دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Rah e Ilm | راہ علم

book_icon
راہ علم

مٹھائیاں وغیرہ بھیجتے رہتے تھے اوران سے عرض کرتے کہ بس میرے بیٹے کے لئے دعا فرمایا کریں ۔ ان کی سخاوت ، حسن عقید ت اورگریہ وزاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بیٹے یعنی حضرت سیِّدُنااِمام شمس الائمہ حلوانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے علم کے اعلیٰ مدارج کو طے کیا اوروہ اپنے وقت کے مایہ ناز عالم ثابت ہوئے۔نیز مالدار حضرات کو چاہیے کہ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَامکو کتابیں خریدکردیں ۔نئی کتابوں کی اِشاعت کروائیں کہ یہ سب کچھ علم وفقہ کی اِشاعت کے لئے نہایت معاون ثابت ہوگا۔

        حضرت سیِّدُنااِمام محمد بن حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بارے میں آتاہے کہ آپ اتنے مالدار تھے کہ300 افراد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مال کے حساب وکتاب پر مامور تھے لیکن انہوں نے اپنا سارامال علم وفقہ کی ترویج واِشاعت کے لئے خرچ کردیا حتی کہ ان کے پاس کپڑوں کا کوئی عمدہ جوڑا بھی باقی نہ رہا۔

         ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنااِمام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے انہیں نہایت پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھاتوآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان کے لئے ایک عمدہ جوڑا بھجوادیا لیکن آپ نے اسے قبول کرنے سے انکارکردیااورفرمایاکہ’’کچھ لوگوں کو یہ نعمتیں پہلے دے دی گئیں مگر ہمیں یہ نعمتیں آخرت میں ملیں گی۔‘‘باوجود یہ کہ تحفہ قبول کرنا سنت ہے مگر پھر بھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے قبول نہ کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ا س میں تذلیلِ نفس کا پہلو نکلتا تھاجو کہ ناجائز ہے کیونکہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’لَیْسَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَنْ یُّذِلَّ نَفْسَہٗ۔یعنی : مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے نفس کو ذلت میں ڈالے۔‘‘ ([1])

        منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناشیخ فخرالاسلام ارسا بندیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے زمین پر پڑے ہوئے تربوز کے چھلکوں کو جمع فرمایا اور انہیں دھو کر تناول فرمالیا ۔ قریب ایک لونڈی کھڑی یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی اس نے جاکر یہ سارا ماجرا اپنے آقا کو سنایا آقا نے یہ سنتے ہی ان کے لئے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا اور انہیں اپنے ہاں کھانے پر طلب کیاتاکہ ان کی خدمت کی جاسکے۔لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی عزت نفس کی وجہ سے دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔

        لہٰذاایک طالب علم کو بھی غیرت مندہوناچاہیے اوراپنی عزت نفس کی حفاظت کرنی چاہیے اورلوگوں کے مال پر نظر طمع نہیں رکھنی چاہیے۔

        سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اِیَّاکَ وَالطَّمْعَ فَاِنَّہٗ فَقْرٌحَاضِرٌ. یعنی : لالچ سے بچو (کہ تم فقر سے بچنے کے لئے طمع کرتے ہومگر)طمع بذات خود فقرِ حاضر ہے۔‘‘  ([2])

        لہٰذاجس کے پا س مال واسباب ہوں اسے بخل سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ اسے اس مال کو اپنے اوپر اوردوسروں پر خرچ کرتے رہنا چاہیے۔

        شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’اَلنَّاسُ مِنْ خَوْفِ الْفَقْرِ فِی فَقْرٍ۔یعنی : لوگ     محتاجی کا خوف کرتے کرتے محتاج ہوگئے۔‘‘

        پہلے زمانہ میں طلبہ کا یہ طریقہ کارتھا کہ پہلے کوئی کام سیکھتے اوراس کے بعد تحصیل علم کی طر ف متوجہ ہوتے تھے تاکہ لوگوں کے مال کی طرف حرص پیدا نہ ہو۔ ویسے بھی حکمت ودانائی کی ایک بات یہ بھی ہے کہ جو دیگر لوگوں کے مال سے امیر بنناچاہتاہے وہ بجائے امیر بننے کے مفلس وفقیر ہوجاتاہے۔اگر کوئی عالم لالچی ہوگاتونہ وہ علم کی عزت وآبروکا پاس رکھ سکتاہے اورنہ ہی وہ کوئی حق بات کہہ سکتا ہے ۔ اسی وجہ سے  اللہ    عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عنِ الْعُیُوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تعلیم امت کے لئے طمع سے پناہ مانگاکرتے تھے ۔اور یوں دعاکیاکرتے تھے : اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ طَمْعٍ یُّدْنِیْ اِلٰی طَبْعٍ۔یعنی : میں اس حرص سے  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتاہوں جو عیب دار کردے۔‘‘  ([3])   

        ایک مسلمان کے لئے لازمی ہے کہ  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے علاوہ کسی اورسے امید نہ رکھے اورنہ ہی  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے علاوہ کسی سے ڈرے ۔ اس بات کا فیصلہ کہ انسان صرف  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  ہی سے امید رکھتاہے اورصرف  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ ہی سے ڈرتا ہے، تب ہوگاکہ جب یہ دیکھا جائے کہ یہ شخص حد شرع سے تجاوزکرتاہے یا نہیں ؟ وہ اس طرح کہ بندہ اگر  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کی نافرمانی مخلوق کے ڈر سے کرتاہے تو پھر یقینا غیراللّٰہ سے ڈرتاہے اوراگر یہ شخص  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی مخلوق کے ڈر سے نہیں کرتا اورحد شرع کا بھی لحاظ رکھتاہے تو تب جاکر یہ ثابت ہوگا کہ یہ بندہ غیراللّٰہ سے نہیں صرف  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتاہے ۔اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے رجاء کا معاملہ ہے۔

        ایک طالب علم کو چاہیے کہ وہ تکرار کرنے کی تعداد اورمقدار سبق کو متعین کر لے کیونکہ قلب میں علوم اس وقت تک راسخ نہیں ہوسکتے جب تک اَسباق کا اچھی طرح تکرار نہ کرلیا جائے۔

        ایک طالب علم کو چاہیے کہ وہ گزشتہ سبق کا دن میں پانچ بار تکرار کرے جبکہ پرسوں کا سبق چاربارتکرارکرے اورترسوں کاسبق تین مرتبہ اوراس سے پہلے والے سبق کا دومرتبہ اورگزشتہ چھٹے روز کا سبق ایک بار روزانہ ضرور تکرار کرے۔یہ طریقہ کار علم کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

        ایک طالب علم کو دل ہی دل میں تکرار کرنے کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ سبق پڑھتے وقت اورتکرارکرتے وقت چستی وتوانائی سے کام لینا چاہیے لیکن یہ بھی نہ ہوکہ اتنی زور زور سے سبق پڑھا جائے یا تکر ار کی جائے کہ بندہ جلد ہی تھک جائے اورسبق یا دکرنا چھوڑ دے بلکہ(حدیث مبارکہ)خَیْرُالْاُمُوْرِاَوْسَطُھَا  (1) کے  تحت میانہ روی سے کام لینا چاہیے۔

        حکایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت سیِّدُنااِمام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے ساتھ علمی مذاکرہ فرمایا کرتے تھے تو خوب چستی اورتوانائی کا مظاہرہ فرماتے تھے اورخوب ہشاش بشاش نظر آتے ۔ایک مرتبہ ان کے داماد بھی ان کے مذاکرہ میں موجود تھے۔ وہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ’’میں حیران ہوں کہ یہ پانچ دن سے بھوکے ہیں لیکن اس کے باوجود اتنے ہشاش بشاش نظر آرہے ہیں ۔‘‘

        ایک طالب علم کو تحصیل علم کے دوران کبھی رخصت وناغہ بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اس کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔

        شیخ الاسلام حضرت سیِّدُنااِمام برہان الدینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے تمام رفقاپر صرف اس لئے فوقیت لے گیاکہ میں نے تحصیل علم کے دوران کبھی چھٹی نہیں کی۔

 



[1]      المعجم الکبیر، الحدیث : ۱۶۳، ۱۶۴، ج۱۹، ص۸۱.

[2]      المعجم الاوسط، الحدیث : ۷۷۵۳، ج۵، ص۴۰۳.

[3]      المسندللامام احمدبن حنبل، حدیث معاذبن جبل، الحدیث : ۲۲۰۸۲، ج۸، ص۲۳۷.

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن