30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور دوسرے دُنیا دار مفتیوں کا طریقہ تھا اور متکبر لوگ بھی اسی طرح پھیل کر بیٹھتے حالانکہ تَوَاضُع یہ ہے کہ سُکڑ کر بیٹھا جائے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اچھّے و بُرے اور جدید و قدیم عُلُوم کی وَضاحَت
کُل عُلوم کی تعداد 9ہے۔ ان میں سے چار۴مَسْنُون ہیں جن سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام آگاہ تھے اور پانچ۵عُلوم بعد کے زمانے کی پیداوار ہیں جو اَسلاف کے زمانے میں نہ تھے۔
چار۴مشہور عُلوم یہ ہیں:
(1) ۔۔۔۔ایمان کا عِلْم (2) ۔۔۔۔قرآن کا عِلْم
(3) ۔۔۔۔سُنَن و آثار کا عِلْم (4) ۔۔۔۔فتاویٰ و اَحکام کا عِلْم
بعد میں پیدا ہونے والے پانچ۵عُلوم یہ ہیں:
(1) ۔۔۔۔نَحْو اورعَروض (2) ۔۔۔۔قِیاس (3) ۔۔۔۔فقہ میں جَدَل
(4) ۔۔۔۔نظر و فِکر کے اعتبار سے عَقْلی عِلْم
(5) ۔۔۔۔حدیثِ پاک کی عِلّتوں اور مختلف طُرُق جاننے، نیز راویوں اور ان سے منقول روایات و آثار کا ضُعْف جاننے وغیرہ کا عِلْم، یہ عِلْم انہی لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو اس کے اہل ہوں،پھر ان سے ان کے شاگرد ہی یہ عِلْم حاصِل کرتے ہیں۔
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین قصّے بیان کرنے کو بِدْعَت سمجھتے، لوگوں کو اس سے روکتے اور قصّے بیان کرنے والوں کے پاس بیٹھنا بھی اَچھّا نہ سمجھتے۔
قصّہ گو افراد کے مُتَعَلّق عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام سے کثیر اَقْوال مروی ہیں۔ مثلاً
(1) ۔۔۔۔فلاں آدمی کتنا اچھّا ہے، اے کاش! وہ قصّہ گو نہ ہوتا۔
(2) ۔۔۔۔حِکایات بیان کرنے والے عارِفین قصّہ گو فُقہا کی مِثْل ہیں۔
(3) ۔۔۔۔عُلَمائے کرام میں قصّہ گو اَفراد کسی شہر کے رہنے والوں میں سیاہ فام لوگوں کی طرح ہیں۔
عِلْمِ دین کی حقیقت سے ناواقفیت کا نتیجہ
دین کے بدلے دنیا کھانا اور ایسا دُرُسْت سمجھ کر کرنا، نیز دنیا کے بدلے عِلْم بیچنا اور عام لوگوں کے لیے سجنا سَنْوَرنا بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والے اُمُور میں بَہُت قبیح ہیں اور ان کا فساد ہر ظاہِری عِلْم جاننے والے پر ظاہِر ہے۔ مگر ایسے لوگوں کو ہمارے زمانے میں جاہِل و ناقِص لوگ عُلَما و فُضَلا سمجھتے ہیں۔ اس کا سَبَب متقدمین کے طریقوں سے واقفیت کا کم ہونا اور عِلْمِ دین کی حقیقت جاننے والی بصیرت کا نہ ہونا ہے۔
کلام کی سات۷اقسام
(صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ہمارے نزدیک کلام کی سات۷ اَقسام ہیں اور عِلْم بھی اس کی ہی ایک قسم ہے اور باقی چھ۶اَقسام لَغْو و مَرْدُود ہیں۔ انہیں وہی شخص حاصِل کرتا ہے جو حقیقت جانتا ہے نہ عِلْم و جَہالَت میں فرق کر سکتا ہے۔
عربوں کا ایک مَقُولہ ہے کہ ہر گری ہوئی شے کے لیے ایک اٹھانے والا ہوتا ہے اور ہر کہی گئی بات کو کوئی نقل کرنے والا بھی ہوتا ہے۔چنانچہ،
وہ چھ۶اقسام یہ ہیں:
(1)اِفْک (الزام تراشی و دھوکہ دہی) (2)حماقت (3)خَطا
(4)گمان (5)زُخْرُف (جھوٹ سے آراستہ کلام) اور (6)وسوسہ
کلام کی ان چھ۶اَقسام کے نام عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام نے بیان کئے ہیں اور انہوں نے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بیان کردہ وضاحَت کے مُطابِق ان اَقسام کی تفصیل بیان کی ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں اپنی کتاب کی حِفاظَت کا حکم دینے کے علاوہ اپنے دین اور بندوں پر گواہ بھی بنایا ہے۔
کلام کی ساتویں قسم ایسی ہے جو ان چھ۶سے جُدا ہے اور یہ کسی مَذمُوم صِفَت سے مُتَّصِف نہیں۔ لہٰذا عِلْم سے مُراد وہ شے ہے:
٭… جو قرآن و سنّت کی نَصّ (دلیل)سے ثابِت ہو یا قرآن و سنّت اس پر دلیل ہوں۔
٭… وہ شے قرآن و سنّت سے مُسْتَنْبَط ہو یا قولاً اور فعلاً اس کا نام اور مَفہوم قرآن و سنّت میں مَوجُود ہو۔
٭… تاویل اگر اِجماع سے خارِج نہ ہو تو وہ بھی عِلْم میں شامِل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع