30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنگ نہ ہو گی اور مجھے ان کے دُخولِ جنّت کی کوئی پَروا نہیں بلکہ یہ جنّتی ہیں اور مجھے ان کے بُرے اَعمال کی بھی کوئی پَروا نہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُتَّقِیْن کے اَوصَاف بیان کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:
وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ (پ ۴، اٰل عمران:۱۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ کہ جب کوئی بے حَیائی یا اپنی جانوں پر ظُلْم کریں اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی مُعافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سِوا اللہ کے۔
متوکلین کے متعلق ارشادِ خداوندی
مُتَوکِّلِین کے مُتَعَلّق اِرشَاد فرمایا:
اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَؕ-اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِؕ- (پ ۲۷، النجم:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو بڑے گناہوں اور بے حَیائیوں سے بچتےہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بے شک تمہارے رب کی مَغْفِرَت وسیع ہے۔
عرش کو گھیرے ہوئے فرشتوں کے متعلق ارشادِ خداوندی
عَرْش کو گھیرے ہوئے فرشتوں کے مُتَعَلِّق اِرشَاد فرمایا:
وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ ترجمۂ کنز الایمان:اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ
لِمَنْ فِی الْاَرْضِؕ- (پ ۲۵، الشورٰی:۵) اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے مُعافی مانگتے ہیں۔
نارِجہنّم ولیوں کو ڈرانے کے لیے ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ خَبَر دی ہے کہ اس نے نارِ جہنّم اپنے دشمنوں کے لیے تیّار کی ہےاور اپنے اَوْلِیا کو اس سے ڈرایا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌؕ-ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗؕ- (پ ۲۳، الزمر:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کے اوپر آگ کے پہاڑ ہیں اور ان کے نیچے پہاڑ اس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں کو۔
وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ(۱۳۱) (پ ۴، اٰل عمران:۱۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار رکھی ہے۔
فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ(۱۴)لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ(۱۵) الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ(۱۶)(پ ۳۰، الیل:۱۴ تا ۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑک رہی ہے نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے عَفْو و درگزر کے مُتَعَلّق اِرشَاد فرمایا:
وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْۚ- (پ ۱۳، الرعد:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک تمہارا رب تو لوگوں کے ظُلْم پر بھی انہیں ایک طرح کی مُعافی دیتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمّت کے مُتَعَلّق لگاتار سُوال کرتے رہے یہاں تک کہ یہ فرمایا گیا:کیا آپ اس بات سے راضی نہیں کہ میں نے آپ پر یہ آیَتِ مُبارَکہ نازِل فرمائی ہے:( وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْۚ- (پ ۱۳، الرعد:۶) )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵) (پ ۳۰، الضحٰی:۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں مَنْقُول ہے کہ دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمّت میں سے کسی کے بھی جہنّم میں جانے پر راضِی نہ ہوں گے۔[1]
حضرت سَیِّدُناابو جعفر محمد بن علی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:اے اَہْلِ عِراق تم کہتے ہو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کِتاب میں سب سے زیادہ (بخشش کی)اُمِّید دِلانے والی آیَت یہ ہے: (یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ- (پ ۲۴، الزمر:۵۳) ترجمۂ کنز الایمان:اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زِیادَتی کی اللہ کی رَحْمَت سے نااُمِّید نہ ہو): مگر ہم اہلِ بیت کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ اُمِّید دِلانے والی آیتِ مُبارَکہ یہ ہے: (وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵) (پ ۳۰، الضحی:۵) )اس آیتِ مُبارَکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنےحبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آپ کی اُمَّت کے بارے میں راضی فرما دے گا۔
اُمّتِ مرحومہ کا جہنّم میں بدل
حضرت سَیِّدُناابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:میری اُمّت اُمَّتِ مَرْحُومہ (یعنی رحم فرمائی گئی) ہے، اس پر آخِرَت میں کوئی عَذاب نہ ہو گا، اس کی سزا دنیا میں زلزلے اور فتنے ہیں، جب قِیامَت کا دن ہو گا تو میری اُمّت کے ہر شخص کو اَہْلِ کِتاب میں سے ایک شخص دے کر فرمایا جائے گا کہ جہنّم میں یہ تمہارا بَدَل ہے۔[2] ایک رِوایَت میں یہ الفاظ ہیں:اس اُمّت کا ہر شخص ایک یہودی یا نصرانی کو جہنّم میں لے جائے گا اور کہے گا کہ یہ جہنّم میں میرا فِدْیہ ہے۔ پس اُسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع