30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ومباحثہ کیا کرتے تھے۔پس اس رات پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو17 بار وضو کرنا پڑا کیونکہ آپ بغیر وضو تکرار نہیں کیا کرتے تھے ۔
بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کو وضو سے اس وجہ سے محبت تھی کہ علم نور ہے اوروضو بھی نور۔پس وضو کرنے سے علم کی نورانیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔
طالب علم کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کتابوں کی طر ف پاؤں نہ کرے ۔ کتب تفاسیر کو تعظیماً تما م کتب کے اوپر رکھے اورکتاب کے اوپر کوئی دوسری چیز ہرگز نہ رکھی جائے ۔
ہمارے استاذ محترم شیخ الاسلام حضرت سیِّدُنااِمام برہان الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن اپنے مشائخ میں سے کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے حکایت بیان کرتے تھے کہ ایک فقیہ کی عادت تھی کہ دوات کوکتاب کے اوپر ہی رکھ دیا کرتے تھے توشیخ نے ان سے فارسی میں فرمایا : ’’برنیابی۔یعنی تم اپنے علم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔‘‘
ہمارے استاذمحترم اِمامِ اَجَلّ فخر الاسلام حضرت سیِّدُناقاضی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرمایا کرتے تھے کہ’’ کتابوں پر دوات وغیرہ رکھتے وقت اگر تحقیر علم کی نیت نہ ہو تو ایسا کرنا جائز ہے مگر اولیٰ یہ ہے کہ اس سے بچا جائے ۔‘‘
طالب علم کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی لکھائی کو عمدہ اورخوش خط بنائے بالکل باریک اورچھوٹاچھوٹا کر کے نہ لکھے اوربلا ضرورت حاشیہ کی جگہ ترک نہ کرے۔
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنااِمام اعظم عَلَیْہِِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے ایک شخص کو دیکھاجو بہت باریک باریک کر کے لکھ رہا تھا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سے فرمایا : ’’اپنے خط کو اس قد ربے ڈھنگا بناکر کیوں لکھ رہے ہو اگر تم زندہ رہے تو اس لکھائی کی وجہ سے ندامت اٹھاؤ گے اوراگر مرگئے تو تمہارے بعد تمہیں برا بھلا کہاجائے گااور جب تم بوڑھے ہوجاؤ گے اورتمہاری آنکھیں کمزور ہوجائیں گی تو تم خود اپنے اس فعل پر نادم وشرمندہ ہوگے ۔‘‘
حضرت سیِّدُنا شیخ مجد الدین سرحکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی سے حکایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ’’جب بھی ہم نے بے احتیاطی کے ساتھ باریک باریک اور چھوٹا چھوٹا کر کے لکھا تو سوائے شرمندگی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔جب کبھی ہم نے طویل کلام سے صرف تھوڑا سا حصہ منتخب کر کے پیش کیا تب بھی شرمندگی اٹھانی پڑی اور جب ہم نے کسی تحریر کا مقابلہ اصل نسخہ سے نہیں کیا ہم اس وقت بھی شرمندہ ونادم ہوئے۔‘‘
اے عزیزطالب علم !مناسب یہ ہے کہ کتاب وغیرہ کا سائز مربع ہوکیونکہ یہ حضرت سیِّدُنااِمام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کا پسندیدہ سائز ہے کہ ایسی کتاب کے اٹھانے، رکھنے اور مطالعہ کرنے میں سہولت رہتی ہے ۔نیزایک طالب علم کو سرخ سیاہی کا استعمال بھی نہیں کرنا چاہیے کہ سرخ سیاہی استعمال کرنا بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کا نہیں بلکہ فلاسفہ کا طریقہ کار ہے اورہمارے مشائخ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام میں سے بعض تو سرخ سیاہی کے استعمال کو مکروہ جانتے تھے ۔
شریکِ درس اسلامی بھائیوں کی تعظیم وتکریم بھی تعظیم علم ہی کاحصہ ہے ۔ یاد رہے کہ چاپلوسی اورخوشامدکرناایک مذموم کام ہے مگر علم دین حاصل کر نے کے لئے اگر خوشامد کی ضرورت پیش آئے تو طالب علم کو چاہیے کہ اپنے استاذ اورطالب علم اسلامی بھائیوں کی خوشامد کرے تاکہ ان سے علمی طور پرمستفید ہواجاسکے ۔
طالب علم کو چاہیے کہ وہ حکمت کی باتیں ادب واحترام کے ساتھ سنے اگرچہ وہ ایک مسئلے یا ایک کلمہ کو ہزار بار پہلے بھی سن چکا ہو۔
کسی دانا کا قول ہے کہ’’جس نے کسی علمی بات کو ہزار بار سننے کے بعد اس کی ایسی تعظیم نہیں کی جیسی تعظیم اس نے اس مسئلے کو پہلی مرتبہ سنتے وقت کی تھی تو ایسا شخص علم کا اہل نہیں ۔‘‘
اگر کوئی طالب علم کسی نئے فن کو سیکھنا چاہتاہے تو اسے چاہیے کہ اس فن کا اِنتخاب خود اپنی رائے سے نہ کرے بلکہ اس معاملے کو اپنے استاذ کے سِپُر د کردے کیونکہ ایک استاذان کاموں میں بہت تجربہ رکھتاہے وہ جانتاہے کہ کونساکام کس کے لئے مناسب ہے اوراس کام کے لئے کون زیادہ لائق ہے ۔
ہمارے استاذ محترم حضرت سیِّدُناشیخ برہان الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن فرمایا کرتے تھے کہ’’پہلے زمانے کے طالب علم اپنے تعلیمی امور کو اپنے اساتذہ کے سِپُرد کردیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ لوگ اپنی مراد کو بھی پہنچ جاتے تھے اور اپنے مقاصد بھی حاصل کرلیا کرتے تھے لیکن آج کل کے طلبہ استاذ کی رہنمائی کے بغیر مراد کو پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔لہٰذاایسے طالب علم نہ تو اپنے مقصود تک پہنچتے ہیں اورنہ ہی انہیں علم وفقہ سے کوئی آگاہی ہوتی ہے ۔‘‘
حکایت ہے کہ حضرت سیِّدُنااِمام محمدبن اسماعیل بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی حضرت سیِّدُنااِمام محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَدکی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے اورفقہ میں کتاب الصلوۃ سیکھنے لگے ۔حضرت سیِّدُنااِمام محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد نے جب ان کی طبیعت میں فقہ میں عدم دلچسپی اورعلم حدیث کی طرف رغبت دیکھی توان سے فرمایا : ’’تم جاؤ اورعلم حدیث حاصل کرو۔‘‘کیونکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اندازہ لگالیا تھا کہ ان کی طبیعت علم حدیث کی طرف زیادہ مائل ہے ۔ پس جب حضرت سیِّدُنااِمام بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے اپنے استاذ کا مشورہ قبول کیا اورعلم حدیث حاصل کرنا شروع کیا تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہتمام آئمہ حدیث سے سبقت لے گئے ۔
ایک طالب علم کو چاہیے کہ دوران سبق بلا ضرورت استاذ کے بالکل قریب نہ بیٹھے بلکہ استاذاورطالب علم کے درمیان کم از کم ایک کمان کا فاصلہ ہونا چاہیے کہ اس طرح بیٹھنے میں ادب کا پہلو غالب رہتاہے ۔
ایک طالب علم کو اخلاق ذمیمہ(برے اخلاق) سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ اخلاقِ ذمیمہ کی مثال معنوی طور پر کتے کی طرح ہے اورسرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’لَاتَدْخُلُ الْمَلٰئِکَۃُ بَیْتًافِیْہِ کَلْبٌ اَوْصُوْرَۃٌ۔یعنی : رحمت کے فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جہاں کتا یا تصویر ہو ۔ ‘‘ ([1])
لہٰذااخلاق ذمیمہ سے احتراز کرنا ضروری ہے کہ انسان علم کو فرشتے ہی کے ذریعے سیکھتاہے ۔ برے اخلاق کو جاننے کے لئے’’ کِتَابُ الْاَخْلَاق‘‘ کا مطالعہ کیا جائے کہ اس مختصر سی کتاب میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع