دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab | قطبِ عالم کی عجیب کرامت مع دیگر دلچسپ سوال جواب

book_icon
قطبِ عالم کی عجیب کرامت مع دیگر دلچسپ سوال جواب

دَرْس  سے روکنے والوں کو کیسے راضی کیا جائے؟

سُوال : ’’ فیضانِ سُنَّت ‘‘  کے درْس سے روکنے والوں کو کیسے راضی کیا جائے؟

جواب : ’’ فیضانِ سُنَّت ‘‘ کے دَرْس سے روکنے والوں کو درس کی اَہمیت اور اس کے فَوائد و برکات  بتا کر حکمتِ عملی اور نرمی کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی جائے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فائدہ ہوگا جیساکہ پارہ 27سورۃُ الذّٰرِیٰت کی آیت نمبر55 میں  خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:  (وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ (۵۵))   ترجمۂ کنز الایمان:اورسمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔

دَرْس سے روکنے والوں کا یوں ذہن بنایا جائے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  فیضانِ سنَّت کا دَرس دینے سے بھلائی پھیلتی اور بُرائی مٹتی ہے آپ مسجد میں دَرْس  شروع کروا کر بھلائی پھیلانے اور بُرائی مٹانے کا ذَریعہ بنیں کہ ایسے لوگوں کو حدیثِ پاک میں مُبارکباد سے نوازا گیا ہے چنانچہ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے:کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بھلائی کے پھیلنے اور بُرائی کو روکنے کا ذَریعہ ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بُرائی پھیلنے اور بھلائی میں رکاوٹ کا ذَریعہ ہوتے ہیں مبارک ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خیر کے پھیلنے کا ذَریعہ بنایا۔ ([1])   بہرحال آپ کے سمجھانے  اور دَرس کے فَضائل و بَرکات بتانے کے باوجود بھی اجازت نہ ملے تو مسجد کی بااثر شخصیات سے دَرسِ فیضانِ سُنَّت کی اجازت دِلوانے  کی ترکیب بنائی جائے ۔اگر پھر بھی کام نہ بنے تو بحث و مُباحثہ کرنے کے بجائے صبر سے کام لیجیے اور پانچوں نمازیں ممکنہ صورت میں اسی مسجد میں ادا کیجیے اور نمازوں کے بعدکمیٹی کے اَراکین اور دِیگر نمازیوں سے خندہ پیشانی سے ملاقات کیجیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکبھی نہ کبھی راہ ضرور  ہموار ہو جائے گی۔

کھجورسے روزہ اِفطارکرنے میں حکمت

سُوال :کھجور سے روزہ اِفطار کرنے میں کیا حکمت ہے؟

جواب :کھجور سے روزہ اِفطار کرنا سنَّت ہے اور   سنَّت میں یقیناً حکمت ہی حکمت ہے اگرچہ ہمیں اس کے بارے میں علم نہ ہو۔ حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نَمازسے پہلے تَر کھجوروں سے روزہ اِفطار فرماتے، تَر کھجوریں نہ ہوتیں تو چند خشک کھجوروں (یعنی چُھواروں )   سے اور یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چُلُّو پانی پیتے۔  ([2])   لہٰذا جب بھی روزہ اِفطار کریں تو اس سنَّت پر عمل کی نیت سے تَرکھجور سے روزہ اِفطار کریں،  یہ نہ ہوتو چُھوارے سے، یہ بھی موجود نہ ہو تو پھر پانی سے روزہ اِفطار کر لیں کہ یہ ہمارے میٹھے میٹھے آقا، مکی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ



[1]    ابنِ ماجه ، کتاب السنة، باب  من کان  مفتاحا للخیر، ۱ / ۱۵۵، حدیث: ۲۳۷  دار المعرفه  بيروت

[2]    ابوداود، کتاب الصوم، باب  ما یفطر علیه ، ۲ / ۴۴۷، حدیث: ۲۳۵۶  دار احياء الثراث العربی  بيروت 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن