30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3)باطِنِی ُعلُوم پر عَمَل کیسے ؟
باطنی علوم وہ (عاجزی و اخلاص اور توکل وغیرہا اور تکبر، ریاکاری، حسد وغیرہا) ہیں جن پر باطنی اعضائے جسمانی یعنی قلب(دل)سے عمل ہوتا ہے۔
(قوت القلوب (اردو)،1/ 13)
تَصَوُّف کی تعریف اورصُوفیِ کون؟
(4)حضرت رُوَیم بن احمد رحمۃُ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:تصوّف یہ ہےکہ بندہ اپنے نفس کو اپنے ربّ کی مرضی پرچھوڑ دےکہ وہ جو چاہے اس سے کام لے ۔(قوت القلوب (اردو)، ص19)
(5)حضرت ابو الحسن قَنّاد رحمۃُ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: صوفی وہ ہوتا ہے جو اللہ پاک کے حُقوق کی ادائیگی کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔
(قوت القلوب (اردو)،1/ 19)
(6)تَصَوُّف کی اَصْل
تصوّف میں دو باتیں اصل کی حَیثِیَّت رکھتی ہیں: تَزکِیۂ نفس (یعنی نفس کی اصلاح) اور اِحسان۔ تَزکیۂ نفس کا ذکر قرآنِ کریم میں بِعثتِ نَبَوی کے مَقاصِد میں بار بار آیا ہے اور احسان کا ذکر حدیثِ پاک میں ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث ِ جبریل کو تصوّف کی اصل سمجھا جاتا ہے۔ مَا الْاِحْسَانُ ؟کے جواب میں آپ صَلی اللہ عَلَیْہ وَآلہٖ وَسَلَّم نے اصلاحِ باطِن کے حوالے سے کچھ یوں ارشاد فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ اللہ پاک کو دیکھ رہے ہو اور اگر اس مقام کو نہ پاسکو تو یہ یقین رکھو کہ اللہ پاک تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔(قوت القلوب (اردو)،1/ 20 ،21 ملتقطاً)
(7)غُربت (یعنی وطن سے دُوری) اورگُدْڑِی
حضرت یَحیٰی علیہ السّلام کی سنّت ہے کہ انہوں نے اپنے وَطْن میں بھی مسافروں کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع