30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمیان ایک نُور روشن کردیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن دارمی ، 2 / 546 ، حدیث : 3407)
(4 )حضرتِ ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی ٔکریم ، رءُ وفٌ رَّحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جو سورۂ کہف کی پہلی دس آیتیں یاد کرے گا دَجّال سے محفوظ رہے گا اور ایک روایت میں ہے : جو سورۂ کہف کی آخری دس آیتیں یاد کرے گا دَجّال سے محفوظ رہے گا۔ ( مسلم ، ص315 ، حدیث : 1884 ، 1883)
(1)حضرت مَعقِل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کےپیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : سورۂ یٰسین قرآن کا دل ہے جو اسے اللہ پاک کی رضا اور آخِرت کی بہتری کے لیے پڑھے گا اس کی مغفرت کر دی جائے گی۔ (مسند امام احمد ، 7 / 286 ، حدیث : 20322 ملتقطا)
(2)خادمِ نبی حضرتِ اَنَس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : بیشک ہر چیز کا ایک دل ہے اور قرآن کا دل سورۂ یٰسین ہے اور جو ایک مرتبہ سورۂ یٰسین پڑھے گا اس کے لیے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب لکھا جائے گا۔ (ترمذی ، 4 / 406 ، حدیث : 2896)
(3)حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار ِدوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : میر ی خواہش ہے کہ سورہ ٔ یٰسین میری امت کے ہر انسان کے دل میں ہو ۔
(تفسیر در منثور ، 7 / 38)
(4)حضرتِ اَنَس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جو شخص ہمیشہ ہر رات یٰسین کی تلاوت کرتا رہا پھر مرگیاتو وہ شہید مرے گا ۔
(تفسیر در منثور ، 7 / 38)
(5)حضرتِ عطاء بن ابو رَباح تا بعی رحمۃُ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دن کی ابتداء میں سورۂ یٰسین کی تلاوت کرے گا ، اس کی تمام حاجات پوری کردی جائیں گی۔ (تفسیر در منثور ، 7 / 38)
(6)حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جو شخص بو قتِ صبح سورۂ یٰسین کی تلاوت کر ے اس دن کی آسانی اسے شام تک عطا کی گئی ، او رجس شخص نے رات کی ابتداء میں اس کی تلاوت کی اسے صبح تک اس رات کی آسانی دی گئی ۔ (تفسیر در منثور ، 7 / 38)
(7)حضرتِ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جس مرنے والے کے پاس سورۂ یٰسین تلاوت کی جاتی ہے اللہ پاک اس پر (اس کی رو ح قبض کرنے میں) نرمی فرماتا ہے ۔ (تفسیر در منثور ، 7 / 38)
(8)حضرتِ ابو قِلابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : جس نے سورۂ یٰسین کی تلاوت کی اس کی مغفرت ہوجائے گی ، اور جس نے کھانے کے وقت اس کے کم ہونے کی حالت میں تلاوت کی تو وہ اسے کفایت کرے گا ، اور جس نے کسی مرنے والے کے پاس اس کی تلاوت کی اللہ پاک (اس پر ) موت کے وقت نرمی فرمائے گا ، اور جس نے کسی عورت کے پاس اس کے بچے کی ولادت کی تنگی پر سورۂ یٰسین کی تلاوت کی ، اس پر آسانی ہوگی اور جس نے اس کی تلاوت کی گویا کہ اس نے گیارہ مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت کی ، اور ہر چیز کے لیے دل ہے ، او رقرآ ن کا دل سورۂ یٰسین ہے۔ (تفسیر در منثور ، 7 / 39)
(9)حضرتِ ابو جَعْفَر محمد بن علی رحمۃُ اللہ علیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : جو شخص اپنے دل میں سختی پائے تو وہ ایک پیالے میں زَعفران سے “ یٰسٓ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیْم “ لکھے پھر اسے پی جائے۔ ( اِن شاءَ اللہ اس کا دل نرم ہوگا) (تفسیر در منثور ، 7 / 39)
(10)امیر المؤمنین حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سر کارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جس نے ہرجمعہ کواپنے والدین ، دونوں یا ایک کی قبر کی زِیارت کی اور ان کے پاس یٰسین کی تلاوت کی تو اللہ پاک ہر حرف کے بد لے اس کی بخشش ومغفرت فرمادیتا ہے ۔ (تفسیر در منثور ، 7 / 40)
(11)حضرتِ صفوان بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مشائخ کرام رحمۃُ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ جب آپ قریبُ المَرگ شخص کے پاس سورۂ یٰسین کی تلاوت کریں گے تو اُس سے موت کی سختی کو ہلکا کیا جائے گا۔ (تفسیر در منثور ، 7 / 39)
(12)حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جس نے شبِ جمعہ سورۂ یٰسین کی تلاوت کی اس کی مغفرت کردی جائے گی۔ (الترغیب والترہیب ، 1 / 298 ، حدیث : 4)
(13)حضرتِ عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : ’’قرآنِ حکیم میں ایک سورت ہے جسے اللہ پاک کے ہاں “ عظیم “ کہا جاتا ہے ، اس کے پڑھنے والے کو اللہ پاک کے ہاں شریف کہا جاتا ہے ، اس کو پڑھنے والا قیامت کے روز ربیعہ اور مضر قبائل سے زائد افراد کی شفاعت کرے گا ، وہ سورۂ یٰسین ہے۔
(تفسیر در منثور ، 7 / 40)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع