30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمجھ لیا جائے تو وہ جائز ہو جائے گا بلکہ وہ اچھا بھی نہیں ہو گا۔ “ مسلمان جس کام کو اچھا سمجھ کر کریں “ اِس سے مُراد عُلَما اور صُلَحا کا اچھا سمجھ کر کرنا ہے یعنی نیک لوگ اور اہلِ عِلم حضرات اس کام کو اچھا سمجھ کر کریں۔ ([1])جَشن ِ وِلادت کے جھنڈوں کو عاشقانِ رَسُول تسلیم کرتے ہیں اور کوئی ایک بھی سُنی عالِم آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو یہ بولتا ہو کہ جَشنِ وِلادت کا جھنڈا مَت لگاؤ۔ یاد رہے !جَشن ِ وِلادت کا جھنڈا لگائیں تو ثواب اور نہ لگائیں تو گناہ نہیں ہے لیکن اس کے لگانے کو گناہ کہنا یہ گناہ ہے۔ ([2]) جس کام کو شریعت نے گناہ نہیں کہا تو کوئی اور اسے کس طرح گناہ کہہ سکتا ہے؟
سُوال : جَشنِ وِلادت کے جھنڈے کب اُتارے جائیں؟اگر جھنڈا نہ اُتارا تو کیا گناہ ملے گا؟
جواب:عام طور پر ہم یہ پسند کرتے ہیں کہ جَشنِ وِلادت کا جھنڈا ایک مہینے تک لہراتا رہے مگر جب رَبیع الاول کی 12 تاریخ گزر جائے تو اسے اُتار لینا چاہیےاگر نہیں اُتاریں گے تو دھوپ ، بارش اور ہوائیں چلنے کے سبب اِس بات کا قوی اِمکان ہے کہ وہ لیرے لیرے ہو کر ختم ہو جائے ۔ اگر آپ 12 دِن گزرنے کے بعد اُتار کر تہ کر کے اِحتیاط سے رکھ دیں گے تو وہ آئندہ سال بھی کام آئے گا۔ یاد رہے ! ایک مہینے تک جھنڈا لگائے رکھنا ضَروری نہیں کیونکہ12رَبیع الاول سے پہلے بتیوں اور لہراتے ہوئے جھنڈوں کو دیکھ کر دِل کو سُرور حاصِل ہوتا ہے جبکہ 12رَبیع الاول گزرنے کے بعد لوگوں کی
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۲۶ / ۵۱۶۔
[2] اللہپاک اِرشاد فرماتا ہے : ( وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۱۱۶) وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۱۱۶) ) (پ ۱۴ ، النحل : ۱۱۶) ترجمۂ کنز الایمان : “ اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو بےشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔ “ اِس آیتِ کریمہ کے تحت صدرُ الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : زمانۂ جاہلیت کے لوگ اپنی طرف سے بعض چیزوں کو حلال ، بعض چیزوں کو حرام کر لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دیا کرتے تھے ، اس کی ممانعت فرمائی گئی اور اس کو اللہ پر افتراء (یعنی جھوٹ باندھنا)فرمایا گیا ۔ آج کل بھی جو لوگ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام بتا دیتے ہیں جیسے میلاد شریف کی شیرینی ، فاتحہ ، گیارہویں ، عرس وغیرہ اِیصالِ ثواب کی چیزیں جن کی حُرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی یعنی جن کا حرام ہونا شریعت میں نہیں آیا انہیں اِس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہیئے کہ ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعاً حرام ہیں اللہتعالیٰ پر اِفتراء کرنا ہے۔
(خزائن العرفان ، پ ۱۴ ، النحل ، تحت الآیۃ : ۱۱۶ ، ص۵۲۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع