30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب: ابھی تک یہ نہیں سُنا کہ کوئی ایسا آلہ اِیجاد ہوا ہو جو اصلی اور نقلی کی شناخت کر دے اس لیے آپ تبرکات کے بارے میں گہرائی میں نہ جائیں ورنہ وَسوسوں کا شِکار ہو جائیں گے۔ اِس حوالے سے بزرگوں کے طرح طرح کے اَقوال ہیں جن میں مجھے سب سے زیادہ پسند یہ قول ہےکہ جو کسی کی نسبت سے بطورِ تبرک مشہور ہو جائے اسے تبرک مان لیا جائے اور اس کا اِحترام کر کے ثواب پائیں۔ ([1]) گہرائی میں جائیں گے تو ظاہر ہے وَسوسے آئیں گےاور اگر ہم اِس طرح کی گفتگو عوام میں کریں گے تو وہ بولیں گے فلاں بال مُبارَک نقلی ہیں یا وہ تبرکات نقلی ہیں وغیرہ۔ بہرحال تبرکات کےبارے میں میرا مشورہ یہی ہے کہ گہرائی میں نہیں جانا چاہیے البتہ اگر مُحَقِّقِیْن تحقیقات کرتے ہیں تو وہ کرتے رہیں مگر ہم بَرکتیں لیتے رہیں گے ۔
حضرتِ علامہ یوسف بِن اِسماعیل نبہانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے لکھا ہے : جو بطورِ سَیِّد مشہور ہو اگر ہم اس کا اِحترام کریں گے تو ثواب ملے گا اگرچہ اس کا نَسب نامہ اس کے پاس موجود نہ ہو ۔ ([2])یاد رہے !ہم نَسب نامہ کس کس سے مانگیں گے ؟ لہٰذا جو سَیِّد ہے ہم اس کا اِحترام کریں گے ۔ جس کا حَسب نَسب ثابت ہے اس کا اِحترام کرنے میں ثواب ہے ہی لیکن جس کے سَیِّد ہونے کا ہمارے پاس ثبوت نہیں اور ہم اس کا اِحترام کریں گے تو ہمیں زیادہ ثواب ملے گا کیونکہ جس کا حَسب نَسب ثابت ہے اس کا اِحترام کرنے کا تو جی زیادہ چاہے گا کہ دِل زیادہ مطمئن ہو گا جبکہ جس کا حَسب نَسب ثابت نہیں اس کے بارے میں وَسوسے آئیں گے لیکن اس کے باوجود ہم سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے نسبت کی وجہ سے اس کا آنکھیں بند کر کے اِحترام کریں گے تو یوں یہ زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔ بہرحال آپ تبرکات کی زیارت کرتے رہیں ورنہ ثبوت مانگنے کی صورت میں لڑائی ہو سکتی ہے ۔ دیکھئے!مسلمان اِس بہانے دُرُود و سلام پڑھ رہے ہیں ، اللہ اللہ کر رہے ہیں ، رَسُولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محبت کے جام تقسیم ہو رہے ہیں اور نعتیں پڑھی جا رہی ہیں لہٰذا خود لوگوں میں آ کر دُرُودِ پاک پڑھو اور ان کے ساتھ مل کر بال مُبارَک کی زیارت کرو اسی میں دونوں جہاں کی بھلائی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع