30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرح مضبوط کریں کہ اس سے جھنڈے کا کپڑا دُرُست رہتا ہے۔ جھنڈوں کی ڈنڈیاں بھی اتنی مضبوط نہیں ہوتیں اور اگر مضبوط ڈنڈی لو تو مہنگی پڑتی ہے جبکہ لوگ سستا پسند کرتے ہیں۔ میرے جھنڈے میں جو ڈنڈی لگی ہے یہ اسپیشل ہےکہ ایک اسلامی بھائی مجھے ہر سال کچھ جھنڈے بنا کر دیتے ہیں ۔ بہرحال جھنڈے بیچنے والے کسی کو سوئی دھاگے سے جھنڈوں کا اوپر والا حصہ سینے کا ٹھیکا دے دیں 100 ، 50 میں بہت سے جھنڈے تیار ہو جائیں گے ۔ نیز جسے ٹھیکا دیں اس کا کام بھی چیک کریں کہ وہ دُرست کام کر رہا ہے کہیں اندھی تو نہیں چلا رہا ۔
سُوال : بعض لوگ کھمبوں اور پولوں پر جھنڈے لگا دیتے ہیں ان کا ایسا کرنا کیسا ہے ؟([1])
جواب:جو لوگ کھمبوں اور پولوں پر جھنڈے لگاتےہیں انہیں چاہیے کہ اگر پول پر جھنڈا لگانے کے لیےاِجازت نامہ دَرکار ہو تو پہلے اِجازت نامہ حاصِل کریں اور پھر لگائیں کہ ہو سکتا ہے جھنڈوں سے آگ لگنے کے خطرات ہوتے ہوں مثلاً ہوا چلے اور جھنڈا تار میں اُلجھ جائے اور پھر کچھ کا کچھ ہو جائے ۔ گورنمنٹ کی جو اِس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں عوام کو ان میں تَصَرُّف کرنے کی اِجازت نہیں ہوتی ۔ میں یہ آپ سب کی بھلائی کے لیے کہہ رہا ہوں ورنہ میں گورنمنٹ کا آدمی نہیں بلکہ اُمَّت کاخادم ہوں۔ البتہ ا ِس لحاظ سے گورنمنٹ میری ہے اور میں گورنمنٹ کا آدمی ہوں کہ ہم پاکستان کی رعایا ہیں۔ یاد رہے! ہم نے پاکستان کی تعمیر کرنی ہے توڑ پھوڑ نہیں مچانی لہٰذا جو سرکاری چیزیں ہیں ان میں اپنے طور پر تَصَرُّف کرنے کے بجائے جو بھی طریقۂ کار ہے مثلاً اِجازت نامہ لینا وغیرہ اسے پورا کرنا چاہیے ورنہ کوئی ضَروری نہیں کہ ہم پول پر ہی جھنڈے اور بینرز لگائیں بلکہ جہاں جہاں ممکن ہو وہاں لگا لیں۔ نیز جَشنِ وِلادت پر کی جانے والی سجاوٹ زمین پر نہیں فضاؤں میں کرنی ہے اور یہاں یہ بھی یاد رَکھیں کہ سجاوٹ سے کوئی قانونی مسئلہ کھڑا نہ ہو اور نہ ہی کسی کو کوئی تکلیف ہو مثلاً آپ نے سیڑھی رکھ کر کسی کے گھر کی بالکونی سےرَسّاباندھ دیا جس کے باعث اس کا دَروازہ بند نہیں ہو پا رہا اور اب اگر وہ اِعتراض کرے تو آپ کہیں وہ فلاں ہےوغیرہ ۔ اِسی طرح اگر آپ زور زور سے تِلاوت کر رہے ہوں جس کی وجہ سے کسی کا سر دُکھ رہا ہو اب اگر وہ کہے کہ آپ
[1] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع