30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح مسواک کرنا، شہد کا استعمال رکھنا، گوند بمع شکر استعمال کرنا، نہار منہ21دانے کشمش کھانابھی حافظے کو قوی کرتا اورانسان کو بہت سے امراض سے شفا دیتاہے۔نیز ان چیزوں کا کھانا بھی حافظہ کو قوی کرتاہے جو بلغم اور دیگر رطوبات کو کم کرتیں ہیں ۔
وہ چیزیں جو نسیان پیداکرتی ہیں ان میں کثرت سے گناہ کرنا، دنیاوی امور میں ہر وقت مغموم ومتفکر رہنا، غیرضروری چیزوں میں مشغولیت رکھنا، دنیاسے محبت رکھنا، بلغم پیدا کرنے والی اشیاء کا استعما ل کرناخاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں کہ طالب علم کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ دنیاوی امور کے بارے میں فکر وغم کرے کیونکہ دنیاوی امور کی فکر کرنا سراسر نقصان دہ ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ فکردنیا دل کی سیاہی کا موجب ہوتی ہے۔جبکہ فکر آخرت تونورِقلب کا باعث ہوتی ہے اوراس نور کا اثر نماز میں ظاہر ہوتاہے کہ دنیا کا غم اسے خیر سے منع کررہا ہوتاہے جبکہ آخرت کی فکر اسے کار خیر کی طرف ابھار رہی ہوتی ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ نماز خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنا اور تحصیل علم میں لگے رہنا فکر وغم کو دور کردیتاہے۔
حضرت سیِّدُنانصربن حسن مرغینانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اپنے قصیدے میں فرماتے ہیں :
اِعْتَنِ نَصْرَبْنَ حَسَن بِکُلِّ عِلْمٍ یُّخْتَزَن
ذَاکَ الَّذِیْ یَنْفِی الْحَزَن وَغَیْرُہُ لَا یُؤْتَمَن
ترجمہ : (۱)…اے نصر بن حسن ہر ایسے علم کو سیکھنے کا اہتما م کرو جوکہ محفوظ کیا جاسکے ۔
(۲)…یہی وہ عمل ہے جو فکر وغم کو دورکرتاہے ، اسکے علاوہ دیگر کاموں کا کوئی اعتبار نہیں ۔
اِمامِ اَجَلّ حضرت سیِّدُنانجم الدین عمر بن محمد نسفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے ایک مرتبہ اپنی اُمِّ ولد لونڈی سے فرمایا :
سَلَامٌ عَلٰی مَنْ تَیَّمَتْنِیْ بِطَرْفِھَا وَلَمْعَۃِ خَدَّ یْھَاوَلَمْحَۃِ طَرْفِھَا
سَبَتْنِیْ وَاَصْبَتْنِیْ فَتَاۃٌمَلِیْحَۃٌ تَحَیَّرْتِ الْاَوْھَامُ فِی کُنْہِ وَصْفِھَا
فَقُلْتُ ذَرِیْنِیْ وَاعْذُرِیْنِیْ فَاِنَّنِی شُغِفْتُ بِتَحْصِیْلِ الْعُلُوْمِ وَکَشْفِھَا
وَلِی فِی طِلَابِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ وَالتُّقَی غِنًی عَنْ غِنَائِ الْغَانِیَاتِ وَعَرْفِھَا
ترجمہ : (۱)…سلام اس پر کہ جس کے رخساروں کی شادابی اورنگاہوں کی وجاہت نے مجھے گروید ہ بنا لیا ہے ۔
(۲)…ایک خوبصورت ماہ جبیں نے مجھے اپنے عشق میں گرفتار کرلیا ہے کہ جس کے اوصاف کی حقیقت دیکھ کر عقلیں بھی حیران ہیں ۔
(۳)…لیکن میں نے اس سے کہہ دیا کہ مجھے چھوڑ دے اوراپنی محبت سے مجھے آزاد کردے کیونکہ میں اب علم حاصل کرنے اور اس کے غوامض کو عیاں کرنے میں مگن ہوں ۔
(۴)…اِکتساب علم وفضل اورتقویٰ نے مجھے حسین وجمیل عورتوں کے نغموں اورمسحور کن خوشبوؤں سے بے نیاز کردیاہے ۔
علم کو بھول جانے کے اَسباب میں سے چند یہ ہیں :
تردھنیا کھانا، کھٹے سیب کھانا، پھانسی چڑھے کی طرف دیکھنا، قبر کی تختیاں پڑھنا، اونٹوں کی قطارکے درمیان سے گزرنا، زندہ جوؤں کو یونہی زمین پر چھوڑ دینا اور گدی پر پچھنے لگوانایہ تمام باتیں نسیا ن پیدا کرتی ہیں ۔
رزق کو حاصل کرنے اور روکنے اوراسے بڑھانے
رزق میں تنگی لانے والے اَسباب :
ایک طالب کے لئے خوراک بھی ضروری چیز ہے۔نیز ان چیزوں کی معرفت بھی ضروری ہے جو رزق کی زیادتی اورعمروصحت میں اضافے کا موجب ہوں تاکہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کی طرف متوجہ رہے۔عُلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے اس موضوع پربڑی بڑی اورضخیم کُتُب تحریر کی ہیں لیکن میں ان میں سے بعض باتوں کو یہاں نقل کرتاہوں ۔
حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’لَایَرُدُّالْقَدْرَاِلاَّالدُّعَاءُ وَلَایَزِیْدُفِی الْعُمْرِاِلاَّالْبِرُّفَاِنَّ الرَّجُلَ لَیُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ یُصِیْبُہٗ.یعنی : دعاسے تقدیر پلٹ جاتی ہے اورنیکیوں سے عمر میں اضافہ ہوتاہے۔ بے شک بندہ گناہ کی وجہ سے اس رزق سے بھی محروم ہوجاتاہے جو اسے پہنچنا ہوتاہے۔‘‘ ([1])
اس حدیث پاک سے ثابت ہواکہ گناہوں کا اِرتکاب کرنارزق کی محرومی کا سبب بنتاہے۔خصوصاًجھوٹ جیسا گناہ کہ جھوٹ بولنا فقرو محتاجی کوپیدا کرتاہے۔
اس کے بارے میں تو حدیث شریف بھی وارد ہے۔ اسی طرح صبح کے وقت سونا بھی رزق سے محرومی کا سبب بنتاہے اورکثرت نوم کی عادت بھی فقر و محتاجی کو پیدا کرتی ہے۔نیز کثرت نوم سے جہالت بھی پیداہوتی ہے ۔
ایک شاعر کہتاہے :
سُرُوْرُالنَّاسِ فِی لُبْسِ اللِّبَاسِ وَجَمْعُ الْعِلْمِ فِی تَرْکِ النُّعَاسِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع