دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Quran Seekhain aur Sikhaain Hissa-1 | قرآن سیکھیں اور سیکھائیں حصہ 1

Quran e Pak Ki Tilawat Karne Ke Aadaab o Ehtiram

book_icon
قرآن سیکھیں اور سیکھائیں حصہ 1
            

تلاوتِ قرآن کے آداب:

(1)قرآنِ مجید کو دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے سے افضل ہے کہ یہ پڑھنا بھی ہے اور دیکھنا اور چھونا بھی اور یہ سب چیزیں عبادت ہیں ۔(2)مستحب یہ ہے کہ باوُضو قبلہ رُو اچھے کپڑے پہن کرتلاوت کرے اور تلاوت کے شروع میں اَعُوْذُبِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم پڑھنامستحب ہےاور سورت کی ابتدامیں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم پڑھنا سُنّت ہے ورنہ مستحب ہے۔(1)(3)قرآنِ مجید کو نہایت اچھی آواز سے پڑھنا چاہیےاور اگر (پڑھنے والے کی)آواز اچھی نہ ہو تو اچھی بنانے کی کوشش کرے۔لحن کے ساتھ پڑھنا کہ حروف میں کمی بیشی ہو جائے جیسے گانے والے کیا کرتے ہیں یہ نا جائز ہے ۔ بلکہ پڑھنے میں قواعد ِ تجوید کی رعایت کرے۔(4)لیٹ کر قرآن پڑھنے میں حرج نہیں جبکہ پاؤں سمٹے ہوں اور منہ کھلا ہو ، یوں ہی چلنے اور کام کرنے کی حالت میں بھی تلاوت جائز ہے ، جبکہ دل نہ بٹے ورنہ مکروہ ہے ۔(5)جب قرآن ِ مجید ختم ہو تو تین بار’’ قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ ‘‘پڑھنا بہتر ہے، اگرچہ تراویح میں ہو ،البتہ اگر فرض نماز میں ختم کرے، تو ایک بار سے زیادہ نہ پڑھے۔(2) (6) مسلمانوں میں یہ دستور ہے کہ قرآنِ مجید پڑھتے وقت اٹھ کر کہیں جاتے ہیں تو قرآن بند کر دیتے ہیں کھلا ہوا چھوڑ کر نہیں جاتے ،یہ ادب کی بات ہے ، مگر بعض لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ اگر کھلا ہوا چھوڑ دیا جائے گا تو شیطان پڑھےگا ، اس کی اصل نہیں ،ممکن ہے کہ بچوں کو اس ادب کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہ بات بنائی گئی ہو ۔(3)(7)جب بلند آواز سے قرآنِ مجید پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سُننا فرض ہے جبکہ وہ مجمع قرآنِ مجید سننے کی غرض سے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہےاگرچہ باقی لوگ اپنے کام میں مصروف ہوں۔(8)مجمع میں سب لوگ بلندآواز سے پڑھیں یہ حرام ہے۔اگر چندشخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں۔(9)جو شخص غلط پڑھتا ہو تو سُننے والے پر واجب ہے کہ بتا دے،بشرطِیکہ بتانے کی وجہ سے کینہ وحسد پیدا نہ ہو اسی طرح اگر کسی کا مصحف شریف اپنے پاس عاریت ہے ، اگر اس میں کتابت کی غلطی دیکھے تو بتا دینا واجب ہے۔(4)

قرآنِ پاک یاد کرناآسان ہے:

پیارے پیارےمدرسین اسلامی بھائیو! اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ(۱۷) ( پ ۲۷ ، قمر: ۱۷) ترجمۂ کنزالایمان:اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیےآسان فرما دیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا۔ تفسیر صِراط الجنان میں ہے:قرآنِ پاک یادکرنے والوں کے لیے آسان ہے۔ حضرت علا مہ مفتی نعیم الدّین مرادآبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:’’اس آیت میں قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کرنے،قرآنِ پاک کی تعلیم دینے ، اس میں مشغول رہنے اور اسے حفظ کرنے کی ترغیب ہےاور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک یاد کرنے والے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہےاوراس کو حفظ کرنا سہل وآسان فرما دینےہی کا ثمرہ ہے کہ عربی،عجمی، بڑے حتّٰی کہ بچے تک بھی اس کو یاد کرلیتے ہیں اوراس کے علاوہ کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں ہے جو یاد کی جاتی ہو اور سہولت سے یاد ہو جاتی ہو۔‘‘(5) پیارے پیارے مدرسین اسلامی بھائیو!کسی بھی اہم کام کے کچھ نہ کچھ لوازمات ہوتے ہیں،اگر اس کام کو ان لوازمات کے ساتھ کیا جائے تو نہ صرف وہ کام پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے بلکہ اس کے معیار اورحسن میں مزید اضافہ ہوجاتاہے۔جبکہ لا پرواہی وبے توجہی سے کیا جانے والا کام نہ صرف ادھورا رہ جاتاہے بلکہ اسے جس مقصد کے حصول کےلیے کیاجارہا ہے وہ مقصد بھی حاصل نہیں ہو پاتااورجب معاملہ ربّ تعالیٰ کے کلام کو ناظرہ پڑھانے یاحفظ کروانے کا ہو تو اس کی اہمیّت اوربھی بڑھ جاتی ہے۔اگر اس کے تمام تر لوازمات کو پورا نہ کیا جائے تو یقیناً بچے اور بچیاں یا تو درست مخارج سے قرآنِ پاک پڑھ ہی نہ سکیں گے یا سبق ، سبقی ، منزل انہیں اچھی طرح یاد نہیں رہیں گے، یا سبق کچّا پکّا عارضی طور پر یاد ہو گا اور بالآخر بھول جائے گا۔پھر اِسی سبق سے سبقی بنتی ہے اور سبقی سے منزل بنتی ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے تعلیمی کمزوری کا شکار ہو جاتےہیں لہٰذا سب سے پہلے ہم یہاں یہ بیان کریں گےکہ سبق، سبقی، منزل یاد کرنے کےلیے ماحول کیسا ہونا چاہیے؟

سبق،سبقی،منزل کیلیےسازگار ماحول:

بعض بچوں کو سبق اچھی طرح یاد نہیں ہوتا یا کچا ہوتاہے، بار بار اٹک کے سناتے ہیں، ایسا محسوس ہوتاہے جیسے گھرمیں سبق یاد نہیں کیا بلکہ ابھی کلاس میں بیٹھے بیٹھے سبق یاد کرنے کی کوشش کی ہے۔جب اُن سے سبق اچھی طرح یاد نہ ہونے یا سبق کچا ہونے کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو عمومی طور پر جووجوہات سامنے آتی ہیں ان میں سےبعض یہ ہیں: *۔۔۔ امی،ابویا بڑی باجی نے دودھ یا فلاں چیزلینے باہر بھیج دیا تھا۔ *۔۔۔ چھوٹے بھائی کے لیے پنسل وغیرہ لینےچلا گیاتھا۔ *۔۔۔ گھر میں دیگر بہن بھائیوں کا شور ہورہا تھا۔ *۔۔۔ گھرمیں مہمان آئے ہوئے تھے۔ *۔۔۔ جس کمرے میں سبق یاد کر رہا تھا وہاں مہمان آئے ہوئے تھے۔ *۔۔۔ ابویابڑے بھائی کے ساتھ کسی کام سے باہرچلا گیا تھا۔ *۔۔۔ سارے بہن بھائی سوگئے تھے اس لیے میں بھی تھوڑا سا سبق یاد کرکے سوگیا۔ *۔۔۔ اُونچی آواز میں ٹی وی یا کمپیوٹر چل رہا تھا۔ *۔۔۔ کمرے میں دیگر افراد بھی بلندآواز میں باتیں کر رہے تھے۔ غور کیجئے کیا مذکورہ بالا معاملات کی وجہ سے بچہ اپنا سبق، سبقی یا منزل اچھی طرح سے یاد کرپائےگا؟ ہرگزنہیں،یقیناً اسے ایک پرسکون اور سازگار ماحول چاہیے جس میں وہ اپنا سبق،سبقی یا منزل اچھی طرح یادکرسکے، مدرسین کو چاہیے کہ اس حوالے سے بچے اور اس کے والدیا سرپرست کی شروع سے ہی تربیت کرے۔

والد یا سرپرست کی تربیت کے لیے ہدایات:

(1)ممکن ہوتو بچے کے سبق، سبقی یا منزل یاد کرنے کیلئے علیحدہ کمرہ مختص کردیں۔ (2)لائٹ کا مناسب انتظام ہو، لائٹ نہ ہونے کی صورت میں متبادل انتظام ہو۔ (3)پانی وغیرہ کابھی انتظام ہوتاکہ بچہ بارباراُٹھ کر باہر نہ جائے۔ (4)دورانِ سبق کمرے میں کسی قسم کا شور شرابانہ ہو۔ (5)دورانِ سبق بلا وجہ دیگرلوگوں کا آنا جانا بھی نہ ہوکہ بچے کی توجہ بٹے گی۔ (6)کمرے میں ایسی چیزیں نہ ہوں جن سے بچے کی توجہ بارباران کی طرف جائے جیسے پینٹنگ، تصاویر وغیرہ۔ (7)سبق یادکرنے کاوقت بچے کے ذہن میں بٹھادیں اور بارباریاد بھی دلاتے رہیں۔ (8)ممکن ہو توبچے کو سبق یاد کرنے سے قبل ہی کھانا وغیرہ کھلادیا جائے یا کوئی چیز کھانے کے طور پر دے دی جائے تاکہ اُس کی توجہ نہ بٹے۔ (9)دورانِ سبق بچے کو جہاں تک ممکن ہو کوئی کام نہ بولا جائے۔ (10)ضروری کام ہوتوکسی اورکویاسبق سے پہلے یا بعدمیں بولا جائے۔ (11)سبق کے اوقات میں اس کمرے میں ٹی وی کمپیوٹر وغیرہ نہ چلایاجائے۔ (12)سردی گرمی کے اِعتبار سے مناسب اقدامات ہوں۔ (13)بچے کے سبق کے اَوقات میں کوشش کریں کہ کوئی بھی بیرونی کام(جیسے شادی میں شرکت، رشتہ داروں کے ہاں آنا جانا وغیرہ) نہ آئےمجبوری کی صورت میں بچے کو اس بیرونی کام سے پہلے ہی سبق یادکروادیں ۔ (14)بچے کی نیند پوری کروائیں کہ نیندپوری نہیں ہوگی توسبق یادکرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہوگا۔ (15)بچے کی صحت وتندرستی کا بھی خاص خیال رکھیں کہ ہلکی سی بیماری بھی بچے کے سبق یاد کرنے میں رُکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ (16)بچے کوسبق یاد کرتے ہوئے اِس بات کا پابند کریں کہ وہ بلندآواز سے پڑھے اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس کی توجہ اِدھر اُدھر نہیں بٹے گی اور سبق جلدی یاد ہو جائے گا۔ امید ہے کہ جب بچہ یکسوئی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھے گا تو یہ شکایت دور ہو جائے گی کہ گھر میں اتنی دیر پڑھنے کے باوجود سبق یاد نہیں ہواوغیرہ ۔ (17)سبق یاد ہونے کے بعدبچے سے کم ازکم ایک بار ضرور سنیں۔ (18)سبق یادکرنے سے پہلے اوربعد میں بھی بچے کی حوصلہ افزائی کریں۔ (19)ہراُس بات سے بچیں کہ جس سے بچہ اِحساسِ کمتری کا شکار ہو یہ بچے کے سبق یاد کرنے پراثرانداز ہوگا۔

بچےکی تربیت کے لیےہدایات:

(1)اپنا سبق روزانہ وقتِ مقررہ پریاد کریں۔ (2)جب سبق یادکرنے کا وقت ہوتو خودہی قاعدہ یاقرآنِ پاک لے کر بیٹھ جائیں۔ (3)سبق یاد کرنے سے پہلے تازہ وضوکرلیں اِس سے نیندنہیں آئے گی۔ (4)سبق یادکرتے ہوئے بلندآوازسےپڑھیں اِس سے سبق جلدی یادہوجائے گا۔ (5)اَوّلاًسبق دیکھ کر یادکریں اورجب یادہوجائے تو اسے زبانی بارباردُہرائیں۔ (6)بیٹھے بیٹھے تھک جائیں تو کھڑے ہوکریاد کریں لیکن چلنے پھرنے سے پرہیز کریں اِس سےتوجہ بٹےگی اور سبق یاد کرنے میں مشکل ہوگی۔ (7)جب تک پورا سبق یاد نہ ہوجائے کوئی دوسرا کام نہ کریں۔ (8)سبق یادکرتے ہوئے دیگرچیزوں کی طرف بالکل توجہ نہ دیں۔ (9)مکمل سبق یادکرنے کے بعدہوسکے تو والدصاحب یا بڑے بھائی کو سنادیں۔

شعبہ ناظرہ میں بچے کا پہلا دن:

پیارے پیارےمدرسین اسلامی بھائیو!معاشرے کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال آپ کے سامنےہے، ہر طرف بےعملی کا دور دورہ ہے، ہر کوئی اپنا اوراپنے بچوں کا دُنیاوی مستقبل روشن کرنے کےلیے نت نئے خواب دیکھ رہا ہے،انہیں اعلیٰ سے اعلیٰ دُنیاوی تعلیم دِلوانے کیلئے کوشاں ہے، اِن حالات میں اگر کوئی شخص مدرسۃ المدینہ میں حفظ وناظرہ کی دِینی تعلیم کے لیےاپنے بچوں کو داخلےکے لیےلاتا ہے تو یقیناً یہ بڑی سعادت کی بات ہے،لہٰذا والد کے ساتھ ساتھ بالخصوص اس بچےکامدرسے میں ایک اچھے انداز سے استقبال کرنا یا اسے خوش آمدید کہنا(Welcomeکرنا)بہت ضروری ہے۔

بچے کا تعارف کس طرح لیں؟

پہلےدن جب بچہ ناظرہ کی کلاس میں آئے تو ناظرہ کلاس کےقاری صاحب خندہ پیشانی کے ساتھ مسکرا کر اُس بچے کا استقبال کریں اور نہایت ہی شفقت کے ساتھ سلام ومصافحہ کریں اور اسے اپنے ڈیسک کے سامنے بٹھالیں،سب سے پہلے کچھ اِس انداز سے بچے کا تعارف لیں تو بچے پربہت اچھا اثر پڑے گاکہ *بیٹا آپ کا نام کیا ہے؟* آپ کے والدصاحب کا نام کیا ہے؟(اگر والد ساتھ نہ ہوں۔)* آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟یعنی آپ کا گھرکہاں ہے؟ * آپ کے کتنے بھائی ہیں؟اور وہ کیا کرتے ہیں؟ * آپ کے والدصاحب کیا کام کرتے ہیں؟(اگروالدساتھ نہ ہوں۔)* کیا آپ نے ’’مدنی مرکز فیضانِ مدینہ‘‘ دیکھا ہوا ہے؟ * کیا آپ اپنے والدین کے ہاتھ چومتے ہیں؟ * کیا آپ کے والد صاحب نے مدنی قافلے میں سفر کیا ہے؟ * کیا آپ اپنے والد صاحب کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں کبھی تشریف لائے ہیں؟* کیا آپ مدنی چینل دیکھتے ہیں؟بچے کےحسب حال اِن میں سے کچھ تعارفی سوالات کیجئے۔مذکورہ بالا کاموں میں اگر شرکت ہو تو حوصلہ افزئی کیجئے اور شرکت نہ ہو تو شرکت کی ترغیب بھی دلائیے۔

بچے کا کلاس میں تعارف:

اس کے بعدقاری صاحب کلاس کےتمام بچوں کو مخا طب کر کے نئے بچے کا یوں تعارف کروائیں: اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ آج ہماری کلاس میں یہ نئے بچے تشریف لائے ہیں، ان کا نام محمد بلال ہے،جس طرح آپ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت کے ساتھ رہتے ہیں اسی طرح محمد بلال کے ساتھ بھی خوش اَخلاقی کے ساتھ پیش آنا ہے، انہیں اگر کسی بات کی سمجھ نہ آئے تو آپ لوگوں نے اِن کی مدد کرنی ہے۔اُمید ہے اِن کے آنے سے ہماری کلاس کا تعلیمی اور اَخلاقی معیار مزید بہتر ہوگا۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
1 …بہارِ شریعت،۱/۵۵۰،حصہ۳، مکتبۃ المدینہ کراچی۔ 2 …بہارِ شریعت،۱/۵۵۱،حصہ۳۔ 3 …بہارِ شریعت،۳/۴۹۶،حصہ ۱۶ملخصا۔ 4 …تفسیرصراط الجنان،مقدمہ،۱/۲۲، مکتبۃ المدینہ کراچی۔ 5 …تفسیرصراط الجنان،پ۲۷،قمر،تحت الآیۃ:۱۷، ۹/۵۹۷۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن