دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) اس اعتبار سے جو شخص اَوصاف میں حُضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زیادہ مُشَابہ ہو گا وہ سب سے اَفضل ہو گا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چونکہ سَخْت آزمائش پر بھی شُکْر فرمایا کرتے تھے لہٰذا مَصَائِب پر صَبْر کرنے والوں میں سے جو لوگ شُکْر کرنے والے ہیں وہ ان آزمائشوں پر اپنے شُکْر کی وجہ سے اَفضل ہیں کیونکہ وہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے زیادہ قریب اور زیادہ مُشابِہ ہیں۔

مُقرّبین کا ہر مقام صبر و شکر کا محتاج ہے

مُقرّبین کا ہر مَقام صَبْر و شُکْر کا مُحتَاج ہے اور کوئی بھی ایک دوسرے کے بغیر کامِل نہیں۔ کیونکہ صَبْر اپنے کمال کے لیے شُکْر کا مُحتَاج ہے اور شُکْر مزید اِنْعَامَات کا مُوجِب بننے کے لیے صَبْر کا محتاج ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان دونوں کا تذکرہ قرآنِ کریم میں اِکٹھا ذِکْر فرمایا   اور انہیں مومنین کے اَوصاف قرار دیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ(۳۱)(پ ۲۱، لقمان:۳۱)

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صَبْر کرنے والے شکر گزار کو۔

 (صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) اِیمان کو دو۲حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: صَبْر نِصف اِیمان ہے اور شُکْر بھی نِصف اِیمان ہے جبکہ یقین کامِل اِیمان ہے۔[1]

اس لیے کہ یقین ان دونوں کی اَصْل ہے اور یہ دونوں اس کے ثمر ہیں جن کا وُجُود یقین کے بغیر قائم نہیں ، کیونکہ شاکِر کو نِعْمَت کے مُتَعَلّق پختہ یقین ہوتا ہے کہ یہ حقیقی مُنْعِم کی جانِب سے ہے اور اسے اس بات کا بھی پختہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس پر مزید اِضافے کا وعدہ فرما رکھا ہے لہٰذا وہ شُکْر ادا کرتا ہے۔ اسی طرح صابِر کو آزمائش کے آنے پر یہ یقین ہوتا ہے کہ اسے آزمایا گیا ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے اس آزمائش پر صَبْر کرنے کی وجہ سے ثواب عَطا فرمائے گا چنانچہ وہ صَبْر کرتا ہے۔ یہ دونوں اہلِ یقین کے حال ہیں کیونکہ یہ لوگ صَبْر و شُکْر میں سے کسی بھی حالَت سے کسی وَقْت خالی نہیں ہوتے کیونکہ ہر شے میں اس کی ایک نِشانی ہے۔ لہٰذا آزمائش میں بندے کا حال صَبْر کرنا اور اِنْعَام میں شُکْر کرنا ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ صابِرین و شاکِرین کو پسند فرماتا ہے۔

٭٭٭٭

٭٭٭

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

٭٭٭

٭٭٭٭

مَقاماتِ یقین میں سے چوتھا مقام

مَقامِ رِجا کی شرح اور اَہْلِ رِجا کے اَوصَاف

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُۚ- (پ ۲۵، الشورٰی:۱۹)

ترجمۂ کنز الایمان:اللہ اپنے بندوں پر لُطْف فرماتا ہے جسے چاہے روزی دیتا ہے۔

وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا(۴۳)(پ ۲۲، الاحزاب:۴۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے۔

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْامِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۵۳)         (پ ۲۴، الزمر:۵۳)                                                                                                                                                                                                                            

ترجمۂ کنز الایمان:اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زِیادَتی کی اللہ کی رَحْمَت سے نااُمِّید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

اسے کسی کی پروا نہیں

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک قرأت میں اس آیتِ مُبارَکہ میں (اِنَّهٗ هُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) سے پہلے (وَلَا يُبَالِیْ) بھی پڑھا ہے۔[2] یعنی اس صُورَت میں مذکورہ آیتِ مُبارَکہ کا مَفہوم کچھ یوں بنے گا:اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زِیادَتی کی اللہ کی رَحْمَت سے نااُمِّید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے اور اسے کسی کی کوئی پروا نہیں، بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

مَشْہُور احادیثِ مُبارَکہ میں مَرْوِی ہے کہ حُضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مُتَعَلِّق اِرشَاد فرمایا:فَقَبَضَ قُبْضَةً فَقَالَ: هٰـؤُلَاءِ فِی الْـجَنَّةِ وَلَا اُبَالِی۔ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے  ایک مٹھی بھری۔ پھر اِرشَادفرمایا:یہ سب جنّتی ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ [3]

حدیث کی شرح

اس حدیث کا حقیقی مَفہوم اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے مگر اس کی ایک شرح میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا:میری رَحْمَت ہر شے کو گھیرے ہوئے ہے، وہ ان لوگوں کی وجہ سے



[1]………كتاب الشكر لابن ابی الدنیا ، ص۹۳ ،  حدیث:  ۵۷

[2]………مسند احمد ، حدیث اسماء ابنة یزید ، ۱۰/ ۴۳۵ ، حدیث:  ۲۷۶۴٠

[3]………مسند احمد ، حدیث معاذ بن جبل ،  ۸/ ۲۵۰ ، حدیث:  ۲۲۱۳۸ و حدیث عبد الرحمن بن قتادة ، ۶/ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن