30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آنکھ دل کا دروازہ ہے جس سے آفات داخل ہوتی ہیں اور یَہیں شہوتیں اور لَذَّتیں پائی جاتی ہیں ،خَلْوَت فِکرِ آخِرت پیدا کرتی ہے ۔
(قوت القلوب(اردو)، 1/469)
(55) دُنیاوی رَغبت کا ذریعہ
پیٹ بَھر کر کھانا دُنیاوی رَغبت کا ذریعہ ہے چنانچہ بعض صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان سے منقول ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد سب سے پہلی بِدعَت پیٹ بَھر کر کھانا کھانے کی پیدا ہوئی کیونکہ جب لوگوں کے پیٹ بَھر جاتے ہیں تو ان کی شہوتیں بھی بے لگام ہو جاتی ہیں۔
(قوت القلوب(اردو)، 1/471)
(56) مسلمانوں کی پیاری اَمّی جان حضرت ِ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے مَروِی ہے کہ رسولِ بے مثال صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور صحابۂ کِرام علیہمُ الرّضوان بغیر کسی مجبوری کے یعنی اپنے اِخْتِیار و مرضی سے بُھوکے رہتے تھے۔
(قوت القلوب(اردو)، 1/471)
(57) حضرتِ عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہُ عنہ ما فرماتے ہیں کہ ”جب سے امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عُثمانِ غَنی رضی اللہُ عنہ کو شہید کیا گیا ہے میں نے پیٹ بَھر کر کھانا نہیں کھایا۔ “
(قوت القلوب(اردو)، 1/471)
(58)عظیم تابِعی بُزُرگ حضرت ِ حَسَن بصری رحمۃُ اللہ علیہ فرمایا کرتے: ” اللہ پاک کی قسم! میں نے ایسے لوگوں کو بھی پایا جو شِکَم سَیْر ہو کر نہیں کھاتے تھے بلکہ ان میں سے اگر کوئی کچھ کھاتا بھی تو صرف اس قدر کہ جب جان میں جان آتی تو فوراً کھانے سے رُک جاتا۔ مزید فرماتے ہیں کہ مومن کبھی پیٹ بَھر کر نہیں کھاتا بلکہ اس کی وصیّت ہمیشہ اس کے پہلو تلَے رہتی ہے۔
(یعنی وہ موت کو یاد کرتے رہتے ہیں) (قوت القلوب(اردو)، 1/472)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع