دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Rah e Ilm | راہ علم

book_icon
راہ علم

شَآ ءَ اَعْتَقَ وَاِنْ شَا ءَ اسْتَرَقَّ۔یعنی : جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے، چاہے توآزاد کر دے اورچاہے تو غلام بنا کر رکھے ۔‘‘اسی بات پر میں نے یہ اشعار کہے ہیں :  

رَأَیْتُ اَحَقَّ الْحَقِّ حَقَّ الْمُعَلِّمِ                                                                                     وَاُوْجِبُہُ حِفْظًاعَلٰی کُلِّ مُسْلِمِ

لَقَدْحَقَّ اَنْ یُّھْدَی اِلَیْہِ کَرَامَۃً                                                                               لِتَعْلِیْمِ حَرْفٍ وَّاحِدٍاَلْفُ دِرْہَمِ   

  ترجمہ : (۱)میں استاذ کے حق کو تما م حقوق سے مقدم سمجھتاہوں اورہر مسلمان پر اس کی رعایت واجب مانتاہوں ۔

          (۲)حق تو یہ ہے کہ استاذ کی طرف ایک حرف سکھانے پر تعظیماً ایک ہزار درہم کا تحفہ بھیجاجائے ۔

        اے عزیز طالب علم!بے شک جس نے تجھے دینی ضروریات میں سے ایک حرف بھی سکھایا وہ شخص تمہارا دینی باپ ہے۔ہمارے استاذشیخ سدیدالدین شیرازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیاپنے مشائخ کے حوالے سے فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص یہ چاہتاہے کہ اس کا بیٹا عالم بنے اسے چاہیے کہ تنگ دست فقہاکی دیکھ بھال کرے ، ان کی عزت وتکریم کرے ، ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ انہیں دیتا رہے۔پھربھی اگر اس کا بیٹا عالم نہ بناتواس کا پوتا ضرورعالم بنے گا۔ استاذ کی عزت وتکریم میں یہ باتیں بھی شامل ہیں کہ طالب علم کو چاہیے کہ کبھی استاذ کے آگے نہ چلے۔ نہ اس کی نشست گاہ پر بیٹھے۔نہ تو بغیر اجازت کلام میں ابتدا اور نہ ہی بغیر اجازت استاذکے سامنے زیادہ کلام کرے۔جب وہ پریشان ہو تو کوئی سوال نہ کرے بلکہ وقت کا لحاظ رکھے اور نہ ہی استاذ کے دروازے کو کھٹکھٹائے بلکہ اسے چاہیے کہ وہ صبر سے کام لے اوراستاذ کے باہر آنے کا انتظار کرے۔

        الغرض طالب علم کو چاہیے کہ ہر وقت استاذکی رضا کو پیش نظر رکھے اوراس کی ناراضی سے بچے اور اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی والے کاموں کے علاوہ ہر معاملہ میں استاذ کے حکم کی تعمیل کرے کیونکہ  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمانبرداری جائز نہیں جیسا کہ حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا : ’’اِنَّ شَرَّالنَّاسِ مَنْ یُّذْھِبُ دِیْنَہُ لِدُنْیَاغَیْرِہِ۔یعنی : لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہے جو کسی کی دنیا سنوارتے سنوارتے اپنے دین کو برباد کرڈالے ۔‘‘

        استاذ کی اولاد اوراس کے رشتہ داروں کی تعظیم وتوقیر بھی استاذہی کی تعظیم وتوقیر کا ایک حصہ ہے۔ ہمارے استاذ محترم صاحب ہدایہ شیخ الاسلام حضرت سیِّدُنابرہان الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے یہ حکایت بیان کی کہ بخارا کے بلند پایہ آئمہ میں سے ایک اِمام کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ علمِ دین کی مجلس میں تشریف فرماتھے کہ یکایک انہوں نے باربار کھڑا ہونا شروع کردیالوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی توفرمایا کہ’’ میرے استاذمحترم کا صاحبزادہ بچوں کے ساتھ گلی میں کھیل رہا تھا کبھی کبھی کھیلتا ہوا وہ مسجد کی طرف آنکلتا ، پس جب میری نظر اُس پر پڑتی تو میں اپنے اُستاذکی تعظیم میں اس کی تعظیم کے لئے کھڑا ہوجاتا۔‘‘

        حضرت سیِّدُنااِمام فخرالدین ارسابندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مَرْو شہر میں رئیس الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطان وقت آپ کا بے حد ادب واِحترام کیا کرتا تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ’’مجھے یہ منصب اپنے اُستاذ کی خدمت کرنے کی وجہ سے ملا ہے کہ میں اپنے استاذ کی خدمت کیا کرتاتھا یہاں تک کہ میں نے ان کا 3 سال تک کھانا پکایا اوراستاذ کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے کبھی بھی اس میں سے کچھ نہ کھایا ۔‘‘

        ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناشیخ شمس الآئمہ حلوانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی  کو کوئی حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ بخارا سے نکل کر ایک گاؤں میں سکونت پذیر ہوگئے ۔ اس عرصے میں ان کے شاگرد ملاقات اورزیارت کے لئے حاضر ہوتے رہتے مگر ان کے ایک شاگردحضرت سیِّدُناشیخ شمس الآئمہ زَرَنْجِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی ملاقات کے لئے حاضر نہ ہوسکے۔جب حضرت سیِّدُنا شیخ شمس الآئمہ حلوانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ’’ وہ ملاقات کے لئے کیوں نہیں آئے۔‘‘توانہوں نے عرض کی : ’’عالیجاہ!دراصل میں اپنی والدہ کی خدمت میں مشغول تھا اس لئے حاضر نہ ہوسکا۔‘‘توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ ’’تمہیں عمردرازی تو حاصل ہوگی مگر رونقِ درس نہ پاسکو گے اورایسا ہی ہوا کہ ان کا اکثروقت دیہاتوں میں گزرااوریہ کہیں بھی درس وتدریس کا انتظام نہ کرسکے کیونکہ جو شخص اپنے استاذکے لئے اذیت وتکلیف کا باعث بنتاہے وہ علم کی برکتوں سے محروم ہوجاتا ہے اورعلم سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھا سکتاجیسا کہ کسی شاعر نے کہاہے کہ :

اِنَّ الْمُعَلِّمَ وَالطَّبِیْبَ کِلَاھُمَا                                                                            اَ یَنْصِحَانِ اِذَاھُمَالَمْ یُکْرَمَا

فَاصْبِرْلِدَائِکَ اِنْ جَفَوْتَ طَبِیْبَہُ                                                                                           وَاقْنَعْ بِجَھْلِکَ اِنْ جَفَوْتَ مُعَلِّمَا

ترجمہ : (۱)استاذہویا طبیب دونوں ہی اس وقت تک نصیحت نہیں کرتے جب تک ان کی عزت وتکریم نہ کی جائے ۔

          (۲)اگر توطبیب سے بدسلوکی کرتا ہے تو پھر اپنی بیماری پر صبر کرنے کے لئے تیار ہو جا اوراگر اپنے استاذسے بدسلوکی کرتا ہے تو پھر اپنی جہالت پر قناعت کر ۔

        حکایت بیان کی جاتی ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے لڑکے کو اِمام اللُّغَۃ اَصْمَعِی کے پاس علم حاصل کرنے کے لئے بھیجاایک دن ہارون الرشید نے دیکھا کہ  اَصْمَعِی وضو میں اپنا پیر دھو رہے ہیں اورخلیفہ کا لڑکا پانی ڈال رہا ہے یہ دیکھ کرخلیفہ نے اَصْمَعِی سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ’’میں نے اپنے لڑکے کو آپ کے پاس اس لئے بھیجا تھاکہ آپ اسے علم وادب سکھائیں پھر آپ نے وضو کرتے وقت اسے ایک ہاتھ سے پانی ڈالنے اوردوسرے ہاتھ سے پاؤں دھونے کا حکم کیوں نہیں دیا ؟‘‘

تعظیم کتاب :

        تعظیم علم میں کتاب کی تعظیم کرنا بھی شامل ہے۔ لہٰذاطالب علم کو چاہیے کہ کبھی بھی بغیر طہارت کے کتاب کو ہاتھ نہ لگائے ۔

        حضرت سیِّدُناشیخ شمس الائمہ حلوانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے حکایت نقل کی جاتی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ’’میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم وتکریم کرنے کے سبب حاصل کیا وہ اس طرح کہ میں نے کبھی بھی بغیر وضو کاغذ کو ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘

        شمس الائمہ حضرت سیِّدُنا اِمام سرخسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیکا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کاپیٹ خراب ہوگیا۔آپ کی عادت تھی کہ رات کے وقت کتابوں کی تکرار اوربحث

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن