30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور ذکر ودعا، تلاوت قرآن اور صدقہ دینے میں لگا رہے جو کہ دافع بلا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے گناہوں کی معافی طلب کرتا رہے اوردنیا وآخرت کے لئے عافیت کا طلبگار رہے تاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلاؤں اورآفات سے محفوظ رکھے کیونکہ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ :
مَنْ رُّزِقَ الدُّعَاءَ لَمْ یُحْرَمِ الْاِجَابَۃ
ترجمہ : جسے دعا کی توفیق دی گئی وہ قبولیت سے ہرگز محروم نہ کیا جائے گا۔
لیکن اگر تقدیر میں کسی مصیبت کا پہنچنا لکھا ہے تو ضرورپہنچے گی۔البتہ دعا کی برکت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں تخفیف فرمادے گا اور اسے صبر کی توفیق عطافرمائے گا۔
ہاں اگر کوئی شخص اتنی مقدار میں علم نجوم کو سیکھنا چاہے کہ جس کے ذریعے قبلہ اور اوقاتِ نمازکی معرفت سے آگاہی ہوسکے تو جائز ہے ۔ علم طب کا سیکھنا بھی جائز ہے کیونکہ دوسرے اسبابِ ضروریہ کی طرح یہ بھی ایک سبب ہے او ردیگر ضروری اسباب کی طرح اس کا سیکھنا بھی جائزہے۔ خود سرکارِ دوعالم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے علاج ومعالجہ کرنا ثابت ہے۔ حضرت سیِّدُنااِمام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کاقول ہے کہ’’سیکھنے کے قابل تو دوہی علم ہیں : پہلا، علم فقہ ، احوال دِیْنِیہ کی پہچان کے لئے اوردوسرا، علم طب، بدنِ انسانی کی پہچان کے لئے ۔ ان کے علاوہ جو دوسرے علوم ہیں وہ تو مجلس کا توشہ ہیں ۔ ‘‘
أَمَّاتَفْسِیْرُالْعِلْمِ : فَھُوَصِفَۃٌ یَّتَجَلَّی بِہَالِمَنْ قَامَتْ ھِیَ بِہِ الْمَذْکُوْرُکَمَاھُوَ۔
یعنی : علم ایک ایسی صفت ہے کہ جس میں یہ صفت پائی جائے اس پرہر وہ چیز جسے یہ سیکھنا اورجاننا چاہتاہے اپنی حقیقت کے مطابق عیاں ہوجائے ۔
اَلْفِقْہُ : مَعْرِفَۃُ دَقَائِقِ الْعِلْمِ مَعَ نَوْعٍ عِلَاجٍ۔
یعنی : علم کی باریکیوں کو مختلف مشقوں سے جاننے کا نام فقہ ہے ۔
حضرت سیِّدُنا اِمام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے فقہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : اَلْفِقْہُ : مَعْرِفَۃُ النَّفْسِ مَالَھَاوَمَاعَلَیْھَا۔ یعنی : نفس کا اپنے نفع ونقصان کو پہچاننے کانام فقہ ہے ۔نیزفرمایا : ’’تحصیلِ علم کا مقصد تو اس پر عمل کرنا ہے اورعمل دنیا کو آخرت کے لئے ترک کردینے کا نام ہے ۔پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ سے بے خبر نہ رہے اوروہ چیزیں جو اسے دنیا وآخرت میں نفع یا نقصان دے سکتی ہیں ان کے معاملہ میں ذرہ بھر غفلت نہ کرے۔پس جو چیزیں اسے دنیا وآخرت میں فائدہ دے سکتی ہیں ان کو اپنائے اورجو چیزیں اسے دنیا وآخرت میں نقصان دے سکتی ہیں ان سے اِجتناب کرے کیونکہ ایسانہ ہوکہ یہ علم ہی اس پر بروزِقیامت حجت بن جائے اور اس سبب سے اس پر عذاب میں اورزیادتی ہوجائے ۔ ‘‘
نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ سُخْطِہِ وَعِقَابِہِ
(ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کے غضب اور اس کی پکڑ سے پناہ طلب کرتے ہیں )
علم کے فضائل ومناقب میں بہت سی آیات واحادیثِ صحیحہ مشہور ہ واردہیں ہم طوالت کے خوف سے ان کو ذکر کرنے سے احتراز کرتے ہیں ۔
دورانِ تعلیم کیفیت ِنیت کا بیان
تحصیلِ علم کے دور میں طالب ِعلم کا حصولِ علم سے کوئی نہ کوئی مقصد ضرورہونا چاہیے اس لیے کہ نیت تمام احوال کی اصل ہے کیونکہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب لولاک، سیاحِ افلاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ. یعنی : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔‘‘ ([1])
ایک اورحدیث مبارک میں ہے کہ حضورنبی ٔ مُکَرَّم، نُورِمُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’کَمْ مِّنْ عَمَلٍ یُّتَصَوَّرُبِصُوْرَۃِ اَعْمَالِ الدُّنْیَا وَیَصِیْرُبِحُسْنِ النِّیَّۃِ مِنْ اَعْمَالِ الْاٰخِرَۃِ وَکَمْ مِّنْ عَمَلٍ یُّتَصَوَّرُبِصُوْرَۃِ اَعْمَالِ الْاٰخِرَۃِ ثُمَّ یَصِیْرُمِنْ اَعْمَالِ الدُّنْیَابِسُوْ ءِ النِّیَّۃِ
یعنی : بہت سے اعمال ظاہری طور پر دنیا وی نظر آتے ہیں لیکن حسن نیت کی وجہ سے وہ اعمالِ آخرت بن جاتے ہیں اور بہت سے اعمال ظاہر ی طور پر آخرت کے لئے تصور کئے جاتے ہیں مگر نیت بد کی وجہ سے وہ اعمالِ دنیا میں شمار ہوتے ہیں ۔‘‘
لہٰذا طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحصیلِ علم سے رضاء الہٰی، آخرت کی کامیابی ، خودسے اورتمام جاہلوں سے جہل کو دور کرنے، دین کو زندہ رکھنے اور اسلام کو باقی رکھنے کی نیت کرے کیونکہ اسلام کی بقاصرف علم ہی کے ساتھ ممکن ہے اورزہد وتقوی کو بھی جہالت کی حالت میں اختیار نہیں کیا جاسکتا۔
ہمارے استاذِمحترم صاحب ہدایہ حضرت سیِّدُنا شیخ برہان الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن نے ہمیں ایک شاعر کے یہ اَشعار سنائے :
فَسَادٌکَبِیْرٌعَالِمٌ مُّتَھَتِّکٌ وَاَکْبَرُمِنْہُ جَاہِلٌمُّتَنَسِّکُ
ھُمَافِتْنَۃٌ فِی الْعَالَمَیْنَ عَظِیْمَۃٌ لِمَنْ بِھِمَافِیْ دِیْنِہِ یَتَمَسَّکُ
ترجمہ : (۱)…بے عمل عالم ایک بہت بڑا فساد اورجاہل عبادت گزار اس سے بڑا فساد ہے۔
(۲)…یہ دونوں اس شخص کے لئے دونوں جہاں میں بہت بڑا فتنہ ہیں جودین میں ان کی پیروی کرے۔
نیز طالب علم کو چاہیے کہ وہ فہم وذکاوت اورصحت وتندرستی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتارہے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اوردنیا کا مال حاصل کرنے کی نیت ہرگز ہرگز نہ کرے اورنہ ہی اَربابِ اِقتدار کی نظر میں عزت ووقار حاصل کرنے کی نیت کرے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع