30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سےقبل قیام پراُبھارناپایاجاتاہے۔ (قوت القلوب (اردو)،1/ 229)
(50)رات کے آخری حصّے میں سونا
رات کے آخری حصّے میں سونے کے مستحب ہونے کی 2وجہیں ہیں:
(1) (رات کے آخری حصّے میں سونا) صبح کے وقت کی اُونگھ ختم کردیتاہےکہ بزرگانِ دین صبح کےاونگھنےکوبہت زیادہ ناپسند فرمایا کرتے بلکہ اونگھنےوالےکونمازِفجرکےبعد سونے کا حکم دیتے۔
(2)چہرے کی زردی تھوڑی کم ہوجائے کیونکہ اگر بندہ رات کا اکثر حصہ حالتِ قیام میں گزارے اور سَحَر کے وقت سو جائے تو صبح کے وقت آنے والی اونگھ سے بھی نجات مل جائے گی اور چہرے کی زردی بھی کم ہوجائے گی، اگر وہ رات کا اکثر حصہ سویا رہے پھر سحری کے وقت بیدار ہو تو صبح کے وقت نہ صرف وہ اونگھتا رہے گا بلکہ چہرے کی زردی بھی واضح ہو گی۔ لہٰذا بندے کو اس سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ شہرت اور مَخفی شَہْوت (یعنی نیکی پر تعریف کی چُھپی ہوئی خواہش) کا دروازہ ہے۔ اس کے علاوہ رات کے وقت بہت کم پانی پیا کرے کہ اس سے بھی چہرے پر زردی چھا جاتی ہے باِلْخُصوص رات کے آخری حصے میں اور نیند سے بیدار ہونے کے بعد۔
( قوت القلوب (اردو)،1/ 230)
(51)جماعت فوت ہونے کا سبب
حضرت ابو سُلیمان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نمازِ باجماعت فوت ہونے کا سبب کوئی نہ کوئی گناہ ہوتا ہے۔حضرت ابنِ صافی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں تقریباً 30سال تک جیل کا نگران رہا رات کے وقت آوارہ گردی کرتے ہوئے جو بھی پکڑا جاتا اور جیل بھیجا جاتامیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع