دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

عَافِـیَّت سے مُراد  جسموں کا بیماریوں اور خرابیوں سے محفوظ رہنا ہے جبکہ یقین سے مُراد دین کا کجی اور نفسانی خواہشوں سے محفوظ رہنا ہے۔ اَلْغَرَضْ یہ دونوں نعمتیں بندے کے عظیم شُکْر  پر حاوِی ہیں۔

سلامت دل اور شک سے مُراد

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹) (پ ۱۹، الشعراء:۸۸، ۸۹)        

ترجمۂ کنز الایمان:جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حُضور حاضِر ہوا سَلامَت دِل لے کر۔

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہاں سَلامَت دِل سے شِرک اور شک سے محفوظ دِل مُراد ہے۔جبکہ سالِم سے مُراد تَنْدُرُسْت اور عَافِـیَّت میں ہونا ہے۔ دلوں میں یقین کی عَافِـیَّت کا پایا جانا شک اور نِفاق کے نہ ہونے کی دلیل ہے جو دلوں کی بیماریاں ہیں۔ جیساکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: (فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ- (پ ۱، البقرة:۱۰) ترجمۂ کنز الایمان: ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ ) (اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں) منقول ہے کہ ان کے دلوں میں شک اور نِفاق کی بیماری تھی۔

دل کی عَافِـیَّت سے مُراد کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہونا بھی ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ(پ۲۲، الاحزاب:۳۲)                ترجمۂ کنز الایمان: کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے۔

یہاں دل کے روگ سے مُراد ریا ہے۔

ہر مصیبت میں پانچ۵نعمتیں

منقول ہے کہ ہر مصیبت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پانچ۵نعمتیں ہوتی ہیں:

(1 …) وہ مصیبت دین میں نہ ہو۔منقول ہے :جو مصیبت دین میں نہ ہو وہ دین کا ایک راستہ ہوتی ہے۔

(2 …) وہ مصیبت اس سے بڑی نہ ہو۔

(3 …) وہ مصیبت تقدیر میں لکھی تھی جس کا آنا لازِم تھا، چنانچہ وہ آئی اور اپنے بعد راحَت چھوڑ گئی۔

(4 …) وہ مصیبت دنیا ہی میں آگئی اور آخِرَت تک مؤخر نہ ہوئی کہ عَذابِ آخِرَت کی مِقْدَار بڑی ہوتی۔

(5 …) مصیبت کا ثواب اس سے بہتر ہو گاکیونکہ مصیبت جب دنیاوی اُمور میں ہو تو آخِرَت کا راستہ ہوتی ہے۔

انسان کے ظالم و ناشکرا ہونے سے مُراد

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠(۳۴)(پ ۱۳، ابراھیم:۳۴)

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک آدمی بڑا ظالِم بڑا ناشکرا ہے۔

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ یہاں ظَلُوْم سے مُراد یہ ہے کہ انسان اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتوں اور عطاؤں کو کم جانتے ہوئے انہیں خاطِر میں نہیں لاتا اور كَفَّارٌ۠ سے مُراد یہ ہے کہ گناہوں کا مُرْتکِب ہوتا ہے اور نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے۔

دیہاتی کا اندازِ تعزیت

مَرْوِی ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنا عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا وِصَال ہوا تو آپ کے شہزادے حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تَعْزِیَت کے لیے (آنے والوں کی خاطِر ایک جگہ)تشریف فرما تھے۔ لوگ گروہ در گروہ ان کی خِدْمَت میں حاضِر ہو کر تَعْزِیَت کرتے، چنانچہ ایک دیہاتی بھی آپ کی خِدْمَت میں حاضِر ہوا اور اس نے یہ اَشعار پڑھے:

اِصْبِرْ نَكُنْ بِكَ صابِريْنَ فَاِنَّمَا                                                                صَبْرُ الرَّعِيَّةِ بَعْدَ صَبْرِ الرَّاْسِ

خَيْرٌ مِّنَ الْعَبَّاسِ اَجْرُكَ بَعْدَهُ                                                               وَاللهُ خَـيْـرٌ مِّـنْـكَ لِـلْـعَـبَّـاسِ

یعنی صَبْر کیجئے کہ ہم بھی آپ کے ساتھ صبر کرنے والے بن جائیں، کیونکہ رَعَایَا کا صَبْر سردار کے صَبْر کے بعد ہی ہوتا ہے۔

حضرت سَیِّدُنا عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے وِصَال کے بعد آپ کا اَجَر ان سے بہتر ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان کے لیے آپ سے بہتر ہے۔

یہ اَشعار سن کر حضرت سَیِّدُناعبداللہبن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ اس دیہاتی کی طرح کسی نے مجھ سے تَعْزِیَت نہیں کی، گویا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے پسند فرمایا۔   

لَكَنُوْدٌۚسے مُراد

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ(۶) (پ ۳۰، العادیة:۶)              ترجمۂ کنز الایمان:بے شک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکر ہے۔

یعنی وہ مَصَائِب کا شِکوہ کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔اگر یہ جان لیتا کہ ہر مصیبت کے ساتھ دس کامِل بلکہ اس سے بھی زائد نعمتیں ہیں تو اس کا شِکوہ کم ہوتا اور یہ اس کی جگہ شُکْر کرتا۔

مَصائب کی تین۳صورتیں

مَصَائِب کی تین۳صورتیں ہیں جن میں سے ہر صُورَت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نِعْمَت ہے۔ چنانچہ،

(1) ۔۔۔۔مَصَائِب مُقرَّبین و مُـحْسِنِیْن کے دَرَجات کی بُلَندی کا سَبَب ہوتے ہیں۔

(2) ۔۔۔۔مَصَائِب خاص اَصحابِ یمین اور نیک لوگوں کے مختلف کفّاروں کا سَبَب بنتے ہیں۔

(3) ۔۔۔۔مَصَائِب عام مسلمانوں کے لیے بطورِ سزا ہوتے ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن