30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انسان کو بلند پروازکے لئے بلند ہمتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔
ابوطیب کہتاہے :
عَلٰی قَدْرِاَھْلِ الْعَزْمِ تَأْتِی الْعَزَائِمُ وَتَأْتِی عَلٰی قَدْرِالْکِرَامِ الْمَکَارِمُ
وَتَعْظُمُ فِیْ عَیْنِ الصَّغِیْرِصِغَارُھَا وَتَصْغُرُفِیْ عَیْنِ الْعَظِیْمِ الْعَظَائِمُ
ترجمہ : (۱)…ہر بندہ اپنے ارادے کے مطابق ہی بڑے بڑے امور تک پہنچتاہے جس میں جتنی بزرگی ہوگی وہ اسی قدر بلند مرتبہ کو پہنچے گا۔
(۲)…چھوٹے چھوٹے کم ہمت افراد کو چھوٹے چھوٹے کام بھی بہت بڑے معلوم ہوتے ہیں اورباہمت افراد کی نظر میں بڑے سے بڑا کام کوئی وقعت نہیں رکھتا۔
اے عزیز طالب علم!ہر کام کے حاصل کرنے کے لئے بلند ہمت اورسخت محنت بنیادی چیزہے پس اگر کوئی شخص حضرت سیِّدُنااِمام محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کی تمام کتابوں کو یاد کرنے کی ہمت رکھتا ہواورسخت محنت اورمستقل مزاجی بھی اس کا ساتھ دے تو یہ ایک یقینی امر ہے کہ اگر وہ حرف بحرف یاد نہ کرسکا تو ان کا اکثر یا کم از کم نصف تو یاد کرہی لے گا۔ اس کے بخلاف اگر کوئی ارادے تو بڑے بڑے رکھتا ہے لیکن اپنے ارادوں کی تکمیل کے لئے محنت بالکل نہ کرتا ہویامحنت تو کرتا ہولیکن اس کے سامنے مقصد کوئی نہ ہوتویہ دونوں افراد سوائے تھوڑا سا علم حاصل کرنے کے مزید کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔
حضرت سیِّدُناشیخ رضی الدین نیشاپوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اپنی کتاب ’’مَکَارِمُ الْاَخْلَاق‘‘ میں یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ذوالقرنین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مشرق سے لے کر مغرب تک اپناتسلط قائم کرنے کے لئے سفر کرنے کا ارادہ کیا۔چنانچہ، انہوں نے حکماء سے مشورہ کیا کہ اس سلسلے میں مجھے کیاکرنا چاہیے اورکہاکہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ میں خواہ مخواہ اس تھوڑی سی مملکت کے لئے سفر کروں کیونکہ یہ دنیاتو قلیل، فانی اورحقیر شے ہے اس دنیا کو حاصل کرلینا نہ تو کوئی بھاری کام ہے اورنہ ہی یہ حصول بلند پایا امور میں سے ہے ۔‘‘ پس حکماء نے مشورہ دیا کہ’’ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اِعلاء کلمۂ حق کے لئے یہ سفر ضرور اختیار کرناچاہیے کہ اس طرح آپ کو دنیا وآخر ت دونوں میں حصہ نصیب ہوگا۔‘‘ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’یہ تجویز واقعی احسن ہے ۔‘‘
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یُحِبُّ مَعَالِی الْاُمُوْرِوَیَکْرَہُ سَفْسَافَھَا۔یعنی : اللہ عَزَّ وَجَلَّ بلند پایہ کاموں کو پسند کرتاہے اور حقیر وردی کا موں کو ناپسند فرماتاہے۔ ‘‘ ([1])
ایک شاعر کہتاہے کہ :
فَلَا تَعْجَلْ بِاَمْرِکَ وَاسْتَدِمْہُ فَمَاصَلَّی عَصَاکَ کَمُسْتَدِیْم
ترجمہ : تم اپنے کام میں عجلت نہ کرو بس اس کے حصول کے لئے مداومت برتو کیونکہ پابندی اوراستمرارہی سے لاٹھی کی کجی دور ہوتی ہے ۔
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنااِمام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے حضرت سیِّدُنا اِمام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا کہ’’تم تو بہت کند ذہن تھے مگر تمہاری کوشش اور مداومت نے تمہیں آگے بڑھایا۔لہٰذاہمیشہ سستی سے بچتے رہنا کہ سستی بہت بڑی آفت اور منحوس چیز ہے ۔‘‘
حضرت سیِّدُناشیخ اِمام ابو نصر صفار انصاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی اپنے شعر میں کچھ یوں فرماتے ہیں :
یَانَفْسِ یَانَفْسِ لَاتُرخِیْ عَنِ الْعَمَلِ فِی الْبِرِّوَالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ فِیْ مَھَلِ
لَکُلُّ ذِیْ عَمَلٍ فِی الْخَیْرِمُغْتَبِطٌ وَفِیْ بَلَائٍ وَّشُؤْمٍ کُلُّ ذِیْ کَسَلِ
ترجمہ : (۱)…اے نفس !فرصت کے وقت عمل کے معاملے میں سستی نہ کرخواہ نیکی ہو عدل ہویا احسان۔
(۲)…ہراچھاکام کرنے والے پر رشک کیا جاتاہے جبکہ سست لوگ بلاؤں اور نحوستوں میں گھرے رہتے ہیں ۔
مجھے بھی اس سلسلے میں چند اشعار کہنے کا اتفا ق ہواہے :
دَعِی نَفْسِی التَّکَاسُلَ وَالتَّوَانِی وَاِلاَّفَاثْبُتِیْ فِیْ ذِی الْھَوَانِ
فَلَمْ اَرَ لِلْکُسَالَی الْحَظَّ یُعْطِی سِوَی نَدَمٍ وَّحِرْمَانِ الْاَمَانِ
ترجمہ : (۱)…اے میر ے نفس !سستی اورکاہلی چھوڑدے ورنہ رسوائی ہی تیرا مقدر ہوگی۔
(۲)…میں نے آج تک نہیں دیکھا کہ کاہلوں کوکچھ ملاہوسوائے ذلت ورسوائی اور محرومی امان کے۔
ایک اورشاعر کہتاہے :
کَمْ مِّنْ حَیَاءٍ وَّکَمْ عَجْزٍوَّکَمْ نَدَمٍ جَمٍّ تَوَلَّدَلِلْاِنْسَانِ مِنْ کَسَلِ
اِیَّاکَ عَنْ کَسَلٍ فِی الْبَحْثِ عَنْ شُبَہٍ فَمَاعَلِمْتَ وَمَاقَدْشَذَّ عَنْ کَسَل
ترجمہ : (۱)…شرمندگی، عجزپن اور ندامت جیسی بہت سی خامیاں انسان کو اپنی سستی کی بدولت ملتی ہیں ۔
(۲)…بحث ومباحث میں درپیش شبہات کے معاملے میں سستی سے کام مت لو لہٰذا جوجانتے ہو یاجوتمہاری فہم سے دورہودونوں کے متعلق سوال کرو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع