دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

دنیا میں جَلْد سزا کا ملنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رَحْمَت و نِعْمَت ہے اور اس کی نعمتوں کی پہچان شاکِرین کا طریقہ ہے۔ 

کسی شے کا دوام بھی نعمت ہے

عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے نزدیک سب سے اَفضل نِعْمَت اِیمان ، پھر اس کا دَوام یعنی ہمیشہ اِیمان پر ثابِت قَدَم رہنا ہے۔ کسی شے کا ہمیشہ رہنا ایک دوسری نِعْمَت ہے جس کا سَبَب ایک نئی مَشِیَّت کی بنا پر ایک نیا حکْم ہے، چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا مَحْض اِرادہ اِظْہَار کے حکْم کی وجہ سے ظاہِر ہونے والی شے کے دَوام کا مُوجب نہیں بنتا بلکہ وہ شے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اِرادے سے ظاہِر تو ہوتی ہےمگر اسے تلاش کرنا پڑتا ہے جیسا کہ اس کا کوئی وُجود ہی نہ ہو۔ ہاں اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے دوسرے حکْم کے ذریعے دوسری نِعْمَت یعنی اس کے ثُبات و دَوَام کا حکْم اِرشَاد فرما دے تو وہ شے ظاہِر ہونے کے بعد قائم بھی رہتی ہے کیونکہ اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ زمین و آسمان کے دَوَام کا اِرادہ نہ فرماتا تو وہ قائم نہ رہ پاتے ، اسی طرح اگر وہ پہاڑوں کے ثُبات کا بھی اِرادہ نہ فرماتا تو وہ بھی اپنی جگہ پر ثابِت نہ رہ سکتے تھے، اسی طرح اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اِیمان کے دَوَام اور دِلوں میں اس کے قائم رہنے کا اِرادہ نہ فرماتا تو اِیمان تقدیر میں لکھا ہونے کی وجہ سے دِل میں ظاہِر ہوتا پھر اگلے ہی لمحے مِٹ جاتا اور دِل کُفْر کے اندھیروں کی جانِب لوٹ جاتا مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دِل میں اِیمان کے دَوَام اور ثُبات کی دولت پیدا فرما کر اسے لاتعداد نعمتوں سے نوازا۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-(پ ۱۳، الرعد:۳۹)                       ترجمۂ کنز الایمان:اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابِت کرتا ہے۔

یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جس کا ثُبات نہیں چاہتا اسے مِٹا دیتا ہے اور جسے پسند فرماتا ہے اسے ثابِت کرتا ہے۔ لہٰذا بندہ اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اِیمان کی نِعْمَت کا شُکْر ادا کر سکے اور یہ پہچان سکے کہ اس پر اللہ کے فضل اور اَزَلی اِحسان کی اِبْتِدَا کب ہوئی اس طرح کہ کسی نِعْمَت کے حُصُول میں بندے کی کوئی کوشِش شامِل ہے نہ کوئی حَق، بلکہ یہ نِعْمَت تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خاص فَضْل اور اس کی رَحْمَت کا نتیجہ ہے ۔

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دَرْج ذیل فرمان کی ایک تفسیر یونہی مَنْقُول ہے:

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ(۲۳) (پ ۳۰، عبس:۲۳)                        

ترجمۂ کنز الایمان:کوئی نہیں اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکْم ہوا تھا۔

یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بندے کو جس نِعْمَتِ اِسلام کے حُصُول پر شُکْر بجا لانے کا حکْم اِرشَاد فرمایا ہے، بندہ اس حکْم کو کبھی بھی پورا نہیں کر سکتا حالانکہ یہ نِعْمَت دنیا و آخِرَت کی تمام نعمتوں کی اَصْل ہے اور یہی نارِ جہنّم سے آزادی کا سَبَب اور دُخُولِ جنّت کا ذریعہ ہے۔ بندے کے پاس اس نِعْمَت کے حُصُول  کی کوئی صُورَت ہے نہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں کوئی شفیع۔ اس پر مزید یہ کہ نِعْمَت کا دَوَام اور اس کا ثُبات اس کی مَدَد کی بنا پر نِعْمَتِ مُتَرَادِفہ ہیں۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ- (پ ۲۸، المجادلة:۲۲)           

ترجمۂ کنز الایمان:جن کے دلوں میں اللہ نے اِیمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی رُوح سے ان کی مَدَد کی۔ 

اس آیَتِ مُبارَکہ میں (اَیَّدَهُمْ) سے مُراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں اپنی خاص مَدَد سے قوّت عطا فرماکر پختگی و تَقْوِیَت عَطا فرمائی۔ چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دَرْج ذیل فرمان کا یہی مَفہوم ہے:

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ (پ۱۳، ابراھیم:۲۷)            

ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ثابِت رکھتا ہے اِیمان والوں کو حَق بات پر دنیا کی زِنْدَگی میں اور آخِرَت میں۔

اسی طرح دُعائے مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں ہے:یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی طَاعَتِكَ۔  یعنی اے دلوں کو اِیمان سے پھیر کر شک و شِرک کی طرف تبدیل کر دینے والے! میرے دل کو اپنی فرمانبرداری پر ثابِت قَدَم رکھ۔[1] اس عظیم نِعْمَت کی پہچان دل سے بُرے خاتِمے کے خوف کو دور کر دیتی ہےکیونکہ اس وَقْت دِل مَشِیَّتِ باری تعالیٰ کی وجہ سے اپنی حالت کی تیزی سے تبدیل ہونے کی کیفیّت کا مُشاہَدہ کرنے لگتا ہے اور یہ بات اس کے شُکْر میں اِضافے کا باعِث بنتی ہے۔ نیز یہ دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان کے تحت داخِل ہے:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مَحبَّت کرو،اس لیے کہ اس نے تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔[2] اور تمہیں رِزق بھی عطا فرمایا ہے۔چنانچہ اس نے ہمیں  رِزق کی جو دولت عطا فرمائی ہے اس میں اَفضل نِعْمَت اِیمان اور اس کی پہچان ہے، نیز اس نِعْمَت پر دَوَام، اس کی مَدَد کا شامِل ہونا اور ہمیں اَحْوَال کی تبدیلی میں ثابِت قَدَم رکھنا بھی اسی کا کَرَم ہے،کیونکہ یہ باتیں ان اَعمال کی اَصْل ہیں جو عَطا و بخشش کا محل ہیں۔

اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمارے دلوں کو توحید سے پھیر دے جیسا کہ وہ ہمارے ظاہِری جسمانی اَعْضَا کو گناہوں میں مبتلا کر دیتا ہے اور جس طرح وہ اَعمال میں ہماری نیتوں کو بدلتا ہے اسی طرح ہمارے دلوں میں شک اور گمراہی پیدا کر دے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ [3] کس کام کے لیے کمر بستہ ہوں؟ کس شے سے اطمینان حاصِل کریں اور کس کی اُمِّید رکھیں؟ یاد رکھئے! یہ (یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ہمارے دلوں کو توحید پر ثابِت قَدَم رکھنا )بَہُت بڑی نِعْمَت ہے جس کی پہچان شُکْر ادا کرنا اور نَاوَاقِفِیَّت سے غافِل ہونا ہے جو سزا کا مُوجِب ہے۔

ایمان کا دعویٰ کرنا کیسا؟

 



[1]………ترمذی ،  كتاب القدر ،  باب ما جاء ان القلوب بین اصبعی الرحمٰن ، ۴/ ۵۵ ، حدیث:  ۲۱۴۷ ، دینك بدله طاعتك

مسند احمد ، مسند ابی ھریرة ، ۳/ ۳۹۸ ، حدیث:  ۹۴۲٠ ،  بلفظ:  یامصرف القلوب

[2]………ترمذی ،  كتاب المناقب ،  باب مناقب اھل بیت النبی ، ۵/ ۴۳۴ ، حدیث:  ۳۸۱۴

[3]………قَضا و قَدَر کے مسائل عام عقلوں  میں  نہیں  آسکتے ،  ان میں  زیادہ غور و فکر کرنا سَبَبِ ہَلاکَت ہے ،  صدیق وفاروق رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس مسئلہ میں  بحث کرنے سے منع فرمائے گئے۔ ما و شما (ہم اور آپ) کس گنتی میں ...! اتنا سمجھ لو کہ اللہتعالیٰ نے آدمی کو مِثلِ پتھر اور دیگر جمادات کے بے حس و حرکت نہیں  پیدا کیا ،  بلکہ اس کو ایک نوعِ اِخْتِیار(ایک طرح کا اِخْتِیار) دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے ،  چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی عَقْل بھی دی ہے کہ بھلے ،  بُرے ،  نفع ،  نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کر دیئے ہیں  کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اُسی قسم کے سامان مہیّا ہو جاتے ہیں  اور اسی بنا پر اُس پر مؤاخذہ ہے۔بُرا کام کرکے تقدیرکی طرف نِسْبَت کرنا اور مَشِیَّتِ الٰہی کے حوالہ کرنا بَہُت بُری بات ہے  ،  بلکہ حکْم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے ،  اسے مِنْجَانِبِ ﷲ کہے اور جو بُرائی سَرزَد ہو اُس کو شامتِ نَفْس تصوّر کرے۔(بہارِ شریعت ،  ۱/  ۱۸)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن