30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھانے میں کمی کرنے کے لئے یہ باتیں قابل ذکر ہیں کہ چربی دار اورروغنی اشیاء کا استعمال رکھا جائے۔ لذیذ ونفیس کھانوں کو پہلے کھایاجائے۔ بھوکے آدمی کے ساتھ کھانا نہ کھایا جائے۔یہ بات بھی یاد رہے کہ جب زیادہ کھانا کسی غرض صحیح کے لیے ہوتوزیادہ کھانے میں کوئی حرج بھی نہیں مثلاً بندہ زیادہ کھاکر اتنی قوت پیداکرنا چاہتاہے کہ نماز، روزہ اوراعمال شاقہ کو احسن طریقے سے ادا کرسکے تو یقینا زیادہ کھانے میں کوئی حرج نہیں ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
سبق کو شروع کرنے کے طریقے ، سبق کی ترتیب اوراس کی مقدارکا بیان
استاذشیخ الاسلام حضرت سیِّدُنابرہان الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سبق بدھ ہی کے روز شروع فرمایا کرتے تھے اوراس بات پر ایک حدیث روایت کر کے اس پر استدلال فرمایا کرتے تھے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مَامِنْ شَیْ ئٍ بُدِیََٔ فِی یَوْمِ الْاَرْبَعَائِ إِلَّاوَقَدْتَمَّ۔ یعنی : کوئی ایسا عمل نہیں جس کی ابتدا بدھ سے ہوئی ہو اوروہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچا ہو ۔‘‘ ([1])
سبق شروع کرنے کا یہی طرز عمل حضرت سیِّدُنااِمام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کا تھا اورآپ اس حدیث کو اپنے اُستاذحضرت سیِّدُناشیخ قوام الدین احمد بن عبدالرشید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد سے روایت کرتے ہیں اورمیں نے چند باوثوق لوگوں سے سنا ہے کہ حضرت سیِّدُناشیخ ابویوسف ہمدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی ہر نیک کام کو بدھ کے روزپر موقوف کردیا کرتے تھے۔بدھ کو کچھ خصوصیت یوں بھی حاصل ہے کہ بدھ کادن وہ دن ہے جس دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نور کو پیدا فرمایا اور یوں یہ دن کفار کے حق میں منحوس اورمومنین کے حق میں مبارک ثابت ہوتاہے ۔
حضرت سیِّدُنااِمام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم حضرت سیِّدُناشیخ قاضی عمر بن ابو بکر زرنجی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے حکایت بیان کرتے ہیں کہ ابتدائی طلبہ کے لئے سبق کی مقدار اتنی ہوکہ جسے بآسانی دو مرتبہ اعاد ہ کرنے سے یاد کرسکیں ۔ اسی طرح درجہ بدرجہ ہر روز ایک کلمہ کا اضافہ کرتارہے یہاں تک کہ اگر سبق طویل اورزیادہ ہوجائے تو دومرتبہ اعادہ سے یاد ہوسکے ۔ بہر حال سبق آہستہ آہستہ درجہ بدرجہ بڑھاتا چلا جائے۔بصورت دیگر اگر ابتداہی میں سبق زیادہ کرلیااور اسے سمجھانے کے لئے اس سبق کو دس مرتبہ دہرانا پڑا تو پھر آخر تک وہ اس کا عادی ہوجائے گا اور یہ عادت پھر آسانی سے نہیں چھوٹے گی ۔کہا جاتاہے کہ’’اَلسَّبْقُ حَرْفٌ وَالتَّکْرَارُ اَلْفٌ۔ یعنی : سبق ایک حرف ہو اورتکرار ایک ہزار بار ہونی چاہیے۔‘‘
طالب علم کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ سبق کی ابتدااس چیز سے کرے جو اس کی فہم کے قریب تر ہو۔
حضرت سیِّدُناشیخ اِمام شرف الدین عقیلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرمایا کرتے تھے کہ’’ میرے نزدیک درست یہی ہے جو ہمارے مشائخ کرتے تھے کہ وہ ابتدائی طالب کے لئے مبسوط کتب سے اخذ کردہ مختصر مواد کا انتخاب فرماتے تھے کیونکہ یہ مواد سمجھنے اوریاد کرنے کے لئے زیادہ موزوں رہتاہے اوریہ طریقہ پریشانی سے بچانے والا ہے اورزیادہ تر لوگوں میں یہی رائج ہے ۔
طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ استاذسے سبق حاصل کرے اوربار بار اعادہ کرنے کے بعد اس کو لکھ کر قید کرلے کہ اس طرح کرنا بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔
طالب علم کو کوئی بھی ایسی چیز نہیں لکھنی چاہیے جو اس نے سمجھی نہ ہوکیونکہ اس طرح لکھ لینا طبیعت کی پریشانی اورذہانت کو کھودینے اورضیاع وقت کا موجب ہوگا ۔
طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے استاذ ہی سے سبق سمجھنے کی کوشش کرے یا خوب غوروفکر اورکثرت تکرار سے سبق کو سمجھنے کی کوشش کرے جب سبق کم ہوگا اورتکرار وتامل زیادہ ہوگاتوسبق سے متعلق فہم وادراک بھی اچھی طرح حاصل ہوگا۔کہا جاتاہے کہ’’حِفْظُ حَرْفَیْنِ خَیْرٌمِّنْ سَمَاعِ وِقْرَیْنِ وَفَھْمُ حَرْفَیْنِ خَیْرٌمِّنْ حِفْظِ وِقْرَیْنِ۔یعنی : دو ذخیرے کتابوں کے سن لینے سے بہتر دو حرف یاد کرلینا ہے اوردوذخیرے کتابوں کے یاد کرلینے سے بہتر دو حرف سمجھ لینا ہے۔‘‘
جب طالب علم سبق کے سمجھنے میں سستی سے کام لیتاہے اورایک دو مرتبہ بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا تو اب یہ اس کی عادت بن جاتی ہے اوراسے آسان ترکلام بھی سمجھ میں نہیں آتا لہٰذا طالب علم کو چاہیے کہ سبق کو سمجھنے میں سستی نہ کرے بلکہ محنت سے کام لے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرتا اورگڑگڑاتا رہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتاہے اورجو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے امیدیں وابستہ رکھے تو وہ مالک بحر وبر اسے مایوس نہیں فرماتا۔
اما م اَجَلّ حضرت سیِّدُناقوام الدین ابراہیم بن اسماعیل صغار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے حضرت سیِّدُناقاضی خلیل بن احمدسَجْزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے منقول اشعار ہمیں سنائے :
اُخْدُمِ الْعِلْمَ خِدْمَۃَالْمُسْتَفِیْدِ وَأََدِمْ دَرْسَہٗ بِعَقْلٍ حَمِیْدِ
وَاِذَامَاحَفِظْتَ شَیْئًااَعِدْہٗ ثُمَّ أَکِّدْ ہٗ غَایَۃَالتَّاکِیْدِ
ثُمَّ عَلِّقْہٗ کَیْ تَعُوْدَاِلَیْہِ وَاِلٰی دَرْسِہٖ عَلَی التَّابِیْدِ
وَاِذَامَاأَمِنْتَ مِنْہٗ فَوَاتًا فَانْتَدِبْ بَعْدَہٗ لِشَیْئٍ جَدِیْدِ
مَعَ تَکْرَارِمَاتَقَدَّمَ مِنْہٗ اِعْتِنَاءً بِشَأْنِ ھٰذَا الْمَزِیْدِ
ذَاکِرِالنَّاسَ بِالْعُلُوْمِ لِتَحْیَا لَا تَکُنْ مِّنْ اُولِی النُّھٰی بِبَعِیْدِ
اِنْ کَتَمْتَ الْعُلُوْمَ اُنْسِیْتَ حَتَّی لَاتَرَی غَیْرَجَاہِلٍ وَّبَلِیْدِ
ثُمَّ اُلْجِمْتَ فِی الْقِیَامَۃِ نَارًا وَتَلَھَّبْتَ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ
ترجمہ : (۱)…علم کی اس طرح خدمت کرو کہ جس طرح اس سے فائدہ حاصل کرنے والا خود محنت سے کام لیتاہے اپنے اسباق کو عقل حمید کی مدد سے ہمیشہ ہمیشہ پڑھتے رہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع