30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افطار اجتماع
تلاوت، نعت کے بعد
سنتوں بھرا بیان (وقت 25منٹ)
مسجد کے آ داب
ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ط وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
درود شریف کی فضیلت
حضرت سیدنا ابوامامہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ سرورِ دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن مجھ پر درو د پاک کی کثرت کیا کرو کیونکہ میری امت کا درود ہر جمعہ کے دن مجھ پر پیش کیاجا تاہے، (قیامت کے دن) لوگوں میں سے میرے زیادہ قریب وہی شخص ہوگا جس نے (دنیا میں) مجھ پر کثرت سے درود پڑھا ہوگا۔( سنن کبری ، کتاب الجمعة ، باب مایومر به فی لیلة الجمعة ... الخ ،۳/۳۵۴، حدیث :۵۹۹۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
امامِ اہلسُنَّت اور ادبِ مسجد
رمضان کابابرکت مہینا تھااورسرزمینِ ہند کے تاریخی شہربریلی شریف میں مُوسلا دھار بارش برس رہی تھی،اُوپر سے ایسی سَخْت سردی تھی کہ لوگ اُونی کپڑے پہنے لحافوں میں دَبکے ہوئے تھے، مگر امامِ اہلسُنَّت، مُجدِّدِ دین و مِلّت امام احمدرضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فیضانِ رمضان سے فیضیاب ہونے کیلئے مسجد میں مُعْتَکِفْ تھے،ہرلمحہ یادِ خدا وذِکْرِ مصطفے ٰ میں گُزر رہا تھا۔ لوگ مغرب کی نماز پڑھ کرجاچکے تھےاوراب گھڑی کی سُوئی عشاء کا وَقْت قریب ہونے کی خبر دے رہی تھی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کونمازِعشاء کے لئے وُضو کی فکر ہوئی! مگروہاں بارش کے ٹھنڈے پانی سے بچ کروُضُو کرنے کی کوئی جگہ مُیَسَّر نہیں تھی۔مسجد میں کرتے ہیں تو فرشِ مسجدمستعمل پانی سے آلودہ ہوتا ہے اور باہر جانہیں سکتے! کریں تو کیا کریں ! مگر جسے اللہ تعالیٰ اپنے دِیْن کے لئے چُن لیتا ہے اُسے فَہْم وفراست سے بھی نواز دیتا ہے۔ چنانچہ پیکرِ خوف وخَشیّت، امام اہلسُنَّت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اس مسئلہ کا ایسا خوبصورت حل نکالاجسے دیکھ کر ہر مسجد کاادب کرنے والا اَش اَش کراُٹھےگاکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اپنے اَوڑھنے کے لحاف کو تہہ کرکے موٹا کیا اور اسی پر بیٹھ کر وضو کرلیااور پُوری رات ٹھٹھر ٹھٹھر کر جاگتے ہوئے گزار دی لیکن وضو کے پانی کا ایک قطرہ بھی مسجد کے فرش پر نہ گِرنے دیا۔ (فیضان اعلیٰ حضرت،باب عادات مبارکہ ومعمولات،ص۱۲۱ بتغیر)
مسجد کی بے اَدبی کی مختلف صُورتیں
اے عاشقان رسول! بیان کردہ واقعے سے اندازہ لگایئے کہ اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسُنَّت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے دل میں مسجد کے ادب واحترام کا کیسا جذبہ تھا کہ بارش اور سخت سردی کی رات میں خُود تو تکلیف اُٹھالی مگرمسجد میں پانی کا ایک قطرہ بھی گِرنے نہیں دیا۔مگرافسوس!ہمارے مُعاشرے میں بہت بڑی تعدادایسی ہے جو مسجد کے آداب سے نا آشنا ہے۔ عُموماً لوگ وُضو کرنے کے بعدمسجد کی دَریوں اورفرش پر گیلے پیروں کے نشانات بناتے نیز ہاتھوں اورچہرے سے پانی کے قطرے ٹپکاتے چلے جاتے ہیں۔یاد رکھئے! اَعضائے وُضُوسے پانی کے قطرے فرشِ مسجِدپرگرانا ناجائز وگُناہ ہے۔(بہار شریعت،۱/۶۴۷)اسی طرح رَمَضانُ المُبارک میں اِعْتکاف کرنے والے بعض اَفْراد بھی مسجد کے اِحْتِرام کو پَسِ پُشت ڈال کر خُوب گپیں ہانکتے، قہقہے مارتے ،پان ،گٹکے چَباتے اور پھر مسجد کے کسی کونےمیں تُھوکتے نظر آتے ہیں ،کبھی مسجد کی دَریوں کے دھاگے نوچتے ہیں۔اس طرح کرنے سے مسجد کا تَقَدُّس پامال ہوتا ہے مسجد کی صفائی سُتھرائی رکھنے کا تو خُود ربِّ کریم حکم ارشاد فرمارہاہے، چُنانچہ پارہ 1، سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آیت نمبر 125 میں اِرْشاد ہوتاہے:
وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)( پ 1، البقرة :125)
ترجمۂ کنز الایمان : اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے۔
حکیمُ الاُمَّت مُفْتی احمد یارخان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ مسجدوں کو پاک وصاف رکھا جائے۔ وہاں گندگی اور بدبُو دار چیز نہ لائی جائے۔ (تفسیر نور العرفان،ص۲۹)
مسجدوں کا کچھ ادب ہائے! نہ مجھ سے ہوسکا از طفیلِ مُصطفٰے فرما اِلٰہی درگزر
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! یقیناً یہ ہم سب کی ذِمّہ داری ہے کہ حکمِ قرآنی پرعمل کرتے ہوئے مسجدوں کو ہر طرح کی گندگی اور بدبُودار چیزوں سے بچا کر صاف سُتھرا رکھیں۔ اَحادیثِ مُبارَکہ میں بھی ہمیں اسی بات کا حکم ملتا ہے۔جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ حُضُورنبی رَحْمت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے اِرْشاد فرمایا: بیشک ان مسجدوں میں گندگی، پیشاب اور پاخانہ جیسی کوئی چیز جائز نہیں۔ یہ مسجدیں تو تلاوتِ قرآن، اللہ پاک کے ذِکْر اور نماز کے لئے ہیں۔( مسند اما م احمد ، مسند انس بن مالک رضی الله عنه ،۴/۳۸۱، حدیث :۱۲۹۸۳)
ایک اورمقام پراِرْشادفرمایا :مسجدیں بناؤاوران میں سے گردوغُبارنکال دیا کرو کہ جو اللہ کریم کی رِضا کے لئے مسجد بنائے گا، ربِّ کریم اس کے لئے جَنَّت میں ایک گھر بنائے گا ۔ ایک شخص نے عرض کی: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا مسجدیں گُزر گاہوں پر بنائی جائیں؟ اِرْشاد فرمایا: ہاں! اوران میں سے گرد وغُبار صاف کرنا حُورِعین کا مہر ہے۔ ( مجمع الزوائد ، کتاب الصلوة ، باب بناء المسجد ،۲/۱۱۳، حدیث :۱۹۴۹)
معلوم ہوا کہ مسجد کی صَفائی کرنا بہت ہی عظیمُ الشَّان اور فضیلت والا کام ہے۔ آیئے! اس ضمن میں ایک روایت سُنتے ہیں ۔
مسجد کی صفائی پر انوکھا انعام
حضرت سیِّدُنا عُبَید بن مَرزُوق رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ مدینہ شریف میں ایک عورت مسجد کی صَفائی کیا کرتی تھی۔جب اس کا اِنتقال ہوا توآپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس کے بارے میں خبرنہ دی گئی۔ایک مَرتَبہ حُضُور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی قَبْر کے قریب سے گُزرے تودریافت فرمایا:یہ کس کی قبر ہے؟ توصحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم نے عرض کی: اُمِّ مِحْجَنْ کی۔فرمایا:وہی جومَسجد کی صَفائی کیا کرتی تھی؟ صحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم نے عرض کی:جی ہاں۔ تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لوگوں کواس کی قَبْر پرصَف بنانے کا حکم دیا اور اُس کی نَمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر اس عورت کومُخاطَب کرکے فرمایا: تُو نے کون ساکام سب سے افضل پایا ؟ صحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم نےعرض کی: یَارَسُوْلَ اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )!کیایہ سُن رہی ہے؟ ارشاد فرمایا: تم اس سے زِیادہ سُننے والے نہیں ہو۔پھر رسول ِاکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ”اس (عورت) نے میرے سوال کے جواب میں کہا: مسجدکی صَفائی کو(میں نے سب سےاَفْضل عمل پایا)۔“( الترغیب والترھیب ، کتاب الصلوة ، الترغیب فی تنظیف المساجد وتطھیرھا ... الخ ،۱/۱۲۲، حدیث :۴)
اے عاشقان رسول!دیکھا آپ نے کہ مسجد سے مَحَبَّت کرنا اوراس کی صفائی ستھرائی میں حصّہ لینا کیسا پیارا عمل ہے کہ اس کی برکت سے اس عورت کی نمازِجنازہ، ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی پڑھائی۔ اس واقعے کوسننے کے بعد تین باتوں کی ضروری وضاحت بھی سن لیجئے ۔
فی زمانہ عورت کا مسجد میں جانا کیسا؟
پہلے زمانے میں عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت تھی لیکن بعد میں فتنے کے پیشِ نظر عورتوں کو مسجد کی حاضری سے روک دیا گیا ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:’’اب زمانہ خراب ہے عورتیں مسجدوں میں نہ آئیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورتیں سینماؤں،بازاروں،کھیل تماشوں میں جائیں،صرف مسجد میں نہ جائیں (بلکہ مطلب یہ ہے کہ )گھروں میں رہیں،بلاضرورتِ شرعیہ گھر سے باہر نہ نکلیں۔(مرآۃ المناجیح،۱/۳۳۳)
آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاقبر والی سے گفتگو کرنااور اُس کا قبرسے جواب دینا
اس مبارک واقعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ پاک نےہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ جب چاہیں اور جس مُردے سے چاہیں بات کرسکتے ہیں نیزیہ بھی معلوم ہوا کہ مُردے بھی مخلوق کی بات سُننے اورسمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ مُفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:زندگی میں لوگوں کی سننے کی طاقت مختلف ہوتی ہے بعض قریب سے سنتے ہیں جیسے عام لوگ اور بعض دُور سے بھی سُن لیتے ہیں جیسے پیغمبر اور اَولیا۔ مرنے کے بعد یہ طاقت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں،لہٰذا عام مُردو ں کو ان کے قبرستان میں جاکرپُکار سکتے ہیں دُور سے نہیں لیکن انبیاواَولیا عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دُور سے بھی پُکارسکتے ہیں کیونکہ وہ جب زندگی میں دُور سے سُنتے تھے تو بعدوفات بھی سُنیں گے۔ (علم القرآن ،ص۲۰۸)
تدفین کے بعد قبر پرنمازِ جنارہ پڑھنا
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ولیِ اَقْرَب یعنی میت کا سب سےقریبی رشتہ دار اگر نمازِ جنازہ نہ پڑھ سكے تو اُسے قبر پر جنازہ پڑھنے کا اِخْتیار ہے۔ جیسا کہ بہارِ شریعت جلد اول صفحہ 838 پر ہے کہ ولی کے سوا کسی ایسے نے نمازِ(جنازہ)پڑھائی جو ولی پرمُقدم (افضل)نہ ہو اورولی نے اُسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اِعادہ کر سکتا ہے اور اگر مُردہ دفن ہوگیا ہے تو قبر پر (بھی)نماز(جنازہ) پڑھ سکتا ہے۔ اور ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے زمانَۂ اقدس میں تمام مسلمانوں کے ولیِ اقرب ہیں چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں: زمانَۂ اقدسِ حُضُور سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم میں تمام مسلمین کے ولیِ اَحَق واَقْدَم (سب سے بڑے مالک )خُودحُضُورپُرنور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں۔(خود) رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِرْشادفرماتے ہیں: اَنَااَولٰی بِالْمُؤمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِم یعنی میں مُسَلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہوں۔ ( مسلم ، کتاب الفرائض ، باب ترک مالًا فلو رثته ، ص ۸۷۴، حدیث :۱۶۱۹)
تو جونمازِجنازہ حُضُور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِطلاع دئیے بغیر اور لوگ پڑھ لیں پھر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس پر اعادہ فرمائیں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے نمازِ اَوّل(پہلی نمازِجنازہ)ولی کے علاوہ کسی غیر نے پڑھائی۔ولیِ اَحَق اختیارِ اِعادہ (یعنی دوبارہ پڑھنے کا اختیار)رکھتاہے۔(فتاویٰ رضویہ،۹/۲۹۱،ملخصاً) اسی لیےسرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےاُمِّ محجن رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی قبرپر تشریف لے جاکرنمازِ جنازہ اَدا فرمائی اورجب ان سے افضل عمل کے بارے میں پُوچھا تو اُنہوں نے مسجد کی صفائی کوافضل عمل بتایا۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی مسجدوں کو پاک وصاف رکھنا چاہیے کہ مسجد کی صَفائی کرنے والا اللہ پاک کامحبوب ہوتاہے، حدیثِ پاک میں ہے :’’ مَنْ اَلِفَ الْمَسْجِدَ اَ لِفَهُ اللهُ یعنی جو مسجد سے مَحَبَّت کرتا ہے، اللہ پاک اسے اپنا محبوب بنا لیتاہے ۔‘‘ ( مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوة ، باب لزوم المساجد ،۲/۱۳۵، حدیث :۲۰۳۱)
مسجدکی صفائی کرنے والےاور اس میں رہ کر اللہ پاک کی عِبادت ورِیاضت کرنے والے بڑے ہی خُوش نصیب ہیں ۔یقیناً مسجد اللہ پاک کی بہت ہی پیاری نعمت اور شیطان کے حملوں سے بچنے کیلئے بہت زَبَردَسْت رُکاوٹ ہے جیساکہ حضرت سیِّدُناعبدُا لرّ حمٰن بن مَعْقِل رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں: ہم سے بیان کیا جاتا تھا کہ اَلْمَسْجِدُ حِصْنٌ حَصِینٌ مِّنَ الشَّیْطٰن یعنی مسجد شیطان سے بچنے کے لیے ایک مضبوط قَلعہ (قَل۔عَہ) ہے۔( مصنف ابن ابی شیبه ، کتاب الزھد ، ماجاء فی لزوم المساجد ،۱۹/۱۸۸، حدیث :۲۵۷۵۶)
مسجِد کی حیرت انگیز رَونقیں
مگرافسوس صَدکروڑافسوس !فی زَمانہ شیطان کے شَرسے بچنے کے لئے مَساجد میں عِبادت وتلاوت کرنے والے بہت کم رہ گئے ہیں،بلکہ اب تو مَعَاذَ اللہ مسلمانوں کی حالت اس قَدَر اَبتَر(یعنی بُری)ہوتی جا رہی ہےکہ نماز کے اَوْقات میں مسجدیں ویران نظرآتی ہیں،جبکہ چوک ،بازار،سنیما گھراورتَفْرِیْحی مَقامات پرجَمِ غَفیر(یعنی بہت رَش) دکھائی دیتا ہے۔مُؤذِّن دن میں پانچ مرتبہ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ (آؤ فلاح کی طرف)کی صَدالگاکر مسجد میں آنے کی دعوت دیتا ہے،مگر بدقسمتی سے ہم اس حاضری سے محروم رہتے ہیں۔لہٰذا مسجدوں کی ویرانی پرخُوب دل جَلایئے،امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ اسلامی بھائیوں کے72مدنی انعامات میں سے مدنی انعام نمبر 2پر عمل کی اچھی نیّت سے اپنے گھر والوں، پڑوسیوں اور رِشتہ داروں کونمازکی ترغیب دِلاکرمسجدمیں لائیے، زورو شور سے’’مسجد بھروتحریک‘‘ چلایئے اور ایک ایک بے نمازی پراِنْفرادی کوشش کر کے اسے نمازی بنایئے
اور یُوں اپنی مَساجد کا تَحَفُّظ بھی فرمایئے کہ جومکان اپنے مکینوں ( یعنی رہنے والوں)سےآباد ہو،اس پر کوئی قبضہ نہیں جَما سکتا، ورنہ خالی مکان پر کوئی بھی قابِض ہو سکتا ہے ۔مدنی انعام نمبر 2کیا ہے؟آئیے اس کو بھی توجہ سے سُنتے ہیں:”کیا آج آپ نے پانچوں نمازیں مسجد کی پہلی صف میں تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ باجماعت ادا فرمائیں؟نیز ہر بار کسی ایک کو اپنے ساتھ مسجد لے جانے کی کوشش فرمائی؟“ اس مدنی انعام پر عمل کی برکت سے خود بھی پہلی صف میں تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ نمازِ باجماعت ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوگی نیزدُوسروں کوبھی نماز کی دعوت دے کر ثواب کا کثیرخزانہ اکٹھا کرنے کا موقع ملے گا۔ اِنْ شَآءَاللہ
اے عاشقان رسول! اُس مُبارک دَور کوبھی یاد کیجئے کہ جب رات دن مسجِدیں آباد ہوا کرتی تھیں اور نمازیوں کی چہل پہل رہا کرتی تھی، چُنانچِہ حُجَّۃ الْاسلام حضرت سیِّدُنا امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ’’نیک لوگ فکرِ آخرت کی وجہ سے مسجِدوں میں پڑے رہتے تھے تا کہ جتنا زِیادہ ہو سکے، اِس مختصر ترین زندگی کی مہلت سے فائدہ اُٹھا کر آخِرت کی اَبَدی (یعنی ہمیشگی والی)نعمتیں جمع کر لیں۔عبادت کرنے والوں کی کثرت کے سبب مسجِد کے باہَر لڑکے وغیرہ اَشیائے خُوردونَوش(یعنی کھانے پینے کی چیزیں) فَروخت کرتے،یُوں کھانے پینے کی اَشیاءبھی عبادت گُزاروں کوبآسانی دستیاب ہوجاتیں۔‘‘( کیمیائے سعادت ، رکن دوم معاملاتست ، باب پنجم در شفقت بردن در دین ... الخ ، احتیاط سیم ،۱/۳۳۹)
سُبْحٰنَ اللہ ! وہ کیسا پاکیزہ دَور تھا کہ مسجِدوں میں رات دن رَونق ہوتی تھی اور آہ! آج تو مَساجِد کی وِیرانی دیکھ کر کلیجہ مُنہ کو آتا ہے۔ اے موت کا یقین رکھنے والے اسلامی بھائیو!جس سے بن پڑے وہ کَسبِ حَلال اور والِدین و اَولاد وغیرہ کی دیکھ بھال نیز دیگر حُقُوقُ العِباد کی بجا آوری کے بعدجو وَقْت فارِغ بچے،اُسے ضَرور ذِکرو دُرُود،فکرِ آخِرت اور اچّھی صُحبت میں گُزارنے کی کوشِش کرے۔
ہوجائیں مَولا مسجدیں آباد سب کی سب
سب کو نمازی دے بنا یا رَبِّ مُصطفٰے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
حضرت سَیِّدُنا ابُو سَعید خُدْرِی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب تم کسی مسجد میں کثرت سے آمدورَفْت رکھنے والے کو دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو، کیونکہ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ( پ 10، التوبة :18)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ کی مسجدیں وُہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پرایما ن لاتے (ہیں)۔
( ترمذی ، کتا ب الایمان ، با ب ماجا ء فی حرمة الصلوۃ ،۴/۲۸۰، حدیث :۲۶۲۶)
مشہور مفسرِ قرآن،حکیمُ الامَّت مُفتی احمدیارخان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ’’تفسیرِنعیمی‘‘میں فرماتے ہیں:’’خیال رہے کہ مسجدآبادکرنےکی گیارہ(11)صُورتیں ہیں:(۱)مسجدتعمیرکرنا(۲)اس میں اضافہ کرنا (۳)اسے وسیع کرنا (۴)اس کی مَرَمَّت کرنا(۵)اس میں چَٹایاں،فرش وفروش بچھانا(۶)اس کی قَلْعی چُوناکرنا (۷)اس میں روشنی وزِینت کرنا(۸)اس میں نمازوتلاوتِ قرآن کرنا(۹)اس میں دِینی مَدارس قائم کرنا (۱۰)وہاں داخل ہونا، وہاں اکثرجانا،آنا،رہنا(۱۱)وہاں اَذان وتکبیرکہنا،اِمامت کرنا۔‘‘ (تفسیرنعیمی،۱۰/۱۹۵)
مزیدفرماتےہیں:’’مسجدبنانےیااسے آبادکرنےیاوہاں باجماعت نمازاَدا کرنے کاشو ق صحیح مُومن کی علامت ہے، اِنْ شَآءَاللہ ایسے لوگوں کاخاتمہ ایمان پرہو گا۔‘‘(تفسیر نعیمی،۱۰/۲۰۴)
مسلماں ہے عطاؔر تیری عطا سے
ہو ایمان پر خاتمہ یا اِلٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
مَساجد کی آبادکاری اور دعوتِ اسلامی
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!مسجدوں میں رہ کر نمازِباجماعت اَدا کرنا ، ذِکْرُاللہ اور عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے کے ذریعے انہیں آباد رکھنا، مومن کی علامت ہے ۔ہمیں بھی اپنا قیمتی وَقْت فُضُولیات میں برباد کرنے کے بجائےزِیادہ سے زِیادہ مسجدمیں گُزارناچاہیے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ تبلیغِ قرآن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی نے ہمیں ایسے کئی مَواقع فَراہم کردئیے ہیں، جن کے ذریعے ہم اپناکثیر وَقْت مسجد میں گزار سکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ عِلْمِ دِین کا ڈھیروں خزانہ بھی حاصل کرسکتے ہیں مثلاً
پورے ماہِ رَمَضانُ الْمُبارَک یاآخری عشرے میں تربیتی اِجتماعی اِعْتکاف کی ترکیب ہوتی ہے۔ جس میں ہزارہا اسلامی بھائیوں کو فرض عُلُوم سکھائے جاتے اور سُنَّتوں کے مُطابِق مدنی تَربیت کی جاتی ہے۔
مدنی قافلوں کے مُسافر اسلامی بھائی بھی مسجدوں میں قیام کرتے ہیں، یُوں انہیں اپنااکثر وقت مسجد میں گُزارنے اور عِلْمِ دِیْن حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
بعدِ فجر مدنی حلقے کی ترکیب ہوتی ہے، جس میں کم از کم تین (3)آیات، ترجمَۂ کنزالایمان وتفسیرخزائن العرفان/تفسیرنورالعرفان/تفسیرصراط الجنان کے ساتھ سُنائی جاتی ہیں۔
مختلف نمازوں کے بعد مدنی درس یعنی امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتب و رسائل کے ذریعے عِلْمِ دِین کے مدنی پُھول لُٹائے جاتے ہیں۔
دعوتِ اسلامی کے بعض مدنی مراکز(فیضانِ مدینہ) میں دار السنۃ ‘‘مَوْجُود ہیں ،بنیادی ضروریاتِ دِین ، نماز کا عملی طریقہ،مختلف موضوعات پر سُنّتیں وآداب سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رہتا ہے۔آپ بھی مَساجد آباد کرنے اور عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے کے لئے اس عَظِیْم کام میں شامل ہوکر رحمتِ خُداوَنْدی کے حقدار بن جائیے ۔
مدرسۃ المدینہ بالغان کے ذریعے دُرست مخارج کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھناسکھایاجاتا ہے،اس کی برکت سے بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مسجدیں آباد رہتی ہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ وقتاً فوقتاً مختلف کورسز(مثلاً63روزہ مدنی تربیتی کورس،41روزہ مدنی انعامات ومدنی قافلہ کورس، کردار ساز 12روزہ مدنی کورس)اورمختلف مواقع پرہونے والے مدنی مشوروں اورتربیتی اجتماعات کے ذریعے کثیر عاشقانِ رسول مسجدوں کوآبادرکھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
رِسالہ مساجد کے آداب کا تعارف
اے عاشقان رسول! مساجد کے آداب کے عنوان سے متعلق ایک عظیمُ الشّان معلوماتی رِسالہ بنام ’’مساجد کے آداب‘‘مکتبۃ المدینہ سے شائع ہو چکا ہے،یہ رِسالہ شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مدنی مذاکرے کی روشنی میں نئے مواد کے کافی اِضافے کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے،یہ رِسالہ مختلف سوالات پربہت ہی پیارے اوراَحْسن انداز میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی طرف سے دِیے گئے جوابات کااَنمول مدنی گلدستہ ہے، اس مدنی گلدستے کے رنگ برنگے مدنی پھول مختلف خوشبوئیں بکھیر رہے ہیں،اس رِسالے میں دِیے گئے سوالات کی چند جھلکیاں سُنتے ہیں تاکہ اِس عظیمُ الشّان رِسالے کوحاصل کرنے،خود بھی مطالعہ کرنے اوردُوسروں تک بھی پہنچانے کا مدنی ذہن بنے۔ مثلاًمسجِدمیں بعض لوگ کھڑے ہوکر اپنی مجبوری اور بیماری وغیرہ کابیان کرکے مدد کی اَپیل کرتے ہیں اگر وہ واقعی حقدار ہوں ،توکیا اُنہیں کچھ دے سکتے ہیں یانہیں؟کیا مسجد میں،مسجد ،مدرسے یا کسی حاجت مند مسلمان کے لیے بھی چندہ نہیں کرسکتے ؟چھوٹے چھوٹے بچے جو مسجِد میں دَنْدَناتے اور شور مچاتے پِھر رہے ہوتے ہیں،ان کا جُرم کس پرہے؟ائیرفریشنر(Air Freshner) کے ذریعے خوشبو کا چھڑکاؤSpray)) عام ہوتا جارہا ہے،اس میں کوئی نقصان تونہیں؟کمرے کو خُوشبو دار کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں اِستقامت کیسے حاصل ہوسکتی ہے؟ جو اسلامی بھائی روٹھ کر دعوتِ اسلامی کامدنی کام چھوڑ بیٹھے ہوں انہیں کیسے قریب کیا جائے؟
مسجد کے آداب کا خیال رکھئے
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کے گھروں کوآبادرکھنااوران سےمَحَبَّت کرنا بڑی سَعادت کی بات ہے، لیکن مَساجِد کے آداب کا خیال رکھنا اور اسے ہر طرح کی ناپسندیدہ اور بدبُودار چیزوں سے بچانابھی انتہائی ضروری ہے،چنانچہ
مسجِد میں کچّا گوشت نہ لے جائیں
صَدرُالشَّریعہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: مسجِد میں کچّا لہسن اور کچی پیاز کھانا یا کھا کر جانا جائز نہیں، جب تک کہ بُو باقی ہو اور یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے ، جس میں بُو ہو ،جیسے گِندَنا( یہ لہسن سے ملتی جُلتی ترکاری ہے) مُولی ، کچا گوشْتْ اورمِٹّی کا تیل ،وہ دِیا سَلائی جس کے رگڑنے میں بُو اُڑتی ہو، رِیاح خارِج کرنا وغیرہ وغیرہ۔ جس کو گندہ دَہنی کا عارِضہ ( یعنی منہ سے بد بو آنے کی بیماری)یا کوئی بد بودار زَخم ہو یا کوئی بد بودار دوا لگائی ہو تو جب تک بُو مُنقَطِع( یعنی ختم) نہ ہو، اُس کو مسجِد میں آنے کی مُمانَعت ہے۔ (بہار شریعت،۱/۶۴۸)
مُنہ میں بد بُو ہو تو مسجِد میں جانا حرام ہے
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ مُنہ میں بدبو ہونےکی صورت میں جب تک بُو ختم نہ ہوجائے مسجد میں جانا منع ہے ۔ امیرِ اَہلسُنَّت،بانیِ دعوتِ اسلامی محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس بارے میں مدنی پُھول ارشاد فرماتے ہیں :بھوک سے کم کھانے کی عادت بنایئے، یعنی ابھی خواہش باقی ہوکہ ہاتھ روک لیجئے۔ اگر خوب ڈٹ کر کھاتے رہے اور وَقت بے وَقت سیخ کباب، برگر ، آلو چھولے، پِزے،آئسکریم ، ٹھنڈی بوتلیں وغیرہ پیٹ میں پہنچاتے رہے ، پیٹ خراب ہو گیا اور خدا ناخواستہ’’ گندہ دَ ہنی‘‘یعنی مُنہ سے بدبوآنے کی بیماری لگ گئی تو سخت امتحان ہو جائے گا، کیونکہ مُنہ سے بدبو آتی ہو تو مسجِد کا داخِلہ حرام ہے ،یہاں تک کہ جس وَقت مُنہ سے بدبو آ رہی ہو، اُس وَقت باجماعت نَماز پڑھنے کے لئے بھی مسجِد میں آنا گناہ ہے۔ چُونکہ فکرِ آخِرت کی کمی کے باعِث لوگوں کی بھاری اکثَریت میں کھانے کی حرص زیادہ اورآج کل ہر طَرف ’’ فُوڈ کلچر ‘‘ کا دَور دَورہ ہے، اِس وجہ سے ایک تعداد ہے جن کے مُنہ سے بدبُو آتی ہے۔ اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ سادہ غذا اور وہ بھی بھو ک سے کم کھائے اور ہاضِمہ دُرُست رکھے ۔نیز جب بھی کھاچکے،خِلال کرنے اور خوب اچّھی طرح کلّیاں وغیرہ کر کے مُنہ صاف رکھنے کی عادت بنائے،ورنہ غذا کے اَجزا دانتوں کے خَلا(Gape) میں رہ جاتے، سڑتے اوربد بُو لاتے ہیں۔ صِرف مُنہ کی بدبو ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی بد بُو سے مسجِد کو بچانا واجب ہے۔
لہٰذا ہمیں مسجد کے آداب کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئےصاف ستھرا لباس پہن کر،خوشبو لگاکر مسجد میں حاضر ہونا چاہیے۔ذراغور کیجئے!اگر ہمیں حکمرانوں، وزیروں ،افسروں یا کسی بڑے آدمی کے پاس جاناہوتوصاف ستھرالباس پہنتے،عِمامہ،چادروغیرہ درست کرتے اورخوشبولگاتے ہیں، مگرمسجد میں جانے کے لئے ایسا اہتمام نہیں کرتے،حالانکہ اللہ پاک توتمام بادشاہوں کابادشاہ ہے،اس کی شان وعظمت تو سب سے بلند وبالاہے۔
سیّدنا امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہکا قیمتی عمامہ و لباس
مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 517 صفحات پرمشتمل کتاب ’’عمامہ کے فضائل ‘‘ صفحہ 184پر ہے کہ حضرت سیّدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے رات کی نماز کے لیے ایک قیمتی لباس سلوا رکھا تھا جس میں قمیص ، عمامہ، چادر اور شلوار تھی اس کی قیمت پندرہ سو درہم تھی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ اسے روزانہ رات کے وقت زیبِ تن فرماتے اور ارشاد فرماتے: اَلتَّزَیُّنُ لِلّٰہِ تَعَالٰی اَوْلٰی مِنَ التَّزَیُّنِ لِلنَّاسِ یعنی اللہ پاک کے لیے زینت اختیار کرنا لوگوں کے لیے زینت اختیار کرنے سے بہتر ہے۔( تفسیرروح البیان ، پ ۸، الاعراف ، تحت الآية :۳۱ ،۳/۱۵۴)
مسجِد کی حاضِری کیلئے زِینت اختیارکرنے کا توخود اللہ پاک نے حکم ارشادفرمایا ہے:چنانچہ پارہ 8 سُوْرَۃُ الْاَعْراف آیت نمبر 31میں ارشاد ہوتا ہے:
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ( پ 8، الاعراف :31)
ترجمۂ کنز الایمان :اے آدم کی اَوْلاد اپنی زِیْنت لو جب مسجد میں جاؤ۔
نَماز کے لئے عطر لگانا مستحب ہے
صدرُ الْافاضِل سیِّدمحمد نعیم الدّین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اِس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں:یعنی لباسِ زینت اور ایک قول یہ ہے کہ کنگھی کرنا،خوشبو لگانا داخلِ زینت ہے اور سنّت یہ ہے کہ آدَمی بہتر ہیئت (یعنی عمدہ صورت و حالت)کے ساتھ نَماز کے لئے حاضِر ہو، کیونکہ نَماز میں ربّ کریم سے مُناجات ہے تو اس کے لئے زِینت کرناعطر لگانا مُستَحب ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان، ص۲۹۱)
مسجد میں باتوں کی بدبُو!
اے عاشقان رسول! ہوسکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ میں تو پانچوں وَقْت پاک صاف ہوکر خُوشبو لگاکر مسجد میں جاتا ہوں اور مسجد کی اَشْیاء وغیرہ بھی خراب نہیں کرتا ، تواس طرح میں بدبو پھیلا کر مسجد کی بے ادبی سے بچ جاتاہوں تو جواباً عرض ہے ضروری نہیں کہ ظاہری چیزوں سے ہی مسجد میں بدبُوپھیلتی ہو، بلکہ آج ہماری اکثریت ایسے مَرَض میں مبُتلا ہے جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا اور ہم مسجدیں ’’بدبُودار‘‘کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ ایک روایت میں ہے ’’ جو لوگ غیبت کرتے اورمسجِد میں دُنیا کی باتیں کرتے ہیں، ان کے منہ سے وہ گندی بدبُونکلتی ہے، جس سے فِرِشتے اللہ پاک کے حُضُور ان کی شکایت کرتے ہیں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ،۱۶/۳۱۲)
اس روایت کی روشنی میں ہم اپنا اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیں کہ کیا ہمارے ذہن کے کسی گوشہ میں کبھی یہ بات آئی کہ مسجد میں غیبت کرنا،مسجد میں دُنیا کی باتیں کرنا بھی منہ سے گندی بدبُو کے نکلنے کاسبب ہے؟کیا کبھی اس بات کی طرف بھی ہمارادھیان گیا کہ ہمیں مسجد میں فضول گوئی نہیں کرنی چاہیے؟یادرکھئے!مساجد کی تعمیرکا مقصد اس میں دنیاوی باتیں کرنانہیں، بلکہ یادِ الٰہی میں مشغول رہنا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:جس نے اللہ كریم کے داعی(یعنی دعوت دینے والے) کی آواز پر لبیک کہا اور اللہ کریم کی مسجدیں اچھے طور پر تعمیر کیں،تو اس کے عِوَض اللہ پاک کے یہاں جنّت ہے۔عرض کی گئی: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مسجدوں کی اچھی تعمیرکیا ہے؟فرمایا:اس میں آواز بلند نہ کرنا اور کوئی بیہودہ بات زبان سے نہ نکالنا۔ ( کنزالعمال ، کتاب الصلاة من قسم الاقوال ، الفصل الثالث فی فضائل المسجد ... الخ ،۴/۲۷۳، حدیث :۲۰۸۳۷، الجزء السابع )ہمارے اَسلاف مسجد کے آداب کابڑا خیال رکھتے اور مسجد میں دُنیوی باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے ۔
بے ادبوں کو مسجد سے نکال دیا
حضرت سَیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام اُن لوگوں کو مساجد میں زیادہ بیٹھنے سے منع کرتے تھے جو مساجد کے آداب نہیں جانتے تھے۔ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے مسجد میں کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا، جو فضول باتیں کررہے تھے۔تو اپنی چادر لپیٹ کر ان کو مارا اور وہاں سے نکال دیا اور فرمایا: تم نے اللہ پاک کے گھروں کو دنیا کے بازار بنا رکھا ہے، حالانکہ یہ تو آخرت کے بازار ہیں۔( تنبیه المغترین ، الباب الثالث ، ص ۱۶۲)
حضرت سَیِّدُناسائب بن یزید رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں لیٹا ہوا تھا، کسی نے مجھے کنکری ماری، میں نے دیکھا تو وہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ تھے۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اوران دونوں آدمیوں کوجو مسجد میں زور زور سے باتیں کر رہے تھے ،میرے پاس لے کر آؤ۔ میں ان دونوں کو لے کر حاضر ِخدمت ہوگیا۔ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ان سے پوچھا:تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔ اَمِیْرُ الْمُؤمنین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا:اگر تم دونوں مدینے کے رہنے والے ہوتے تومیں تمہیں سخت سزا دیتا۔ تم لوگ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مسجد میں بلند آواز سے گفتگو کر رہے ہو۔( بخاری ، کتاب الصلٰوة ، باب رفع الصوت فی المساجد ،۱/۱۷۸، حدیث :۴۷۰)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ذرا غور کیجئے!ایک طرف تو اللہ کریم کے یہ نیک بندے ہیں ،جو مسجد کے آداب کا بے حد خیال رکھتےتھے اور دوسری طرف ہم ہیں کہ آدابِ مسجد سے بالکل ناواقف ہیں۔فضول باتیں تو اپنی جگہ،بسااوقات کئی لوگ مَعَاذَ اللہ فحش کلام تک کرجاتے ہیں۔اس قسم کی بے حرمتی عُموماً مسجد میں نکاح یا تیجہ وغیرہ کی تقریب میں ہوتی ہے۔ کچھ لوگ تو نکاح کے معاملات یا قرآنِ پاک کی تلاوت میں مصروف ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ایک کونے میں اپنی باتوں کی محفل سجالیتے ہیں ۔پھرفُضُول باتوں،غیبتوں، چُغْلیوں، مذاق مسخریوں اور قہقہوں کا ایسا سلسلہ شُروع ہوتا ہے کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ ۔خداراکچھ خوف کیجئے!ہمارا یہ طرزِ عمل ہماری دنیا وآخرت کوبرباد کرسکتا ہے۔ایسے لوگوں کے خلاف مسجد،خود ربِّ کریم کی بارگاہ میں فریاد کرتی ہے۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ایک مسجد اپنے رَبّ کریم کے حُضُور شکایت کرنے چلی کہ لوگ مجھ میں دُنیا کی باتیں کرتے ہیں ،ملائکہ اسے آتے ہوئے ملے اور بولے: ہم انہیں ہلاک کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،۱۶/۳۱۲)
آیئے! مسجد میں دُنیوی باتوں اور مسجدمیں ہنسنےکی مذمت پر روایات سنتے ہیں :
ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ مسجدوں کے اندر دُنیا کی باتیں کریں گے، تو اس وَقْت تم ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا۔ اللہ پاک کوان لوگوں کی کچھ پروانہیں۔( شعب الايمان ، باب الحادی و العشرون ، فصل المشی الی المساجد ،۳/۸۶ ، حدیث :۲۹۶۲)
مسجد میں دنیاوی بات چیت ،نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے، جس طرح چوپائے گھاس کو کھا تے ہیں۔ اتحاف السادة المتقین ، کتاب اسرارالصلوة ومھماتھا ، الباب الاول ،۳/۵۰)
مسجدمیں ہنسناقبرمیں اندھیرا(لاتا)ہے۔( جامع صغیر ، حرف الضاد ،۱/۳۲۲، حدیث :۵۲۳۱)
مسجِد میں موبائل فون کی گھنٹی بند رکھئے
اے عاشقانِ رسول!ان تمام وعیدوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے خودکوہلاکت سے بچایئے اور مسجد کے آداب بجالاتے ہوئے اس بات کابھی خیال رکھئے کہ مسجِد میں چلتے وقت پاؤں کی دَھمک (دَھ۔مَک)پیدا نہ ہو نیز چَھڑی(Walking Stick)، چَھتری،ہاتھ کا پنکھا، چَپّل،تھیلا(Bag)، برتن وغیرہ کوئی چیز بھی اِس طرح نہ ڈالئے کہ آواز پیدا ہو۔اگر موبائل فون ہو تو مسجِد میں اس کی گھنٹی بھی بند رکھئے ، افسوس! فی زمانہ اس کی احتیاط بہت کم کی جاتی ہے،یہاں تک کہ مسجدُ الحرام شریف میں اور وہ بھی عین خانَۂ کعبہ کے طواف میں لوگوں کے موبائل فون کی گھنٹیاں بلکہ مَعَاذَ اللہ میوزیکل ٹیونز (Musical Tunes) گونجتی رہتی ہیں،حالانکہ میوزیکل ٹیون تو مسجِد کے علاوہ بھی ناجائزوگناہ ہے۔(تو مسجد میں تو حکم اور سخت ہوگا۔)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
مسجد میں داخلے کی ممانعت
اے عاشقانِ رسول! پاگلوں،نا سمجھ بچوں اورنشہ میں مدہوش افرادکامَسجد میں آنا منع ہے، اس سے مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے۔شیخِ طریقت امیرِاہلسنت محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فیضانِ سُنَّت، جلداَوَّل، صفحہ1220پر تحریر فرماتے ہیں: ایسابچّہ جس سے نَجاست(یعنی پیشاب وغیرہ کردینے)کا خَطْرہ ہو اور پاگل کو مسجد کے اندر لے جانا حرام ہے اگر نَجاست کا خطرہ نہ ہوتو مکروہ۔ ( درمختار ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ،۲/۵۱۸) صفحہ1221پرفرماتے ہیں:بچّہ یا پاگل (یا بے ہوش یا جس پر جِنّ آیا ہواہواس)کو دَم کروانے کے لئے بھی مسجدمیں لے جانے کی شریعت میں اجازت نہیں۔ چھوٹے بچّے کو اچھی طرح کپڑے میں لپیٹ کر بلکہ ’’پیکنگ‘‘کرکے بھی نہیں لاسکتے۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اِحترامِ مسجِدکے حوالے سے فیضانِ سُنَّت(جلداوّل) صَفْحَہ 1202تا 1207پر بیان کردہ مَدَنی پھولوں میں سے چند مدنی پھول قبول فرما کر اپنے دل کے مَدَنی گلدستے میں سجا لیجئے، اس کی برکتیں نصیب ہوں گی۔چنانچہ
مسجِدکےاندرکسی قسم کاکُوڑاہرگزنہ پھینکیں۔
سیِّدُناشیخ عبدُالحق مُحَدِّث دِہلوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ’’جذبُ الْقُلوب ‘‘میں نقل کرتے ہیں کہ مسجِدمیں اگر خَس (یعنی معمولی سا تنکا یا ذَرّہ)بھی پھینکا جائے، تو اس سے مسجِدکواس قَدَر تکلیف پہنچتی ہے، جس قَدَر تکلیف انسان کواپنی آنکھ میں خس(یعنی معمولی ذَرّہ) پڑجانے سے ہوتی ہے۔ ( جذب القلوب ، ص ۲۲۲)
مسجِدکی دیوار،اِس کے فَرش،چَٹائی یادَری کے اوپریااس کے نیچے تُھوکنا،ناک سِنکنا،ناک یاکان میں سے مَیل نکال کرلگانا،مسجِدکی دری یا چٹائی سے دھاگا یا تِنکا وغیرہ نَوچناسب ممنوع ہے۔
ضَرورتًا(مسجِد کے اندر)اپنے رُومال وغیرہ سے ناک پُونچھنے میں کوئی مُضائقہ نہیں۔
مسجِد میں جھاڑو دینے میں جو گَرد اور کُوڑا وغیرہ نکلے، وہ ایسی جگہ مت ڈالئے جہاں بے اَدَبی ہو۔
جُوتے اُتارکرمسجِدمیں ساتھ لے جانا چاہیں تو گَرد وغیرہ باہَر جھاڑ لیجئے۔اگر پاؤں کے تَلووں میں گَرد کے ذَرّات لگے ہوں تو اپنے رومال وغیرہ سے پُونچھ کر مسجِد میں داخِل ہوں۔مسجِد میں گرد کا کوئی ذرّہ نہ گِرنے پائے اِس کا خیال رکھئے۔
مسجِد کے وُضو خانے پر وُضو کرنے کے بعدپاؤں وضوخانے ہی پراچّھی طرح خشک کر لیجئے،گیلے پاؤں لیکرچلنے سے مسجدکافرش گندا اور دریاں مَیلی اور بدنُما ہوجاتی ہیں۔
مسجِدکے ایک دَرَجے سے دوسرے دَرَجے کے داخِلے کے وَقت(مَثَلًا صحن میں داخل ہوں تب بھی اورصِحن سے اندرونی حصّے میں جائیں جب بھی)سیدھا قدم بڑھایاجائے، حَتّٰی کہ اگر صَف بچھی ہو،اس پربھی سیدھاقدم رکھیں اور جب وہاں سے ہٹیں، تب بھی سیدھا قدم فرشِ مسجد پر رکھیں(یعنی آتے جاتے ہر بچھی ہوئی صَف پر پہلے سیدھا قدم رکھیں) یا خَطِیب جب مِنبرپر جانے کااِرادہ کرے، پہلے سیدھاقدم رکھے اور جب اُترے تو(بھی)سیدھاقدم اُتارے۔
مسجِدمیں اگر چھینک آئے توکوشِش کریں آہِستہ آوازنکلے، اسی طرح کھانسی۔سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجِدمیں زورکی چھینک کو نا پسند فرماتے۔اِسی طرح ڈَکارکوضَبط کرناچاہیے اورنہ ہو تو حَتَّی الْاِمکان آواز دَبائی جائے،اگرچِہ غیرِمسجِدمیں ہو۔خُصُوصًامجلس میں یاکسی مُعظّم(یعنی بزرگ)کے سامنے بے تَہذِیبی ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کی ڈکار کی آواز سنی، فرمایا: اپنی ڈکار کم کر، اس لیے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھرتا ہے۔ ( ترمذی ، کتاب صفة ... الخ ، باب حدیث اکثرهم شبعا فی الدنیا ... الخ ،۴/۲۱۷، حدیث :۲۴۸۶) اور جَماہی میں آواز کہیں بھی نہیں نکالنی چاہیے۔ اگرچِہ مسجِد سے باہَر تنہا ہو ،کیونکہ یہ شیطان کا قَہقَہہ ہے۔ جَماہی جب آئے حَتَّی الْامکان مُنہ بند رکھیں، مُنہ کھولنے سے شیطان مُنہ میں تُھوک دیتاہے۔اگر یوں نہ رُکے تو اُوپرکے دانتوں سے نیچے کاہونٹ دَبالیں اور اس طرح بھی نہ رُکے تو حَتَّی الْامکان منہ کم کھولیں اور اُلٹا ہاتھ اُلٹی طرف سے مُنہ پر رکھ لیں۔چُونکہ جَماہی شیطان کی طرف سے ہے اور اَنبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اس سے محفوظ ہیں لہٰذاجماہی آئے تویہ تصوُّر کریں کہ’’انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو جماہی نہیں آتی۔‘‘ اِنْ شَآءَاللہ فو راً رُک جائے گی۔( ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ،۲/۴۹۸-۴۹۹)
تَمَسْخُر (مَسخرہ پن)ویسے ہی ممنوع ہے اور مسجِدمیں سخت ناجائز۔
مسجِدمیں حدَث(یعنی رِیح خارِج کرنا)مَنع ہے ۔
قِبلے کی طرف پاؤں پھیلاناتوہرجگہ منع ہے۔مسجِدمیں کسی طرف نہ پھیلائے کہ یہ خِلافِ آدابِ دربار ہے۔ حضرتِ سَری سَقَطی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ مسجِد میں تنہا بیٹھے تھے،پاؤں پھیلا لیا،گوشۂ مسجِدسے ہاتِف نے آواز دی: ’’سری! بادشاہوں کے حُضُورمیں یوں ہی بیٹھتے ہیں؟ ‘‘مَعًا(یعنی فورًا)پاؤں سمیٹے اور ایسے سَمیٹے کہ وَقتِ انتقال ہی پھیلے۔ ( سبع سنابل ، در عبادت و حسن اخلاق درویشان ، ومنها الصدق والاخلاص والاداب ، ص ۱۳۱)(چھوٹے بچوں کوبھی پیار کرتے،اُٹھاتے، لِٹاتے وقت احتیاط کریں کہ ان کے پاؤں قِبلہ کی طرف نہ ہوں اور اوربچوں کو قَضائے حاجت کرواتے وقت بھی ضروری ہے کہ اُن کا رُخ یا پیٹھ قبلہ کی طرف نہ ہو)
استِعمال شُدہ جُوتا مسجِد میں پہن کرجانا ،گستاخی وبے ادبی ہے۔
الٰہی کرم بہرِ شاہِ عَرَب
ہو ہمیں مَسجِدوں کا مُیَسَّر ادب ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!واقعی مسجد کے آداب کامُعامَلَہ اِنْتہائی نازُک ہے، اس لئے خُوب اِحتیاط کرنےکی ضرورت ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ذرا سی بے احتیاطی کے سبب ہم مسجد کے حُقُوق پامال کربیٹھیں۔شیخِ طریقت، اَمیر ِاہلسُنَّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مسجد کے آداب کا بہت خیال فرماتے ہیں :ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ ایک بار شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مسجد میں داخل ہونے سے قبل جُوتے اُتارے، دونوں پاؤں کپڑے سے صاف کیے اور پھر مسجد میں داخل ہوئے۔مدنی مُذاکرے میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا :میں مسجد میں داخل ہوتے وَقْت کپڑے سے اپنے پاؤں صاف کر لیتا ہوں تاکہ مٹی کا کوئی ذَرَّہ مسجد میں نہ چلا جائے۔مزید فرماتے ہیں:میں سُنَّت پر عمل کی نیت سے داڑھی اور بھنوؤں پر بھی تیل لگاتا ہوں، لیکن اسے خُوب اچھی طرح صاف کر لیتا ہوں تاکہ اس تیل کی چکناہٹ سے مسجد کا فرش آلودہ نہ ہوجائے۔
اَمِیْرِ اہلسُنَّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اکثر جیب میں شاپر رکھتے ہیں اورمسجد کے فرش پر گِرے ہوئے بال و ذَرَّات وغیرہ اُٹھا کر اس میں ڈالتے رہتے ہیں اورکبھی کبھی زائد شاپر بھی رکھتے ہیں جو کہ دوسرے اسلامی بھائیوں کو ترغیب دِلا کر تحفے میں پیش فرماتے اوراس طرح مسجد سے ذَرَّات وغیرہ اُٹھانے کا ذِہْن بناتے ہیں۔ مسجد کے آداب کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے شیخِ طریقت ،امیر اہلسنت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کارسالہ’’مسجدیں خُوشبو دار رکھئے‘‘مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل فرماکر خود بھی مطالعہ کیجئے اور دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی حسبِ توفیق تحفۃ پیش کیجئے۔ دعوتِ اسلامی کی ويب سائٹ www.dawateislami.net سے اس رسالے کوپڑھا(Read)بھی جا سکتا ہے،ڈاؤن لوڈ(download) اور پرنٹ آؤٹ (Print Out) بھی کيا جا سکتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
بیان کا خُلاصہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ آج کے بیان میں ہم نے مساجد کو پاک وصاف رکھنے اس کا اَدب واحترام کرنے کے حوالے سے اسلافِ کرام کے واقعات سُنے۔
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسُنَّت، مُجدِّدِ دین و مِلّت، مولانا شاہ امام احمدرضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مسجد کے انوکھے ادب واِحترام والا ایمان افروز واقعہ سُنا۔
مسجد کی صفائی پرمدینہ شریف کی عورت کو کیسا انعام ملا کہ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس کی قبرپر تشریف لے جا کراُس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
مسجد میں کثرت سے آمد و رفت رکھنے والے خوش نصیب کے بارے میں حدیثِ پاک میں اِرشادفرمایاگیا کہ اُس کے ایمان کی گواہی دو۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دعوتِ اسلامی کے مختلف مدنی کاموں کے ذریعے بھی مسجدوں کو آباد رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مسجد میں فُضُول باتیں کرنا ،ہنسنا کھیلنا ،شور وغُل مچانا ،بدبودار چیزیں لانا یا خود جسم یا منہ کی بدبو کے ساتھ آنا، موبائل فون کی گھنٹی یا میوزیکل ٹیون بجانا اور خرید وفروخت وغیرہ یہ سب کام منع اور مسجد کے آداب کے خلاف ہیں۔
اگر ماضی میں ہم سے بھی ایسی بُھول ہوگئی ہو تو اپنے رَبّ کریم کی بارگاہ میں نادِم ہوکر توبہ کریں اورآئندہ ان بُرائیوں سے بچنے کی کوشش بھی کریں ۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
دعائے اِفطار
(مناجات و دعا صفحہ نمبر 27سے کروائیے۔)
نماز مغرب
تسبیح فاطمہ
اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 3پر عمل کرتے ہوئے ایک ایک بار آیۃ الکرسی، تسبیح فاطمہ اور سورۃ الاخلاص پڑھ لیجئے۔ (وقت 3منٹ)
سورۃ الملک
(سورۃ الملک اسی اسلامی بھائی کو دیں جن کا لہجہ روانی والااور خوش الحانی والا ہو ،نہ زیادہ Speedہو اور نہ زیادہSlowہو بس درمیانہ انداز ہو حَدَر والا )
( اب یوں اعلان کیجئے)
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مَدَنی انعام نمبر3کے جُز سورۂ مُلک پڑھنے اور سُننے کی سعادت حاصل کریں گے۔( اِنْ شَاءَ اللّٰہ )
( سُوْرۃُ الْمُلْک صفحہ نمبر 762 پر ملاحظہ فرئیں)
وقفۂ طعام
( اب اس طرح اعلان کیجئے )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! کھانے کا وضو فرما کر دستر خوان پر تشریف لے آئیے۔
)ایک اسلامی بھائی کھانے کے دوران سنتیں آداب صفحہ نمبر30سے بیان کرتے رہیں(
نماز عشا ء کی تیاری
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 4پر عمل کرتے ہوئے اَذان و اِقامت کا جواب دینےکی سعادت حاصل کریں ۔
نماز عشا ء مع تراویح
تسبیح فاطمہ
( نماز کے بعد اِمام صَاحِب دُعا ئے ثانی کروائیں گے۔ دُعا کے بعد یوں اعلان فرمائیں(
اللہ کریم کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 3پر عمل کرتے ہوئے ایک ایک بار آیۃ الکرسی، تسبیح فاطمہ اور سورۃ الاخلاص پڑھ لیجئے۔ (وقت 3منٹ)
مَدَنی مذاکرہ
( مَدَنی مذاکرہ شروع ہوتے ہی تمام جدول موقوف فرما کر مَدنی مذاکرہ میں سب شریک ہو جائیں )
مدنی مذا کرہ کے بعد20منٹ دہرا ئی روزانہ ہوگی۔
نوٹ:طاق را توں میں صلو ۃالتسبیح کی نماز ادا کی جا ئے گی۔
صلوۃ التسبیح
رسول اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے چچا جان حضرتِ سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے فرمایا کہ اے میرے چچا! اگر ہو سکے توصَلوٰۃُ التَّسبِیح ہر روز ایک بار پڑھئے اور اگر روزانہ نہ ہو سکے تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیجئے اور یہ بھی نہ ہوسکے تو ہر مہینے میں ایک بار اور یہ بھی نہ ہو سکے تو سال میں ایک بار اور یہ بھی نہ ہوسکے تو عمر میں ایک بار۔ ( ابو داود ، کتاب التطوع ، باب صلا ة التسبیح ،۲/۴۴، حدیث :۱۲۹۷)
صَلوۃُ التسبیح پڑھنے کا طریقہ
اِس نَماز کی ترکیب یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا پڑھے پھر پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے: سُبْحٰنَ اﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَر پھر اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم اور بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اور سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر رکوع سے پہلے دس باریہی تسبیح پڑھے پھر رکوع کرے اور رکوع میں سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم تین مرتبہ پڑھ کر پھر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر رکوع سے سر اٹھائے اور سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ اور اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْد پڑھ کر پھر کھڑے کھڑے دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر سجدہ میں جائے اور سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی تین مرتبہ پڑھ کر پھر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر دوسرے سجدہ میں جائے اور سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی تین مرتبہ پڑھے پھر اس کے بعدیہی تسبیح دس مرتبہ پڑھے اسی طرح چار رکعت پڑھے اور خیا ل رہے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں سورہ فاتحہ سے پہلے پندرہ مرتبہ اورباقی سب جگہ یہ تسبیح دس دس بارپڑھے یوں ہر رکعت میں75 مرتبہ تسبیح پڑھی جائے گی اور چار رکعتوں میں تسبیح کی گنتی تین سو مرتبہ ہوگی۔(بہارشریعت،۴/۳۳)
تسبیح انگلیوں پر نہ گنے بلکہ ہوسکے تودل میں شمارکرے ورنہ انگلیاں دباکر۔ (بہارشریعت،۲/۶۸۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَ لَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحمَّد
روزہ اور قرآن شفاعت کریں گے
مدینے کے سلطان، سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے:روزہ اور قُرآنِ پاک بندے کےلیے قِیامت کے دن شَفاعت کریں گے۔روزہ عَرض کرے گا: اے ربّ ِکریم! میں نے کھانے اور خواہِشوں سے دن میں اِسے روک دیا، میری شَفاعَت اِس کے حَقّ میں قَبول فرما،قُرآن کہے گا: میں نے اِسے رات میں سونے سے باز رکھا، میری شَفاعَت اِس کے لئے قَبول کر ۔ پس دونوں کی شَفاعَتیں قَبول ہوں گی۔ ( مسند امام احمد ، 2 / 586، حدیث 6637)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
دُرود شریف کی فضیلت
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُر یر ہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ پاک اُس پر دس رحمتیں نازِل فرمائے گا۔ ( مسلم ، كتاب الصلا ة ، باب الصلاة علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد التشہد ، ص ۱۷۲، حدیث :۹۱۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
کھلے آنکھ صَلِّ علیٰ کہتے کہتے
سحری کا وقت ختم ہونے سے کم و بیش 1گھنٹہ 19منٹ پہلے شرکاء کو تَہَجُّد اورسحری کے لیے بیدار کیجئے۔ مبلغ اسلامی بھائی کو چاہیےکہ وہ جلدی بیدار ہو کر وضو وغیرہ سے فراغت پالیں اور اب مقررہ وقت پر، درودِ پاک کے چاروں صیغے قواعد ومخارج کے ساتھ پڑھتے ہوئےشرکاء کو بیدار کیجئے۔درودِ پاک سے پہلے ابتدا میں ایک مرتبہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ لیجئے اور اب تھوڑے تھوڑے وقفے سے درود و سلام اور کلام کے اشعار پڑھیے! (وقت 7منٹ)
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ
اَلصَّلٰوۃ ُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ
وَقت سحری کا ہو گیا جاگو
وَقت سحری کا ہو گیا جاگو
نور ہر سَمت چھا گیا جاگو
اٹھو سَحری کی کرلو تیّاری
روزہ رکھنا ہے آج کا جاگو
ماہِ رَمَضاں کے فرض ہیں روزے
ایک بھی تم نہ چھوڑنا جاگو
اٹّھو اٹّھو وُضو بھی کرلو اور
تم تہجُّد کرو ادا جاگو
چُسکیاں گَرم چائے کی بھر لو
کھا لو ہلکی سی کچھ غذا جاگو
ماہِ رَمَضاں کی بَرکتیں لُوٹو
لُوٹ لو رَحمتِ خدا جاگو
کھا کے سحری اُٹھو ادا کرلو سنّتِ شاہِ انبیا جاگو
تم کو مولیٰ مدینہ دِکھلائے
اور حج بھی کرو ادا جاگو
تم کو رَمَضاں کے صدقے مولیٰ دے
اُلفت و عشقِ مصطَفٰے جاگو
تم کو رَمضان کا مدینے میں دے
شَرَف ربِّ مصطَفٰے جاگو
کیسی پیاری فَضا ہے رَمضاں کی دیکھ لو
کر کے آنکھ وا جاگو
رحمتوں کی جَھڑی برستی ہے
جلد اٹھ کر کے لو نَہا جاگو
تم کو دیدارِ مصطَفٰے ہو جائے ہے
یہ عطّاؔر کی دُعا جاگو
اے عاشقانِ رسول! اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 39 کے مطابق دن کا اکثر حصہ باوضو رہنے کی نیت سےوضو کرکے صفوں میں تشریف لے آئیے۔ (موقع کی مناسبت سے ٹائم کا اعلان کیجئے) مدنی انعام نمبر20پر عمل کرتے ہوئے تَحِیَّۃُ الْوُضُوْ اورمدنی انعام نمبر19کے جُز پر عمل کرتے ہوئے تَہَجُّدْ ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔( اِنْ شَآءَ اللّٰہ )
( اس کے بعد تَحِیَّۃُالْوُضُوْ اور تَہَجُّد کے فضائل بیان کیے جائیں ) (وقت 8منٹ)
(تحیۃ الوضو اور تہجد کے فضائل صفحہ نمبر19سےبیان فرمائیں )
نوافل
(نوافل میں قراء ت درمیانی رفتار میں ہو زیادہ تیز تیزنہ پڑھا جائے اور نہ ہی بالکل آ ہستہ پڑھیے خوش الحانی سے پڑھیے سورۃ
الفاتحہ اورسورۃ الاخلاص پڑھیے۔ اس بات کا خیال رکھیے کہ ہمیں جدول پر دئیے گئے وقت پر نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جانا ہے چاہے کسی حلقے میں اسلامی بھائیوں کی تعداد پوری ہو یا کم، ہمیں وقت کو مدِ نظر رکھنا ہے ) (وقت 10منٹ)
تَحِیَّۃُ الْوُضُو
( اب اس طرح اعلان کیجئے )
اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر20کے جُز تَحِیَّۃُ الْوُضُو کے نفل ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ ( اِنْ شَاءَ اللّٰہ )
تَہَجُّدْ
( اب اس طرح اعلان کیجئے )
اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر19کے جُز تَہَجُّد کے نفل ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔( اِنْ شَآءَ اللّٰہ )
دُعا کے مدنی پھول
( دعا و مناجات کے بعد سحری کا وقت کم از کم 41منٹ ہونا چاہئے ۔کوشش کیجئے کہ کوئی خوش اِلحان نعت خواں اسلامی بھائی مناجات کریں۔اگرمناجات میں کسی شعر کی تکرار کرنا چاہیں تو کیجئے مگر یاد رہے مناجات ودعا 10منٹ سے زائد نہ ہوں)
( اب اِس طرح اعلان کیجئے )
اللہ پاک کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 44پر عمل کرتے ہوئے خشوع اور خضوع کے ساتھ دُعا مانگنے کی سعادت حاصل کریں گے۔( اِنْ شَآءَ اللّٰہ )
) پھر مبلغ دُعامیں ہاتھ اُٹھانے کے آداب بھی بتائیں (
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! دعا میں دونوں ہاتھ اس طرح اٹھائیے کہ سینے ، کندھے یا چہرے کی سیدھ میں رہیں یا اتنے بلند ہوجائیں کہ بغل کی رنگت نظر آجائے، چاروں صورتوں میں ہتھیلیاں آسمان کی طرف پھیلی ہوئی رہیں کہ دعا کا قبلہ آسمان ہے۔ اپنے ہاتھوں کو اُٹھا لیجئے، ندامت سے سروں کو جُھکا لیجئے، گناہوں کو یاد کیجئے اور رو رو کر اللہ کریم کی بارگاہ میں مناجات کیجئے۔
دعا
اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن
یاخدا میری مغفرت فرما
باغِ فردوس مَرحَمَت فرما
تُو گناہوں کو کر مُعاف اللہ!
میری مقبول معذرت فرما
مصطَفٰے کا وسیلہ توبہ پر
تُو عنایت مداوَمَت فرما
موت ایماں پہ دے مدینے میں
اور محمود عاقِبت فرما
تُو شرف زیر گنبدِ خضرا
مجھ کو مرنے کا مَرحَمَت فرما
مُشکلوں میں مرے خدا میری
ہر قدم پر مُعاوَنت فرما
یَا رَبَّ الْمُصْطَفٰی ! یَارَبَّ الْاَنْبِیَاء ِ! یَارَبَّ الصَّحَابَہ ! یَارَبَّ الْاَولِیاء !،اے ہمارے امامِ اعظم ابوحنیفہ کے ربّ!اے ہمارے امام شافعی کے ربّ!اے ہمارے امام احمد بن حنبل کے ربّ!اے ہمارے امام مالک کے ربّ!اے ہمارے غوثُ الاعظم کے مالک!اے ہمارے غریب نواز کو نوازنے والے! اے ہمارے داتا علی ہجویری کے مولا!اے ہم گناہ گاروں کو بخشنے والے !اے مریضوں کو شفا دینے والے !اے بے کسوں کی دستگیری فرمانے والے !اے ڈُوبتوں کو نکالنے والے!اے گرتوں کو سنبھالنے والے!اے ساری کائنات کو پالنے والے! اے ہم ذلیلوں کے سروں پر عزت کا تاج سجانے والے!
تیرےگناہ گار، سیاہ کار بندوں نے تیری بارگاہ سے رحمت کی بھیک لینے کے لئے گناہوں سے لتھڑے ہاتھ دراز کر دیئے ہیں اے مولا! ہم اعتراف کرتے ہیں کہ گناہوں سے ہم نے زمین کو بھر دیا ہے اے اللہ !ہمارے اعمال نامے کی سیاہی رات کے اندھیرے کو شرما رہی ہے اے مولا ! نامۂ اعمال میں کوئی نیکی ایسی نہیں جو تیری بارگاہ میں پیش کرنے کے قابل ہو، نماز ادا کربھی لیں تو ظاہری وباطنی آداب سے یکسر خالی ہوتی ہے اے مولا! روزہ رکھا بھی تو دن بھر گناہوں سے کنارہ نہ کیااگر تیری راہ میں خرچ بھی کیا تو اے اللہ !اخلاص کا دور دور تک کوئی پتا نہیں لیکن مولائے کریم! تو ہمارے دلوں کے بھید جانتا ہے ،ہمارا تیرے ساتھ یہ حُسنِ ظن ہے کہ تو ہماری ضرور بخشش کر دے گا۔ یا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن ! ہماری کمزوری اور ناتوانی تجھ پر آشکار ہے ،اے اللہ !گرم موسم میں دوپہر کی دھوپ ہم سے برداشت نہیں ہوتی تو مولائے کریم!جہنم کی آگ کیونکر برداشت ہوسکے گی، اے اللہ ! مچھر ہمیں کاٹ لے تو ہم بے چین ہوجاتے ہیں تو اے اللہ ! اندھیری قبر میں بچھوکے ڈنک کیسے برداشت کریں گے۔
ڈنک مچھر کا بھی مجھ سے تو سہا جاتا نہیں
قبر میں بچھوکے ڈنک کیسے سہوں گا یاربّ
گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی
ہائے میں نارِ جہنم میں جلوں گا یاربّ
عفْو کر اور سدا کے لیے راضی ہوجا
گر کرم کر دے تو جنت میں رہوں گا یا ربّ
گر تیرے پیارے کا جلوہ نہ رہا پیشِ نظر
سختیاں نزع کی کیوں کر میں سہوں گا یاربّ
نزع کے وقت مجھے جلوۂ محبوب دِکھا تیرا کیا جائے گا میں شاد مروں گا یاربّ
یا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !ہمیں عذاب ِ قبر سے بچالے،ہماری بے حساب بخشش فرمادے ۔اے مالک و مولا!یہاں تیرے بندے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے ہوئے ہیں، ان میں کوئی بےچارہ روزی کی وجہ سے پریشان ہوگا، اے اللہ ! سب کو رزق ِ حلال فراخی کے ساتھ عطا فرما،قناعت کی دولت سے مالا مال کر دے اِلٰہَ الْعَالَمِین ! نہ جانے کتنے بےچارے قرضدار آئے ہوں گے کہ جن کی جان پر بنی ہو گی، نیندیں اُڑی ہوئی ہوں گی، اے اللہ! ان کو قرض خواہ پریشان کر رہے ہوں گے، ان بےچاروں کے حالِ زار پر رحم کرتے ہوئے قرض کی ادائیگی کا غیب سے سامان کر دے مولائے کریم! نجانے کتنے مریض اور ان کے نمائندے آئے ہوں گے اے اللہ ! بڑی اُمید لے کر آئے ہوں گے یا اللہ !تیرے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا واسطہ! ان بیماروں کو شفا عطا فرما اے مولا! ان مریضوں کو یہاں سے ہنستا ہوا اُٹھاسب کی بیماریاں،تنگدستیاں، بے روزگاریاں، قرض داریاں، بے اولادیاں، مقدمے بازیاں اور گھریلو ناچاقیاں دور کر دے۔ یا اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !دعوتِ اسلامی کو دن گیارہویں رات بارہویں ترقی عطا فرما ہماری مرکزی مجلس شوریٰ کے تمام اَراکین و نگران ،دِیگر مجالس کے اَراکین اور نگران ، تمام مبلغین،مُعَلِّمین، مُدرِّسِین، محبین اور تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے مسائل پر رحمت کی نظر فرما، اِلٰہَ الْعَالَمِین !ہم سب کو دِین و دُنیا کی برکتوں سے مالا مال کر دے۔
کہتے رہتے ہیں دُعا کے واسطے بندے تیرے
کر دے پوری آرزو ہر بےکس و مجبور کی
یا اللہ !پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے میں ہماری یہ ٹوٹی پھوٹی دعائیں قبول فرما۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم
وقفہ برائے سحری
( اب اس طرح اعلان کیجئے )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! کھانے کا وضو فرما کر دستر خوان پر تشریف لے آئیے۔
(کھانا کھانے کی اچھی اچھی نیتیں صفحہ نمبر29سے کروائیے)
(ایک اسلامی بھائی کھانے کے دوران سنتیں اور آداب صفحہ نمبر30سے بیان کرتے رہیں )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع