30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنااِمام محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد فرماتے ہیں کہ’’ لَوْکَانَ النَّاسُ کُلُّھُمْ عَبِیْدِیْ لَاَعْتَقْتُھُمْ وَتَبَرَّأْتُ عَنْ وَّلَائِھِمْ۔یعنی : اگردنیا کے سارے لوگ میرے غلام ہوجائیں تو میں ا ن سب کو آزاد کردوں اوران کی ولایت سے بری ہوجاؤں گا۔ ‘‘اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص کو علم وعمل کی لذت حاصل ہوجائے تو پھر وہ دنیا کی لذتوں اورلوگوں کے اِعزازواِکرام پر بالکل نظر نہیں رکھتا۔
حضرت سیِّدُناشیخ اِمام قوام الدین حماد بن ابراہیم بن اسماعیل صفّارانصاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنااِمام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم سے منقول یہ شعر ہمیں سنایا :
مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِلْمَعَادِ فَازَ بِفَضْلٍ مِّنَ الرَّشَاد
فَیَالِخُسْرَانِ طَالِبِیْہِ لِنَیْلِ فَضْلٍ مِّنَ الْعِبَاد
ترجمہ : (۱)…جس نے آخرت کے لئے علم حاصل کیااس نے فضل یعنی ہدایت کو پالیا۔
(۲)… لیکن گھاٹاتو اس طالب علم کے لئے ہے جو علم کو لوگوں سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے طلب کرے۔
یہ بات تو مسلّم ہے کہ علم کو دنیاوی عزت ومنصب کے لئے حاصل نہیں کرنا چاہیے مگر جب دنیاوی منصب کو اس لئے طلب کیا کہ اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ(یعنی نیکی کا حکم دینااور برائی سے روکنا)آسانی سے کرسکے اورحق کو نافذ کر سکے، نیز دین کی سربلندی کرسکے اوربلند منصب کی طلب میں خواہش نفس شامل نہ ہوتو پھر اس قدر منصب وجاہ حاصل کرنا جائز ہے کہ جس کے ساتھ اَمْرٌبِالْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِکیا جاسکے۔
طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی نیت کے بارے میں سوچ بچار کرتا رہے اور اس میں غفلت نہ کرے کہ ایک طالب علم، علم کو بہت محنت ومشقت کرنے کے بعد حاصل کرپاتاہے۔ لہٰذااس علم کوفانی، قلیل اورحقیر دنیا کے حصول کے لئے ہرگز خرچ نہیں کرنا چاہیے :
ھِیَ الدُّنْیَااَقَلُّ مِنَ الْقَلِیْلِ وَعَاشِقُھَااَذَلُّ مِنَ الذَّلِیْل
تُصِمُّ بِسِحْرِھَا قَوْمًا وَّتُعْمِی فَھُمْ مُّتَحَیِّرُوْنَ بِلَادَلِیْل
ترجمہ : (۱)…دنیاآخرت کے مقابلہ میں قلیل ترین شے ہے اوراس کا چاہنے والا نہایت ہی ذلیل ہے ۔
(۲)…یہ دنیا اپنے سحر سے کسی قوم کو بہرا بنادیتی ہے تو کسی کو اندھاوہ لوگ جو دنیا کے سحر میں مبتلا ہیں حیران وششد رہیں ۔
لہٰذاایک طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ بے فائدہ اشیاء کی طمع کر کے اپنے آپ کو ذلیل نہ کرے اوروہ کام جو کہ علم اوراہلِ علم کے لئے بدنامی کا باعث بن سکتے ہوں ان سے بچتا رہے نیز ایک طالب علم کو متواضع ہونا چاہیے اور تواضع، تکبروذلتِ نفس کے درمیانی راستے کا نام ہے اور ان باتوں کی تفصیل ’’کتاب الاخلاق ‘‘میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
تواضع کے بارے میں حضرت سیِّدُناشیخ اِمام رُکن الاسلام عرف ادیب مختار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے مجھے اپنے یہ اَشعار سنائے :
اِنَّ التَّوَاضُعَ مِنْ خِصَالِ الْمُتَّقِیْ وَبِہِ التَّقِیُّ اِلَی الْمَعَالِیْ یَرْتَقِیْ
وَمِنَ الْعَجَائِبِ عُجْبُ مَنْ ھُوَجَاھِلٌ فِیْ حَا لِہِ أَھُوَالسَّعِیْدُأَمِ الشَّقِیْ
أَمْ کَیْفَ یُخْتَمُ عُمْرُہُ اَوْرُوْحُہُ یَوْمَ النَّوَی مُتَسَفِّلٌاَوْمُرْتَقِیْ
وَالْکِبْرِیَاءُ لِرَبِّنَاصِفَۃٌ بِہِ مَخْصُوْصَۃٌ فَتَجَنَّبَنْھَاوَاتَّقِیْ
ترجمہ : (۱)…تواضع ، متقی وپرہیز گار لوگوں کی ایک صفت ہے اسی کے ذریعے نیک لوگ سربلند ہوتے ہیں ۔
(۲)…اورعجیب ترین ہے وہ شخص جو تکبر کرنے کے باعث اپنے آپ کونہیں پہچانتا آیا کہ وہ خوش بخت ہے یا کہ بدبخت ۔
(۳)…اوراس بات کوبھی نہیں جانتا کہ اس کی عمر وروح کا اختتام کس حالت میں ہوگااوریوم وصال وہ علیین میں ہوگا یا کہ سافلین میں سے ۔
(۴)…کبریائی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفت ہے اوراس کے ساتھ مخصوص ہے۔پس اے بندۂ خدا! تو اس چیز سے بچ اورتقوی اختیار کر۔
حضرت سیِّدُنااِمام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے فرمایا : ’’عَظِّمُوْاعَمَائِمَکُمْ وَوَسِّعُوْااَکْمَامَکُمْ۔یعنی : اپنے عماموں کو بڑااورآ ستینوں کو وسیع کرو۔ ‘‘آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی کہ’’ کوئی شخص علم اوراہل علم کو حقیر نہ جانے ۔‘‘
طالب علم کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ حضرت سیِّدُنااِمام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَمکی’’کِتَابُ الْوَصِیَّۃ‘‘ غور سے پڑھے، جو انہوں نے حضرت سیِّدُنا یونس بن خالد سمتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کے لئے اس وقت لکھی تھی جب وہ گھر واپس جارہے تھے ۔یَجِدُہُ مَنْ یَطْلُبُہٗیعنی : جو اسے تلاش کرے گا وہ ضروراسے پالے گا۔
جب میں اپنے گھر لوٹ رہا تھاتوہمارے استاذِ محترم شیخ الاسلام حضرت سیِّدُنا برہان الائمہ علی بن ابو بکررَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے بھی اس وصیت کے لکھنے کا حکم فرمایا تھا اورمیں نے بھی ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے یہ وصیت لکھی تھی نیز عوام کے ساتھ معاملات کے سلسلے میں ایک مُدَرِّس اورمُفتی کے لئے بھی اس وصیت کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔
علم، اَساتذہ اور شرکاکااِنتخاب اورثابت قدمی اِختیارکرنے کا بیان
طالب علم کو چاہیے کہ وہ تمام علوم میں سے اس علم کو حاصل کرے جو احسن العلوم ہو اورفی الحال اس علم کی دینی معاملات میں شدید ضرورت ہو۔پھر وہ اسے سیکھے جس کی اسے بعدمیں ضرورت پڑے۔لہٰذا علمِ توحید اورمعرفت خداوندی کے سیکھنے کو مقد م رکھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دلیل کے ساتھ پہچانے کیونکہ مقلد کا ایمان اگرچہ ہمارے نزدیک معتبر ہے لیکن اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ دلائل کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پہچانے ورنہ وہ خطاکار ٹھہرے گا اورپرانی روایات کو اختیار کرے اورنئی سے بچے کہ عُلمافرماتے ہیں : ’’عَلَیْکُمْ بِالْعَتِیْقِ وَاِیَّاکُمْ وَالْمُحْدَثَاتِ۔ یعنی :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع