30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معلومات حاصل کرنے کا معاملہ ہے نیز اگر صاحبِ مال ہے تو زکوٰۃ کا بھی یہی ضابطہ ہے اوراگر کوئی تاجرہے تو مسائل خرید وفروخت جاننے کے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ اتنے مسائل کا جاننا فرض ہے جن سے فرض ادا ہوسکے اوراتنے مسائل کاعلم حاصل کرنا واجب ہے کہ جن سے واجب ادا ہوسکے ۔
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنااِمام محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ’’ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ’’زُہد ‘‘کے عنوان پر کوئی کتاب تصنیف کیوں نہیں فرماتے ؟‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’ میں توخریدوفروخت کے مسائل سے متعلق ایک کتاب تصنیف کرچکاہوں ۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ زاہد وہی ہے جو تجارت کرتے وقت اپنے آپ کو مکروہات وشبہات سے بچائے اوراسی طرح تمام معاملات اورصنعت وحرفت میں مکروہات وشبہات سے بچنا ہی تو زہد ہے ۔ جب ایک شخص کسی کام میں مشغول ہوجاتاہے تو اس پر اتنے علم کا حاصل کرنا فرض ہوجاتاہے کہ جس کے ذریعے وہ اس فعل میں حرام کے اِرتکاب سے بچ سکے ۔ نیز ظاہری معاملات کی طرح ہی باطنی اَحوال یعنی توکل، توبہ، خوف خدا، رضاء الہٰی وغیرہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا حکم ہے۔ کیونکہ بندے کو مذکورہ قلبی اُمور سے بھی ہر وقت واسطہ پڑتارہتاہے ۔لہٰذا اس پر اَحوال قلب سے متعلق مسائل کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے ۔
علم کی عظمت اوراس کا شرف کسی پر بھی مخفی نہیں کیونکہ علم ایک ایسی صفت ہے جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور علم کے علاوہ دوسری خصلتیں مثلا جرأ ت، شجاعت، سخاوت ، قوت اورشفقت وغیرہ انسان وحیوان دونوں میں پائی جاتی ہیں اور علم ہی وہ صفت ہے جس کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا آدم صفی اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تمام فرشتوں پر فضیلت بخشی اورملائکہ کوآپ عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے سجدۂ تعظیمی کرنے کا حکم دیا۔
علم کو اس وجہ سے شرافت وعظمت حاصل ہے کہ علم تقوی تک پہنچنے کا وسیلہ ہے اورتقوی کی وجہ سے بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حضوربزرگی اورابدی سعادت کا مستحق ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو کسی نے حضرت سیِّدُنااِمام محمد بن حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو مخاطب کر کے ان اَشعار میں بیان کیا۔
تَعَلَّمْ فَاِنَّ الْعِلْمَ زَیْنٌ لِاَھْلِہٖ وَفَضْلٌ وَّعُنْوَانٌ لِّکُلِّ الْمَحَامِد
وَکُنْ مُسْتَفِیْدًاکُلَّ یَوْمٍ زِیَادَۃً مِنَ الْعِلْمِ وَاسْبَحْ فِیْ بُحُوْرِالْفَوَائِد
تَفَقَّہْ فَاِنَّ الْفِقْہَ اَفْضَلُ قَائِدِ اِلَی الْبِرِّوَالتَّقْوَی وَاَعْدَلُ قَاصِد
ھُوَالْعِلْمُ الْھَادِیْ اِلٰی سُنَنِ الْھُدَی ھُوَالْحِصْنُ یُنْجِیْ مِنْ جَمِیْعِ الشَّدَائِد
فَاِنَّ فَقِیْھًاوَّاحِدًامُّتَوَرِّعًا اَشَدُّعَلَی الشَّیْطَانِ مِنْ اَلْفِ عَابِد
ترجمہ : (۱)…علم حاصل کرو کیونکہ علم اہل علم کے لئے زینت ہے اورعلم اس کے لئے فضیلت اوراس بات پر دلیل ہے کہ اہلِ علم خصال محمودہ کا مالک ہے ۔
(۲)…ہر روزعلم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرو اورفوائدکے سمندروں میں تیرتے رہو۔
(۳)…اورفقہ حاصل کرو کیونکہ فقہ ہی نیکی اور تقوی کی راہ دکھانے والا سب سے بہترین رہنما اوریہی قریب ترین راستہ ہے۔
(۴)…یہی وہ علم ہے کہ جو رشد وہدایت کی راہ دکھاتاہے۔یہ وہ قلعہ ہے جو تمام مصائب سے نجات دیتاہے ۔
(۵)…بے شک ایک پرہیز گار فقیہ ، شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے ۔
علم جس طرح تقوی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اسی طرح باقی اوصاف مثلاً سخاوت، بخل، بزدلی، بہادری، تکبر، عاجزی، عفّت، کنجوسی اوراسراف وغیرہ کی پہچان اور ان میں تمیز کرنے کا ذریعہ بھی علم ہی ہے ۔مذکورہ اَخلا ق میں سے تکبر، بخل، بزدلی اور اسراف حرام وممنوع ہیں ۔ لہٰذاان اَشیاء کے مثبت اورمنفی پہلوؤں سے آگاہی پر ہی ان اشیاء سے بچا جاسکتاہے۔پس ہر انسان پر ان اشیاء کے متعلق علم حاصل کرنا فرض ہے ۔
اِمام اَجَلّ حضرت سیِّدُناشہید ناصر الدین ابوقاسم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اخلاق کے موضوع پرایک بہت بہترین کتاب تصنیف کی ہے۔ہر مسلمان کے لئے اس کا مطالعہ کرنا اوراس کے مضامین کو یاد رکھنا بہت ضروری ہے ۔ ([1])
وہ اشیاء جن سے کبھی کبھار واسطہ پڑتاہے ان کے متعلق آگاہی حاصل کرنا فرضِ کفایہ ہے۔اگر ایک شہر کے بعض افراد نے ان سے متعلق علم حاصل کرلیا تو باقی افراد سے فرض ساقط ہوجاتا ہے اوراگر پورے شہر میں سے کسی نے بھی ان سے متعلق علم حاصل نہیں کیاتو تمام شہر والے گنہگار ہوں گے۔پس حاکمِ وقت پر واجب ہے کہ وہ شہر کے لوگوں کو ان اَشیاء سے متعلق علم حاصل کرنے کا حکم دے اورانہیں اس پر مجبورکرے۔
علم کی ضرورت اوراہمیت کو بیان کرنے کے لئے ایک مثال دی جاتی ہے کہ وہ علم جس سے ہر وقت واسطہ پڑتاہے اسکی مثال غذا کی طرح ہے۔ لہٰذا جس طرح ایک انسان کے لئے غذا لازمی جزہے اسی طرح اس علم کا حاصل کرنا بھی ضروری ہے اوروہ علم جس سے کبھی کبھار واسطہ پڑتاہے اسکی مثال دوا کی سی ہے کہ صرف حالت مرض ہی میں دوا کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہٰذاچند ایسے افراد کا ہونا ضروری ہے جو علم طب سے آگاہی رکھتے ہوں ۔پس اسی طرح وہ علم جس سے کبھی کبھار واسطہ پڑتا ہے اس علم کو جاننے والے چند افراد کا ہونا ضروری ہے اورعلم نجوم کی مثال مرض کی طرح ہے۔لہٰذااس کا سیکھنا(بغیر کسی غرض صحیح کے)حرام ہے کیونکہ اس کا سیکھنا کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتااس لئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قضاء وقدر سے فرار کسی صور ت ممکن نہیں ۔
[1] مصنف عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کی ذکر کردہ کتاب ’’ کتا ب الاخلاق ‘‘آج کل ناپید ہے۔ لیکن اگر کوئی تواضع، تکبر،ذلت نفس اوردیگر قلبی امور کے بارے میں آگاہی چاہتاہے تواسے چاہیے کہ بانی ٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولاناابو بلال محمد الیاس عطارقادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے اصلا حی بیانا ت کی کیسٹیں اور کُتُب ورَسائل سے اِستفادہ کرے جن میں اَخلاقیات پر سیر حاصل گفتگو ہے۔نیزحُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنااِمام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی کُتُب مثلا ’’اِحْیَاءُ الْعُلُوْم اورکیمیائے سعادت‘‘وغیرہ میں بھی ان اُمور پرتفصیلیمواد موجود ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع