30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک مشہور حدیثِ پاک میں ہے کہ مُحْسِنِ کائنات، فخر مَوجودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جس نے قرآنِ کریم سے غِنا حاصِل نہ کیا وہ ہم میں سے نہیں۔[1] ایک مُـجْمَل حدیثِ پاک میں حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:یقین ہی غنی ہونے کے لیے کافی ہے۔[2] اور قرآنِ کریم حَقُّ الیقین ہے۔
بندے کا تین۳باتوں سے مستغنی ہونا
کسی بُزرگ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشَاد فرماتا ہے: میں نے اپنے بندے کو تین۳باتوں سے مُسْتَغْنِی کر کے اس پر اپنی نِعْمَت کو مُکَمَّل فرما دیا ہے:٭…بادشاہ سے کہ وہ اِس کے پاس (اپنی حاجات کے لیے) آئے ٭…طبیب سے کہ وہ اس کا عِلاج کرے ٭… ان چیزوں سے جو اس کے بھائی کے پاس ہیں۔
سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کو شکر کی تاکید
حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کی مُناجات میں سے ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی جانِب وحی فرمائی: میرے ہر بندے کے ساتھ دو۲فرشتے ہوتے ہیں، جب وہ میری نعمتوں پر شُکْر ادا کرتا ہے تو وہ فرشتے مجھ سے عرض کرتے ہیں:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس کی نعمتوں میں زِیادَتی فرما کہ تو ہی شُکْر قبول کرنے والا اور حَمد و سَتَائِش کے لائِق ہے،تو شُکْر کرنے والوں کو اپنا قُرْب عطا فرما، ان کے شُکْر اور نعمتوں میں مزید اِضافہ فرما۔ اے ایوب! شُکْر کرنے والوں کو یہی بات کافی ہے کہ میرے اور میرے فرشتوں کے نزدیک وہ بلند مرتبہ والے ہیں۔ میں ان کا شُکْر قبول کرتا ہوں اور میرے فرشتے ان کے لیے دُعا کرتے ہیں، زمین کے تمام گوشے ان سے مَحبَّت کرتے ہیں اور (جب یہ جہانِ فانی سے کُوچ کر جاتے ہیں تو) ان کے آثار و نِشانات ان پرآنسو بہاتے ہیں۔ لہٰذا اے اَیُّوب! تو بھی شُکْر کرنے والا اور میری نعمتوں کو یاد کرنے والا بن جا، میرا ذِکْر کرتا رہ
خواہ میں تیرا چرچا نہ کروں اور تو شکر کرتا رہ خواہ میں تیرے اَعمال کا شکر قبول نہ کروں کیونکہ میں ہی اپنے اَوْلِیا کو نیک اَعمال کی توفیق دیتا ہوں اور اپنی دی ہوئی توفیق کے مُطابِق ان کے شُکْر بجا لانے کو شَرَفِ قبولِیَّت بخشتا ہوں۔ انہیں شُکْر ادا کرنے پر جزا دیتا اور بدلے میں انہیں اپنی رَضا عَطا فرماتا ہوں، چنانچہ کثیر نعمتوں پر تھوڑا شُکْر بجا لانے پر بھی راضی ہو جاتا ہوں اور تھوڑے شُکْر کو ہی قُبول کر لیتا ہوں اور اس پر بھی انہیں بہترین جزا سے نوازتا ہوں۔ میرے نزدیک سب سے بُرا بندہ وہ ہے جو صِرف بَوَقْتِ ضَرورت میرا شُکْر ادا کرے اور بَوَقْتِ مصیبت ہی میری بارگاہ میں آہ و زاری کرے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے شُکْر کرنے والوں کو صالحین، مُقرَّبین اور عالمین کے اَوصَاف سے یاد فرمایا ہے۔ یہ تینوں اہلِ یقین کے اعلیٰ مَقامات ہیں۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ(۱۳)(پ ۲۲، سبا:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور میرے بندوں میں کم ہیں شُکْر والے۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْؕ- (پ ۲۳، ص: ۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان:مگر جو اِیمان لائے اور اَچھّے کام کیے اور وہ بَہُت تھوڑے ہیں۔
ایک مَقام پر مُقرّبین کے اَوصاف کے مُتَعَلّق ارشاد فرمایا:
ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ(۱۳)وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ(۱۴) (پ ۲۷، الواقعة:۱۳، ۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اگلوں میں سے ایک گروہ اور پچھلوں میں سے تھوڑے۔
جیسا کہ اِرشَاد فرمایا:
مَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ ﲕ (پ ۱۵، الکھف:۲۲) ترجمۂ کنز الایمان:انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے
حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عَافِـیَّت کا سوال کیا کرو اور یقین کے عِلاوہ بندے کو عَافِـیَّت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں دی گئی۔[3]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہاں عَافِـیَّت کو ہر قِسْم کی عَطا و بخشش سے اَفضل قرار دیا مگر یقین کو عَافِـیَّت سے بھی بَرتَر قرار دیا۔ اس لیے کہ عَافِـیَّت سے دنیا کی نعمتیں مُکَمَّل ہوتی ہیں اور یقین کےساتھ اُخْرَوِی ۔ لہٰذا یقین کو عَافِـیَّت پر ایسی ہی فضیلت حاصِل ہے جیسی ہمیشہ کی زِنْدَگی کو موت پر۔
[1]………مسند ابییعلی ، مسند عائشة ، ۴/ ۲۲۱ ، حدیث: ۴۷۳۶
بخاری ، كتاب التوحید ، باب قول اللہ: وأسروا قولكم أو اجهروا به…الخ[الملك: ۱۳] ، ۴/ ۵۸۶ ، حدیث: ۷۵۲۷
[2]………شعب الایمان للبیھقی ، باب فی الزھد وقصر الامل ، ۷/ ۳۵۳ ، حدیث: ۱۰۵۵۶
[3]………ابن ماجه ، كتاب الدعاء ، باب الدعاء بالعفو والعافیة ، ۴/ ۲۷۲ ، حدیث: ۳۸۴۹ ، بتغیر
مسند احمد ، مسند ابی بكر الصدیق ، ۱/ ۳۰ ، حدیث: ۴۶ ، دون ذكر الیقین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع