے نَماز پڑھے یا دَرْس میں شِرکَت کرے؟
جواب:نماز کے وَقْت میں وُسْعَت ہو تو پہلے دَرْس میں شِرکَت کر لے بعد میں نَماز پڑھ لے ورنہ پہلے نَماز پڑھے۔
سوال:اگر کوئی دَرْس کے اِخْتِتام پر شَرْعِی مسئلہ پوچھے یا بحث کرے تو کیا کیا جائے؟
جواب:اگر کوئی شَرْعِی مسئلہ پوچھے توپختہ مَعْلُوم ہونے پر اِصْلَاح کا ساماں بنے ورنہ اپنی لاعلمی کا اِظْہَار کرتے ہوئے دارُ الافتا اَہْلِسُنّت میں رَابِطَہ کرنے کا مَشْوَرَہ دے اور اسی طرح اگر کوئی تنظیمی سوال کرے تو مَعْلُوم ہونے پر بتا دے ورنہ اپنے سے بڑے ذِمَّہ دار کی راہ دِکھلائے اور ہر صُورَت میں بحث مباحثے سے بچے۔
سوال:کیا مَسْجِد کے لئے وَقْف کِتاب پڑھنے کے لئے گھر وغیرہ لے جا سکتے ہیں؟
جواب:جوکتاب مَسْجِد کےلئے وَقْف ہے وہ مَسْجِد سے باہَر یعنی گھر وغیرہ لےجانا جائز نہیں۔
تنظیمی احتیاطیں
سوال:کیا تعویذات ِ عطاریہ کے بستے پر دیا جانے والا دَرْس مَسْجِد دَرْس شُمار ہو گا؟
جواب:تعویذاتِ عطاریہ کے بستے پر دیا جانے والا دَرْس مَسْجِد دَرْس نہیں بلکہ چوک دَرْس شُمار ہوتا ہے۔
سوال:کیا موبائل وغیرہ میں فیضانِ سنّت ڈاؤن لوڈ کر کے دَرْس دیا جا سکتا ہے؟
جواب:موبائل وغیرہ سے دَرْس و بیان کی ترکیب نہ کی جائے،بلکہ کتاب سے دیکھ کر ہی دَرْس دیا جائے کہ تنظیمی طور پر یہی طے شُدہ ہے۔
سوال:کیا حَالَتِ سَفَر میں بھی موبائل سے دیکھ کر دَرْس نہیں سکتے؟
جواب:جی نہیں! بلکہ ایسی حَالَت میں جیبی سائز رسائل اپنے پاس رکھے جائیں۔
سوال:مَسْجِد میں دَرْس دینےکی اجازت نہ ہو تو کیا کیا جائے؟
جواب:کسی مَسْجِد میں اگر دَرْس کی اِجازَت نہ ہو تو مَسْجِد کے باہَر دَرْس کی ترکیب بنا لیجئے کہ یہ بھی مَسْجِد دَرْس ہی شمار کیا جائے گا۔
سوال:مَسْجِد دَرْس کے لئے کتنا پڑھا لکھا ہونا ضَروری ہے؟
جواب:جو اُردو پڑھ سکتاہے وہ درْس دے سکتا ہے۔
مدنی درس سکھائیں اور دلوائیں
3:31 تا 03:40 (وقت 10 منٹ)
درس کا طریقہ صفحہ نمبر۔۔۔۔۔سے دیکھ لیجئے
فکرِ مدینہ مع لکھ کر گفتگو
03:41 تا 03:45 (وقت 5منٹ)
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 15پر عمل کرتے ہوئے فِکرِ مَدینہ کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔( اِنْ شَآءَ اللّٰہ )
دعائے عطار
یا اللہ !جو کوئی سچے دل سے مدنی انعامات پر عمل کرے، روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے رسالہ پُر کرے اور ہر مدنی ماہ کی پہلی تاریخ کو اپنے ذمہ دار کو جمع کروادیا کرے، اُس کو اِ س سے پہلے موت نہ دینا جب تک یہ کلمہ نہ پڑھ لے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تو ولی اپنا بنالے اُس کو ربِ لم یزل
مدنی انعامات پر کرتا ہے جو کوئی عمل
فکرِ مدینہ کا طریقہ
72مدنی انعامات (اسلامی بھائیوں کے لئے)
یومیہ 50مدنی انعامات
(1) اچھی اچھی نیتیں کیں؟(2)پانچوں نمازیں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعت اداکیں؟(3)ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی،تسبیح فاطمہ، سورۂ اخلاص پڑھی؟(4)اذان و اقامت کا جواب دیا؟(5) 313بار درودِپاک پڑھے؟ (6)مسلمانوں کو سلام کیا؟(7)آپ اور جی سے گفتگو کی؟(8)جائز بات کے ارادے پر اِنْ شَآءَاللہ کہا؟ (9)سلام اور چھینکنے والے کی حمد پر جواب دیا؟(10)دعوتِ اسلامی کی اصطلاحات استعمال کیں؟ (11) بھوک سے کم کھاتے ہوئے پیٹ کا قفلِ مدینہ لگایا؟(12)دو مدنی درس دئیے یاسنے؟(13)مدرسۃ المدینہ بالغان پڑھا ”یا“ پڑھایا؟ (14)12منٹ اصلاحی کتاب اورفیضانِ سنت سے ترتیب وار 4صفحات پڑھے یا سنے؟(15)فکرِ مدینہ کی؟ (16)صلوۃُ التوبہ ادا کی ؟(17)چٹائی پر سوئے،سرہانے سنت بکس رکھا؟(18)سنت قبلیہ اور فرضوں کے بعد والے نوافل ادا کئے؟(19)تہجد، اشراق و چاشت اور اوابین ادا کی؟ (20)تحیۃ الوضواور تحیۃ المسجد ادا کی؟ (21)کنز الایمان سے تین آیات مع ترجمہ وتفسیرتلاوت کی یاسنی ؟(22) دو پر انفرادی کوشش کی؟ (23)دو گھنٹے مدنی کاموں پر صرف کئے؟(24)اپنے نگران کی اطاعت کی؟(25) مانگ کر چیزیں استعمال تو نہیں کیں؟ (26)کسی سے برائی صادر ہو نے کی صورت میں اصلاح کی؟(27) قبلہ کی سمت رُخ کیا؟(28) غصے کا علاج کیا؟ (29)فضول سوالات تو نہیں کئے؟(30)نامحرم رشتے داروں/ نامحرم پڑوسنوں سے شرعی پردہ کیا؟ (31)فلمیں، ڈرامے، گانے باجے سے بچے؟(32)گھر میں مدنی ماحول بنانے کی کوشش کی؟(33)تہمت، گالی گلوچ سے بچے؟ (34)دوسرے کی بات تو نہیں کاٹی ؟ (35)صدائے مدینہ لگائی؟(36) آنکھوں کا قفل مدینہ لگاتے ہوئے نگاہیں نیچی رکھیں ؟(37)کسی اور کے گھروں کے اندر جھانکنے سے بچنے کی کوشش کی؟ (38)جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد، تکبر، وعدہ خلافی سے بچے؟ (39)دن کااکثر حصہ باوضو رہے؟ (40) مخاطب کے چہرے پر نگاہیں تو نہیں گاڑیں؟(41) وقت پر قرض ادا کیا؟(42)مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی؟ (43)یکساں تعلقات رکھے؟ (44)نماز اور دعا میں خشوع وخضوع پیدا کرنے کی کوشش کی؟(45)عاجزی کے ایسے الفاظ تو نہیں بولے جن کی تائید دل نہ کرے؟(46)زبان کا قفل مدینہ لگاتے ہوئے اشارے سے اور 4بارلکھ کر گفتگو کی؟ (47)ایک بیان یا مدنی مذاکرہ آڈیو ، ویڈیویا مدنی چینل 1گھنٹہ 12منٹ دیکھا؟(48)مذاق مسخری، طنز ، دل آزاری، قہقہہ لگانے سے بچے؟ (49)ضروری گفتگو کم سے کم الفاظ میں کی؟(50)معیوب لباس تو نہیں پہنا؟
وقْفۂ آرام
تمام اسلامی بھائی مَدَنی انعام پر عمل کرتے ہوئے سنت کے مطابق آرام فرمائیں اور سونے میں یہ احتیاط فرمائیں کہ پردے میں پردہ کئے دو اسلامی بھائیوں میں ایک ہاتھ کا فاصلہ رکھتے ہوئے ،بغیر ایک دوسرے سے باتیں کئے آرام فرمایئے۔
نماز عصرکی تیاری
اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 4پر عمل کرتے ہوئے اَذان و اِقامت کا جواب دینےکی سعادت حاصل کریں ۔
بعد نماز عصر مَدَنی مذاکرہ
( مَدَنی مذاکرہ شروع ہوتے ہی تمام جدول موقوف فرما کر مَدنی مذاکرہ میں سب شریک ہو جائیں )
آخری عشرہ کے اعتکاف میں مدنی مذاکرہ سنانے کے مدنی پھول
اعتکاف کے آخری عشرہ میں مسجد میں آڈیو مدنی مذاکرہ چلاتے وقت چند باتوں کا خیال رکھا جائے۔ جو مجلس مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھے وہ مدنی مذاکرہ دکھا سکتی ہے۔جس موبائل سے آڈیو مدنی مذاکرہ چلا رہے ہیں اس موبائل فون کی ٹیون نہ بجےکسی قسم کا کوئی اشتہار نہ چلےکسی قسم کا میوزک یا عورت کی آواز نہ آئےایسی جگہ مدنی مذاکرہ سنوایا جائے جہاں نمازیوں کو تشویش نہ ہومدنی مذاکرہ دیکھنے والے معتکفین کو روزانہ مدنی چینل پر مدنی مذاکرہ میں لائیو دکھانے کی ترکیب کی جائے۔
آخری عشرہ کے اعتکاف میں مدنی مذاکرہ دکھانے کا سامان
مدنی چینل ریڈیو ایپساؤنڈساؤنڈ اور موبائل کے ساتھ اٹیچ ہونے والی تارساؤنڈ اگر نہ ہو تو چھوٹا اسپیکر بھی چل سکتا ہےپانی کا انتظاممدنی عطیات بکس ہفتہ وار رسائل کا بستہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع