30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اچھّائی کا اِظہار اور بُرائی کو چھپانا بھی نعمت ہے
اچھّائی کا اِظہار اور بُرائی کو چھپانا بھی نِعْمَت ہے، مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ان دونوں میں بڑی نِعْمَت کونسی ہے؟ یعنی جو ظاہِر ہوئی اس کی اچھّائی بڑی ہے یا جو چھپی رہی اس کی بُرائی بڑی ہے۔ ایک دُعائے ماثورہ میں ان دونوں اَوصَاف کا تذکرہ کچھ یوں ملتا ہے:يَا مَنْ اَظْهَرَ الْـجَمِيْلَ وَسَتَرَ الْقَبِيْحَ۔ یعنی اے وہ ذات جس نے
خوبصورتی کو ظاہِر فرمایا اور بدصورتی کو چھپایا۔[1]
صِحَّت و تَنْدُرُسْتی اور فَراغَت بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں ہیں۔ یہ دونوں دنیا کی پہلی نعمتیں ہیں اور اَعمالِ آخِرَت کی اَصْل ہیں۔ نیز یہ دونوں نعمتیں ایسی ہیں جن پر رَشْک کیا جاتا ہے جیسا کہ سرکارِ مدینہ، قرار قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: دو۲نعمتیں ایسی ہیں جن میں لوگوں کو بَہُت زیادہ رَشْک ہوتا ہے:صِحَّت اور فَراغَت۔[2]
حضرت سَیِّدُنافُضَیل بِن عَیّاض رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:تم پر لازِم ہے کہ ہمیشہ نعمتوں پر شُکْر ادا کرتے رہو کہ بَہُت کم ایسا ہوا ہو گا کہ کوئی نِعْمَت کسی قوم سے دور ہوکر پھر انہیں واپَس مل گئی ہو۔ کسی بُزرگ کا فرمان ہے کہ نعمتیں جنگلی جانوروں کی طرح (آزاد ہوتی) ہیں انہیں شُکْر کے ذریعے قید کر لو۔
نعمتوں کی زیادتی پر حاجت مندوں کی مدد کرو
مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبو دار ہے:جس بندے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کی زِیادَتی ہوتی ہے لوگوں کی حاجتیں بھی اس سے زیادہ ہو جاتی ہیں، لہٰذا جس نے ان (حاجَت مندوں)کے ساتھ اچھّا سُلوک نہ کیا اس نے خود ہی اس نِعْمَت کو خاتِمے کے لیے پیش کر دیا۔[3]
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ- (پ ۱۳، الرعد:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ کسی قوم سے اپنی نِعْمَت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالَت نہ بَدَل دیں۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں مَنْقُول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر اپنی نعمتوں کو اس وَقْت ہی بدلتا ہے جب وہ خود شُکْر کو ضائع کر کے ان نعمتوں کو بَدَل دیتے ہیں،چنانچہ وہ انہیں نعمتوں کی تبدیلی کے ذریعے سزا دیتا ہے۔ ایک قول میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگوں سے سزا و عَذاب کو اس وَقْت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے گناہوں کو توبہ کے ذریعے نہیں بَدَل دیتے۔ یہاں اس کے حکْم کا پہلا اور حِکْمَت کا دوسرا سَبَب مذکور ہے جبکہ وہ خود حِکْمَت و مَشِیَّت کا مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب ہے۔
جسم کے ہر بال کے نیچے ایک نعمت ہے
مَنْقُول ہے کہ بندے کے جِسْم کے ہر بال کے نیچے ایک نِعْمَت ہے اور اس کے جِسْم میں مَوجُود ہر رگ کے ساتھ دو۲نعمتیں ہیں خواہ وہ رگ ساکِن ہو یا مُتَحَرِّک ۔ہر ہڈی میں چار۴اور ہر جوڑ میں سات۷نعمتیں ہیں جبکہ انسانی جسم میں 360 ہڈیاں اور جوڑ ہیں۔
ہر پلک جھپکنے میں اور ہر سانس میں بھی دو۲ دو۲نعمتیں ہیں، عمر کے ہر دقیقے میں اس قَدْر نعمتیں ہیں جنہیں شُمار نہیں کیا جا سکتا، جبکہ دقیقہ شعیرہ کا 12واں حِصّہ ہے اور شعیرہ ساعت کا 12واں حِصّہ ہے ۔ نیز ایک دن اور رات میں 24ہزار سانس ہوتے ہیں۔
حضرت سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتَعَلّق مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہِ خداوندی میں عَرْض کی: اے میرے پروردگار! میں کیونکر تیرا شُکْر ادا نہ کروں جبکہ میرے جسم کے ہر بال میں دو۲نعمتیں ہیں یعنی ایک یہ کہ تو نے ان کی جڑ کو نَرْم بنایا اور دوسرا یہ کہ ان کے سر کو سَخْت بنایا۔
صِرف کھانے پینے والی اشیا کو نعمت سمجھنا
ایک رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں صِرف کھانے پینے والی نعمتوں کو پہچانا یقیناً یہ اسکے کم عِلْم ہونے اور عَذاب کے قریب ہونے کی عَلامَت ہے۔[4] یہ اس صُورت میں ہے کہ جب عَافِـیَّت، حاجات اور حِفاظت کی نعمتیں کامِل ہوں۔
مَنْقُول ہے کہ جِسْم کے باطِن میں مَوجُود نعمتیں اس کے ظاہِر میں مَوجُود نعمتوں سے سات۷گنا زیادہ ہیں اور دل میں پورے جِسْم سے کئی گنا زیادہ نعمتیں ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اِیمان، عِلْم اور یقین کی نعمتیں تمام اَجسام اور دلوں کی نعمتوں سے زائد ہیں۔ اَلْغَرَضْ یہ تمام نعمتیں اس قَدْر زیادہ ہیں کہ انہیں صِرف وہی شُمار کر سکتا ہے جس نے یہ نعمتیں عَطا فرمائی ہیں اور وہی ان کی صحیح تعداد بھی جانتا ہے جو ان کا خالِق ہے۔ چنانچہ،
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[1]………مستدرك ، كتاب الدعاء…الخ ، باب الدعاء العظیم النفع ، ۲/ ۲۴۰ ، حدیث: ۲۰۴۲
[2]………بخاری ، كتاب الرقاق ، باب ما جاء فی الرقاق…الخ ، ۴/ ۴۲۲ ، حدیث: ۶۴۱۲
[3]………موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، كتاب قضاءالحوائج ، ۴/ ۱۷۴ ، حدیث: ۴۸ ، بتغیر قلیل
الكامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ، ۱/ ۲۸۵ ، الرقم: ۱۳: احمد بن معدان ، بتغیر قلیل
[4]………الزھد لابن المبارك ، باب فضل ذكر اللہ ، ص۵۴۲ ، حدیث: ۱۵۵۱
الكامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ، ۶/ ۴۹۷ ، الرقم: ۱۴۲۱: عبد الرحیم بن ھارون
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع