30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)…اورجب کبھی کسی چیز کو یاد کرو تو اس کو خوب دہراؤ پھر اس کو جس قد ر پختہ کر سکتے ہو کرلو۔
(۳)…پھر اس کو نوٹ کر لو تاکہ تم ہمیشہ اپنے درس کو پاسکو۔
(۴)… اورجب تو ا س سبق کے فو ت ہوجانے سے بے خوف ہوجائے تو نئی شے کی تحصیل کی طرف جلدی کر۔
(۵)…ساتھ ساتھ جو گزر چکا اس کا بھی تکرار ہوناچاہیے مزید ہمت کا اہتمام کرتے ہوئے ۔
(۶)…اورلوگوں سے علمی مذاکرات جاری رکھو تاکہ علوم زندہ رہیں اورکبھی بھی ذی فہم لوگوں سے دور نہ رہو۔
(۷)… اگر تونے علوم کو چھپایا تو یاد رکھ کہ تو اسے بھول جائے گاپھر تو جاہل اورکند ذہن کے سوا کچھ نہ سمجھا جائے گا۔
(۸)…پھر ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تمہیں آگ کی لگام پہنائی جائے اور تم شدید عذاب میں گرفتار ہوجاؤ۔
طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ مذاکرہ ، مناظرہ اورعلمی مقابلہ کرتا رہے پس مناسب یہ ہے کہ ان امور کو غور وفکر اورتامل کے ساتھ انجام دے اورغصہ اور ہنگامہ آرائی سے اِجتناب کرے کیونکہ یہ مناظرہ و مذاکرہ تو ایک طرح علمی مشاورت ہے اورمشاورت توراہِ صواب حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے اور راہِ صواب صرف انصاف اورغوروفکر ہی سے حاصل ہوسکتی ہے نہ کہ غصہ اورہنگامہ آرائی کے ذریعے۔ اگرمناظرہ کرتے وقت کسی کی نیت یہ ہوکہ مد ِمقابل کو زیر کیا جائے تو اس کے لئے مناظرہ کرنا جائز نہیں مناظرہ صرف اظہارِ حق کے لئے جائز ہے ۔مناظرہ میں خلاف واقع بات کرنا یا حیلہ وغیرہ کرنا جائز نہیں مگر جب مد ِمقابل طالب حق نہ ہو بلکہ سرکش ہوتو اس وقت جائز ہے ۔
حضرت سیِّدُنااِمام محمد بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی مشکل سوال پیش کیا جاتااورانہیں جو اب معلوم نہ ہوتا تو یوں فرماتے : ’’ مَااَلْزَمْتَہُ ُ لَازِمٌ وَّاَنَافِیْہِ نَاظِرٌ وَّفَوْقکُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ۔یعنی : تو نے جو کچھ وارد کیا وہ واقعی لازم ہے میں اس میں نظر کروں گا بے شک ہر جاننے والے کے اوپر جاننے والا ہے ۔‘‘
مناظرہ اور مطارحہ(علمی مقابلہ)صرف تکرار کرنے کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں تکرار کے ساتھ ساتھ معلومات میں بھی اضافہ ہوتاہے ۔کہا جاتاہے کہ’’مُطَارَحَۃُ سَاعَۃٍ خَیْرٌ مِّنْ تَکْرَارِ شَہْرٍ۔یعنی : ایک گھڑی علمی مقابلہ کرنا ایک ماہ کی تکرار سے بہترہے ۔‘‘
لیکن یہ اس وقت ہے جب مناظرہ کسی منصف اورسلیم الطبع آدمی کے ساتھ ہو اورخبردار کسی ذلت پسنداور غیرمستقیم الطبع شخص کے ساتھ مذاکرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ طبیعت اثر کو قبول کرتی ہے اورخصلتیں متعدی ہوتی ہیں اور صحبت ایک دن ضرور رنگ لے آتی ہے۔
حضرت سیِّدُناخلیل بن احمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کا وہ شعر جسے ہم نے ماقبل ذکر کیا تھا بہت زیادہ فوائدوثمرات کا حامل ہے ۔ایک شاعر کہتاہے :
اَلْعِلْمُ مِنْ شَرْطِہٖ لِمَنْ خَدَمَہٗ اَنْ یَّجْعَلَ النَّاسَ کُلَّھُمْ خَدَمَہٗ
ترجمہ : علم کی شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ جو علم کی خدمت کرے گاایک دن تمام لوگ بھی اس کے خادم ہوں گے ۔
طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ ہر وقت علمی باریکیوں میں سوچ بچار کرنے کو اپنی عادت بنائے رکھے کہ بے شک باریکیاں سوچ بچارہی سے سمجھ میں آئیں گی ۔
اسی وجہ سے کسی نے کہاہے کہ’’تَأَمَّلْ تُدْرِکْ۔یعنی : سوچ وبچار کیا کرو خود ہی سمجھ جاؤگے۔‘‘
اورگفتگو سے پہلے تو لازمی طور پر غور کرلینا چاہیے تاکہ کلام بامقصد ہوکیونکہ گفتگو کی مثال تیرکی طرح ہے ا س لئے چاہیے کہ منہ سے الفاظ نکالنے سے پہلے سوچ و بچار کرلیا جائے تاکہ بو لے گئے الفاظ بامقصد ثابت ہوں ۔ صاحب اصول فقہ فرماتے ہیں کہ’’ ایک فقیہ اورمناظرکے لئے تمام چیزوں کی اصل یہ ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کلام کرے۔‘‘کسی نے یوں بھی کہا ہے کہ’’رَأْسُ الْعَقْلِ اَنْ یَّکُوْنَ الْکَلَامُ بِالتَّثَبُّتِ وَالتَّأَمُّلِ۔ یعنی : عقل کے لئے اصل یہ ہے کہ بندے کا کلام سوچ سمجھ اور پختگی کے ساتھ ہو۔‘‘
ایک شاعر کہتاہے :
اُوْصِیْکَ فِی نَظْمِ الْکَلَامِ بِخَمْسَۃٍ اِنْ کُنْتَ لِلْمُوْصِی الشَّفِیْقِ مُطِیْعًا
لَا تُغْفِلَنْ سَبَبَ الْکَلَامِ وَوَقْتَہٗ وَالْکَیْفَ وَالْکَمَّ وَالْمَکَانَ جَمِیْعًا
ترجمہ : (۱)… اگر تو شفیق ناصح کی بات مانے تو میں تجھے طرز گفتگو سے متعلق پانچ چیزیں وصیت کرتاہوں ۔
(۲)…پس کبھی بھی ان سے غفلت نہ کرنا وہ یہ کہ کلام کرنے سے پہلے ضرورت کا لحاظ، وقت گفتگو کا خیال ، طرز گفتگو ، مقدار گفتگو اورمکان یعنی متقضٰی حال کو پیش نظر رکھنا۔
طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ ہمہ وقت کسی نہ کسی سے اِستفادہ کرتا رہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے کہ’’اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ اَیْنَمَا وَجَدَھَااَخَذَھَا۔ یعنی : علم وحکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے اسے جہاں پائے حاصل کرلے ۔‘‘ ([1])
کسی نے یوں کہاہے کہ : خُذْمَاصَفَاوَدَعْ مَاکَدُرَ۔یعنی : اچھائیوں کو تھامے رکھ اور گندگیوں سے کنارہ کر۔‘‘
خود میں نے حضرت سیِّدُناشیخ اِمام فخرالدین کا شانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے سنا وہ فرماتے تھے کہ حضرت سیِّدُنااِمام ابویوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ایک لونڈی امانت کے طور پرحضرت سیِّدُنااِمام
[1] سنن الترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ، الحدیث : ۲۶۹۶، ج۴، ص۳۱۴۔
فردوس الاخبار، الحدیث : ۲۵۹۲، ج۱، ص۳۵۲.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع