دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Rah e Ilm | راہ علم

book_icon
راہ علم

محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کے پاس تھی ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سے پوچھا کہ’’ابھی تمہیں حضرت سیِّدُنا اِمام ابویوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی فقہ میں سے کچھ یاد ہے۔‘‘ لونڈی کہنے لگی کہ’’کچھ اورتو یا دنہیں صرف اتنا یاد ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ : سَھْمُ الدَّوْرِسَاقِطٌ۔یعنی : حصہ دوراں معتبر نہیں ۔‘‘

   

        پس حضرت سیِّدُنااِمام محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَدنے اس مسئلے کو یاد کرلیا کیونکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود اس مسئلے میں الجھے ہوئے تھے او رلونڈی کی اس بات سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے سارے اِشکال دورہوگئے۔ تو اس حکایت سے معلوم ہوا کہ اِستفادہ ہرکسی سے کیا جاسکتاہے ۔

        ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا اِمام ابویوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ ’’آپ نے اتنا علم کیسے حاصل کرلیا ؟‘‘تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا :  ’’مَا اسْتَنْکَفْتُ مِنَ الْاِسْتِفَادَۃِ وَمَا بَخِلْتُ بِالْاِفَادَۃِ.یعنی : میں نے سیکھنے میں عار محسوس کی نہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں بخل کیا ۔‘‘

        ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے پوچھاگیا کہ ’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اتنا علم کیسے حاصل کیا؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’بِلِسَانٍ سَؤلٍوَّقَلْبٍ عُقُوْلٍ۔یعنی : بہت زیادہ سوال کرنے والی زبان اور بیدار دل کے ذریعے۔‘‘

            پہلے زمانے میں طالب علم کو کثرت سوال کی وجہ سے’’مَا تَقُوْل‘‘کے نام سے پکارا جاتاتھا کیونکہ طالب علموں کی عادت تھی وہ کثرت سے :  ’’مَا تَقُوْلُ فِی ھٰذِہِ الْمَسْئَلَۃِ  (یعنی : آپ اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟)کہا کرتے تھے ۔‘‘

        خودحضرت سیِّدُنااِ مام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم اس وجہ سے بہت بڑے فقیہ بنے کہ جب وہ کپڑے بیچا کرتے تھے تو اس وقت بھی اپنی دکان میں بکثر ت علمی مباحثے ومناظرے فرمایا کرتے تھے ۔ اس بات سے معلوم ہوا کہ تحصیلِ علم وفقہ کا کاروبار کے ساتھ جمع ہونا ممکن ہے ۔      

        حضرت سیِّدُنا اِمام ابو حفص کبیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِِ الْقَدِیْرکی عادت تھی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب کسبِ معاش کے لئے نکلتے تھے تو کسب کے ساتھ ساتھ تکرار بھی فرمایا کرتے تھے ۔ اگر طالب علم کو اپنے اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کام کرنا پڑے تو اسے چاہیے کہ وہ کام کاج بھی کرے اورساتھ ساتھ تکرار بھی کرتا جائے اورعلمی مذاکرہ بھی کرتا رہے اس میں ہرگز سستی نہ کرے ۔ علم وفقہ سیکھنے کے ترک پر ایک سالم البدن اورصحیح العقل کا کوئی عذرقبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حضرت سیِّدُنااِمام ابویوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے زیادہ توکوئی فقیر نہ ہوگا پھر بھی تنگدستی اورفقرانہیں تحصیلِ علم سے نہ روک سکی۔

        جس شخص کے پاس بیش بہا مال ہو تو یہ پاکیزہ مال اس مر دکے حق میں کیا ہی اچھاہے جو اسے علم کے راستے میں خرچ کرتاہے ۔ ایک عالم صاحب سے پوچھا گیاکہ’’آپ نے اتنا علم کیسے حاصل کیا؟‘‘تو انہوں نے فرمایا : ’’ایک غنی باپ کی وجہ سے۔‘‘ کیونکہ وہ اپنے غَناکے سبب سے اہلِ علم کے ساتھ حسنِ سلوک رکھتے تھے۔لہٰذاان کا یہ عمل علم میں زیادتی کا سبب بنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل وعلم کی نعمت پر یہ عمل اظہار شکرتھااور شکر تو زیادتی ہی کا سبب ہواکرتاہے ۔

        حضرت سیِّدُنااِمام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کا فرمان ہے کہ’’بے شک میں نے علم کو حمد وشکر کے سبب ہی حاصل کیا ہے۔وہ اس طرح کہ جب بھی میں کوئی علمی بات سمجھ لیتا اور اس کی تہہ تک پہنچ جاتاہوں تو اس کے بعداَلْحَمْدُلِلّٰہ!   ضرور کہتا ہوں ۔ پس میراعلم بڑھتاچلاگیا۔‘‘لہٰذاطالب علم کوچاہیے کہ وہ اپنی زبان، دیگر اعضاء اور مال کے ذریعے اظہار تشکر کرتا رہے اورعلم و فہم کو  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے عطیہ سمجھے اور اللہ   عَزَّ وَجَلَّ سے ہدایت کی دعا کرتا رہے اور اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے حضور دعا وگریہ وزاری کو اپنا معمول بنائے رکھے۔ بے شک جو اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  سے ہدایت طلب کرتاہے  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ اسے ضرور ہدایت دیتاہے۔ اہلِ حق (جوکہ اہلسنت وجماعت ہی ہیں )نے  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ سے جو کہ درحقیقت ہدایت دینے والا اور گمراہی سے بچانے والا ہے ہدایت طلب کی تو اللہ   عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں ہدایت عطافرمائی اور انہیں گمراہی سے محفوظ فرمادیاجبکہ گمراہ فرقے اپنی رائے وعقل کے گھمنڈ میں مبتلا رہے انہوں نے حق کو ایک مخلوقِ عاجز یعنی عقل کے ذریعے تلاش کرنا چاہا لہٰذا گمراہ ہوگئے ۔

        عقل اس وجہ سے عاجز ہے کہ عقل تمام اشیاء کا ادراک نہیں کرسکتی جیسا کہ کسی کی نگاہ تمام اشیاء کو نہیں دیکھ سکتی۔پس عقل کے ذریعے حق کوطلب کرنے پر حق ان سے مخفی رہا اورجب وہ لوگ معرفتِ حق سے عاجز ہوگئے توخود بھی گمراہ ہوئے اوردوسروں کو بھی گمراہ کیا۔

        حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ اَفلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ عَرَفَ رَبَّہٗ۔یعنی :  جو اپنے آپ کو پہچان لے وہ رب  عَزَّ وَجَلَّ کو بھی پہچان لیتاہے ۔‘‘  ([1])

        مطلب یہ کہ جب بندہ خود کوپہچان لیتاہے تو رب   عَزَّ وَجَلَّ  کی معرفت اسے خود بخود حاصل ہوجاتی ہے ۔لہٰذابندے کوکبھی بھی اپنے آ پ پر اوراپنی عقل پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے بلکہ  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ ہی پر توکل کرنا چاہیے اور اسی سے حق طلب کرنا چاہیے کیونکہ  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  قرآن پاک میں ارشادفرماتاہے :     

وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ

ترجمہ کنزالایمان : اورجو اللہ پربھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے۔

        اور خداعَزَّوَجَلَّ اسے سیدھی راہ دکھاتاہے۔ اگر کوئی مالدار ہے تو اسے بخل سے ہرگز کام نہیں لینا چاہیے بلکہ ہمیشہ بخل سے  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

        سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا : ’’اَیُّ دَائٍ اَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ۔یعنی :  بخل سے بڑھ کر اورکونسی بیماری نقصان دہ ہے۔‘‘  ([2])

        حضرت سیِّدُنااِمام شمس الائمہ حلوانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے والد بہت مفلس اورتنگدست تھے اور مٹھائی بناکربیچا کرتے تھے ان کی عادت تھی کہ اکثر وبیشتر فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو



[1]      کشف الخفاء  ، الحدیث : ۲۵۳۰، ج۲، ص۲۳۴.

[2]      المعجم الکبیر، الحدیث : ۱۶۳، ۱۶۴، ج۱۹، ص۸۱.

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن