30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں کہ’’علم کے فضائل ومناقب میں غور وفکر نہ کرنے سے سستی وکاہلی پیداہوجاتی ہے۔لہٰذاایک طالب علم کو چاہیے کہ محنت وکوشش اورمواظبت کے ساتھ ساتھ علم کے فضائل ومناقب میں غور وفکر کرتارہے کہ معلومات کا باقی رہنا ہی علم کی بقاء ہے ۔ ‘‘
اے عزیز طالب علم !مال توفنا ہونے والی چیزہے جیساکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :
رَضِیْنَاقِسْمَۃَالْجَبَّارِفِیْنَا لَنَاعِلْمٌوَّلِلْاَعْدَائِ مَالُ
فَاِنَّ الْمَالَ یَفْنَی عَنْ قَرِیْبٍ وَاِنَّ الْعِلْمَ یَبْقٰی لَایَزَالُ
ترجمہ : (۱)…ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس تقسیم پر راضی ہیں کہ ہمارے حصہ میں علم آیا اور دشمنوں کے حصہ میں مال ۔
(۲)…کیونکہ مال عنقریب فنا ہوجائے گا جبکہ علم ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گا۔
مال کے مقابلے میں علم نافع کے ذریعے بندے کو نیک نامی حاصل ہوتی ہے اوریہ نیک نامی اس کی موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے اوریہ ہی حیات ابدی ہے ۔
مفتی الائمہ حضرت سیِّدُناشیخ ظہیر الدین حسن بن علی عرف مرغینانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں :
اَلْجَاہِلُوْنَ فَمَوْتٰی قَبْلَ مَوْتِھِمْ وَالْعَالِمُوْنَ وَاِنْ مَّاتُوْافَاَحْیَاءُ
ترجمہ : جہلا مرنے سے پہلے بھی گویا مردے ہیں جبکہ عُلمااگرچہ دنیا سے تشریف لے جائیں وہ ذکر ِ خیر کے سبب زندہ رہتے ہیں ۔
شیخ الاسلام حضرت سیِّدُنابرہان الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں :
وَفِی الْجَھْلِ قَبْلَ الْمَوْتِ مَوْتٌ لِّاَھْلِہٖ فَاَجْسَامُھُمْ قَبْلَ الْقُبُوْرِقُبُوْرُ
وَاِنَّ امْرأً لَّمْ یَحْیَ بِالْعِلْمِ مَیِّتٌ وَلَیْسَ لَہٗ حِیْنَ النُّشُوْرِنُشُوْرُ
ترجمہ : (۱)…حالتِ جہالت موت آنے سے قبل ہی جاہلوں کے لئے موت ہے اور ان کے اجسام قبروں میں جانے سے پہلے ہی مثل قبرہیں ۔
(۲)…ایسا شخص جس کی وابستگی علم کے ساتھ نہ ہو وہ میت کی طرح ہے اور بروزِ قیامت (جو کہ اہل علم کے لئے انعام واکرام کا دن ہے )ایسے شخص کے لئے کوئی حصہ نہیں ۔
ایک شاعر کہتاہے :
اَخُوالْعِلْمِ حَیٌّ خَالِدٌبَعْدَمَوْتِہٖ وَاَوْصَالُہٗ تَحْتَ التُّرَابِ رَمِیْمُ
وَذُوالْجَھْلِ مَیِّتٌوَّھُوَیَمْشِیْ عَلَی الثَّرٰی یُظَنُّ مِنَ الْاَحْیَائِ وَھُوَعَدِیْمُ
ترجمہ : (۱)…علم سے وابستہ ہر فرد زندہ رہنے والا ہے اوراپنی موت کے بعد بھی وہ ہمیشہ زندہ رہے گا اگر چہ اس کی ہڈیاں بظاہر مٹی تلے فنا ہوجائیں ۔
(۲)…ایک جاہل زمین پر چلتے پھرتے بھی مردہ ہے وہ زندوں میں شمار ہونے کے باوجودمعدوم ہے ۔
ایک اورشاعر کہتاہے :
حَیَاۃُالْقَلْبِ عِلْمٌ فَاغْتَنِمْہٗ وَمَوْتُ الْقَلْبِ جَھْلٌفَاجْتَنِبْہٗ
ترجمہ : حیات قلب تو علم ہی پر منحصر ہے لہٰذا علم کو حاصل کر۔جہالت موت قلب ہے لہٰذا اس سے اجتناب کر ۔
شیخ الاسلام حضرت سیِّدُنابرہان الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں :
ذَاالْعِلْمِ اَعْلٰی رُتْبَۃًفِی الْمَرَاتِبِ وَمِنْ دُوْنِہٖ عِزُّالْعُلٰی فِی الْمَوَاکِبِ
فَذُوالْعِلْمِ یَبْقٰی عِزُّہٗ مُتَضَاعِفًا وَذُوالْجَھْلِ بَعْدَالْمَوْتِ تَحْتَ التَّیَارِبِ
فَھَیْھَاتَ لَایَرْجُوْمَدَاہٗ مَنِ ارْتَقٰی رُقِیََّ وَلِیِّ الْمُلْکِ وَاِلیَ الْکَتَائِبِ
سَأُمْلِیْ عَلَیْکُمْ بَعْضَ مَافِیْہِ فَاسْمَعُوْا فَبِیْ حَصَرٌعَنْ ذِکْرِکُلِّ الْمَنَاقِبِ
ھُوَالنُّوْرُوَکُلُّ النُّوْرِیَھْدِیْ عَنِ الْعَمَی وَذُوالْجَھْلِ مَرَّالدَّھْرِبَیْنَ الْغَیَاھِبِ
ھُوَالذِّرْوَۃُالشَّمَّاءُ تَحْمِیْ مَنِ الْتَجَا اِلَیْھَاوَیَمْشِیْ آمِناًفِی النَّوَائِبِ
بِہِ یَنْتَجِیْ وَالنَّاسُ فِیْ غَفَلَاتِھِمْ بِہِ یَرْتَجِیْ وَالرُّوْحُ بَیْنَ التَّرَائِبِ
بِہٖ یَشْفَعُ الْاِنْسَانُ مَنْ رَّاحَ عَاصِیًا اِلٰی دَرْکِ النِّیْرَانِ شَرِّالْعَوَاقِبِ
فَمَنْ رَامَہٗ رَامَ الْمَآرِبَ کُلَّھَا وَمَنْ حَازَہٗ قَدْ حَازَ کُلَّ الْمَطَالِبِ
ھُوَ الْمَنْصَبُ الْعَالِیْ فَیَاصَاحِبَ الْحِجَا اِذَانِلْتَہٗ ھَوِّنْ بِفَوْتِ الْمَنَاصِبِ
فَاِنْ فَاتَکَ الدُّنْیَاوَطِیْبُ نَعِیْمِھَا فَغَمِّضْ فَاِنَّ الْعِلْمَ خَیْرُ الْمَوَاھِبِ
ترجمہ : (۱)…اہل علم کا رتبہ تمام مراتب میں ارفع واعلیٰ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مراتب ریاست یا کسی جماعت کی سرداری کی طرح عارضی ہیں ۔
(۲)…اہل علم کی عزت وشہرت موت کے بعد بھی بڑھتی رہتی ہے جبکہ جاہل کی شان وشوکت موت کے بعد خاک میں دفن ہوکر فنا ہوجاتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع