30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اَعمال کی بنیاد رکھ
اہلِ سنَّت کا ہے بیڑا پار اَصحابِِ حضور
سُوال: “ اَصحابِ حضورنجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رَسُوْلُ اللہ کی “ اِس مِصرع کی وضاحت فرمادیجئے ۔
جواب:یہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے شعر کا مِصرع ہے ، پورا شعر یوں ہے :
اہلِ سنَّت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رَسُوْلُ اللہ کی (حدائقِ بخشش)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ہم اہلِ سنَّت و جماعت صحابۂ کِرام اور اہلِ بیتِ عظام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ دونوں کو مانتے ہیں۔ اِس شعر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا ہے کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ستارے ہیں اور اہلِ بیت ناؤ یعنی کشتی ہیں ۔ چونکہ سمندر میں سفر کے لیے سڑکوں کی طرح مَنزلوں کے نشانات لگے ہوئے نہیں ہوتے ، اِس لیے وہاں ستاروں کی مدد سے راستے معلوم کیے جاتے ہیں ، یہ پورا ایک فن ہے ، جو لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں وہ اِس فن کو جانتے ہیں۔ نیز سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمان بھی ہے : اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ فَبِاَیِّھِمْ اِقْتَدَیْتُمْ اِہْتَدَیْتُمْ یعنی میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس کی پیروی کروگے ہدایت پاؤ گے۔ ([1]) اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرما رہے ہیں : جو اہلِ بیت کی کشتی میں سوار ہیں ان کو صرف کشتی میں بیٹھ جانے سے ہدایت نہیں ملے گی بلکہ ان کو ستاروں کی بھی حاجت ہے اور ہم یعنی اہلِ سنَّت و جماعت اہلِ بیت کی کشتی میں سوار ہو کر صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ جو ستارے ہیں ان کے ذَریعے ہدایت لیتے ہیں ، اِسی وجہ سے اہلِ سنَّت کا بیڑا پار ہے۔ یاد رَکھیے! اہلِ بیت کے کسی بھی فرد کا اِنکار نہیں کرنا اور نہ ہی ان میں سے کسی پر تنقید کرنی ہے ، یہ ہی اہلِ سنَّت و جماعت کا عقیدہ ہے۔ سارے اہلِ بیت ہماری آنکھوں کے تارے اور ہمارے سر کے تاج ہیں۔ اسی طرح سارے کے سارے صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ بھی ہمارے سر کے تاج ہیں کسی ایک صحابی کے بارے میں زبان تو
[1] مشکاة المصابیح ، کتاب المناقب ، باب مناقب ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، ۲ / ۴۱۴ ، حدیث : ۶۰۱۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع