دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab | قطبِ عالم کی عجیب کرامت مع دیگر دلچسپ سوال جواب

book_icon
قطبِ عالم کی عجیب کرامت مع دیگر دلچسپ سوال جواب

ثواب لکھا جائے گا۔ ([1])   

قُطبِ عالَم کی عجیب کرامت

احمدآباد  (ہند)   ہی میں ’’ وَٹوا ‘‘ کے مقام پر حضرتِ سیِّدی قُطبِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے مَزار پر بھی حاضِری کا شرف حاصل ہوا۔ وہاں اینٹ نُما ایک عجیب و غریب چیز ہے جس کا بعض حصَّہ پتھر ،  بعض لوہا،  بعض لکڑی ہے جبکہ کچھ حصَّہ وہ ہے جسے آج تک شناخت نہیں کیا جا سکا۔ اس ضِمن میں حضرتِ سیِّدی قُطبِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کی یہ کرامت مشہور ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تہجد کے لیے اُٹھے اور طہارت کی غرض سے اپنے حُجرۂ مبارَکہ سے باہر تشریف لائے اندھیرے میں آپ کا مبارَک پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا۔ آپ نے جھک کر اُس کو ٹَٹولتے ہوئے فرمایا: ’’ پتھر ہے!  لکڑی ہے!  لوہا ہے!  نہ جانے کیا ہے؟ “جہاں جہاں آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ  کا دَستِ مبارَک لگتے ہوئے جو جو اَلفاظ زبانِ اَقدس سے نکلے وہ چیز وُہی بنتی گئی اور جہاں ہاتھ مبارَک رکھتے ہوئے فرمایا: ’’ نہ جانے کیا ہے؟ ‘‘ وہ حصَّہ ایسی چیز بن گیا کہ سائنسدان تجربات کرنے کے باوُجود بھی اُس حصّے کو کوئی نام نہ دے سکے۔ لوگ اپنی مُراد ذِہن میں رکھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اُس اینٹ نُما شَے کو اُٹھاتے ہیں۔کہا جاتا ہے اگر مُراد برآنی ہو تو وہ شے بآسانی اُوپر تک اُٹھ جاتی ہے ورنہ نہیں۔میں نے بھی اُسے اُوپر اُٹھا لیا تھا اورمیری یہ  نیّت تھی کہ مجھے اس سال حج کرنا ہے۔ چونکہ میں اسے اُٹھانے میں کامیاب رہا اس لیے میں نے کہا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی سال حج نصیب ہو گا اور ظاہِر ہے حج کرنا ہے تو اس سے پہلے موت بھی نہیں آئے گی تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسی سال  ۱۴۱۸؁ ھ میں حج اور زیارتِ مدینہ منوّرہ کی سعادت مل گئی ۔

تمہارے مُنہ سے جو نکلی وہ بات ہو کے رہی

کہا جو دن کو کہ شب ہے تو رات ہو کے رہی

فاسقِ مُعْلِن کو عملیات کی وجہ سے ولی کہنا کیسا؟

سُوال :کئی عامِلین فاسقِ مُعْلِن ہوتے ہیں، نمازوں کی پابندی اور جماعت وغیرہ  کا اِہتمام بالکل نہیں   کرتے مگر ان کے عملیات سے بعض لاعلاج مریض بھی صحتیاب ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ انہیں ولی سمجھنے اور کہنے لگتے ہیں۔ کیا ان کا ایسا کہنا دُرُست ہے؟

جواب:لاعلاج  مریضوں کا علاج کر دینے سے کوئی ولی یا  بزرگ نہیں بن جاتا،  اگر ایسا ہو تو پھر ڈِسپرین (Disprine)   کی گولی بھی ’’ ولی ‘‘ ہے! جی ہاں،  دردِ سر ہو تو  کھانے کے بعد ایک یا دو ٹِکیہ لے لینے سے عموماً آرام آجاتا ہے۔اسی طرح وہ غیر مسلم ڈاکٹر جو نہ جانے کتنے ہی مایوس لاعلاج مریضوں کا کامیاب علاج کر دیتے ہیں تو کیا وہ سب”ولی“ہیں؟جی نہیں۔ شِفا



[1]    الترغیب  والترھیب ، کتاب الحج ، الترغیب  فی الحج  والعمرة ، ۲ / ۷۹، حدیث: ۱۷۱۸ دارالفکر بیروت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن