30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آخرت کی فکر ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کی ملاقات کاشوق بھی پیدا کرنا چاہیےاور اللہ پاک کی ملاقات کا ذَریعہ موت ہے۔ ([1])
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے
کہ یہاں مَرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا (حدائقِ بخشش)
سُوال:اگر کوئی شخص کسی حادثے کا شکارہوجائے یا سر پر چوٹ آجائے اور ICU میں داخل ہوجائے پھر کسی وجہ سے اس کی جان بچ جائے تو وہ بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے ، اس کو بار بار یہ ہی خیال ستاتا رہتا ہے کہ میں ابھی مَرجاؤں گا ابھی مَرجاؤں گا ، گویا اس پر ایک خوف سا طاری رہتا ہے ، ایسے مَریض کو کس طرح سنبھالا جائے؟اِس حوالے سے راہ نمائی فرما دیجیے۔ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب:ایسا کوئی کوئی ہوتا ہو گا جس پر خوف طاری ہو جاتا ہو ورنہ غفلت ہی غفلت ہے۔ مَریض کے صحیح سَلامت باہر آنے پرتو لوگ خوشیاں مَنا رہے ہوتے ہیں ، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مَریض جاتے جاتے ایک دَم رُک جاتا ہے اور بالکل ٹھیک ٹھاک اور فریش ہو جاتا ہے لیکن اچانک یہ موت سے پچھاڑ کھاکر اِنتقال کر جاتا ہے۔ مَریض اِنتقال سے پہلے جو اچانک صحیح نظر آتا ہے اِس کو اِصطلاح میں “ سنبھالا لینا “ بولتے ہیں ۔ بہرحال موت بَر حق ہے سب کو آنی ہے۔
بارہا عِلمی تجھے سمجھا چکے
مان یا مَت مان آخر موت ہے
[1] مکتبۃ المدینہ کی568 صفحات پر مشتمل کتاب “ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت “ صفحہ نمبر 379 سے ایک عرض اور اِرشاد مُلاحظہ کیجیے : عرض : ایک مَرتبہ اِرشادِ عالی ہوا تھا کہ مَرنے کے لیے خوشی سے تیار رہے ، حضور! جو مجرِم (یعنی گنہگار) ہے وہ کیسے خوش ہوسکتا ہے ؟اِرشاد : گناہ چھوڑے تَوبہ کرے اور خوشی سے موت کے لیے تیار رہے ، یہ مطلب نہیں کہ گناہ کرتا رہے اورموت کے لیے خُوش رہے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے!(پھر فرمایا : )اللہ کا بندہ جب توبہ لاتا ہے رَبّ کے حضور تو وہ اس سے زیادہ خُوش ہوتا ہے جتنا وہ شخص جس کی اُونٹنی مَع زَادِ راہ کے(یعنی سامان سفرکے ساتھ) گم گئی اس کے مِل جانے پرخوش ہو۔
(مسلم ، کتاب التوبة ، باب فی الحض علی التوبة والفرح بها ، ص۱۱۲۶ ، حدیث : ۲۶۵۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع