30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عمر بھر قرآنِ پاک یاد رکھنے کا ایک بہترین نسخہ:
حافظِ قرآن اسلامی بھائیوں کی ایک تعداد ہے جو سارا سال تلاوتِ قرآن کرنے سے محروم رہتی ہے۔ جونہی رجب شریف کا مہیناتشریف لاتا ہے تو حفاظ رمضان شریف میں تراویح کی نمازپڑھانے کے لیے منزل کو یاد کرنا شروع کردیتے ہیں سارا سال نہ پڑھنے کی وجہ سے ان کو منزل کسی حد تک بھول چکی ہوتی ہےاور ایک دن میں ایک پارے کو کئی بار دہرانے کے بعد یاد کرنے میں کامیاب تو ہوجاتے ہیں مگر اس کے لئے ان کو کافی کوشش کرنی پڑتی ہے ایسے اور دیگر تمام حفاظ یا ناظرہ خواں یا امام صاحبان جنہوں نے مکمل حفظ تو نہیں کیا ہوتا مگر چند پارےیا کچھ سورتیں حفظ کی ہوتی ہیں مثلاًسورۂ بقرہ، سورۂ یس، سورۂ رحمن، سورۂ ملک، سورۂ مزمل اور دیگر چھوٹی بڑی کچھ سورتیں یاد کی ہوں، آپ سب سے التجا ہے کہ فرض نمازوں کے علاوہ سنّتِ قبلیہ ، بعدیہ اور نوافل میں ترتیب وار قرآن کی تلاوت شروع کر دیجئےاور اپنے پاس پڑھنے والے بچوں کو شروع ہی سے نمازوں میں قرآن پڑھنے کی ترغیب دلاتے رہیے۔پانچوں نمازوں میں فرض رکعتوں کے علاوہ سنتیں،نوافل،اور وتر کی کل 31 رکعتیں بنتی ہیں ،اگر ہر رکعت میں کم از کم ایک رکوع بھی تلاوت کریں تو چھوٹے بڑے رکوع کے اعتبار تقریباً 15 دن میں ایک بار ختمِ قرآن ہو جاتا ہے۔اگر ڈیڑھ رکوع کے حساب سے پڑھیں تو 10دن میں ختمِ قرآن ہو جاتا ہے۔ اگر روزانہ نمازوں میں ایک پارہ بھی پڑھیں تو ایک ماہ میں ایک بارقرآنِ پاک مکمل ہو جاتا ہےاور جو مکمل حافظ نہیں چند پارے یا سورتیں حفظ ہیں ان کو بھی چاہیے کہ نمازوں میں
اپنے حفظ کیے ہوئے پارے یا سورتیں ترتیب وار نمازوں میں دہراتے رہیں ۔
جن حفاظ اسلامی بھائیوں کا نمازوں میں قرآنِ پاک کی دہرائی کرنے کا معمول بن جاتا ہے ان کی منزل کبھی بھی کمزور نہیں ہوتی اوراس کا یہ فائدہ بھی حاصل ہوگا کہ نمازوں میں کھڑے ہوکر قرآن پاک پڑھنے کا ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ جیسا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:”جو نماز میں کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کرے اس کے لیے ہر حرف کے بدلے 100 نیکیاں ہیں اور جو بیٹھ کر تلاوت کرے اس کے لیے ہر حرف کے بدلے 50 نیکیاں ہیں اور جو نماز کے علاوہ با وضو تلاوت کرے اس کے لیے 25 نیکیاں ہیں اور جو بغیر وضو تلاوت کرے اس کے لئے 10 نیکیاں ہیں اور رات کا قیام افضل ہے کیو نکہ اس وقت دل زیادہ فارغ ہوتا ہے۔“(1)
میں نے بھی حفظ کیا تھا:
پیارے پیارے مدرسین اسلامی بھائیو!حفظِ قرآن کی تکمیل کے بعدکئی بچے درسِ نظامی یا عصری علوم کے لیے جامعات یا سکول کالج میں چلے جاتے ہیں، اسی طرح طالبات یعنی بچیاں شادی وغیرہ کے بعدسُسرال چلی جاتی ہیں اور وہاں گھریلو کام کاج میں ایسی مصروف ہوجاتی ہیں کہ انہیں منزل دہرانے کا موقع ہی نہیں ملتا اور بالکل تازہ منزل کے بارے میں اِن سب کا یہی گمان ہوتاہے کہ میری منزل تو پکی ہے،ایسے بچوں کا مدرسے والے ماحول کی طرح روزانہ منزل پڑھنے کا کوئی شیڈول بھی نہیں ہوتا،حالانکہ انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ منزل کو مسلسل نہ پڑھنے کی وجہ سے وہ کچی ہوتی جارہی ہے
اوربالآخرنتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک دو سال کے بعد تقریباً پوری منزل کچی ہوجاتی ہے حتی کہ ان کے لیے آدھا پارہ زبانی سنانا بھی مشکل ہو جاتا ہےاور بسااوقات جب ان سے یہ پوچھا جاتاہے کہ ”کیا آپ حافِظ قرآن ہیں؟“توبعض منزل کچی ہونے کی شرمندگی کی وجہ سے یہ جواب دیتے ہیں کہ”میں نے بھی حفظ کیا تھا۔“یعنی اب تو منزل کچی ہونے کی وجہ سے حافظ کہلانے کے لائق نہیں ہوں۔نہایت ہی افسوس ناک صورت حال ہے، مدرسے سے فارغ ہونے والے ایسے بچوں اور بچیوں، ان کے مدرسین، والدیاسرپرست کے لیے چندمفید مدنی ہدایات پیش خدمت ہیں:
(1)جب تک بچے کی منزل بالکل پکی نہ ہوجائے اسے مدرسے سے فارغ نہ کیا جائے بسا اوقات درسِ نظامی کے فی الفور داخلے کے لیے اس معاملے میں جلدبازی سے کام لیا جاتا ہے کہ بچہ وہیں جاکر منزل یاد کرلے گالیکن وہاں کی پڑھائی میں مصرفیت کی وجہ سے بچے کو وہاں منزل دہرانے کا اتناوقت نہیں ملتا جس کی وجہ سے منزل کمزوری کا شکار ہوجاتی ہے۔
(2)مدرسین مدرسے میں ہی بچوں کا اِس حوالے سے مدنی ذہن بناتے رہیں کہ آپ نے اپنی منزل کو ہمیشہ اورروزانہ اسی طرح پڑھتے رہنا ہے، جب آپ مدرسے سے فارغ ہوکر جامعۃ المدینہ وغیرہ میں بھی جائیں گے تو روز پابندی کے ساتھ اپنی منزل کے مقررہ 2یا1پارہ ضرور پڑھتے رہیں۔
(3)مدرسہ میں پڑھائی کے دوران بچوں کی گھرمیں منزل کی مستقل دہرائی کی ان کے والد یا سرپرست کے ذریعے ترکیب بنائی جائے کیونکہ بچوں کی جب گھرمیں منزل کی دہرائی کی مستقل عادت بن جائے گی تو مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ عادت امید
ہے کہ برقرار رہے گی۔
(4)بچوں کی نمازوں میں منزل پڑھنے کی عادت بنائیےکہ مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد بھی بلکہ تاحیات نمازوں کا سلسلہ رہےگا اور اگرنمازوں میں منزل کی دہرائی کی عادت بن گئی تو امید ہے کہ ہمیشہ منزل کی دہرائی ہوتی ہی رہے گی اور منزل کچی نہیں ہوگی۔
(5)والدیاسرپرست کو اس بات کا پابند بنایا جائے اور مدنی ذہن دیا جائے کہ بچے کے مدرسے سے فارغ ہونے کے بعدوہ گھرمیں بچے کی منزل کی مستقل دہرائی کی عادت بنائیں اور انہیں اس کی اہمیت سے آگاہ کریں اورکوشش کریں کہ ایک عرصے تک بچے کے والد یا سرپرست سے اس حوالے سے رابطے میں بھی رہیں۔
(6)منزل کی مستقل دہرائی کی عادت ڈالنے کے لیے بچوں کو اگر مدرسے میں ہی نوافل میں منزل کی دہرائی کی عادت ڈالی جائے تو اس سے بہت فائدہ ہوگا اور امید ہے کہ یہ عادت مدرسے سے فارغ ہونے کے بعدبھی برقرار رہے گی، اس سلسلے میں رمضان المبارک میں تراویح کی ترکیب بھی بنائی جائے۔
(7)فارغ ہونے کے بعدبالغ بچوں کی فی الفور رمضان المبارک میں تراویح سنانے کی ترکیب بنانی چاہیے کہ جو بچےایک بار تراویح میں پورا قرآن سنادیں تو ان کی منزل کافی پکی ہوجاتی ہے اور پھر اگر وہ چندسالوں تک مسلسل سناتے رہیں تو بعض اوقات انہیں دیکھ کر پڑھنے کی بھی حاجت نہیں رہتی اور پورا قرآن زبانی ہی سناسکتے ہیں، بالغ بچوں کے تراویح سنانے کے حوالے سے مدرسین اوروالدیاسرپرست سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، اگر مسجد میں تراویح کی ترکیب نہ بھی بنے تو جس جگہ ممکن ہو وہاں ترکیب بنالیجئے۔
بالکل کچی منزل پکی کرنے کے طریقے:
اگرکوئی ایسا بچہ/بچی یا اسلامی بھائی/بہن ہے جس نے مکمل حفظ کیا تھا مگراس کی منزل انتہائی کچی ہوچکی ہے اور وہ آدھا پارہ یا ایک پاؤ بھی زبانی نہیں سنا سکتا البتہ اس کا یہ ذہن ہے کہ اس کی منزل پکی ہوجائے تو اُس کے لیے ذیل میں چندطریقے پیش کیے جارہے ہیں جن پرعمل کر کے وہ اپنی منزل کو پکا کرسکتا ہے۔
(1)اگرآپ کے پاس وقت ہے تو سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مدرسے میں جزوقتی داخلہ لے لیں اور وہاں کسی اچھے اور تجربہ کار مدرس سے مشورہ کرکے منزل یاد کرنے کا شیڈول بنالیجئے اور پابندی کے ساتھ انہیں سنائیے۔
(2)روزانہ ایک پارے کو کم ازکم 5 بار دیکھ کر تھوڑی اُونچی آواز سے پڑھیں، یوں فقط 10 پارے 2 ماہ تک پڑھیں،پھرمکمل دیکھ کر نہ پڑھیں بلکہ تھوڑا تھوڑا زبانی پڑھنا شروع کردیں، جب آپ کسی پارے کو کلی طور پر25 فیصد زبانی پڑھنا شروع ہوجائیں تو اب اس پارے کے ایک ایک رکوع کو زبانی یادکرنا شروع کردیں بہت ہی جلدوہ پارہ یاد ہوجائے گا یوں مستقل مزاجی کے ساتھ مکمل منزل کو یاد کرلیجئے، جوپارہ یا رکوع یاد ہوتاجائے اسے کسی نہ کسی کو سنانے کی ضرورترکیب بنائیں کہ اس سے دوبارہ نہیں بھولے گا۔
(3)جن پاروں کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ ان پر مجھے کم محنت کرنی پڑے گی، ان میں سے پہلے پارے کو دن میں کم ازکم پانچ بار پڑھنے کی ترکیب بنائیں،ایک ہفتہ پڑھنے کے بعد اب اس کے ایک ایک رکوع کو زبانی یاد کرنے کی ترکیب بنائیں۔یوں وہ پارہ مکمل یاد ہوجائے گا اوراس سے آپ کا حوصلہ بڑھے گا اور دیگرپاروں کو یاد کرنا آسان
ہوجائے گا، پھر دیگر پاروں کے ساتھ بھی یہی حکمت عملی اختیار کیجئے اور ان کو بھی یاد کرلیجئے۔
(4)چارمہینوں تک روزانہ پانچ پاروں کی دیکھ کر تھوڑی اُونچی آوازسےتلاوت کریں، آسانی کے لیے ہرنماز کے بعدایک پارے کی تلاوت کی جاسکتی ہے، یوں ایک ہفتے میں ایک قرآنِ پاک ختم ہوگا اور چھ دن کے بعدہرپارے کی دوبارہ باری آئے گی، چار مہینوں تک ایک پارہ تقریباً 16بار پڑھاجائے گا ۔اس کے بعدوہ پارے جن کے بارے میں آپ کا گمان ہے کہ وہ جلدیاد ہوجائیں گے ان کو تھوڑا تھوڑا زبانی دیکھ کر تلاوت کرنا شروع کردیں اور جب آپ 25فیصدکسی پارے کو زبانی دیکھ کر پڑھنے لگ جائیں تو اب اس کا ایک ایک رکوع کرکے زبانی یاد کرلیں، یوں تمام پاروں کو زبانی یاد کیا جاسکتا ہے۔
(5)اگرمذکورہ بالا طریقے مشکل ہوں توکم ازکم روزانہ 2پاروں کی تلاوت کی عادت تو ضرور بنالیجئے اور پھر ساتھ میں وہ پارے جن کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ انہیں میں جلدی یاد کرلوں گا ان کو ایک ایک رکوع کرکے یاد کرتے جائیے اور ساتھ میں ضرور کسی کو سناتے بھی جائیے کہ اس طرح وہ پارے اچھی طرح پکے ہوتے جائیں گے اوریوں ایک دن آئے گا کہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی منزل پکی ہوہی جائے گی۔
(6)اگربہت ہی زیادہ مصروفیت ہو اوروقت کی قلت ہوتو کم ازکم ایک پارہ تو ضرور تلاوت کی عادت بنالینی چاہیے، اگرچہ اس طرح منزل پکی کرنابہت مشکل ہے لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہترہے کے مصداق فائدہ ضرور ہوگا اور ایک پارے کی عادت بنالینے کے بعداس میں اضافہ کرتے جائیے۔
کم عرصہ میں قرآنِ پاک حفظ کروانے کا طریقہ:
جب بھی حفظ ِقرآن کی بات ہوتی ہے تو فوراً ذہن اس طرف جاتا ہے کہ اگر بچے کو حفظِ قرآن کے لئے مدرسے میں داخل کروائیں گے تو5 ،6 سال لگیں گے جس سے کئی لوگوں کا اپنے بچوں کو حفظ کروانے کا ذہن نہیں بنتا کیونکہ انہوں نے اپنے محلے یا رشتہ داروں میں اتنے عرصے میں حفظ کرتے ہوئے حُفاظ کو دیکھا ہوتا ہےاور بعض اوقات اتنےزیادہ عرصے میں حفظ کرنے والے بچوں کو قرآنِ پاک یادبھی نہیں ہوتا یعنی وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ نمازِ تراویح میں قرآن سنا سکیں اور زیادہ عرصہ لگنے کی وجہ سے عصری علوم بھی نہیں پڑھ پاتے اسی وجہ سے خاندان اور محلے میں دِینی یا دنیاوی اعتبار سےان کی ساکھ متاثر ہوجاتی ہےتوایسے برائے نام حفاظ سے متاثر ہوکرکئی لوگ اپنے بچوں کو مدرسے میں داخل نہیں کرواتے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدارس المدینہ میں ایسے مدرسین ہیں جنہوں نے بچوں کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ان پر خصوصی توجہ دی ،تو گزشتہ چند سالوں میں ایسے بچے بھی سامنے آئے جنہوں نے 4 ماہ ، 5ماہ، 6ماہ، 7ماہ، 8ماہ،12ماہ میں حفظ ِقرآن کی تکمیل کی بلکہ ممتاز کیفیت میں فائنل امتحان بھی پاس کیا۔2018 کی کارکردگی کے مطابق مدارس المدینہ سے (421) بچوں/بچیوں نے 12ماہ یا اس سے کم عرصےمیں حفظ مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔
بعض اوقات والدیاسرپرست کی طرف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارا بچہ سکول میں اوّل دوئم یا سوئم پوزیشن حاصل کرتا رہا ہےجبکہ مدرسے میں اس کی کوئی نمایاں
کارکردگی نہیں ہے،جس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ مدرسین بچوں کو زیادہ سبق نہیں دیتےاور مدرسین کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ اگر بچے کو سبق زیادہ دیا تو سبقی اور منزل کمزور ہو جائے گی حالانکہ تجربہ کیے بغیر بچے کو صِرف اِس لیے زیادہ سبق نہ دینا کہ سبقی ،منزل کمزورکر دے گاتو یہ درست نہیں ہے۔ ہاں اگر زیادہ سبق دینے کا چند بار تجربہ کیا اور سبقی،منزل میں کمزوری آگئی تھی توبے شک شیڈول کے مطابق ہی سبق دیا جائےبہت زیادہ سبق نہ دیا جائے۔
مگر کلاس کے کئی بچے ایسے ہوتے ہیں جن کو مقرر کردہ شیڈول سے زیادہ سبق کی لائنیں دی جائیں تو وہ یاد کر لیتے ہیں تو ایسے بچوں کو سبق زیادہ ہی دیا جائے ۔مدرسے میں کچھ نہ کچھ ایسے بچے ہوتے ہیں جو حفظ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے، ان کے حفظ مکمل نہ کرنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ بچے کا سبق کم ہونا بھی ہے ۔جب سبق کم ہوتا ہے تو ایک پارے پر بعض اوقات 2 ماہ ،3 ماہ یا 4 ماہ بھی لگ جاتے ہیں اور بچہ زیادہ وقت لگنے کی وجہ سے دل برداشتہ (Dis heart) ہو جاتا ہےاور بعض اوقات مدرسہ ہی چھوڑ دیتا ہے جبکہ زیادہ سبق سنانے والے بچے ایک ماہ میں ،دو ،تین یا چار پارے بھی ختم کر لیتے ہیں اور تجربہ یہی ہے کہ جن بچوں کا سبق زیادہ ہوتا ہے وہ مدرسہ چھوڑ کر بھی نہیں جاتےاور اچھے انداز میں کم عرصے میں حفظ کر لیتےہیں۔لہٰذا مدرسین کو چاہیے کہ بچے کی ذہنی کیفیت کو دیکھتے ہوئے جتنا ممکن ہو بچوں کو زیادہ سے زیادہ سبق یاد کرنے کا ذہن دیتے رہیں اور جتنا سبق زیادہ ہو اُسی قدرسبقی اور منزل بھی زیادہ رکھیں تاکہ سبقی اور منزل میں کسی قسم کی کمزوری نہ آئےاوربچے کم عرصے میں قرآنِ پاک حفظ کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔
قوّتِ حافظہ ایک انمول نعمت ہے:
ایک زمانہ تھا جب انسان اڑتے پرندوں اور تیرتی مچھلیوں کو دیکھ کر متائژ ہوتا تھا ، چمکتے چاند اور دَمکتے سِتاروں کو دیکھ کر حیران ہوتا اور بلند وبالا پہاڑوں کی شان و شوکت کے آگے مرعوب ہوتا تھا مگر جب اپنی دماغی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے غورو فکر کے سمندر میں غوطہ ظن ہوا تو کائنات مُسَخَّر (فتح)کرنے کا راز اس پر آشکار ہوگیا۔ اسی عقلِ انسانی کے ذریعےاس نے جہاز بنائے،سمندروں کا سینہ چیرتی کشتیاں اور بحری جہازوں کی صورت میں ایک نیا جہان آباد کر دیا۔آسمان سے باتیں کرتی بلندو بالا عمارتوں کا وہ تسلسل قائم کیا جس کا ماضی میں تصور بھی نا ممکن تھا۔ ہمارے بزر گانِ دِین، اَسلاف، بڑے بڑےحکما و اطِبّا اور نامورمسلمان سائنسدانوں نے اس نعمت کا بھر پور استعمال کیا اور ایسے کار نامےسر انجام دیے جو رہتی دنیا کے لیے یاد گار بن گئے۔ یوں تو انسان کی تخلیق کے ابتدائی دور سے ہی قوتِ حفظ اور ذہانت کے حیران کر دینے والے نظارے دیکھنے کو ملتے رہے مگر سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کو حفظ و ذہانت کی یہ قوت کامل و اکمل طور پر عطا ہوئی جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُناقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فر مایا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس اُمَّت کو حفظ اور یاد داشت کی وہ غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی ہے جس سے گزشتہ اُمَّتیں محروم تھیں،گویا بے مثال قوتِ حفظ و ذہانت اِس اُمَّت کا خاصہ ہے۔ مگر جوں جوں وقت زمانۂ رسالت سے دور ہوتا گیا اِس نعمت کے ظہور سے کمی واقع ہونے لگی اس کے اسباب پرغور کیاجائےتواس شِعرکےمصداق نظر آتے ہیں کہ ،
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت
سچ ہے کہ بُرے کام کا انجام بُرا ہے
ہر زمانے میں ایک مخصوص طبقہ ایسا رہا ہے کہ جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ قوتِ حافظہ کی ایسی دو لت عطا فرماتا ہے کہ چاروں طرف نہ صِرف اُن کا شُہرہ ہوجاتا ہے بلکہ وہ ایسے حیران کن کارنامے سر انجام دیتے ہیں کہ دنیا انگشتِ بدنداں(حیران)رہ جاتی ہے۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اَسلاف کی عظیم یاد گار تھے جن کے حفظِ قرآن کے بارے میں منقول ہے کہ روزانہ ایک پارہ یاد فرما لیا کرتے تھے اور یوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے30 دن میں مکمل قرآنِ مجید حفظ فرما لیا تھا۔(2)
تین دن میں حفظِ قرآن:
حضرتِ سیّد نا ہشام بن کلبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میرے چچا مجھے قرآنِ پاک حفظ نہ کرنے پر سرزنِش(یعنی ڈانٹ ڈپٹ ) کیا کرتے تھے، ایک دن میں اپنے کمرے میں گیا اور یہ قسم کھائی کہ جب تک قرآنِ پاک یاد نہ کر لوں، باہر نہیں نکلوں گا اس طرح میں نے تین دن میں قرآنِ پاک حفظ کرلیا۔(3)
تین ماہ میں حفظِ قرآن:
حضرتِ سید نا امام ربانی مجَدِّدِ الفِ ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے صاحب زادے حضرتِ سید نا محمد معصوم نقشبندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مادر زاد ولی (یعنی پیدائشی اللہ کے ولی)تھےاور انہوں نے صرف تین ماہ کی قلیل مدت میں مکمل
قرآنِ کریم حفظ کرلیا تھا ۔(4)
چار سال کی عمر میں حفظِ قرآن:
حضرتِ سید نا عبدالوھاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نقل فرماتے ہیں:حضرتِ سفیان بن عُیَیْنہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے چار سال کی عمر میں پورا قرآن حفظ کر لیا تھا ۔(5)
1 …احیاء العلوم، ۱/۸۳۱، مکتبۃ المدینہ کراچی۔
2 …حافظہ کیسے مضبوط ہو؟، ص۸، ۹، مکتبۃ المدینہ کراچی۔
3 …حافظہ کیسے مضبوط ہو؟، ص۲۶۔
4 …حافظہ کیسے مضبوط ہو؟، ص۲۷۔
5 …حافظہ کیسے مضبوط ہو؟، ص۲۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع