30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(44) کنکر کے ذریعے خاموش رہنا سیکھا
بُزُرگانِ دین رحمۃُ اللہ علیہم میں سے ایک بُزُرگ فرماتے ہیں کہ میں نےایک کنکر کے ذریعے خاموش رہنا سیکھا،جسے میں نے اپنے مُنہ میں30 سال تک ڈالے رکھا جب بھی کوئی بات کرنے کا ارادہ کرتا تو اس سے میری زبان میں لُکنَت آجاتی اور میں خاموش ہو جاتا۔
(قوت القلوب(اردو)، 1/461)
(45) فضول بات کے بدلے دو رَکعت نماز
ایک بُزُرگ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نفس سے عہد کیا کہ میرے منہ سے جو بھی لَایعنی (یعنی فضول)بات نکلے گی میں اس کے بدلے دو رَکعت نماز ادا کروں گا، لیکن یہ کام مجھ پر آسان رہا، پھر میں نے خود پر ہر کلمے کے بدلے ایک روزہ رکھنا لازم ٹھہرا لیا، یہ بھی مجھے آسان معلوم ہوا لیکن میں رُکا نہیں یہاں تک کہ میں نے اپنے نفس پر ہر کلمے کے عوض ایک دِرْہم صَدَقہ کرنا لازم کر لیا تو یہ کام نفس پر مُشکل بن گیا اور آخِر کار میں لَا یعنی (یعنی فضول) بات کرنے سے رک ہی گیا۔
(قوت القلوب(اردو)، 1/461)
(46) ایک عارِف کا قول ہے کہ علم کی دو قِسمیں کردی گئی ہیں:نِصْف علم خاموش رہنا ہے اور نِصْف علم اس بات کا جاننا ہے کہ اس علم کو کہاں رکھا (یعنی بیان کیا)جائے۔
(قوت القلوب(اردو)، 1/464)
(47) حضرت سیِّدُنا اَعْمش رحمۃُ اللہ علیہ فرمایا کرتے کہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا جواب خاموشی ہی ہے۔
(قوت القلوب(اردو)، 1/465)
(48) لَااَدْرِیْ بولیں اَدْرِیْ نہیں
عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں: یہ جملہ سیکھ لیں :لَااَدْرِیْ (یعنی میں نہیں جانتا) اور یہ جملہ ہرگز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع