30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)…ہرگزعظمت علم کی انتہا کووہ شخص جو ملک کا حکمران اورقائد لشکر بھی ہو نہ پہنچ سکے گا۔
(۴)…میں تمہیں علم کے چند فضائل لکھواتا ہوں لہٰذا انہیں غور سے سنو کہ علم کے تمام فضائل ومناقب بیان کرنے سے میں عاجز وقاصر ہوں ۔
(۵)…علم تو ایک نور ہے اورہرنور اندھیروں میں راہ دکھاتاہے جبکہ جاہل عمربھر جہالت کے اندھیروں میں رہتاہے ۔
(۶)… علم ایک ایسی بلند پایہ چوٹی ہے جو ہر اس شخص کو پناہ دیتی ہے جو اس سے پناہ طلب کرے ۔علم سے متصف شخص ہر قسم کے حادثات وخطرات میں بے خوف وخطر پھرتا رہتا ہے ۔
(۷)…جب لوگ غفلت میں پڑے ہوتے ہیں تو بندہ علم کے ذریعے ہی نجات حاصل کرتاہے ۔حالت نزع میں جبکہ روح سینے کی ہڈیوں تک آپہنچتی ہے بندہ علم کی بدولت مغفرت کی امیدرکھتاہے ۔
(۸)…علم ہی کی بدولت انسان ایسے گنہگار کی شفاعت کرے گا جو گناہ کرتے ہوئے دنیا سے گیا اور جہنم کے نچلے طبقے اور برے انجام تک پہنچ چکا ہو۔
(۹)…جس نے علم کو طلب کیا گویا اس نے تمام تر اَغراض ومقاصد کو طلب کر لیا پس جس نے علم کو جمع کیا تو گویا اس نے تمام مطالب ومقاصد کو جمع کرلیا۔
(۱۰)…اے صاحب عقل!علم تو ایک بلندپایہ منصب ہے جب تو اس منصب کو پالے گاتو کسی اور منصب کے نہ پانے کا غم نہ ہوگا۔
(۱۱)… اگر دنیا اور اس کی آسائشیں تجھ سے چھوٹ جائیں تو کوئی بات نہیں ان سے آنکھیں پھیرلے کہ تیرے پاس علم ہے جو کہ تمام نعمتوں میں بہترین ہے۔
ایک اورشاعر کہتاہے :
اِذَامَااعْتَزَّذُوْعِلْمٍ بِعِلْمٍ فَعِلْمُ الْفِقْہِ اَوْلٰی بِاِعْتِزَازِ
فَکَمْ طِیْبٍ یَّفُوْحُ وَلَاکَمِسْکِ وَکَمْ طَیْرٍیَّطِیْرُوَلَاکَبَازِی
ترجمہ : (۱)…جب اہل علم کسی علم کے ذریعے عزت حاصل کریں تو پھر علم فقہ بہترین سامان عزت ہے ۔
(۲)…یوں تو ساری خوشبوئیں مہکتی ہیں مگر مشک کی طرح کوئی خوشبو نہیں مہک سکتی۔ اڑتے تو سارے ہی پرندے ہیں مگر باز کی طرح کوئی اورنہیں اڑتا۔
ایک اورشاعر کہتاہے :
اَلْفِقْہُ اَنْفَسُ شَیْئٍ اَنْتَ دَاخِرُہٗ مَنْ یَّدْرُسُ الْعِلْمَ لَمْ تَدْرُسْ مَفَاخِرُہٗ
فَاکْسِبْ لِنَفْسِکَ مَااَصْبَحْتَ تَجْھَلُہٗ فَأََوَّلُ الْعِلْمِ اِقْبَالٌ وَّآخِرُہٗ
ترجمہ : (۱)… علم بڑی نفیس چیز ہے اسے تم جمع کرلو کیونکہ جو علم حاصل کرلیتاہے اس کے مفاخر اوراسبابِ شرافت مٹتے نہیں ۔
(۲)…جب تم کسی چیز کے متعلق نہ جانتے ہوتو اپنے لئے اس کی معلومات ضرور حاصل کرو بے شک علم کا اول وآخر سعادت ہی سعادت ہے ۔
لذت علم پر جو کچھ لکھا گیا ایک عاقل کو تحصیل علم کی طرف رغبت دلانے کے لئے کافی ہے۔
(1)…فاضل رطوبتیں اوربلغم انسان کے اندر سستی پیدا کرتی ہیں اورتقلیل طعام بلغم کو کم کرنے کا مجرب نسخہ ہے۔ ایک قول کے مطابق 70 انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس بات پر متفق ہیں کہ کثرت نسیان کثرت بلغم سے پیداہوتاہے اورکثرت بلغم زیادہ پانی پینے کی وجہ سے ہوتاہے اورپانی کے بکثرت پیئے جانے کی وجہ کثرت طعام ہے ۔
(2)…سوکھی روٹی کھانے سے بھی بلغم میں کمی واقع ہوتی ہے ۔
(3)…نہارمنہ کشمش کھانا بھی بلغم کوکم کرنے کے لئے مفید چیز ہے ۔
(4)…مسواک کرنا بھی بلغم کو دور کرتا، حافظہ اورفصاحت کو بڑھاتاہے ۔ کیونکہ مسواک کرنا بہت ہی پیاری سنت ہے اوراس سے نماز وتلاوت قرآن کا ثواب بڑھادیا جاتاہے ۔
(5)…قے بھی فاضل رطوبات اوربلغم میں کمی کا باعث بنتی ہے ۔
جو شخص کم کھانے کی عادت بنانا چاہتاہے اسے چاہیے کہ کم کھانے کے فوائد پیش نظررکھے۔صحت مند رہنا ، عفت سے متصف ہونااورایثار کے مواقعوں کا میسر آناکم کھانے کے فوائد میں سے چند ایک ہیں ۔
فَعَارٌثُمَّ عَارٌثُمَّ عَارٌ شَقَاءُ الْمَرْءِ مِنْ اَجَلِ الطَّعَامِ
ترجمہ : شرم !شرم !شرم!بندہ کی بدبختی صرف کھانے کی وجہ سے ہے ۔
حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ثَلَاثَۃُ نَفَرٍیُّبْغِضُھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ غَیْرِجُرْمٍ اَلْاَکُوْلُ وَالْبَخِیْلُ وَالْمُتَکَبِّرُ۔ یعنی : تین افراد ایسے ہیں کہ اگر وہ مزید گناہوں کا ارتکاب نہ بھی کریں تو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کو پسندنہیں فرماتا : (۱)زیادہ کھانے والا(۲)بخیل اور(۳)متکبر۔‘‘
بندے کو کم کھانے کے فوائدپر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ زیادہ کھانے کے نقصانات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ان نقصانا ت میں مختلف امراض کا سامنا اور طبیعت کا بوجھل پن قابل ذکر ہیں ۔ کہا جاتاہے : ’’ اَلْبِطْنَۃُ تُذْھِبُ الْفِطْنَۃَ ۔یعنی : پیٹ بھر کر کھانا حاضر دماغی کو کم کردیتاہے ۔‘‘
حکیم جالینوس سے حکایت ہے انہوں نے کہا کہ’’انار میں کثیر منافع ہیں جبکہ مچھلی میں بہت زیادہ نقصانات ہیں مگر تھوڑی سی مچھلی کھالینا ڈھیروں انار کھانے سے بہترہے۔‘‘
نیز زیادہ کھانے کے نقصانات میں سے ایک بڑی خرابی اِتلافِ مال ہے اور شکم سیری کے باوجود کھانا توسراسر نقصان کا باعث ہے اور ایسا بندہ آخرت میں عِقاب ہی کا مستحق ہے۔نیز زیادہ کھانے والا لوگوں میں ناپسند کیا جاتاہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع