30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زبان دِل میں بھی کوئی کمزور بات نہیں لانی۔ کوئی کچھ دِکھائے بھی تو ہماری آنکھیں صحابۂ کِرام اور اہلِ بیتِ عظام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ کے بارے میں کوئی بھی چیز دیکھنے کے لیے بند ہیں۔
سُوال:صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبت فرماتے تھے ، اِس بارے میں کوئی واقعہ بیان فرما دیجیے۔
جواب:جب مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً ہجرت کا حکم ہوا تو حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دونوں ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ایک غار کے قریب پہنچے تو پہلے صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اُس غار کے اندر تشریف لے گئے اور صفائی کر کے غار کے تمام سوراخوں کو بند کر دیا ، ایک سوراخ کو بند کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو آپ نے اپنےپاؤں کا انگوٹھا سوراخ میں ڈال کر اس کو بند کیا۔ پھراپنے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو بلایا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے اور حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے زانو پر سر رکھ کرآرام فرمانے لگے ، اتنے میں سانپ نے صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے پاؤں مُبارَک کو کاٹ لیا ، مگر صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عاشقِ اکبر تھے ، صرف اِس خیا ل سے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آرام میں خلل نہ آئے ، بالکل حرکت نہ کی یعنی ہِل جُل نہیں کی آخر جب زیادہ تکلیف ہوئی تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ جب آنسوکے قطرے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پیارےپیارے چہرے پر نچھاور ہوئے یعنی گِرے تو حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بیدار ہوئے تو حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے واقعہ عرض کیا۔ اللہ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس جگہ اپنا لعابِ دہن یعنی تھوک شریف لگادیا جہاں سانپ نے ڈسا تھا جس کی وجہ سے فوراً آرام آگیا۔ ایک رِوایت میں ہے کہ سانپ کا یہ زہرہر سال لوٹ آتا تھا اور 12 سال تک حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے ساتھ یہ مُعاملہ ہوتا رہا اور آخری مَرتبہ زہر کے اثر سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی شہادت ہو گئی۔ ([1])اِس واقعہ سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع